پی ایم انڈیا

PM's Message

میرے پیارے ہم وطنو!

ہماری بھارتی روایات میں خدمت انسان کا حتمی فرض- سیوا پرمودھرما کہا گیا ہے۔ ایک سال قبل آپ نے اپنے پردھان سیوک کے طور پر خدمت انجام دینے کی ذمہ داری مجھے سونپی تھی۔ میں نے اپنا ہر دن ، ہر لمحہ اس کام میں لگایا ہے اور اپنے جسم اور روح سمیت اس فرض کو پوری دیانتداری اور ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی ہے۔
ہم نے ایک ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا تھا، جب بھارت کے تئیں عام طور پر اعتماد گھٹتا جارہا تھا۔ بے پناہ بڑھتی بدعنوانی اور فیصلہ نہ لے پانے کے سقم نے ،حکومت کو مفلوج بنا دیا تھا۔ عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا تھا اور بڑھتی ہوئی افراط زر اور اقتصادی عدم تحفظ نے ان کا احاطہ کررکھا تھا۔ ایسی صورتحال میں فوری اور فیصلہ کن کارروائی درکار تھی۔

ہم نے منظم طریقے سے ان چنوتیوں کا سامنا کیا ۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو فوری طور پر قابو میں لایا گیا۔ بدحال معیشت کو از سر نو احیاء سےہم کنار کیا گیا۔ مستحکم پالیسی پر مبنی سرگرم حکمرانی کا طریقہ کار اپنایا گیا۔ ہمارے بیش قیمت قدرتی وسائل کی اختیاری تخصیص چند گنے چنے لوگوں کو کی جاتی تھی، اسے شفاف کارروائی کے تحت لایا گیا۔ کالے دھن کے خلاف مضبوط قدم اٹھائے گئے۔ ایک ایس آئی ٹی کی تشکیل عمل میں آئی اور کالے دھن کے سلسلے میں ایک سخت قانون وضع کیا گیا، ساتھ ہی ساتھ اس سلسلے میں بین الاقوامی رائے عامہ بھی ہموار کی گئی۔ عمل اور ارادے میں شفافیت کا اٹل اصول اپنایا گیا اور اس نے بدعنوانی سے پاک حکومت کے وجود کو یقینی بنایا۔ کام کاج کے طریقے میں اہم تبدیلیاں لائی گئی ہیں اور خود توجہ اور پیشہ ورانہ مہارت ، نظام اور بندھے ٹکے اصولوں سے انحراف کے طریقہ کار کو رواج دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومتوں کو قومی ترقیات ، ٹیم انڈیا کی تشکیل اور اس کے جذبے کو پروان چڑھانے میں برابر کا شریک کار بنایا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم حکومت کے تئیں از سر نو اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

انتیودے کے اصول کی روشنی میں ہماری حکومت، نادار، حاشیے پر زندگی گزارنے والے اور پیچھے رہ جانے والوں کی فلاح وبہبود کیلئے عہد بند ہے۔ ہم انہیں اس حد تک بااختیار بنانا چاہتے ہیں کہ وہ غریبی کے خلاف جدوجہد میں ہمارے سپاہی بن جائیں۔ متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور اسکیمیں وضع کی گئی ہیں ۔ ان میں اسکولوں میں بیت الخلاؤں کی تعمیر سے لے کر آئی آئی ٹی ، آئی آئی ایم اور اے آئی آئی ایم ایس جیسے اداروں کا قیام ، ہمارے بچوں کو ٹیکہ کاری کےعمل کے تحت لانا اور عوامی شراکت داری والے سوچھ بھارت مشن کا آغاز ، ہمارے مزدوروں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک عام انسان کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کم سے کم پنشن کی فراہمی، ہمارے کاشتکاروں کو جو قدرتی آفات ارض وسماں کا شکار ہوتے ہیں ، ان کے مفادات کے تحفط کیلئے ڈبلیو ٹی او میں گنجائش نکالی گئی، ہر کس وناکس کو اپنی تصدیق خود کرنے کی سہولت ، عوام کو ان کے بینکوں میں سبسیڈی کی براہ راست منتقلی ، بینکنگ نظام کو عوام تک پہنچانا، چھوٹے کاروباریوں کے لئے سرمائے کی فراہمی، آبپاشی کی سہولت کھیتوں تک پہنچانا اور ماں گنگا کا احیاء ، 24×7 اوقات کی بجلی کی فراہمی سے لیکر پورے ملک کو روڈ اور ریل کے راستے سے مربوط کرنا، بے گھروں کیلئے رہائش گاہوں کی تعمیر سے لیکر اسمارٹ سٹی کو عملی جامہ پہنانا اور شمال مشرق کو ترجیحاتی بنیادوں پر ترقی سے ہم آہنگ کرنا اور مشرقی بھارت کو ترقی کے راستے پر ڈالنا جیسے اقدامات شامل ہیں۔

دوستو ، یہ محض ایک شروعات ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کا معیار حیات ، بنیادی ڈھانچہ اور خدمات کا کایاکلپ کردیا جائے ۔ ہم سب ملکر آپ کے خوابوں کا بھارت تعمیر کریں گے اور وہی بھارت ہمارے مجاہدین آزادی کے خوابوں کا بھارت بھی ہوگا۔ اس کام میں، میں آپ کی دعاؤں اور آپ کے ہمہ گیر تعاون کا خواستگار ہوں۔
ہمیشہ آپ کی خدمت میں

جئے ہند

نریندر مودی

 
Narendra Modi
PM's Message