پی ایم انڈیا

جناب مرار جی دیسائی

۲۴؍ مارچ ۱۹۷۷ - ۲۸؍ جولائی ۱۹۷۹ | جنتا پارٹی

جناب مرار جی دیسائی

جناب مرارجی دیسائی کی پیدائش، ۲۹ فروری ۱۸۹۶ کو، بدیلی گاؤں میں ہوئی، جو کہ اب گجرات کے بلسر ضلع کا حصہ ہے۔ ان کے والد بہت اصول پرست شخص تھے۔ کم عمری سے ہی مرارجی نے اپنے والد سےسخت محنت اور ہر حال میں سچائی پر ڈٹے رہنے کی اہمیت سیکھ لی تھی۔ انہوں نے میٹرک کی تعلیم سینٹ بوسر ہائی اسکول سے حاصل کی۔ انہوں نے ۱۹۱۸ میں ولسن سول سروس، جو کہ اس وقت بمبئی صوبے کا حصہ تھا، سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد بارہ برس تک ڈپٹی کلکٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔

۱۹۳۰ میں جب ہندوستان مہاتما گاندھی کے ذریعہ شروع کی گئی تحریک آزادی کے وسط میں تھا، اس وقت جناب دیسائی نے، برطانوی عدالتی نظام سے مایوس ہو جانے کے بعد، سرکاری ملازمت چھوڑ دینے اور جدوجہد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔یہ ایک سخت فیصلہ تھا، لیکن جناب دیسائی نے محسوس کیا کہ ’جب مسئلہ ملک کی آزادی کا ہو تو گھریلو مسائل اس کے سامنے ادنٰی ہیں‘۔

جناب دیسائی جدوجہد آزادی کے دوران، تین مرتبہ جیل گئے۔ وہ ۱۹۳۱ میں کانگریس کمیٹی کے رکن بنے اور ۱۹۳۷ تک ریاست گجرات کی کانگریس کمیٹی کے سکریٹری رہے۔

۱۹۳۷ میں جب پہلی مرتبہ کانگریس نے دفتر کا چارج سنبھالا تو جناب دیسائی کو ، اُس وقت کے بمبئی صوبے کی، جناب بی جی کھیر کی قیادت والی حکومت میں محصولات، زراعت، جنگلات اور امدادِباہمی کا وزیر بنایا گیا۔۱۹۳۹ میں کانگریسی وزارتوں نے، ہندوستانی عوام کی اجازت کے بغیر، حکومت کے عالمی جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے کی مخالفت میں، دفتر چھوڑ دیا۔

جناب دیسائی کو، مہاتما گاندی کے ذریعہ شروع کیے گئے ستیہ گرہ تحریک میں نجی طور پر شامل ہونے کے لئے ، گرفتار کر لیا گیا۔ ۱۹۴۱ میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اگست ۱۹۴۲ میں، بھارت چھوڑو تحریک کے دوران، ایک مرتبہ پھر انہیں گرفتار کیا گیا۔۱۹۴۵ میں انہیں رہائی ملی۔ ۱۹۴۶ میں صوبائی اسمبلی انتخابات کے بعد وہ بمبئی میں داخلی اور محصولات کے امور کے وزیر بنے۔ اس مدت کے دوران، جناب دیسائی نے ’کسانوں کے لئے زمین‘ تجویز کو تحفظاتی کاشتکاری حقوق دلا کر زمینی محصولات میں کئی دور رس اصلاحات کیں۔ پولیس انتظامیہ میں انہوں نے عوام اور پولیس کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کیا اور پولیس انتظامیہ کو لوگوں کی ضرورتوں کے تئیں مزید جوابدہ بنایا تاکہ وہ عوام اور ان املاک کو تحفظ فراہم کرا سکیں۔ وہ ۱۹۵۲ میں بمبئی کے وزیر اعلی بنے۔

ان کے مطابق، جب تک دیہاتوں اور قصبوں میں رہنے والے غریب اور نادار افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر نہیں بنایا جا ئے گا، تب تک اشتراکیت کی بات کرنا اہم معنی نہیں رکھتی۔ جناب دیسائی نے کاشتکاروں اور کرایہ داروں کی مصیبتوں کو حل کرنے کی سمت میں ترقی پسند قانون بنا کر اپنی فکر کا اظہار کیا۔اس سلسلے میں، جناب دیسائی کی حکومت ملک کی دیگر ریاستی حکومتوں سے بہت آگے تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پوری ایمانداری سے قانون کا نفاذ کیا۔ بمبئی میں ان کی انتظامیہ کی سبھی نے خوب تعریف کی۔

ریاست کی تشکیل نو کے بعد، جناب دیسائی، ۱۴؍ نومبر ۱۹۵۶ کو، تجارت و صنعت کے وزیر کے طور پر مرکزی کابینہ میں شامل ہوگئے۔ بعد میں انہوں نے ۲۲؍ مارچ ۱۹۵۸ کو وزیر خزانہ کی ذمہ داری سنبھالی۔

جناب دیسائی نے اقتصادی نظام اور مالی منصوبے سے متعلق معاملات پر اپنی فکر کو عملی جامہ پہنایا۔ دفاع و ترقی سے متعلق ضروریات کی تکمیل کے لئے انہوں نے محصولات کو بڑھایا، فاضل اخراجات کو کم کیا اور انتظامیہ میں سرکاری اخراجات میں کمی لانے کو فروغ دیا۔ مالی نظم و ضبط کے نفاذ کے ذریعہ انہوں نے مالی خسارے کو بہت کم کر دیا۔ انہوں نے سماج کے اعلیٰ طبقات کے ذریعہ کی جانے والی فضول خرچی پر روک لگانے کے کوششیں کیں۔

۱۹۶۳ میں انہوں نے کامراج منصوبے کے تحت، مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ جناب لال بہادر شاستری ، جو کہ پنڈت نہرو کے بعد وزیر اعظم بنے، نے انہیں انتظامی نظام کی تشکیل نو کے لئے انتظام اصلاحاتی کمیشن کے چیئرمین بننے کے لئے راضی کیا۔ عوامی زندگی سے متعلق ان کے طویل تجربے نے انہیں اس ذمہ داری کو بخوبی نبھانے میں خوب مدد کی۔

۱۹۶۷ میں جناب دیسائی محترمہ اندرا گاندھی کی کابینہ میں بطور نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے طور پر شامل ہوئے۔جولائی ۱۹۶۹ میں محترمہ گاندھی نے ان سے وزارتِ مالیات کی ذمہ داری واپس لے لی۔ حالانکہ جناب دیسائی نے اس بات کو مانا کہ وزیر اعظم کے پاس ساتھی وزراء کی وزارتوں میں تبدیلی کرنے کا خصوصی اختیار ہے۔ لیکن ان کی عزت نفس کو اس بات سے بہت ٹھیس پہنچی کہ محترمہ گاندھی نے اس سلسلے میں ان کی رائے نہیں پوچھی۔اسی کے نتیجے میں انہیں محسوس ہوا کہ ان کے پاس بھارت کے نائب وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔

۱۹۶۹ میں کانگریس پارٹی کی تقسیم کے بعد وہ کانگریس تنظیم کے ساتھ جڑے رہے۔ انہوں نے اپوزیشن میں اپنی اہم حصہ داری جاری رکھی۔ ۱۹۷۱ میں وہ ایوان کے لئے منتخب ہوئے۔ ۱۹۷۵ میں گجرات اسمبلی کے تحلیل ہونے کے بعد انتخابات کرانے کے لئے وہ غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال پر گئے۔ اس کے نتیجے میں، جون ۱۹۷۵ میں انتخابات ہوئے۔ چار اپوزیشن جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت سے وجود میں آئی جنتا دل نے اسمبلی میں مکمل اکثریت حاصل کی۔ الہٰ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ محترمہ اندراگاندھی کے لوک سبھا انتخاب کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد جناب دیسائی نے محسوس کیا کہ سیاسی اصولوں کو مدنظررکھتے ہوئے محترمہ گاندھی کو استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ۲۶؍ جون، ۱۹۷۵ کو انہیں گرفتار کرکے حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا اور لوک سبھا انتخابات کرانے کے فیصلے سے کچھ ہی دن قبل ۱۸؍ جنوری ۱۹۷۷ کو انہیں رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے ملک بھر میں پورے زور و شور سے مہم چلائی اور چھٹویں لوک سبھا کے لئے مارچ ۱۹۷۷ میں کرائے گئے عام انتخابات میں جنتا پارٹی کی زبردست جیت میں ان کا اہم کردار رہا۔ جناب دیسائی گجرات میں سورت کے انتخابی حلقے سے منتخب ہوئے ۔ بعد میں انہیں متفقہ طور پر ایوان میں جنتا پارٹی کے رہنما کے طور پر منتخب کیا گیا اور ۲۴؍مارچ ۱۹۷۷ کو انہوں نے وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا۔

جناب دیسائی نے ۱۹۱۱ میں گجرابین سے شادی کی۔ ان کے پانچ بچوں میں سے ایک بیٹی اور ایک بیٹا ابھی بقید حیات ہیں۔

بطور وزیر اعظم جناب دیسائی چاہتے تھے کہ ہندوستان کے لوگوں کو اتنا بے خوف بنایا جائے کہ ملک میں کوئی بھی شخص چاہے وہ کتنے ہی اونچے عہدے پر کیوں نہ بیٹھا ہو، اگر وہ غلط کرتا ہے تو کوئی بھی اسےاس کی غلطی بتا سکتا ہے۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ بات کہی کہ ’’کوئی بھی، یہاں تک کہ وزیر اعظم بھی ملک کے قانون سے افضل نہیں ہونا چاہئے۔‘‘

ان کے نزدیک، سچائی کوئی مصلحت نہیں بلکہ یقین کا ایک حصہ تھا۔ انہوں نے شاید ہی اپنے اصولوں کو حالات کی مجبوریوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے دیا۔ سخت ترین حالات میں بھی وہ اپنے عزم پر ڈٹے رہے۔ وہ بذاتِ خود یہ مانتے تھے کہ،’’سبھی کو سچائی اور یقین کے مطابق ہی زندگی میں عمل کرنا چاہئے۔‘‘.