پی ایم انڈیا

خوشحال بھارت کے لئے کسانوں کو تفویض اختیارات

زراعت کے شعبے کو تیزی سے فروغ دینے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ کسان ہمیشہ ہی ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں اور این ڈی اے حکومت ملک کی اس ریڑھ کی ہڈی کو اختراعی اور ٹھوس اقدامات کے ذریعہ مستحکم کر نے کی بھر پور کو شش کر رہی ہے۔

empowering farmers (1)

پردھان منتری کرشی سنچائی یو جنا آبپا شی کی سہو لت کو یقینی بنا کر پیداوار کو بڑا فروغ دے گی ۔ اس کا مقصد تمام کھیتوں کے لئے محفوظ آبپاشی کے کسی نہ کسی ذریعہ تک رسائی کو یقینی بنا نا ہے ۔ کسانوں کو آبپا شی کے جدید طریقوں کے بارے میں تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ انہیں ’’ایک بوند زیادہ اناج‘‘ کے بارے میں بتا یا جا ئے۔

’’پرمپر ا گت کرشی وکاس یوجنا‘‘ کسانوں کے گروپوں کو نا میاتی کھیتی کر نے کے لئے تحریک دلا نے کی خاطر شروع کی گئی ہے ۔ شمال مشرقی خطے میں نا میا تی کاشتکاری کو فروغ دینے اور نا میا تی پیداوار کو برآمد کر نے کے لئے ایک خصوصی اسکیم شروع کی گئی ہے۔

مٹی کی زرخیزی سے متعلق کارڈ (ایس۔ ایچ۔ کارڈ) متعارف کرا ئے گئے ہیں تاکہ مخصوص فصلوں میں بہتر طریقے سے پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ اور ملک میں اس طرح کے ۱۴ کروڑ کارڈ جاری کئے جا ئیں گے ۔ ۳ سال کے اندر تقریباً ۲۴۸ لا کھ نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

گھریلو پیداوار میں اضافہ کے مقصد سے ایک نئی یوریا پالیسی کا اعلان کیا گیا، اور گو رکھپور، برونی اور تلچر میں فرٹیلائزر کے پلانٹس کی صلاحیت میں اضافہ کر نے اور ان میں نئی جا ن ڈالنے کا کام انجام دیا گیا ہے تا کہ یو ریا کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکیں۔

empowering farmers (2)

حالیہ بے موسم برسات کے پیش نظر این ڈی اے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایسے کسان، جن کی ۳۳ فیصد یا اس سے زیادہ فصل تباہ ہوئی ہے، لا گت میں سبسیڈی کے لئے اہل ہوں گے ۔ اس سے پہلے کسان لا گت میں سبسیڈی کے لئے اس وقت اہل ہو تے تھے جب ان کی ۵۰ فیصد یا اس سے زیادہ فصل تباہ ہوئی ہو ۔ مالی امداد کی موجودہ رقم میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔ اور اس میں فصلوں کے نقصان کا ۵۰ فیصد تک بڑھا یا گیا ہے۔

جلد خراب ہو نے والی زرعی باغبانی کی اشیا کی قیمتوں پر کنٹرول کے لئے ما رکیٹ میں امدادی مدا خلت کی خاطر ۵۰۰ کروڑ روپئے کے فنڈ کے استحکام کا فنڈ قائم کیا گیا ہے ۔ اس اقدام سے قیمتوں میں اتار چڑھاو کو منضبط کیا جا سکے گا۔

’’گرام جیوتی یو جنا فیڈرس‘‘ کو علیحدہ علیحدہ کر کے بجلی کی مسلسل(بنا رکاوٹ)سپلا ئی فراہم کرے گی ۔ اس سے نہ صرف پیدا وار میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے کاٹیج انڈسٹری اور تعلیم وغیرہ سمیت کسانوں کی مجموعی زندگی پر زبردست اثر پڑے گا۔

empowering farmers (3)

ڈبلیو۔ ٹی۔ او مذاکرات نے این۔ ڈی۔ اے حکومت کے مضبوط اور اصولی موقف کی وجہ سے کسانوں کے طویل مدتی مفادات کے ساتھ ساتھ خوراک کی یقینی فراہمی کا تحفظ کیا گیا ہے۔ کھیتی کے قرضوں کے لئے ہدف کو بڑھا کر ۵ء۸ لاکھ کروڑ روپئے کیا گیا ہے تاکہ کسانوں کو رعایتی شرحوں پر آسانی سے قرض دستیاب ہو سکے ۔ٹیکنالوجی بھی کسانوں کو بڑے طور پر خودمختار بنا رہی ہے جس میں موسم کی جا نکاری، کیمیا وی کھاد کے بارےمیں معلومات، بہترین طریقہ کار وغیرہ کے بارےمیں کسان پورٹل کے ذریعہ معلومات دی جا تی ہے ۔ زراعت کے ضمن میں موبائل کے استعمال کی حکمرانی نے حوصلہ بخشا ہے اور ایسی تیزی آ ئی ہے کہ ایک کروڑ سے زیادہ کسانوں کو ۵۵۰ کروڑ ایس۔ ایم۔ ایس کے ذریعہ مشاورت اور معلومات فراہم کی جا تی ہے۔

یہاں مٹی کی زرخیزی سے متعلق کارڈ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔

یہاں جانیں کہ کس طرح کسانوں کو خود مختار بنایا جا رہا ہے۔

Loading...