پی ایم انڈیا

جناب اندرکمار گجرال

۲۱؍ اپریل ۱۹۹۷ - ۱۹؍ مارچ ۱۹۹۸ | جنتال دل

جناب اندرکمار گجرال

جناب اندر کمار گجرال نے ۲۱؍ اپریل ۱۹۹۷ کو، دوشنبہ کے روز، بھارت کے ۱۲ہویں وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا۔

جناب گجرال، آنجہانی جناب اوتار نارائن گجرال اور آنجہانی محترمہ پشپا گجرال، کے بیٹے تھے۔ انہوں نے ایم اے، بی کام، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ ۴ دسمبر ۱۹۱۹ کو جہلم (غیر منقسم پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ وہ اور محترمہ شیلا گجرال، ۲۶ مئی ۱۹۴۵ کو رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

جناب گجرال کا تعلق آزادی کے سپاہیوں کے خاندان سے تھا: ان کے والدین نے پنجاب میں آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ گیارہ سال کی کم عمری میں ہی، وہ بذاتِ خود ۱۹۳۱میں آزادی کی جدوجہد میں شریک ہوئے اور جہلم میں نوجوان لڑکوں کی تحریک کی نمائندگی کرنے کے لئے گرفتار ہوئے، جس کے نتیجے میں انہیں بے رحمی سے پیٹا گیا۔ ۱۹۴۲ میں، بھارت چھوڑو تحریک کے دوران، وہ قید بھی ہوئے۔

بھارت کے وزیر اعظم بننے سے پہلے، جناب گجرال، یکم جون ۱۹۹۶ کو خارجی امور کے وزیر بنے اور ۲۸؍جون ۱۹۹۶ کو وزارتِ آبی وسائل کا اضافی چارج بھی سنبھالا۔ ۱۹۹۰۔۱۹۸۹کے دوران، وہ خارجی امور کے وزیر رہے۔ ۱۹۷۶ سے لے کر ۱۹۸۰ تک ، وہ یو ایس ایس آر میں بھارت کے سفیر (کابینہ رینک)بھی رہے اور انہوں نے ۱۹۶۷ سے ۱۹۷۶ کے دوران، درج ذیل وزارتی ذمہ داریاں سنبھالیں:

وزیر برائے مواصلات اور پارلیمانی امور؛
وزیر برائے اطلاعات اور نشریات و مواصلات؛
وزیر برائے تعمیر اور ہاؤسنگ؛
وزیر برائے اطلاعات و نشریات؛
وزیر برائے منصوبہ بندی

پارلیمانی عہدوں کی ذمہ داریاں:

جون ۱۹۹۶ سے راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر کی ذمہ داری ادا کی ؛ ۱۹۹۳سےاپریل ۱۹۹۶تک، کامرس اور ٹیکسٹائل کے امور پر پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے؛ اپریل ۱۹۹۶ تک، خارجہ امور کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے رکن رہے؛ ۱۹۶۴ سے ۱۹۷۶ تک اور ۱۹۸۹سے۱۹۹۱ تک، پارلیمنٹ کے ممبر رہے؛ ۱۹۹۲ میں بہار سے راجیہ سبھا کے لئے دوبارہ منتخب ہوئے؛ راجیہ سبھا میں عرضداشت(پٹیشن) کمیٹی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور کمیٹی آن رولس کے ممبر رہے ؛ راجیہ سبھا کی ذیلی قانون ساز کمیٹی کے رکن رہے ؛ راجیہ سبھا کی عام مقاصد کی کمیٹی اور راجیہ سبھا کی خارجہ امور پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن رہے ۔

دیگر اہم عہدوں کی ذمہ داریاں:

بھارت کی جنوبی ایشیائی تعاون کونسل کے چیئرمین رہے؛ سرمایہ کاری منصوبہ بندی نگرانی کمیٹی کے رکن رہے؛ دفاعی مطالعات اور تجزیہ کاری کے ادارے (آئی ڈی ایس اے)کے صدر رہے؛ فروغ اردو (گجرال کمیٹی) کی سرکاری کمیٹی کے چیئرمین رہے؛ ۶۴۔۱۹۵۹ کے دوران، نئی دہلی میونسپل کونسل کے نائب صدر رہے؛ لاہور طلبا یونین کے صدر رہے؛ پنجاب اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جنرل سکریٹری رہے؛ کلکتہ، سری نگر اور دہلی میں اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں کے محاذ کے اجلاس کے کنوینر اور ترجمان رہے۔

بین الاقوامی وفود:

۱۹۹۶ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لئے بھارتی وفد کے لیڈر رہے؛ ۱۹۹۵ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کنونشن میں بھارتی وفد کی قیادت کی ذمہ داری انجام دی؛ ۱۹۹۰ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لئے بھارتی وفد کی رہنمائی کے فرائض انجام دیے؛ ۱۹۹۰ میں اقتصادی ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی؛۱۹۷۷ میں تعلیم اور ماحولیات کے موضوع پر یونیسکو کانفرنس میں بھارتی وفد کی سربراہی کے فرائض انجام دیے؛ ۱۹۷۰، ۱۹۷۲ اور۱۹۷۴میں یونیسکو اجلاس میں ہندوستانی وفد کے متبادل لیڈر کی حیثیت سے شرکت کی؛۱۹۷۳ میں پیرس میں منعقدہ، انسان اور نئے مواصلاتی نظام، کے موضوع پر یونیسکو سیمینار میں ہندوستانی وفد کی نمائندگی کی؛ ۱۹۹۵ میں بخاریسٹ میں منعقدہ بین پارلیمانی یونین کانفرنس میں وفد کی نمائندگی کی؛۱۹۷۴ میں اسٹاک ہوم میں ماحولیات کے موضوع پر منعقدہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارتی وفد کے متبادل لیڈر کی حیثیت سے شرکت کی؛ ۱۹۷۵ میں گبون، کیمرون، کونگو، چاڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ میں بھارت کے خصوصی سفیر کے منصب کے فرائض انجام دیے؛ ۱۹۶۶ میں جمہوریہ مالی کے افتتاح کی تقریب میں بھارت کے خصوصی سفیر کی حیثیت سے شرکت کی ؛ ۱۹۶۱ میں بلغاریہ میں خصوصی سفیر رہے؛ سری لنکا، بھوٹان، مصر اور سوڈان کے سرکاری دوروں کے دوران مرکزی وزیر کی حیثیت سے کام کیا؛ بھارت کی جنوبی ایشیائی تعاون کونسل کے چیئرمین رہے؛ ۱۹۶۱ میں ایشیائی روٹری اجلاس کے مشترکہ چیئرمین رہے۔

سماجی تنظیموں سے روابط:

جالندھر میں، ناری نکیتن ٹرسٹ اور اے این گجرال میموریل اسکول کے صدر رہے؛ ہند۔پاک فرینڈشپ سوسائٹی کے صدر رہے؛ دہلی آرٹ تھیئٹر کے بانی صدر رہے؛ لوک کلیان سمیتی کے نائب صدر رہے؛ ۱۹۶۰میں دہلی کے روٹری کلب کے صدر رہے؛ ۱۹۶۱ میں ایشیائی روٹری اجلاس کے مشترکہ چیئرمین بنے۔

خصوصی دلچسپیاں:

جناب گجرال، قومی اور بین الاقوامی امور اور تھئیٹر سے متعلق امور کے مصنف اور مبصر تھے۔