PMINDIA

مزید دیکھیں

The content is auto sourced from PIB

صارفین کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں وزیراعظم کے انگریزی خطاب کے اقتباسات

صارفین کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں وزیراعظم کے انگریزی خطاب کے اقتباسات

صارفین کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں وزیراعظم کے انگریزی خطاب کے اقتباسات

 نئی دہلی، 2626اکتوبر  2017،میرے کابینی رفیق  جناب رام ولاس پاسوان، جناب سی آر چودھری  جی، یواین سی ٹی اے ڈی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر مکھیسا  کٹویی  اور یہاں موجود دیگر اہم شخصیات۔

سب سے پہلے آپ سبھی کو  میں صارفین کے تحفظ جیسے اہم موضوع پر   منعقدہ اس علاقاعی کانفرنس کیلئے بہت بہت مبارکباد  پیش کرتا ہوں۔ اس پروگرام میں جنوبی ایشیا ، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی ایشیا کے تمام ملکوں کے نمائندے  شرکت کر رہے ہیں۔ میں آپ سب کا اس پروگرام میں استقبال کرتا ہوں۔

جنوبی ایشیا میں یہ اپنی طرح  کی پہلی تقریب ہے۔ میں یو این سی ٹی اے ڈی کا بھی شکریہ ادا کروں گا، جس نے بھارت کی اس پہل کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھایا اور اسے اس شکل تک لانے میں سرگرم کردار ادا کیا۔

دوستو! دنیا کا یہ جغرافیائی حصہ، جس طرح ایک دوسرے سے تاریخی انداز میں جڑا رہا ہے ، ویسا دیگر جگہوں پر کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہزاروں برسوں سے ہم تجارت ، ثقافت اور مذہب سے وابستہ رہے ہیں، ساحلی معیشت نے اس جغرافیائی خطے کو مربوط کرنے میں صدیوں سے اہم تعاون دیا  ہے۔ لوگوں کا آنا جانا، نظریات کا لین دین، یہ دو طرفہ عمل رہا ہے جس کا فائدہ اس خطے کے ہر ملک کو ملا ہے۔ ہم آج بھی صرف معاشی ہی نہیں بلکہ ثقافتی طور پر بھی ایک مشترکہ وراثت کی علامت ہیں۔

دوستو!آج کے جدید دور میں ہمارے باہمی رشتے ایک نئے زاویے پر ہیں۔ ایشیا کے ملک نہ صرف اپنے ملک میں اشیاء اور خدمات کی مارکٹ میں اپنی کارکردگی انجام دے رہے ہیں، بلکہ ان کو دوسرے براعظموں  تک توسیع دی ہے۔ایسے میں صارفین کا تحفظ ایساموضوع ہے، جو اس میدان میں کاروبار کو بڑھانے ، اسے اور مضبوط کرنے کا اہم حصہ ہے۔

آج کی یہ کانفرنس اس بات کی علامت ہےکہ ہم اپنے شہریوں کی ضرورتوں کو کس طرح سنجیدگی سے سمجھتے ہیں، ان کی دقتوں کو دور کرنے کیلئے کس طرح سنجیدگی سے کوشش کرتے ہیں۔ ہر شہری ایک صارف بھی ہوتا ہے اور اس لئے یہ انعقاد ہمارے اجتماعی عزم کی بھی علامت ہے۔

دوستو اس پورے عمل میں اقوام متحدہ کا ایک ساتھی کے طور پر آگے آنا   بھی نہایت خوش آئند بات ہے۔ 1985 میں پہلی مرتبہ صارفین کے تحفظ پر یو این رہنما خطوط  وضع کیے گئے تھے۔ دو سال پہلے ہی اس میں مزید سدھار کیا گیا ہے۔ سدھار کے اس عمل میں بھارت کا بھی سرگرم رول رہا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں دیرپا اصراف ، ای۔ کامرس اور مالی خدمات کے سلسلے میں یہ رہنما خطوط بہت اہم ہیں۔

ساتھیو، بھارت میں سینکڑوں ، ہزاروں برس سے صارفین کا تحفظ ، حکمرانی کا لازمی حصہ رہاہے۔   ہزاروں برس پہلے لکھے گئے ہمارے ویدوں میں صارفین کے تحفظ کا ذکر ہے۔ اتھرو وید میں کہا گیا ہے کہ ’’اِما ماترا ممیم ہے یتھ پرا  نہ ماساتے ‘ یعنی کسی چیز کی صورتحال اور ناپ تول میں کسی بھی طرح کی گڑبڑی نہ کرو۔ ہزاروں برس پہلے لکھے گئے گرنتھوں میں صارفین کے تحفظ کے باقاعدہ اصول سمجھائے گئے ہیں، غلط طریقے سے تجارت کرنے والے کو کس طرح کی سزاد دی جائے ، اسے بھی بتایا گیا ہے۔

آپ جان کر حیران ہوں گے کہ تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے کوٹلیہ کے دور میں باقاعدہ انتظامیہ کیلئے رہنما خطوط کی تعریف بیان کی گئی تھی کہ کیسے تجارت کو باضابطہ بنایا جائے اور کیسے حکومت صارفین کے مفادات کی حفاظت کرے گی۔ کوٹلیہ دور میں انتظامیہ کے ذریعے جس طرح کی صورتحال تھی، آج کے حساب سے ان عہدوں کو ڈائرکٹر آف ٹریڈ اور سپرنٹنڈنٹ آف اسٹینڈرز کہا جاسکتا ہے۔ ہمارے یہاں گاہک کو بھگوان مانا جاتا ہے، کئی دکانوں میں آپ کو لکھا مل جائے گا ’گراہک دیو بھوہ‘ ۔ چاہے کوئی بھی کاروبار ہو، اس کا محض ایک مقصد صارف کی تسلی ہونا چاہئے۔

ساتھیو، بھارت اُن کچھ ملکوں میں شامل رہا ہے جس نے اقوام متحدہ کے رہنما خطوط منظور کیے جانے کے اگلے ہی سال یعنی 1986 میں ہی اپنا صارفین کے تحفظ سے متعلق قانون لاگو کردیا تھا۔

صارفین کے مفادات کا دھیان اس حکومت کی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ حکومت کی یہ ترجیح نیو انڈیا کے عزم کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔ نیو انڈیا ، جہاں صارفین کے تحفظ سے آگے بڑھ کر صارفین سے متعلق بہترین طور طریقوں اور صارفین کی خوشحالی کی بھی بات ہوگی۔

ساتھیو، ہم آج بھی ملک کی ضرورتوں ، آج کے کاروباری طور طریقوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایک نیا صارفین کے تحفظ سے متعلق قانون بنا رہے ہیں۔ نئے قانون میں صارفین کو بااختیار بنانے پر خصوصی زور دیا جارہا ہے۔ صارفین کی پریشانی کم وقت میں ، کم خرچ میں دور ہو ، اس کے لئے ضابطوں کو آسان بنایا جارہا ہے۔ گمراہ کن اشتہارات کے خلاف مزید سختی برتی جارہی ہے۔ فوری سنوائی کیلئے عاملانہ اختیارات کے ساتھ صارفین کے تحفظ سے متعلق مرکزی اتھارٹی کی تشکیل بھی کی جائے گی۔

ہم نے زمین جائیداد کی خرید وفروخت سے متعلق ضابطوں کا قانون بنایا ہے جس سے گھر خریدنے والے صارفین کے مفادات کا تحفظ ہوا ہے۔ پہلے بلڈرو ں کی من مانی کی وجہ سے برسوں تک لوگوں کو اپنے گھروں کیلئے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ فلیٹ کے رقبے کو لیکر بھی ایک بھرم کی صورتحال بنی ہوئی تھی۔ اب ریرا کے بعد صرف اندراج شدہ ڈیولپرز ہی سبھی ضروری اجازت حاصل کرنے کے بعد گھر کی بکنگ کرسکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے بکنگ کی رقم کی حد کو بھی دس فیصد پرطے کردیا ہے۔

پہلے یہ ہوتا تھا کہ بلڈر ، گھروں کی بکنگ کے بعد ملنے والے پیسے کو دوسرے پروجیکٹ میں لگا دیتے تھے۔ اب حکومت نے ایسی صورتحال بنادی ہے کہ خریدار سے ملنے والی 70 فیصد رقم ’ایسکرو‘ کھاتے میں ڈالنی ہوگی اور یہ رقم اسی پروجیکٹ پر خرچ ہوسکے گی۔ اسی طرح بیورو آف انڈین اسٹینڈرز قانون بھی بنایا گیا ہے۔ اب سرکاری یا صارفین کے مفاد سے وابستہ کسی بھی چیز یا خدمت کو لازمی سرٹیفکیشن کے تحت لایا جاسکے گا۔ اس کے تحت خراب کوالٹی کی چیزوں کو بازار سے ہٹانے کے اور اس سے اگر صارفین کو نقصان ہوا ہے ، تو اس کے معاوضے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

ابھی حال ہی میں بھارت نے اشیاء اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کو بھی لاگو کیا ہے۔ جی ایس ٹی کے بعد ملک میں الگ الگ طرح کے درجنوں بالواسطہ ٹیکس کا جال ختم ہوا ہے۔ اتنی ہی طرح کے پوشیدہ ٹیکس بھی ختم ہوگئے ہیں۔ صارفین کو اب سامنے رسید پر دکھتا ہے کہ اس نے کتنا ٹیکس ریاستی سرکار کو دیا، کتنا ٹیکس سرکار کو ۔ سرحد پر ٹرکو ں کا لگنے والا لمبا جام بھی ختم ہوگیا  ہے۔

جی ایس ٹی سے ملک کو ایک نیا کاروباری کلچر مل رہا ہے اور طویل مدت میں جی ا یس ٹی کا سب سے بڑا فائدہ صارفین کو  ہی ہوگا۔ یہ ایک شفاف صورتحال ہے جس میں کوئی صارفین کے مفادات کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر پائے گا۔ اتنا ہی نہیں ، جی ایس ٹی وجہ سے جب کمپنیوں کا آپس میں مقابلہ بڑھے  گا تو چیزوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی ، اس کا بھی سیدھا فائدہ غریب اور اوسط درجے کے صارفین کو ہوگا۔

ساتھیو، قانون کے وسیلے صارفین کے مفادات کو مضبوط کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی بہت ضروری ہے کہ لوگوں کی شکایتوں پر فوری کارروائی ہو۔ پچھلے تین برس میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہماری حکومت نے شکایتوں کو دور کرنے کا ایک نیا ایکو نظام تیار کیا جائے۔

صارفین سے  متعلق قومی ہیلپ لائن کی صلاحیت کو چار گنا بڑھایا جاچکا ہے۔ صارفین کے تحفظ سے متعلق پورٹل اور سوشل میڈیا کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پورٹل سے نجی کمپنیاں بھی بڑی تعداد میں جڑ رہی ہیں۔ پورٹل کے وسیلے سے تقریباً40 فیصد شکایتیں سیدھے کمپنیوں کے پاس خود بخود منتقل ہوجاتی ہیں جن پر تیزی سے کارروائی ہوتی ہے۔’’جاگو گراہک جاگو‘‘  مہم کے وسیلے سے بھی صارفین کو بیدار کیاجارہا ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ صارفین کے تحفظ میں جس طرح سوشل میڈیا کا پازیٹو طریقے سے استعمال اس سرکار نے کیا ہے ، ویسا ملک میں پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

ساتھیو، میری نظر میں اور ہماری حکومت کے مستقبل کے خاکے میں صارفین کے تحفظ کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور صارفین کا تحفظ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ترقی کا فائدہ ہر شہری تک پہنچے ، اس کے لئے اشیاء اور خدمات کا بڑا رول ہے۔

جب آپ حکومت کے ناطے یہ یقین دہانی کرتے ہیں کہ شہریوں تک ان کے حقوق پہنچے ، شہریوں تک وہ خدمات پہنچے ، جن سے وہ محروم رہے ہیں، تب بھی آپ صارفین کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔ ملک کے لوگوں کو صاف ستھری توانائی کیلئے اُجّولا یوجنا ، صحت اور صفائی ستھرائی کیلئے سوچھ بھارت مہم، مالی شمولیت کیلئے جن دھن یوجنا، اسی جذبے کی علامت ہے۔ 2022 تک ملک کے ہر فرد کے پاس اپنا گھر ہو، اس مقصد پر بھی سرکار کام کررہی ہے۔

ابھی حا ل ہی میں ملک کے ہر گھر میں بجلی کنکشن پہنچانے کیلئے بھی ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ یہ ساری کوششیں لوگوں کو بنیادی لائف لائن فراہم کرنے کے ساتھ ہی ان کی زندگی آسان بنانے کیلئے بھی ہیں۔ صارفین کے مفادات کا تحفظ صرف اسے حقوق دینے سے نہیں ہوتا۔ بھارت میں ہم اس سمت میں بھی کام کررہے  ہیں جہاں حکومت کے منصوبے صارفین کے پیسے بچانے میں مددگار ثابت ہورہے ہیں۔ ان منصوبوں سے سب سے زیادہ فائدہ ملک کے غریب اور اوسط طبقے  کو ہی رہا ہے۔

آپ کو معلوم ہوگا کہ یونیسیف نے حال ہی میں بھارت میں ہوئے ایک سروے کے نتیجو ں کا اعلان کیا ہے۔ سروے کے مطابق سوچھ بھارت مشن کے بعد جو گاؤں کھلی جگہوں پر رفع حاجت سے پاک ہوگئے ہیں، ان گاؤوں میں ہر ایک کنبے کو سالانہ 50 ہزار روپئے کی بچت ہورہی ہے۔ ورنہ  یہی رقم اس کنبے کو بیماریوں کے علاج ، اسپتال آنے جانے  اور دفتر سے لی گئی چھٹیوں وغیرہ پر خرچ کرنے   پڑتی تھی۔ ساتھیو ، غریبوں کو سستی دوا کیلئے ہندوستانی دواؤں کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ 500 سے زیادہ دواؤں کی قیمت کو کم کرکے انہیں لازمی دواؤں کی فہرست میں رکھا گیا  ہے۔ اسٹینٹ کی قیمت میں حد بندی کرکے اسٹینٹ کو 85 فیصد تک سستا کیا جاچکا ہے۔ حال ہی میں گھٹنے کی منتقلی کی قیمت کو بھی حکومت نے ضابطہ بند  کردیا ہے۔ اس سے بھی غریب اور متوسط طبقے سے وابستہ بڑے صارفین طبقے کے کروڑوں روپئے بچ رہے ہیں۔

ہماری سوچ صارفین کے تحفظ سے آگے جاکر صارفین کے مفاد کو فروغ دینے کی ہے۔ صارفین کے مفادات میں لوگوں کے پیسے بچانے کی ایک اور مثال ہے  ہماری اوجالا اسکیم۔ یہ  معمولی سی اسکیم ہے ایل ای ڈی بلب کی تقسیم کی، لیکن نتیجہ بہت غیرمعمولی ہے۔ جب یہ حکومت آئی تھی تو ایک ایل ای ڈی بلب 350 روپئے سے زیادہ کا بکتا تھا، حکومت کی کوششوں کے بعد اب وہی بلب اُجالااسکیم کے تحت صرف 40 سے 45 روپئے میں دستیاب ہے۔ ایل ای ڈی بلب کی قیمت کم کرکے اور لوگوں کے بجلی بل میں بچت کراکر حکومت نے صرف اس ایک منصوبے سے صارفین کے 20 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ بچائے ہیں۔ ساتھیو، افراط زر پر لگام لگانے کی وجہ سے بھی غریب اور متوسط طبقےکے صارفین کا معاشی فائدہ ہوا ہے۔ ورنہ پچھلی حکومت میں جس رفتار سے افراط زر بڑھ رہی تھی ، اسی رفتار سے بڑھتی رہتی تو ، ملک کے عام شہری کی رسوئی کا بجٹ بہت زیادہ بڑھ چکا ہوتا۔

ٹیکنالوجی کے وسیلے سے عوامی نظام تقسیم کو مضبوط کرکے بھی یہ یقینی بنایا جارہاہے کہ جس غریب کا سستے کھانے پر حق ہے ، اسے ہی وہ اناج ملے۔

براہ راست فائدہ اسکیم کے تحت فائدہ حاصل کرنے والوں کے بینک کھاتوں میں سیدھے پیسہ منتقل کرکے حکومت 57 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کی رقم کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روک چکی ہے۔ ساتھیو، دیرپا ترقی کے نشانوں کے حصول کیلئے یہ لازمی ہے کہ صارفین بھی اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں۔

یہاں اس موقع پر میں دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے اپنے ساتھیوں کو ’گیو اِٹ اپ ‘ اسکیم کے بارے میں خاص طور پر بتانا چاہتا ہوں۔ ہمارے یہاں رسوئی گیس کے سیلنڈرپر لوگوں کو سبسیڈی دی جاتی ہے ۔ میری ایک چھوٹی سی اپیل پر ایک سال کے اندر ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں نے اپنی گیس سبسیڈی چھوڑ دی۔ لوگوں نے جو گیس سبسیڈی چھوڑی اس کااستعمال اب تک تین کروڑ کنبوں کو مفت گیس کنکشن دینے میں کیا جاچکا ہے۔

یہ ایک مثال ہے کہ کیسے ہر ایک صارف کے مشترکہ تعاون سے دوسرے کافائدہ ہوتا ہے اور سماج میں بھی ا پنے فرائض کے تئیں ایک مثبت ماحول بنتا ہے۔

ساتھیو ، حکومت ملک کے دیہی علاقوں میں رہنے والے صارفین کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کیلئے پردھان منتری گرامین ڈیجیٹل ساکشرتا  مہم چلا رہی ہے۔ اس کے تحت 6 کروڑ  گھروں  میں  سے ہر گھر میں ایک شخص کو ڈیجیٹل طریقے سے خواندہ بنانے پر کام چل رہا ہے۔ اس مہم سے گاؤں کے لوگوں کو ڈیجیٹل لین دین ، ڈیجیٹل طریقے سے سرکاری خدمات کو حاصل کرنے میں اور سہولت ملے گی۔

بھارت کے گاؤں میں ڈیجیٹل بیداری مستقبل کیلئے بہت بڑی ای۔ کامرس مارکٹ بھی تیارکررہی ہے۔ یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس(یوپی آئی) نے ای ۔ کامرس صنعت کو بہت بڑی طاقت دی ہے۔ بھارت انٹرفیس فار منی یعنی بی ایچ آئی ایم ا یپ نے شہروں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی ڈیجیٹل پیمنٹ کی توسیع کی ہے۔

ساتھیو ، سوا سو کروڑ سے زیادہ کی آبادی اور تیزی سے بڑھتے متوسط طبقے کی وجہ سے بھارت دنیا کے سب سے بڑے بازاروں میں سے ایک ہے۔ ہماری معیشت کا کھلا پن ، دنیا کے ہرملک کا خیرمقدم کرتا ہے۔ بھارتی صارفین کو عالمی کمپنیوں کے اور پاس لاتا ہے۔ میک اِن انڈیا کے  وسیلے سے ہم عالمی کمپنیوں کو بھارت میں ہی مصنوعات تیار کرنے اور یہاں کے عظیم انسانی وسائل کا بہتر استعمال کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم دے رہے ہیں۔ ساتھیو زمین کے اس حصے میں یہ ایک اپنی طرح کی پہلی کانفرنس ہے۔ ہم  میں سے ہر ایک ملک اپنے اپنے طریقے سے اپنے ملک کے صارفین کے مفادات کی حفاظت کرنے میں لگا ہوا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ اب بڑھتی ہوئی عالمگیریت کے ساتھ پوری دنیا ایک واحد مارکٹ میں بدل رہی ہے۔ اس لئے اس طرح کے انتظام کے وسیلے سے ایک دوسرے کے تجربوں سے سیکھنا ، عام مفاہمت کے نکتے  تلاش کرنا اور صارفین کے مفادات سے وابستہ کسی علاقائی اتحاد کی تعمیر کے امکانات پر مباحثہ بہت اہم ہے۔

400 کروڑ سے زیادہ کی صارفین کی بنیاد ، بڑھتی ہوئی خریداری کی طاقت، نوجوانوں کی تعداد ، ہم ایشیائی ملکوں میں تجارت کی بڑی بنیاد ہیں۔ ای۔ کامرس اور لوگوں کی بڑھتی سرحد  پار نقل وحرکت کی وجہ سے  آج سرحد پار لین دین لگاتار بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں صارفین کا اعتماد قائم رکھنے کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہر ملک میں ایک مضبوط باضابطہ نظام ہو اور اس نظام کے بارے میں دوسرے ملکوں کو بھی ضروری جانکاری ہو۔ دوسرے ملکوں کے صارفین سے متعلق معاملوں میں تیزی سے کی گئی کارروائی کرنے کیلئے تعاون کا لائحہ عمل ہونا بھی ضروری ہے۔ اس سے آپسی اعتماد اور کاروبار بھی بڑھے گا۔

مواصلات کیلئے ڈھانچہ جاتی نظام بنانا ، بہترین طور طریقوں سے ایک دوسرے کو واقف کرانا ، صلاحیت سازی کیلئے نئے اقدامات کرنا اور مشترکہ مہم شروع کرنا، ایسے موضوعات ہیں جن پر آپسی مفادات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کام کیا جاسکتا ہے۔

ساتھیو، ہماری ثقافت اور کاروبار کی مشترکہ وراثت مستقبل میں اتنی ہی مضبوط ہوگی، جتنا ہمارے درمیان جذباتی رشتے مضبوط ہو ں گے۔ اپنی تہذیب پر فخر کے ساتھ ہی دوسروں کی تہذیب کا احترام ہماری روایت کا حصہ ہے۔ صدیوں سے ہم ایک دوسرے سے سیکھتے رہے ہیں اور تجارت اور صارفین کا تحفظ بھی اس سے الگ نہیں رہا ہے۔

مجھے امید ہے ، اس کانفرنس میں مستقبل کی چنوتیوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ، ایک واضح نظریے کے ساتھ آگے بڑھنے کا خاکہ تیار ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ ہم اس کانفرنس کے وسیلے سے ایک علاقائی تعاون کو ادارہ جاتی بنانے میں بھی کامیاب ہوں گے۔ اس کانفرنس میں شامل ہونے کیلئے میں آپ کا ایک بار پھر بہت بہت شکریے کا اظہار کرتا ہوں۔

 *****

 م ن۔ش س ۔ع ج

(26-10-17)

U  :5354