پی ایم انڈیا

جناب ایچ ڈی دیوے گوڑا

یکم جون ۱۹۹۶ - ۲۱؍ اپریل ۱۹۹۷ | جنتا دل

جناب ایچ ڈی دیوے گوڑا

بھارت کی سماجی ۔ اقتصادی ترقی اور مالامال ثقافتی ورثے کے مداح جناب ایچ۔ ڈی۔ دیوےگوڑا کی پیدائش ۱۸؍ مئی ۱۹۳۳ کو، کرناٹک کے ہاسن ضلع کے ہولینارا سپوراتالک کےہردن ہلی گاؤں میں ہوئی تھی۔

سول انجینیئرنگ میں ڈپلوما ہولڈر ، جناب دیوے گوڑا ۲۰ سال کی کم عمری میں ہی سرگرم سیاست میں اس وقت شامل ہوئے جب ۱۹۵۳ میں وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کانگریس سے جڑ گئے اور ۱۹۶۲ تک اس کے رکن بنے رہے۔ ایک متوسط طبقے کے کسان گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں کسانوں کی مشکل بھری زندگی کا اندازہ تھا، چنانچہ انہوں نے غریب کاشتکاروں، ناداروں اور مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لئے آواز اٹھائی۔

جمہوری نظام کے نچلے زمرے سے شروعات کرتے ہوئے، جناب گوڑا آہستہ آہستہ سیاست کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ انجانیا کوآپریٹو سوسائٹی کے صدر اور بعد میں ہولینارا سپورا میں تالک ترقیاتی بورڈ کے رکن کے طور پر انہوں نے لوگوں کے ذہنوں پر اپنی چھاپ چھوڑی۔

انہوں نے ہمیشہ ایسے سماج کا خواب دیکھا جسمیں نابرابری کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔ محض ۲۸ سال کی عمر میں، نوجوان دیوے گوڑا نے آزادانہ طور پر انتخاب لڑا اور ۱۹۶۲ میں کرناٹک اسمبلی کے رکن بن گئے۔ کرناٹک اسمبلی میں ایک مؤثر اسپیکر کے طور پر انہوں نے سینیئر اراکین سمیت سبھی کو متاثر کیا۔ ہولینارا سپورا انتخابی حلقے نے انہیں مزید تین مرتبہ، یعنی چوتھی (۱۹۶۷-۷۱)؛ پانچویں (۱۹۷۲-۷۷) اور چھٹویں (۱۹۷۸-۸۳) اسمبلیوں کے لئے منتخب کیا۔

مارچ ۱۹۷۲ سے مارچ ۱۹۷۶ اور ۱۹۷۶ سے دسمبر ۱۹۷۷ تک، انہیں بحیثیت اپوزیشن لیڈر اپنی خدمات پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔

جناب دیوے گوڑا ۲۲؍ نومبر ۱۹۸۲ کو چھٹویں اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔ ساتویں اور آٹھویں اسمبلی کے رکن کے طور پر، انہوں نے عوامی فلاح اور آبپاشی کے وزیر کے منصب پر اپنی خدمات انجام دیں۔ آبپاشی کے وزیر کے طور پر انہوں نے آبپاشی سے متعلق کئی پروجیکٹس کا آغاز کیا۔ انہوں نے، آبپاشی کی وزارت کو ناکافی فنڈ مختص کیے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، ۱۹۸۷ میں کابینہ سے استعفی دے دیا۔

آزادی اور برابری کے علمبردار گوڑا کو ۷۶۔۱۹۷۵ میں مرکزی حکومت کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا اور ایمرجنسی کے دور میں انہیں جیل جانا پڑا۔ اس وقت کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علم میں اضافہ کرنے کی غرض سے خوب مطالعہ کیا۔ مطالعے اور جیل میں ہوئی ہندوستانی سیاست کی جَیّد ہستیوں سے ملاقات نے انہیں اپنی شخصیت اور نقطۂ نظر کو نکھارنے میں مدد دی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد وہ تجربہ کار اور مضبوط ارادے والے فرد کی شکل میں ابھرے۔

۱۹۹۱ میں وہ ہاسن لوک سبھا انتخابی حلقے سے منتخب ہوئے۔ جناب گوڑا نے ریاست کے مسائل، خاص طور سے کسانوں کے مسائل دور کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ انہیں، پارلیمنٹ میں کسانوں کی ناگفتہ بہ صورتِ حال کے سلسلے میں اظہارِ خیال کرنے کے لئے خوب ستائش ملی۔ پارلیمنٹ اور اس کے اداروں کے وقار کو بنائے رکھنے کے لئے بھی ان کی خوب تعریف ہوئی۔

جناب دیوے گوڑا دو مرتبہ ریاستی سطح پر جنتا پارٹی کے صدر کے منصب پر فائز ہوئے اور ۱۹۹۴ میں جنتا دل کے ریاستی صدر کے منصب پر فائز ہوئے۔ جناب دیوے گوڑا نے ۱۹۹۴ میں ریاست میں جنتا دل کے عروج کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ۱۱؍ دسمبر ۱۹۹۴ کو جناب دیوے گوڑا جنتا دل اسمبلی پارٹی کے صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے کرناٹک کے چودہویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ریاست کی زمامِ اقتدار سنبھالی۔ بعد میں انہوں نے رام نگر اسمبلی حلقے سے چناؤ لڑا اور زبردست اکثریت سے جیت حاصل کی۔

عملی سیاست میں ان کے طویل مدتی تجربے اور زمینی سطح پر مضبوط بنیاد کی بدولت انہیں ریاست کو درپیش متعدد مسائل کا راست طور سے ازالہ کرنے میں زبردست کامیابیاں ملیں۔ ان کی سیاسی ہنرمندی اس وقت بھی آزمائش کی کسوٹی پر کھری اتری جب انہوں نے ہبلی کے عید گاہ میدان کے معاملے میں جوش و جذبے کے ساتھ جدوجہد کی۔ یہ میدان اقلیتی برادری کی ملکیت تھا اور سیاسی تنازع کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لیکن جناب دیوے گوڑا نے کامیابی کے ساتھ اس تنازع کو حل کیا۔

۱۹۹۵ میں جناب دیوے گوڑا نے سوئیٹزر لینڈ میں فورم آف انٹرنیشنل اکنامسٹس کے اجلاس میں شرکت کی۔ ان کے یوروپ اور مشرقِ وسطی کے ممالک کے دورے، ایک ایماندار اور نیک نیت سیاست داں کی حیثیت سے ان کی کامیابی ثابت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سنگاپور کا سفر کرکے ریاست کے لئے وہاں سے مطلوبہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرکے اپنی کاروباری ہنرمندی کا بھی ثبوت پیش کیا۔

۷۰ کی دہائی سے ہی ان کے دوست و دشمن ان کی تنہا سیاسی سرگرمیوں اور اقدامات پر تبصرے اور تنقیدیں کرتے رہے ہیں۔ جناب دیوے گوڑا کے مطابق، ان کی سیاست عوام کی سیاست ہے اور انہیں اس وقت خوشی ہوتی ہے جب عوام سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے لئے کچھ کرتے ہیں۔

۱۹۸۹ کے ریاستی انتخابات میں ان کی پارٹی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر سکی اور ان کی پارٹی کو ۲۲۲ اسمبلی نشستوں میں سے محض ۲ نشستیں ہی حاصل ہو سکیں۔ اسی چناؤ میں انہیں پہلی بار دو اسمبلی حلقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لئے انہیں سیاسی ستاروں کی گردش سے غیر مانوس یا اجنبی نہیں کہا جا سکتا۔

اس شکست نے ان کے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرنے اور اپنی منفرد قسم کی سیاست کرنے کی آزمائش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کرناٹک و دہلی میں اپنے دوست بنائے اور سیاسی حریفوں سے اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ جناب دیوے گوڑا انتہائی سادہ زندگی گزارنے والے شخص ہیں لیکن وہ اپنے موقف پر انتہائی مؤثر انداز میں زور دیتے ہیں۔

سیاسی زندگی کے آغاز سے قبل جناب دیوے گوڑا چھوٹی موٹی ٹھیکے داری کیا کرتے تھے۔ لیکن آزادانہ طور سے گزرنے والے سات برسوں نے انہیں پارٹی کی سیاست کو باہر سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ انتہائی محنتی شخص ہونے کے باوجود جناب دیوے گوڑا ہمیشہ ریاستی اسمبلی کی لائبریری میں کتابوں اور رسائل کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے۔ ۱۹۶۷ میں ان کی دوبارہ کامیابی نے ان میں زبردست اعتماد پیدا کیا اور ۱۹۶۹ میں جب کانگریس تقسیم ہوئی تو وہ ان دنوں کرناٹک میں برسر اقتدار جناب نجلنگ گپا کی سربراہی والی کانگریس (تنظیمی) میں شامل ہوگئے۔ لیکن جناب دیوے گوڑا کو اس وقت ایک زبردست موقع حاصل ہوا جب ۱۹۷۱ کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس (تنظیمی) کا صفایا ہو گیا تھا۔ وہ آنجہانی اندراگاندھی کی لہر سے متاثرہ شکست خوردہ اپوزیشن کے لیڈر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے۔

جناب ڈوڈے گوڑا اور محترمہ دِیَومّاں کے گھر میں پیدا ہونے والے جناب دیوے گوڑا ہمیشہ اپنی سادہ کاشتکاری کے پس منظر پر فخر محسوس کرتے تھے۔ محترمہ چنمّاں سے شادی کے بعد ان کے چار لڑکے اور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ ان کا ایک بیٹا کرناٹک میں ممبر اسمبلی ہے اور دوسرے بیٹے نے چناؤ جیت کر لوک سبھا کی رکنیت حاصل کی تھی۔

علاقائی پارٹیوں اور غیر کانگریس و غیر بی جے پی اتحاد کی شکل میں ابھرنے والے تیسرے محاذ کی قیادت نے جناب دیوے گوڑا کو ملک کی وزارت عظمی کےجلیل القدر منصب پر فائز کیا۔ حالانکہ انہیں اس کی زیادہ خواہش نہیں تھی۔

جناب دیوے گوڑا، ۳۰ مئی ۱۹۹۶ کو کرناٹک کی وزارت اعلیٰ کے منصب سے مستعفی ہو کر ہندوستان کے گیارہویں وزیر اعظم کے طور پر اِس منصب پر فائز ہوئے۔