پی ایم انڈیا

اسرائیل کو ٹیکنالوجی میں قوت کا مخزن کہا جاتا ہے :وزیراعظم مودی

500x500

اسرائیل کے اپنے تاریخی دورے سے پہلے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل ہیوم کو بتایا کہ دونوں ممالک ’’تعلقات کو ایک نئی سطح تک ‘‘لے جانے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ’’بہت سی پریشانیوں کا سامنا کیا ہے‘‘ اور ’’ شاندار کامیابیاں‘‘ حاصل کی ہیں۔
یہ کوئی عام بات نہیں ہے کہ کوئی ایسے وزیراعظم سے ملاقات کرے جو 1.2 ارب عوام کی نمائندگی کرتا ہو، جو ملک میں اور بیرون ممالک میں سپراسٹار سمجھا جاتا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ میٹنگ کو اتنا مخصوص سمجھا گیا ہے۔
مودی 4 جولائی کو اسرائیل پہنچیں گے، جو ایک تاریخی دورہ ہوگا: اس ملک کے پہلے موجودہ وزیراعظم ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے سائز میں بڑے فرق کے باوجود ان کے درمیان تعلقات، جہاں تک ان کا تعلق ہے، برابری کے ہیں۔
مودی ایک الگ طرح کے لیڈر ہیں۔ بھاری شہریوں میں آسمان چھولینے والی مقبولیت کے ساتھ وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں ، ان اصلاحات کے لئے زور دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو آگے بڑھانے اور اسے ایک عالمی لیڈر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کیلئے، ان مقاصد کو حاصل کرنے کا راستہ اسرائیل سے ہوکر گزرتا ہے۔ یہ تمام اسرائیلیوں کے لئے ایک فخر کا تمغہ ہونا چاہئے۔ وہ جانتے ہیں کہ بھارتی ان سے محبت کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انہیں ناکام نہیں ہونا چاہئے ۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
جب میں مودی کی سرکاری رہائش گاہ پر پہنچا، مجھے پتہ لگا کہ جو شخص کیمرے کے سامنے ہمیشہ سخت نظر آتا ہے، ایک دوستانہ جذبہ رکھنے والا شخص ہے جو مسکرانا جانتاہے۔ وہ غریبی میں پیدا ہونے کے بعد خود کو بالکل نچلی سطح سے اوپر لانے میں اپنی کامیابی پر زبردست فخر کرتا ہے۔
اعتماد سے بھرپور مودی نے میرے ساتھ اپنے مقامی قول کو دہرایا جسے وہ اپنے منتر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یعنی ’’سروجن ہتھائے‘ سروجن سکھائے‘‘ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’سب کے مفاد میں، سب کے فائدے کے لئے، سب کے ساتھ، سب کے لئے ترقی‘‘ پورے انٹرویو کے دوران انہوں نے اس بات کی کوشش جاری رکھی کہ بھارت اور اسرائیل کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کو اجاگر کرنے کیلئے حقیقی کوشش کریں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ملک سچے دوست ہیں۔ دونوں میں صنعت کاری اور اختراعات کا مشترکہ جذبہ ہے جو ساجھیداری کو ایک نئی وسعت دیتا ہے۔ انہوں نے اور ان کے عوام نے بھی 5 جولائی کو تل ابیب میں مقامی بھارتی برادری کے لئے ایک ریلی کا انعقاد کرکے ، جس کی قیادت مودی کو خود کرنی ہے، ان کے جذبات سے فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دورے کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔ یہ مقامی بھارتی برادری کے لئے ان کے احترام کے اظہار کا ایک منفرد طریقہ ہے۔
سوال: آپ اسرائیل کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی اسرائیل کا دورہ کیا ہے؟
’’مجھے اس کا پہلا تجربہ 2006 میں اسرائیل کے دورے کے دوران ہوا جب میں نے بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر اگریٹک نمائش میں شرکت کے لئے دورہ کیا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد واپس آیا ہوں اور میں اس عرصے میں اسرائیل کے ذریعے کی گئی ترقی اور اقدامات کا مشاہدہ کرنے کا منتظر ہوں‘‘۔
’’اسرائیل کے بارے میں، میں اپنے بہت سے ہم وطنوں کے خیالات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔ بھارت میں اسرائیل کو ٹیکنالوجی میں قوت کا مخزن اور ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جس نے بہت سی پریشانیوں کا سامنا کیا ہے۔ بہت سی ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات کی خبریں اسرائیلی یونیورسٹیوں اور لیباریٹریوں سے جڑی ہیں اور ان سے انسانیت کو فائدہ پہنچا ہے۔ ان میں یو ایس بی فلیش ڈرائیوز سے لے کر سرخ ٹماٹر تک شامل ہیں۔ جس طرح آپ نے خود کو پانی کی قلت والے ملک سے پانی کی فراوانی والے ملک میں تبدیل کیا ہے، جس طرح آپ نے اپنے ریگستانوں کو سرسبز بنایا ہے، یہ تمام تعجب خیز کامیابیاں ہیں۔ ان تمام چیزوں نے میرے ذہن پر گہرا اثر ڈالا ہے‘‘۔
سوال: آپ نے یہ تاریخی دورہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
’’ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ بہت مضبوط رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزرتے ہوئے برسوں کے ساتھ یہ مسلسل وسیع اور گوناگوں ہورہے ہیں۔ ماضی قریب میں ہمارے تعلقات کے استحکام کا اظہار اعلیٰ سطحی دورو میں ہونے لگا ہے۔ آپ نے نوٹس کیا ہوگا کہ آپسی تبادلوں کی تعداد پچھلے تین برسوں میں کافی زیادہ ہوئی ہے۔ کسی بھی بھارتی صدر یا وزیراعظم نے 2015 میں ہمارے صدر کے دورے سے پہلے کبھی اسرائیل کا دورہ نہیں کیا۔ 2016 میں بھارت کا دورہ کرنے والے صدر ریوون ریولن دوسرے اسرائیلی صدر تھے جنہوں نے بھارت کا دورہ کیا‘‘۔’’میرا ہونے والا دورہ ہمیں دونوں سماجوں کے درمیان صدیوں پرانے گہرے روابط کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دورہ ہمارے اس نظریے کے خطوط پر ہے کہ ہمارے تعلقات، ہمارےر ابطوں کے تمام شعبوں سے ظاہر ہونے چاہئیں اور ان کے ساتھ مسلسل اعلیٰ سطحی رابطے بھی ہونے چاہئیں۔ میں سمجھتاہوں کہ اس سال، جبکہ ہم اپنے سفارتی تعلقات کے 25 ویں سالگرہ منارہے ہیں، یہ ایک خوش قسمت موقع ہے کہ ہم تعلقات کو ایک نئی سطح تک لے جائیں‘‘۔
سوال: کیا یہ فیصلہ اقوام متحدہ میں زیادہ اسرائیلی حامی روئے پر مبنی ہوگا؟
’’اقوام متحدہ میں ہماری پوزیشن خصوصی معاملات کی اہمیت پر مبنی ہوتی ہے اور ہماری اقدار اور اصولوں کے ذریعے طے ہوتی ہے۔ ہم اسرائیل سمیت اپنے تمام ساجھیداروں کے ساتھ اقوام متحدہ اور دوسرے کثیر جہتی فورموں میں، جن سے ہمارے مشترکہ ترجیحات اور تشویش کا اظہار ہوتا ہے، بہتر نتائج حاصل کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ بھارت اقوام متحدہ میں کسی بھی ملک کو الگ تھلگ کرنے کے حق میں نہیں ہے‘‘۔
سوال: کیا بھارت اب بھی خود کو مغرب یا مشرق سے ناوابستہ سمجھتا ہے؟
’’ہم ’واسودیواکٹم بکم‘ کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں جس کا مطلب ہے دنیا ایک خاندان ہے۔ ہم مشرق اور مغربی دونوں کے ساتھ تعمیری تعلقات رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔
سوال: کیا اسرائیل اور بھارت دہشت گردی کے یکساں خطرے کا سامنا کررہے ہیں؟
’’دہشت گردی ایک عالمی لعنت ہے، بھارت اور اسرائیل بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ ہم ان عناصر سے پوری طرح متفق ہیں جو کہتے ہیں کہ بے گناہ لوگوں پر تشدد کو پھلنے پھولنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ سرحد پار کی دہشت گردی ہمارے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے سرحد کی دوسری جانب پھوٹ ڈالنے والی قوتیں ہمارے ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہیں۔ یہ سازش کرنے والے اکثر ہمارے ملک اور ہمارے خطوں میں نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے مذہب کو ایک وسلےے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ دہشت گردی کو کسی خاص مذہب سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ بھارت اسرائیل دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کے لئے اور زیادہ قریب ہوکر اور ایک دوسرے کی کوششوں میں اضافہ کرکے مزید تعاون کرسکتے ہیں‘‘۔
سوال:کیا یہ تعلقات کا دوبارہ تعین یا ان کو بہتر بنانا ہے؟
’’میرے دورے کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی بھارتی وزیراعظم اسرائیل کا دورہ کررہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرا دورہ مختلف شعبوں میں ہمارے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور تعاون کے لئے نئی ترجیحات فراہم کرے گا‘‘۔
سوال: کیا آپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح یروشلم اور مغربی دیوار کا دورہ کرنے پر رضامند ہوں گے؟
’’میرے دورے کا خاص مقصد بھارت اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں یروشلم کا دورہ کروں گا۔ میرے دورے کی تفصیلات اور پروگرام اس طرح مرتب کی گئی ہیں تاکہ ہم اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی اور اختراعی رابطوں، زراعت اور وسائل کے بھرپور استعمال سمیت تمام شعبوں میں اپنی ساجھیداری کو آگے لے جانے پر توجہ دے سکیں‘‘۔
سوال: یروشلم میں اقتدار اعلیٰ کے سوال پر آپ کا کیا موقف ہے؟ کیا بھارت اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرے گا؟
’’ہم دوملکی حل پر یقین رکھتے ہیں جس میں دونوں اسرائیل اور مستقبل کا فلسطین پرامن طور پر ایک ہی جگہ مل جل کر رہیں۔ ایک قطعی حیثیت سے متعلق معاہدے میں تمام متاثرہ فریقوں کے جذبات کا احترام کیا جائے اور ان کی مانگوں کو پورا کیا جائے۔ اس مسئلے کے حل کی کلید متاثرہ فریقوں کے پاس ہی ہے۔ بھارت یروشلم سمیت التوا میں پڑے تمام معاملات کا قابل قبول حل تلاش کرنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ یہ سوال تل ابیب میں ہمارے سفارت خانے کے حوالے سے ہے۔ ہم یروشلم پر دونوں فریقوں کے ایک معاہدے پر پہنچنے کے بعد اس پر فیصلہ کریں گے‘‘۔
سوال: آپ کی سوانح، جوغریبی میں پیدا ہوئے ایک شخص کے طور پراپنی سخت محنت کے ساتھ ملک کی حکومت کے سربراہ کے درجے تک پہنچ گیا ہے، ہر طرح سے متاثر کُن ہے لیکن آپ کے ماضی کے باوجود، آپ سرمایہ دارانہ نظام کے پکے حامی ہیں اور معیشت میں نرم روی لانا چاہتے ہیں، کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ آپ کا یہ عالمی نظریہ کیسے فروغ پایا؟
’’میں کسی بھی ’’ازم‘‘ میں یقین نہیں رکھتا، میں اور میری حکومت ’’سب کے ساتھ سب کی ترقی‘‘ کے مقصد کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں ہمارے نوجوان صرف روزگار مانگنے والے نہ بنیں بلکہ روزگار دینے وال بنیں۔ ہم اپنے نوجوانوں کی اختراعی اور صنعت کاری کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔ کسی بھی لائحہ عمل کی حمایت یا وکالت کرنے کا میرا پیمانہ یہ ہے کہ اس سے ہمارے عوام کی زندگی کو کیا فائدہ پہنچے گا یا قدر میں کتنا اضافہ ہوگا اور جب اس سوچ کو پہلے رکھا جائے گا تو کافی مفید نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔یہ میں خود مغربی بھارت میں اپنی آبائی ریاست گجرات میں دیکھ چکا ہوں جہا میں 13 برس تک وزیراعلیٰ تھا اور اب قومی سطح پر بھارت میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔
سوال: آپ نے دور دراز کے علاقوں اور دیہی برادریوں میں، جہاں مناسب صفائی ستھرائی کی کمی ہے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے بھارتی سماج میں اصلاح کرنے کی کوشش کی ہے، کیا اس میں اسرائیل کوئی کردار ادا کرسکتا ہے؟
’’یقیناً اسرائیل یکسر تبدیلی کے اس عمل میں ٹیکنالوجی کا ساجھیدار بن سکتا ہے۔ اسرائیل کی صلاحتوں کا ہماری اہم اسکیموں، جیسے صاف گنگا (دریائے گنگا کو صاف کرنے کی کوشش) اور اسمارٹ سٹی کے ساتھ اچھا میل ہے۔ اگر اسرائیلی اختراعات کار اپنی مصنوعات کو ہماری دیہی آبادی کی ضروریات کے مطابق تبدیل کرسکیں تو اسرائیل کی ٹیکنالوجی ہمارے ملک میں لاکھوں لوگوں کی معیاری زندگی کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ البتہ دیہی سیکشن میں مارکیٹ کے رجحان کو سمجھنا بہت اہم ہے‘‘۔
سوال: جب تجارت، زراعت اور دیگر شعبوں کی بات ہوتی ہے تو اسرائیلی اور بھارتی طریقہ کار کے درمیان کیا فرق ہے؟
’’سماج کے طور پر بھارت اور اسرائیل دونوں صنعت کاری کا مضبوط ذہن رکھتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں کاروباری کلچر بالکل منفرد ہے اور یہ اس منظر نامے سے تعلق رکھتا ہے جس میں دونوں اپنے اپنے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کے طریقہ کار میں اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن بھارت اور اسرائیل کے تاجر، جنہیں میں جانتاہوں، انہوں نے مجھے بتایا کہ دونوں کے سائنسی مزاج یکساں ہیں‘‘۔
سوال: ہم کس طرح ایک اوسط شخص سے بیان کرسکتے ہیں کہ اسرائیلیوں اور بھارتیوں کے درمیان کس طرح کے اختراعاتی تعلقات ہیں؟
’’میں سمجھتا ہوں کہ اوسط شخص پوری طرح ہمارے اختراعاتی تعلقات کے بارے میں جانکاری رکھتا ہے کیونکہ ہمارے تعلقات کے نتائج اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اختراعات کے بارے میں ہمارا تناظر مختلف ہوسکتا ہے لیکن ہم دونوں اپنے سماج کے لئے دولت اور قدر میں اضافے کے لئے اس پر انحصار کرتے ہیں۔ اسرائیلی اور بھارتی جنم سے ہی اختراعات کار ہیں۔ بھارت اور اسرائیل دونوں اختراعاتی ماحولیاتی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمارے مشترکہ کوشش بھی چھوٹی صنعت کاری کی توانائی کے ساتھ اختراعات کی تخلیقیت کو مربوط کرنا ہے‘‘۔
سوال: بھارت اسرائیل سے کس طرح کی درآمدات کرنا چاہتا ہے؟
’’ہم اسرائیل کے ساتھ روایتی درآمد-برآمد کے تعلقات کے خواہاں نہیں ہیں۔ یہ خریدنے والے اور فروخت کرنے والے کے تعلقات سے کہیں آگے ہے۔ ہم میک ان انڈیا پر زور دیتے ہوئے ٹیکنالوجی پر مبنی ساجھیداری میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسرائیلی صنعت ہماری صاف گنگا جیسی کلیدی اسکیموں کے لئے کافی مثبت امکانات رکھتی ہے۔ بھارت کی کلیدی اسکیموں میں ساجھیداری کو زیادہ مستحکم کرنے کے لئے زبردست مواقع موجود ہیں‘‘۔

No More Interview

Loading...