پی ایم انڈیا

جناب چندرشیکھر

۱۰؍ نومبر ۱۹۹۰ – ۲۱؍ جون ۱۹۹۱ | جنتا دل (ایس)

جناب چندرشیکھر

جناب چندر شیکھر، یکم جولائی، ۱۹۲۷ کو، اترپردیش میں بلیا ضلع کے ابراہیم پٹی گاؤں میں، ایک زراعت پیشہ خاندان میں پید ہوئے۔ وہ ۱۹۷۷ سے ۱۹۸۸ کے درمیان، جنتا پارٹی کے صدر رہے۔

اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی جناب چندر شیکھر کی توجہ سیاست کی جانب مبذول ہو گئی اور وہ انقلابی جوش اور گرم مزاج والے نظریاتی لیڈر کے طور پر مشہور تھے۔ الہٰ آباد یونیورسٹی (۵۱۔۱۹۵۰) میں پولیٹکل سائنس میں ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ سماجی تحریک سے جڑ گئے۔ انہیں آچاریہ نریندر دیو کے ساتھ قریبی طور سے جڑے ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ وہ پرجا سوشلسٹ پارٹی، بلیا کے ضلعی سکریٹری منتخب ہوئے۔ ایک سال کی مدت میں ہی وہ ریاست اترپردیش کی پرجا سوشلسٹ پارٹی کے جوائنٹ سکریٹری منتخب ہوئے۔ ۵۶۔۱۹۵۵ کے دوران، وہ اترپردیش پرجا سوشلسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری کے عہدے پر فائز رہے۔

۱۹۶۲ میں وہ اترپردیش سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔ ۱۹۶۵ میں انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ۱۹۶۷ میں وہ کانگریس پارلیمانی پارٹی کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ لوک سبھا کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے پسماندہ طبقات کی فلاح کے لئے کام کرنا شروع کیا اور سماج میں تیزی سے تبدیلیاں لانے کے لئے پالیسیاں وضح کرنے پر زور دیا۔ اس سلسلے میں جب انہوں نے حکومت کی حمایت سے سماج میں اعلیٰ طبقات کی غلط طریقے سے بڑھ رہی اجارہ داری کے خلاف آواز اٹھائی تو حکومت کے ساتھ ان کے اختلافات پیدا ہوگئے۔

وہ ایک ایسے ’نوجوان ترک‘ لیڈر کے طور پر سامنے آئے جس نے اپنے عزم، ہمت اور دیانت داری سے ذاتی مفادات کے خلاف لڑائی لڑی۔ انہوں نے ۱۹۶۹ میں دہلی سے شائع ہونے والے ہفتہ وار ’ینگ انڈین‘ کی بنیاد رکھی اور اس کے مدیر رہے۔ اس کا اداریہ اُس وقت کا بہترین اداریہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ دورِ ایمرجنسی (جون ۱۹۷۵سے مارچ ۱۹۷۷) میں، ’ینگ انڈین‘ بند کر دیا گیا تھا۔ فروری ۱۹۸۹ میں اس کی دوبارہ باقاعدہ اشاعت شروع ہوئی۔ وہ اس کے ادارتی مشاورتی بورڈ کے چیئرمین تھے۔

جناب چندر شیکھر شخصیاتی سیاست کے خلاف تھے اور انہوں نے ہمیشہ نظریاتی اور سماجی تبدیلی کی سیاست کی حمایت کی۔ ان کے یہی افکار انہیں ۷۵۔۱۹۷۳ کے پرآشوب دور میں، جناب جے پرکاش نارائن اور ان کے مثالی نظریات کے قریب لے آئے۔ جلد ہی وہ کانگریس پارٹی میں پیدا ہوئی اختلاف رائے کا مرکز بن گئے۔

۲۵؍جون، ۱۹۷۵ کو، جب ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان ہوا، تو انہیں داخلی سکیورٹی بحالی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ حالانکہ وہ انڈین نیشنل کانگریس کی دو سرکردہ کمیٹیوں، مرکزی الیکشن کمیٹی اور ورکنگ کمیٹی، کے رکن تھے۔

جناب چندر شیکھر حکمراں جماعت کے ان چند افراد میں شامل تھے جنہیں ایمرجنسی کے دوران جیل جانا پڑا۔

انہوں نے ہمیشہ اقتدار کی سیاست کو مسترد کیا اور جمہوری اقدار و سماجی تبدیلی کے عزم کی سیاست کو اہمیت دی۔

ایمرجنسی کے دوران، جیل میں گزارے وقت میں انہوں نے ہندی میں ایک ڈائری لکھی تھی جو بعد میں’میری جیل ڈائری‘ کے عنوان کے تحت شائع کی گئی۔ ‘سماجی تبدیلیوں کی تحریک’ ان کی تحریروں کی مشہور تالیف ہے۔

جناب چندر شیکھر نے ۶؍ جون ۱۹۸۳ سے ۲۵؍ جون ۱۹۸۳ تک، جنوبی ہند کے کنیا کماری سے لے کر نئی دہلی میں راج گھاٹ (مہاتما گاندھی کی سمادھی) تک، تقریباً ۴۲۶۰ کلو میٹر طویل میراتھن فاصلہ پیدل (پد یاترا) طے کیا تھا۔ اس پدیاترا کا مقصد عوام سے بہتر تعلقات قائم کرنا اور ان کی پریشانیوں کو سمجھنا تھا۔

انہوں نے سماجی اور سیاسی کارکنوں کی ٹریننگ کے مقصد سے کیرلا، تمل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، گجرات، اترپردیش اور ہریانہ میں تقریباً پندرہ ’بھارت یاترا مراکز‘ قائم کیے تاکہ وہ کارکنان ملک کے پسماندہ علاقوں میں لوگوں کو تعلیم یافتہ بنائیں اور زمینی سطح پر کام کریں۔

۱۹۸۴سے ۱۹۸۹ کی مختصر مدت کو چھوڑ کر، وہ ۱۹۶۲ سے لوک سبھا کے رکن رہے۔ انہوں نے ۱۹۸۹ میں اپنے علاقے بلیا اور بہار کے مہاراج گنج لوک سبھا حلقے سے انتخاب لڑا اور دونوں ہی حلقوں سے جیت حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے مہاراج گنج کی نشست چھوڑ دی۔

جناب چندر شیکھر کی شادی محترمہ دوجا دیوی سے ہوئی، ان کے دو بیٹے ہیں – پنکج اور نیرج