پی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

ایچ ٹی لیڈر شپ چوٹی میٹنگ 2017 میں وزیراعظم کے خطاب کے اقتباسات

ایچ ٹی لیڈر شپ چوٹی میٹنگ 2017 میں وزیراعظم کے خطاب کے اقتباسات

نئی دہلی۔30 نومبر؛

شوبھنا بھارتیہ جی،

سبھی تجربہ کار شرکا

بھائیوں اور بہنو!

مجھے پھر ایک مرتبہ آپ کے لوگوں کے درمیان آنے کا موقع ملا ہے۔ بہت سے جانے پہچانے چہرے بھی نظر آرہے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز گروپ اور اس کے قار ئین کا  بہت بہت شکریہ، مجھے پھر سے  بلانے کے لیے۔

ساتھیو، دو سال پہلے جب میں اس سمٹ میں آیا تھا، تو موضوع تھا “Towards a Brighter India”، صرف دو سال،  صرف دو سال میں ، ہم آج “The Irreversible Rise of India”  پر بات کررہے ہیں۔ یہ صرف موضوع کی تبدیل نہیں ہے۔ یہ ملک کی سوچ میں آئی تبدیلی، ملک کی خوداعتمادی میں آئی تبدیلی کی علامت ہے۔

اگر ہم ملک کو ایک اجتماعیت کے ساتھ دیکھیں، ایک لِوِنگ اینٹی ٹی کی طرح دیکھیں تو آج جو مثبت رجحان ہمارے ملک میں آیا ہے، وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ مجھے نہیں یاد، ملک کے غریبوں نے، نوجوانوں نے، خواتین نے، کسانوں  نے، دبے کچلے لوگوں نے اپنے  اثاثوں، اپنے وسائل، اپنے خوابوں پر اتنا بھروسہ، پہلے کبھی کیا ہو۔

یہ بھروسہ اب آیا ہے۔ ہم سب سوا سو کروڑ بھارتیوں نے مل کر اس کے لیے دن رات ایک کیا ہے۔ ہم وطنوں کا اپنے آپ پر بھروسہ، ملک بھر کا بھروسہ…… کسی بھی ملک کو اونچائیوں پر لے جانے کا یہی راز ہے۔

آج گیتا جینتی ہے، گیتا میں بڑی وضاحت سے کہا ہے –

اُدریت آتمن آتمانم نَ آتمانم اوسادیت آتمیو-آتمنو بندھو آتمامیو رِپُر آتمنا

خود کو اوپر اٹھاؤ، منفی خیال کو ٹالو،

آپ ہی خود کے دوست ہیں اور آپ ہی خود کے دشمن

اور اسی لئے بھگوان بدھ نے بھی کہا تھا:

‘اپ دیپو بھو’ یعنی اپنی روشنی خود بنو۔

سوا سو کروڑ ہم وطنوں کا بڑھتا اعتماد، اس ملک کی ترقی کی ایک مضوط بنیاد بن رہی ہے۔ اس ہال میں بیٹھے ہر ایک شخص سے لے کر اس ہوٹل کے باہر جو شخص آٹو چلا رہا ہے،

کہیں رکشا کھینچ رہا ہے، کہیں کھیت میں ٹوٹے ہوئے کنارے کو ٹھیک رہا ہے، کہیں برف میں رات بھر پہرا دینے ک ے بعد اب کسی ٹینٹ میں سو رہا ہے۔ اُص نے اپنے حصے کی ریاضت کی ہے۔ ایسے ہر بھارتی کی ریاضت ہی ہے جس کی وجہ سے ہم  “Towards a Brighter India” ، آگے بڑھ بڑھ کر “The Irreversible Rise of India”  پر بات کررہے ہیں۔

ساتھیو،  2014 میں ملک کے لوگوں نے صرف سرکار بدلنے کے  لیے ووٹ نہیں دیا تھا۔ 2014 میں ووٹ دیا گیا  تھا ملک بدلنے کے لیے۔ نظام میں  ایسی تبدیلی لانے کے لیے، جو دیرپا ہو، مستقل ہو، نہ بدلنے والی ہو۔ آزادی کے اتنے برس بعد بھی ہمارے نظام کی کمزوری، ہمارے ملک کی کامیابی میں آڑے آرہی تھی۔

یہ ایک ایسا نظام تھا، جو ملک کی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کرپارہا تھا۔ ہر طرف ملک میں کسی نہ کسی شخص کو اس نظام سے لڑنا پڑ رہا تھا۔ یہ میری کوشش ہی نہیں ، عزم بھی ہے کہ لوگوں کی نظام سے یہ لڑائی بند ہو، ان کی زندگی میں نہ تبدیل ہونے والی تبدیلی آئے، زندگی میں آسانی پیدا ہو۔

چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے ، ریل بس کا ٹکٹ کرانے کے لیے، گیس کے کنکشن کے لیے، بجلی کے کنکشن کے لیے، اسپتال میں بھرتی ہونے کے لیے، پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے، انکم ٹیکس ری فنڈ پانے کے لیے انہیں پریشان نہ ہونا پڑے۔

ساتھیو، اس حکومت کے لیے بدعنوانی سے پاک، سٹیزن سینٹرک  اور ترقی دوست ماحولیاتی نظام سب سے بڑی ترجیح ہے۔ پالیسیوں پر مبنی، تکنیک پر مبنی، شفافیت پر مبنی ایک ایسا ماحولیاتی نظام جس میں گڑبڑ ہونے کی، لیکیج کی، گنجائش کم سے کم ہو۔

اگر میں جن دھن یوجنا کی ہی بات کروں، تو یہ غریبوں کی زندگی میں ایسی تبدیلی لائی ہے، جو پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ جس غریب کو پہلے بینک کے دروازے سے دھتکار کر بھگادیا جاتا تھا، اُس کے پاس اپنا بینک اکاؤنٹ ہے۔ جن کے جن دھن کھاتے کھل رہے ہیں، انہیں روپے ڈیبٹ کارڈ بھی دئیے جارہے ہیں۔ سوا سو کروڑ لوگوں کے ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی تعداد تیس کروڑ سے زیادہ ہے۔

اس غریب کی خوداعتمادی کے بارے میں سوچئے، جب وہ بینک میں جاکر پیسے جمع کراتا ہے، جب وہ روپے ڈیبٹ کارڈ کا استعمال کرتا ہے۔ یہ خوداعتمادی، یہ حوصلہ، اب مستقل ہے، اسے کوئی بدل نہیں سکتا۔

ایسے ہی اُجولا یوجنا ہے۔ گاؤں میں رہنے والی تین کروڑ سے زیادہ خواتین ک ی زندگی اس اسکیم نے ہمیشہ ہمیشہ  کے لیے بدل دی ہے۔ انہیں صرف مفت گیس کنکشن نہیں ملا، انہیں حفاظت ملی ہے، صحت ملی ہے، کنبے کے لیے وقت ملا ہے۔

ایسی کروڑوں خواتین کی زندگی میں آئی تبدیلی کے بارے میں بھی سوچئے، جو تبدیلی سوچھ بھارت مشن کی وجہ سے آئی ہے۔ حکومت نے صرف بیت الخلا نہیں بنائے ہیں، بلکہ ان کی کروڑوں خواتین کو، بیٹیوں کو اس تکلیف سے نجات دلائی ہے، جسے وہ شام کے انتظار میں برداشت کرتی رہتی تھیں۔

کچھ لوگ تھوڑی سی گندگی کی تصویر کھینچ کا بحث کرتے رہیں گے، لکھتے رہیں گے، ٹی وی پر دکھاتے رہیں گے، لیکن لوگوں کو پتہ ہے  کہ اس مہم نے زمین پر کس طر ح کی نہ تبدیل ہونے والی تبدیلی لادی ہے۔

بھائیو اور بہنو، مجھے نہیں معلوم کہ اس ہال میں بیٹھے کتنے اشخاص اس سے تعلق قائم پائیں گے، لیکن جتنا آپ یہاں سے جانے کے بعد پارکنگ ٹپ کے طور پر دیں گے، اس سے بہت کم میں آج غریب کی زندگی کا بیمہ ہوجاتاہے۔

سوچئے، صرف ایک روپے مہینے پر حادثہ بیمہ، اور 90 پیسے فی دن کے پریمیم پر زندگی بیمہ۔ آج ملک کے 15 کروڑ سے زیادہ غریب حکومت کی ان اسکیموں سے جڑ چکے ہیں۔ ان اسکیموں کے تحت غریبوں کو تقریباً 1800 کروڑ روپے کی کلیم رقم دی جاچکی ہے۔ اتنے روپے کسی اور حکومت نے دئیے ہوتے تو اُسے مسیحا بناکر پیش کردیا گیا ہوتا۔

لیکن غریبوں کے لیے اتنا بڑا کام ہوا، مجھے نہیں لگتا اس پر کسی نے دھیان دیا ہوگا۔ یہ بھی ایک سچ ہے ، جسے میں تسلیم کرکے چلتا ہوں۔ ایک اور مثال ایل ای ڈی بلب کی ہے۔ پہلے کی حکومت میں جو ایل ای ڈی بلب تین سو – ساڑھے تین سو کا بکتا تھا، وہ اب ایک  اوسط درجے کے کنبے کو تقریباً پچاس روپے میں دستیاب ہے۔ اُجالا اسکیم شروع ہونے کے بعد سے ملک میں اب تک تقریباً 28 کروڑ ایل ای ڈی بلب فروخت ہوچکے ہیں۔ ان بلبوں سے لوگوں کو 14 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی اندازاً بچت ہوچکی ہے۔ ایس ابھی نہیں ہےکہ  بچت پر، بجلی بل کم ہونے پر کچھ وقت میں فل اسٹاپ لگ جائے گا،جو بچت ہورہی ہے، وہ ہوتی ہی رہے گی۔ یہ بچت بھی اب مستقل ہے۔

بھائیو اور بہنو، پہلے ہی حکومتوں کو ایساکرنے سے کس نے روک رکھا تھا یا نہیں، یہ میں نہیں جانتا۔ لیکن اتنا جانتا ہوں کہ نظام میں  دیرپا تبدیلی لانے  کے فیصلے کرنے سے، ملک کے مفاد میں فیصلہ کرنے سے کسی کے روکے  نہیں رکیں گے۔

جو لوگ اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ ملک جادو کی چھڑی گھماکر نہیں بدلا جاسکتا، وہ مایوسی اور فسردگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ نظریہ ہمیں کچھ بھی نیا کرنے سے، اختراع کرنے سے روکتا ہے۔

یہ نظریہ ہمیں فیصلہ کرنے سے روکتا ہے۔ اس لیے اس حکومت کا نظریہ اس سے بالکل الگ ہے۔ جیسے یوریا کی نیم کوٹنگ ی ہی بات کریں۔ پہلے کی حکومت میں یوریا کی 35 فیصد نیم کوٹنگ ہوتی تھی۔ جبکہ پورے نظام کو پتہ تھا کہ 35 فیصد نیم کوٹنگ کریں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یوریا کا ڈائیورجن روکنا ہے۔  کارخانوں میں جانے سے روکنا ہے، تو اس کی 100 فیصد نیم کوٹنگ کرنی ہی ہوگی۔ لیکن یہ فیصلہ پہلے نہیں ہوا۔ اس سرکار نے فیصلہ کیا یوریا کی پوری طرح نیم کوٹنگ کا۔

بھائیو اور بہنو، اس فیصلے سے نہ صرف یوریا کا ڈائیورجن رُکا ہے، بلکہ اس کی اپنی استعداد بڑھ گئی  ہے۔ اب کسان کو اتنی ہی زمین کے لیے کم یوریا ڈالنا پڑتا ہے۔ اتنا ہی نہیں کم یوریا ڈالنے کے باوجود اس کی پیداوار بڑھ رہی ہے۔

ایسے ہی ، اب  ہم ملک میں ایک ڈجیٹل پلیٹ فارم تیار کررہے ہیں جس پر آکر کسی بھی جگہ کا کسان ، کہیں سے بھی اپنی فصل بیچ سکے۔ یہ ملک میں بہت بڑی صورتحال کی تبدیلی ہونے والی ہے۔  ای نیم یعنی الیکٹرانک نیشنل ایکگریکلچر مارکیٹ سے اب تک ملک کی ساڑھے چار سو سے زیادہ منڈیوں کو آن لائن جوڑا جاچکا ہے۔ مستقبل میں یہ پلیٹ فارم کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت دلانے میں بہت مدد کرے گا۔

حال ہی میں حکومت نے ملک کے زرعی شعبے میں سپلائی چین کو مضبوط کرنےکے لیے، ذخیرہ کرنے کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ‘‘ پردھان منتری  کسان سمپدایوجنا’’ کا آغاز کیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ہے کہ کھیت یا باغ میں پیدا ہونے کے بعد جو اناج یا پھل منڈی تک پہنچنے سے پہلئ خراب ہوجاتا ہے، اُسے بچایا جائے۔ حکومت اس اسکیم کے تحت خوراک کو ڈبہ بند کرنے کے شعبے کو بھی مضبوط کررہی ہے تاکہ کسان کا کھیت ایک صنعتی کارخانے کی طرح ہی کام کرے۔

فوڈ پارک پر، خوراک کی ڈبہ بندی سے متعلق  جدید تکنیک پر ، نئے گوداموں پر، زرعی اشیا کی ڈبہ بندی کا پورا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر حکومت چھ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرنے والی ہے۔

بھائیو اور بہنو، وقت کے ساتھ  آرگینک  زراعت اور آرگینک اشیا کی مانگ بھی لگاتار بڑھ رہی ہے۔ سکم کی طرح ہی ملک کی کئی اور ریاستوں میں 100 فیصد آرگینک ریاست بننے کی صلاحیت ہے۔  خاص طور پر ہماری ہمالیائی ریاستوں میں اسے اور بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے بھی حکومت دس ہزار کلسٹر بناکر اُن میں آرگینک کھیتی کو بڑھاوا دینے کی اسکیم پر کام کررہی ہے۔

حال ہی میں ہم نے ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ بھائیو اور بہنو، اب تک بانس کو ملک کے  ایک قانون  کے تحت درخت مانا جاتا تھا۔ اس وجہ سے بانس کاٹنے کے سلسلے میں کسانوں کو بہت دقت آتی تھی۔ اب حکومت نے بانس کو درخت کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔

اس کا فائدہ ملک کے دور دراز علاقے اور خاص طور پر شمال مشرق کے کسانوں کو ہوگا، جو بانس کا فرنیچر، دستکاری کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ پہلے کی حکومت کے ذریعے بنائے گئے ایک اور قانون میں بانس کو  پیڑ نہیں تسلیم کیا گیا تھا۔

یہ تضاد  دس بارہ سال بعد اب دور کیا گیا ہے۔ ساتھیو، ہماری حکومت میں کلّی نظریے کے ساتھ فیصلے کیے جاتےہیں۔ ملک کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس طرح کے فیصلے پہلے نہیں کیے جارہے  تھے،  اس لیے ملک کا ہر شخص فکر میں تھا۔ وہ ملک کو اندرونی برائیوں سے پاک دیکھنے کے ساتھ ہی نئی سہولتوں کی تعمیر ہوتے ہوئے بھی  دیکھنا چاہتا تھا۔

بھائیو اور بہنو، ہمارے یہاں جو نظام تھا، اس نے بدعنوانی کو ہی حفظ مراتب بنایادیا تھا۔  کالا دھن ہی ملک کے ہر بڑے شعبے کو کنٹرول کررہا تھا۔ 2014 میں ملک کے سوا سو کروڑ لوگوں نے اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ انھوں نے ووٹ دیا تھا ، ملک کو لگی بیماریوں کے مستقل علاج کے لیے، انھوں نے ووٹ دیا تھا نیا بھارت دینے کے لیے۔

نوٹ منسوخی کے بعد ملک میں جس طرح کی رویہ جاتی تبدیلی آئی ہے، اُسے آپ خود محسوس کررہے ہوں گے۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے، جب بدعنوانیوں کو کالے دھن کے لین دین سے پہلے ڈر لگ رہا ہے۔ اُن میں پکڑے جانے کا ڈر آیا ہے۔ جو کالا دھن پہلے متوازی معیشت کی بنیاد تھی، وہ نوٹ منسوخی کے بعد باقاعدہ معیشت میں آگئی ہے۔

بڑی بات یہ بھی ہے کہ بینکنگ نظام میں واپس آیا یہ پیسہ اپنے ساتھ ثبوت بھی لایا ہے۔ ملک کو جو ڈیٹا ملا ہے، وہ کسی خزانے سے کم نہیں ہے۔ اسی ڈیٹا کی مائننگ سے پتہ چلا ہے کہ ہمارے ملک میں ایک ہی پتے پر چار چار سو، پانچ پانچ سو کمپنیاں چل رہی تھیں اور ایک ایک کمپنی نے دو دو ہزار بینک کھاتے کھلوائے ہوئے تھے۔ یہ عجیب تضاد نہیں تھا کیا؟ ایک طرف غریب کو بینک نے ایک کھاتہ کھلوانےمیں دقت آتی تھی اور دوسری طرف ایک کمپنی آسانی سے ہزاروں کھاتے کھلوالیتی تھی۔

نوٹ منسوخی کے دوران ان کھاتوں  میں بھی جو ہیر پھیر کیا گیا، وہ پکڑ میں آرہا ہے۔ اب تک ایسی تقریباً سوا دو لاکھ کمپنیوں کو منسوخ کیا جا چکا ہے۔  ان کمپنیوں میں جو ڈائرکٹر تھے، جن کی ذمہ داری تھی کہ یہ کمپنیاں صحیح طریقے سے کام کریں، ان کی بھی ذمہ داری فکس کی گئی ہے ۔ ان کے اب کسی اور کمپنی میں ڈائرکٹر بننے پر روک لگادی گئی ہے۔

ساتھیو، یہ ایک ایساقدم تھا، جو ہمارے  ملک میں صحت اور صفائی کارپوریٹ کلچر کو اور مضبوط کرے گا۔ جی ایس ٹی لاگو ہونا بھی ملک کی معاشی صفائی کے لیے اہم قدم ہے۔  70 سال میں جو صورتحال پیدا ہوگئی تھی، کاروبار کرنے میں جو کمزوریاں تھیں، جو مجبوریاں تھیں، انہیں پیچھے چھوڑکر ملک اب آگے بڑھ چلا ہے۔ جی ایس ٹی سے بھی ملک میں شفافیت کا ایک نیا باب شروع ہوا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کاروبار بھی اس ایماندار نظام سے جڑ رہے ہیں۔ ساتھیو، ایسی ہی ایک  واپس نہ لینے والی تبدیلی کو آدھار نمبر سے  مدد مل  رہی ہے۔ آدھار ایک ایسی طاقت ہے، جس سے یہ سرکار غریبوں کے حقوق کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

سستا راشن، وظیفے، دوا کا خرچ، پنشن، حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی، غریبوں تک پہنچانے میں آدھار کا بڑ کردار ہے۔ آدھار کے ساتھ موبائل اور جن دھن کھاتے کی طاقت جڑ جانے سے ایک ایسی صورتحال کی تعمیر ہوئی ہے، جس کے بارے میں کچھ سال پہلے تک سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ ایک ایسی صورتحال جو نہ تبدیل ہونے والی ہے۔

پچھلے تین سال میں آدھار کی مدد سے کروڑوں فرضی نام فہرست سے ہٹائے گئے ہیں۔ اب تو بے نامی املاک کے خلاف بھی یہ ایک بڑھا ہتھیار بننے والا ہے۔ بھائیو اور بہنو، اس حکومت میں سرکاری خرید کے پرانے طریقے کو بھی پوری طرح بدلا جاچکا ہے۔ ہم نے ایک نئی صورتحال تشکیل دی ہے، گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس جی ای ایم کے نام سے ۔

حکومت میں اب اسی کے ذریعے ٹینڈر دئیے جارہے ہیں اور سرکاری سامان کی خریداری ہورہی ہے۔ اب کاٹیج انڈسٹری والا بھی، چھوٹی چھوٹی دستکاری اشیا بنانے والا بھی، گھر میں سامانا بنانے والا بھی، جی ای ایم کے وسیلے سے حکومت کو اپنا سامان بیچ سکتا ہے۔

بھائیو اور بہنو، ہم ایک ایسی صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس میں کالا دھن پیدا کرنا، نظام کی کمزوری کی وجہ سےبدعنوانی کرنے کا امکان کم سے کم رہ جائے گا۔

جس دن ملک میں زیادہ تر خرید وفروخت ، پیسے کے لین دین کا ایک ٹیکنیکل اور ڈجیٹل ایڈریس ہونے لگے گا، اسی دن سے منظم بدعنوانی کافی حد تک تھم جائے گی۔ مجھے پتہ ہے ، اس کی مجھے سیاست کے طور پر کتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی، لیکن اس کے لیے بھی میں تیار ہوں۔

ساتھیوں، جب اسکیموں میں رفتار ہوتی ہے، تبھی ملک میں ترقی ہوتی ہے۔ کچھ تو تبدیلی آئی ہوگی، جس کی وجہ سے سرکار کی تمام اسکیموں کی اسپیڈ بڑھ گئی ہے۔ طریقے  وہی ہیں،  وسیلے وہی  ہیں، لیکن نظام میں رفتار آگئی ہے۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ سرکار افسر شاہی میں بھی ایک نیا طریقہ کار تیار کررہی ہے۔ اُسے زیادہ تیزی سے کام کرنے والا بنارہی ہے۔

  • آج اسی کا نتیجہ ہے کہ جہاں پچھلی حکومت میں ہر روز گیارہ کلومیٹر قومی شاہراہ بنتی تھیں، اب ایک دن میں 22 کلومیٹر سے زیادہ قومی شاہراہ کی تعمیر ہوتی ہے۔
  • پچھلی حکومت کے آخری تین سال میں گاؤوں میں 80 ہزار کلومیٹر سڑک بنی تھی، ہماری حکومت کے تین سال میں ایک لاکھ 20 ہزار کلو میٹر سڑک بنی ہے۔
  • پچھلی حکومت کے آخری تین سال میں تقریباً 1100 کلومیٹر نئی ریل لائن کی تعمیر ہوئی تھی، اس حکومت کے تین سال میں یہ 2100 کلومیٹر سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔
  • پچھلی حکومت کے آخری تین سال میں 2500 کلومیٹر ریل لائن کی برق کاری ہوئی تھی، اس حکومت کے تین سال میں 4300 کلومیٹر سے زیادہ ریل لائن کی برق کاری ہوئی ہے۔
  • پچھلی حکومت کے آخر کے تین سال میں تقریباً ایک لاکھ 49 ہزار کروڑ بڑے اخراجات کیے گئے تھے، اس حکومت کے تین سال میں 22 ہزار میگاواٹ سے زیادہ قابل تجدید توانائی نئی صلاحیت کو گرڈ پاو ر سے جوڑا گیا ہے۔
  • پچھلی حکومت کے مقابلے میں جہاز رانی کی صنعت میں ترقی کی بات کریں تو پہلے جہاں کارگو ہینڈلنگ کی ترقی منفی تھی، وہیں اس حکومت کے تین سال میں 11 فیصد سے زیادہ کی بڑھوتری ہوئی ہے۔

ساتھیوں، اگر بالکل حقیقی سطح پر جاکر ٹھیک نہیں کیا گیا ہوتا، تو کیا یہ رفتار آ سکتی تھی؟ حکومت یہ فیصلے کرپاتی؟ نہیں۔ بڑی اور مستقل تبدیلی ایسے ہی نہیں آتی، اس کے لیے پورے نظام میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ جب یہ تبدیلی ہوتی ہے تبھی ملک صرف تین سال میں تجارت میں آسانی لانے کے درجے میں 142 سے 100 پر پہنچ جاتا ہے۔

بھائیوں اور بہنو، آپ سبھی کو پتہ ہے کہ 2014 میں جب ہم آئے تو ہمیں وراثت میں کیا ملا تھا؟ معیشت کی حالت، حکمرانی  کی حالت،  مالی نظم اور بینکنگ نظام کی حالت سب بگڑی ہوئی تھی۔ آپ لوگوں کو تب کم لفظوں میں یہ بات کہنی ہوتی تھی، سرخیوں میں لکھنا ہوتا تھا، تو کہتے تھے، پالیسی پیرالیسس۔

سوچئے، ہمارا ملک  نازک پانچ شمار کیا جاتا تھا۔ دنیا کے تما م ملک سوچتے تھے کہ معیشت کے بحران سے ہم تو ابھر جائیں گے لیکن یہ نازک پانچ خود تو ڈوبیں گے ہی، ہمیں بھی لے ڈوبیں گے۔

آج عالمی سطح پر بھارت کا کہاں کھڑا ہے، کس صورتحال میں ہے، آپ اس سے خاطر خواہ واقف ہیں۔ بڑے ہوں یا چھوٹے، دنیا کے زیادہ تر ملک آج بھارت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر چلنا چاہتے ہیں۔ بین لااقوامی پلیٹ فارم پر بھارت اپنا اثر لگاتار بڑھا رہے ہیں۔ اب تو رُکنا نہیں ہے۔ آگے ہی بڑھتے جانا ہے۔

ساتھیوں، جب ایک ملک خوداعتمادی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، تو  Irreversible اور Reversible معنی نہیں رکھاتا۔ جب ایک ملک خوداعتمادی کے ساتھ اپنے قدم بڑھاتا ہے، فیصلہ کرتا ہے، تو وہ ہوتا ہے، جو پچھلے 70 سال میں  نہیں ہوا۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے انتخاب میں بھارت کی کامیابی پوری دنیا کی سوچ میں آتی ہوئی تبدیلی کی علامت ہے۔ بھائیوں اور بہنو، جب یوگ کو اقوام متحدہ نے اتفاق رائے سے  تسلیم کیا، تب اس کا Irreversible Rise   نظر آتا ہے۔

جب بھارت کی پہل پر بین الاقوامی شمسی اتحاد کی تشکیل ہوتی ہے، تب اس کا Irreversible Rise نظر آتا ہے۔

ساتھیوں، ہماری حکومت نے ڈپلومیسی کو انسانیت سے جوڑا ہے،  انسانی احساسات سے جوڑا ہے۔ جب نیپال میں زلزلہ آتا ہے تو سب سے پہلے بھارت ، بچاؤ اور راحت کام میں لگ جاتا ہے۔ جب سری لنکا میں باڑھ آتی ہے، تو بھارت کی بحریہ فوری طور پر مدد کے لیے سب سے پہلے  پہنچ جاتی ہے۔ جب مالدیپ میں پانی کا بحران آتا ہے تو بھارت سے جہاز بھر بھر کے پانی پہنچایا جاتا ہے۔  جب یمن میں  بحران پیدا ہوتا ہے تو بھارت اپنے چار ہزار سے زیادہ شہریوں کو ہی نہیں بچاتا، بلکہ ، 48 اور ملکوں کے دو ہزار افراد کو بھی حفاظت کے ساتھ نکال لاتا ہے۔ یہ بھارت کی بڑھتی ہوئی شاخ اور بڑھتے ہوئے اعتماد کا نتیجہ ہے کہ آج بیرون ملک رہنے والے بھارتی افراد اپنا  سر اور اونچا کرکے سامنے والے سے بات کررہےہیں۔

جب ملک میں ‘‘ اب کی بار کیمرن سرکار’’ اور ‘‘ اب کی بار ٹرمپ سرکار’’ کے نعرے گونجتے ہیں تو یہ بھارتیوں کے  طاقت کو تسلیم کیا جانا ہوتا ہے۔ بھائیوں اور بہنو، جب ہر اتحاد، ہر سماج، ہر شخص اپنی طاقت کو سمجھتے ہوئے، اپنی سطح پر تبدیلی کی شروعات کرے، تبھی نئے بھارت کا خواب پورا ہوگا۔ نئے بھارت کا یہ خواب صرف میرا نہیں ہے، آپ کا بھی ہے۔ آج وقت کی ضرورت ہے کہ قوم کی تعمیر سے تعلق رکھنے والی ہر تنظیم ملک کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے ملک کے سامنے موجود چنوتیوں کو سمجھتے ہوئے اپنی سطح پر کچھ عہد کرے۔

2022 میں، جب ملک  اپنی آزادی کے 75 سال کا جشن منائے گا، تب تک ہمیں ان عزائم کو پورا کرنا ہے۔ میں آپ لوگوں کو خود تو کوئی صلاح دے نہیں سکتا، لیکن ہم سبھی کے عزیز، سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبدالکلام کی ایک بات یاد دلانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا  تھا-

‘‘ ہمارے یہاں کا میڈیا اتنا منفی کیوں ہے؟ آخر ایسا کیوں ہے کہ بھارت میں ہم اپنی ہی صلاحیتوں اور کامیابیوں سے شرمندہ رہتے ہیں؟ ہم اتنے عظیم ملک ہیں، ہمارے پاس کامیابی کی اتنی عجیب کہانیاں ہیں، پھر بھی ہم اُسے قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ آخر ایساکیوں ہے؟’’

انھوں نے یہ بات کئی سال پہلے کہی تھی۔ آپ  حضرات کو ٹھیک لگے تو اس پر کبھی اپنے یہاں سے میناروں میں، نیوز روم میں چرچا ضرور کیجئے گا۔ مجھے امید ہے  آپ بھی جو تبدیلی کریں گے وہ  اپنے اثرات نہ ختم کرنے والی ہوگی۔

میرا اسٹیج  سے ملک کی پوری میڈیا دنیا سے اصرار ہے،  آپ خود بھی عزم کیجئے،دوسروں کو بھی ریس دلائیے۔ جیسے آپ نے سوچھ بھارت مہم کو اپنا مان کر،  اسے ایک عوامی تحریک میں بدلنے میں سرگرم کردار اد اکیا ہے، ویسے ہی  سنکلپ سے سدھی  یعنی عزم سےحصول کے اس سفر میں بھی آگے بڑھ کر ساتھ چلئے۔

انہیں لفظوں کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ ایک مرتبہ پھر ہندوستان ٹائمز گروپ کو اس انعقاد کے لیے بہت بہت نیک خواہشات۔

بہت بہت شکریہ،

جے ہند

 

U – 6018