پی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

فکّی کی 90ویں سالانہ جنرل میٹنگ کے افتتاحی اجلاس سے وزیر اعظم کا خطاب

نئی دہلی، 13 دسمبر ؍   فکّی کے صدر کے جناب پکنج آر۔ پٹیل جی، مستقبل کے صدر جناب رمیش سی شاہ جی، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سنجے بارو جی، اور یہاں موجود تمام معزز شخصیات ۔

وزیر اعظم نے جناب نریندر مودی نے کہا کہ  آج سب اپنے سال بھر کے کام کاج کا حساب کتاب لے کر بیٹھے ہیں۔ اس سال فکّی کے 90 سال بھی مکمل ہوگئے ہیں۔ کسی بھی ادارے کے لیے یہ بہت فخر کی بات ہے۔ آپ سبھی کو میری طرف سے بہت بہت مبارکباد۔

ساتھیو! 1927 کے آس پاس کا وقت تھا جب سائمن کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف جس طرح باقی صنعتی دنیا میں  احتجاج ہوا وہ اپنے آپ میں ایک تاریخی اور ترغیبی واقعہ تھا۔ اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر صنعتی دنیا نے سائمن کمیشن کے قیام کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ جیسے اس وقت بھارتی سماج کا ہرحصہ ملک کے مفاد کے لیے آگے آیا، ویسے ہی بھارتی صنعت کاروں نے بھی اپنی تمام طاقت ملک کی تعمیر میں لگادی۔

بھائیو اور بہنو! جیسے 90 سال پہلے عام آدمی اپنی روز مرہ کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ملک کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کے لیے آگے آیا تھا ویسا ہی دور اب پھر شروع ہوا ہے۔ اس وقت ملک کے لوگوں کی امیدیں اور  خواہشات جس سطح پر ہیں اسے آپ سمجھ سکتے ہیں۔ لوگ ملک کی ان اندرونی برائیوں سے، بدعنوانی سے، کالا دھن سے پریشان ہوچکے ہیں، ان سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔

اس لیے آج ہر ادارہ چاہے وہ کوئی سیاسی دل ہو، یا پھر فکّی جیسی صنعتی تنظؔیم، اس کے لیے یہ منتھن کا وقت ہے کہ وہ ملک کی ضروریات اور ملک کے لوگوں کے جذبات کو سمجھتے ہوئے اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کریں۔

ساتھیو، آزادی کے بعد کے سالوں میں ملک میں بہت کھ ہوا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان سالوں میں ہمارے سامنے کئی چیلنجز بھی آئے ہیں۔ آزادی کے بعد کے 70 سالوں میں ہمارے یہاں ایک ایسا نظام بنا جس میں کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی غریب ہمیشہ اس نظام سے لڑ رہا تھا۔ بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے اسے جدوجہد کرنا پڑ رہا تھا۔ اس غریب کو بینک اکاؤنٹ کھلوانا ہے تو سسٹم آڑے آجاتا تھا،  اسے گیس کنکشن چاہئے تو دس جگہ چکر لگانا پڑتا تھا، اپنی پینشن پانے کے لیے، اسکالر شپ پانے کے لیے یہاں وہاں کمیشن دینا پڑتا تھا۔

سسٹم کے ساتھ اس لڑائی کو بند کرنے کا کام میری سرکار کر رہی ہے۔ ہم ایک ایسے نظام کی تعمیر کر رہے ہیں جو نہ صرف ٹرانسپیرنٹ ہو بلکہ حساس بھی ہو۔ ایک ایسا نظام جو لوگوں کی ضروریات کو سمجھے۔

اس لیے جب ہم نے جن دھن یوجنا کی شروعات کی تو اسے اتنا شاندار ریسپونس ملا۔ آپ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ جب یہ اسکیم شروع ہوئی  تو، ہم  یہ ہدف طے نہیں کرپائے تھے کہ کتنے غریبوں کے بینک اکاؤنٹ کھولنے ہیں۔ کیونکہ سرکار کے پاس ایسا کوئی ڈیٹا نہیں تھا ، ایسی کوئی جانکاری تھی ہی نہیں۔

ہمیں بس یہ احساس تھا کہ غریب کو بینک کے دروازے سے لوٹا دیا جاتا ہے، کبھی ڈانٹ کر، کبھی تمام کاغذوں کا بہانہ بناکر ۔ آج جب میں دیکھتا ہوں کہ جن دھن یوجنا کے ذریعے 30 کروڑ سے زیادہ غریبوں نے اپنے بینک کھاتے کھلوائے ہیں، تو لگتا ہے کہ غریبوں کی کتنی بڑی ضرورت پوری ہوئی ہے۔ ایک مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دیہی علاقے میں جہاں ایسے کھاتے زیادہ کھلے ہیں، وہاں افراط زر کی شرح میں کمی آئی ہے۔ یعنی غریبوں کی زندگی میں کتنا بڑا بدلاؤ اس ایک اسکیم سے آیا ہے۔

بھائیو اور بہنو، ہماری سرکار نے لوگوں کے مسائل ، ان کی ضروریات کو دھیان میں رکھتے ہوئے اپنی یوجنائیں بنائی ہیں۔ لوگوں کی زندگی آسان بنے، ایز آف لونگ بڑھے، اس وژن کو ترجیح دی گئی ہے۔

غریب خواتین کو گیس کے دھوئیں سے آزادی ملے، اس لیے اجولا یوجنا شروع کی تھی۔ ہم نے تین کروڑ سے زیادہ خواتین کو مفت گیس کنکشن دیئے ہیں۔ اب ایک اور مطالعے میں سامنے آیا ہے کہ اس یوجنا کے بعد دیہی علاقوں میں فیول انفلیشن میں بھی کمی آئی ہے۔ یعنی غریب کو ایندھن کے لیے اب کم پیسے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔

ہم غریب کی ایک ایک ضرورت، ایک ایک مسئلے کو پکڑ کر اسے سلجھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ غریب خواتین کو لگاتار شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے، ان کی صحت اور تحفظ پر اثر نہ ہو، اس لیے سوچھ بھارت مشن کے تحت پانچ کروڑ سے زیادہ بیت الخلابنوائے گئے۔

غریبوں کے رہنے کے لیے پکے گھر مل سکیں، وہ جتنا کرایے پر خرچ کرتے ہیں، لگ بھگ اتنے میں ہی ان کے پاس اپنا گھر ہوجائے، اس لیے پردھان منتری آواس یوجنا شروع کی گئی ہے۔

ساتھیو، وگیان بھون کی ان چمچماتی ہوئی لائٹوں، اتنی سجاوٹ، یہ جو پورا ماحول ہے،اس سے بہت الگ دنیا آپ کو ملک کے دور دراز علاقوں ، ملک کے دیہاتوں میں ملے گی۔ میں غریبی کی اسی دنیا سے نکل کر آپ کے بیچ آیا ہوا ہوں۔ محدود وسائل، محدود پڑھائی لیکن سپنے بہت لامحدود۔ اسی دنیا نے ہی مجھے سکھایا ہے کہ  ملک کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے، غریبوں کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے کام کرو، فیصلے لو، انھیں نافذ کرو۔

جیسے مدرا یوجنا نوجوانوں ایک بہت بڑی ضرورت کو پورا کر رہی ہے، یہ ضرورت ہے بینک گارنٹی۔ کوئی بھی نوجوان اپنے دم پر جیسے ہی کچھ کرنا چاہا ہے، اس کے سامنے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ پیسے کہاں سے آئیں گے۔ مدرا یوجنا کے تحت یہ گارنٹی سرکار دے رہی ہے۔ گذشتہ تین سالوں میں تقریباً پونے دس کروڑ لون ہم نے منظور کیے ہیں، بنا بینک گارنٹی نوجوانوں کو چار لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ دیئے گئے ہیں۔ نوجوانوں کی بہت بڑی ضرورت کے ساتھ سرکار کھڑی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کو پچھلے تین سالوں میں تقریبا تین کروڑ نئے صنعتکار ملے ہیں۔

یہ تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے مدرا یوجنا کے تحت پہلی بار بینک سے لون لیا ہے۔ ان تین کروڑ لوگوں نے ملک کی چھوٹی صنعتی سیکٹر، یا ایم ایس این ای سیکٹر کا دائرہ اور بڑھایا ہے، اس سے مضبوط کیا ہے۔

سرکار ، سرکاری اسٹارٹ اپ کو بھی بڑھاوا دے رہی ہے۔ اسٹارٹ اپ کی سب سے بڑی ضرورت ہے رسک کیپٹل۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سرکار نے سبسڈی کے تحت ایک فنڈ آف فنڈ بنایا ہے۔ اس قدم کے بعد سبسڈی کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری کو دیگر سرمایہ کاروں کے تعاون  سے ، چار سے ساڑھے چار گنا زیادہ لیوریج دیا گیا۔ اسے اسٹارٹ اپ کو جن کے پاس نئے آئیڈیاز ہیں، انھیں پونجی ملنے میں مدد مل رہی ہے۔

بھائیو اور بہنو، اسٹارٹ اپ کے ایکو سسٹم میں متبادل سرمایہ فنڈز کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری اہم ہے۔ گذشتہ تین سالو ںمیں سرکار کے ذریعے لیے گئے پالیسی فیصلوں کے سبب ایسے سرمایے میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ سرکار ملک کے نوجوانوں کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے فیصلے لے رہی ہے، اسکیمیں بنا رہی ہے۔ اس کا بالکل کنٹراسٹ آپ کو گذشتہ سرکار میں دیکھنے کو ملے گا۔ اس دوران کچھ بڑے صنعتکاروں کو لاکھوں کروڑ کے لون دیئے گئے۔ بینکوں کو دباؤ ڈال کر پیسہ دلوایا گیا۔

ساتھیو! فکّی کا اپنے بارے میں کہنا ہے۔ انڈسٹریز وائس فار پالیسی چینج۔ آپ انڈسٹری کی وائس سرکار تک پہنچاتے ہیں۔ آپ کے سروے آتے رہتے ہیں۔ سیمینار چلتے رہتے ہیں۔ مجھے جانکاری نہیں ہے کہ پہلے کی سرکار کی پالیسیوں نے جس طرح بینکنگ شعبے کا برا حال کیا اس پر فکّی نے کوئی سروے کیا ہے یا نہیں؟ آج کل نان پرفارمنگ ایسٹ، این پی اے ۔ این پی اے کا جو شور مچ رہا ہے، وہ پہلے کی سرکار میں بیٹھے  ماہر معاشیات کی اس سرکار کو دی گئی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

میری دلچسپی بھی یہی جاننے میں ہے کہ جب سرکار میں بیٹھ کچھ لوگوں کے ذریعے بینکوں پر دباؤ ڈال کر کچھ خصوصی صنعتکاروں کو لون دلوایا جارہا تھا، تب فکّی جیسے ادارے کیا کر رہے تھے۔ پہلے ہی سرکار میں بیٹھے لوگ جانتے تھے، صنعتی دنیا بھی جانتی تھی بازار سے جڑے ادارے بھی جانتے تھے کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔

یہ یوپی اے سرکار کا سب سے بڑا  گھوٹالہ تھا۔ کامن ویلتھ، 2جی، کوئلہ، ان سبھی کہیں زیادہ بڑا گھوٹالہ۔ یہ ایک طرح سے سرکار میں بیٹھے لوگوں کے ذریعے صنعت کاروں کے توسط سے عوام کی گاڑھی کمائی کی لوٹ تھی۔ کیا ایک بار بھی کسی سروے میں ، کسی مطالعے میں اس طرف اشارہ کیا گیا۔ جو لوگ چپ رہ کر سب کچھ دیکھتے رہے، کیا انہیں جاگنے کی کوشش کسی ادارے کی ذریعے کی گئی؟

ساتھیوں، بینکنگ نظام کی اس خراب حالت کو ٹھیک کرنے کے لیے ، بینکنگ نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے سرکار لگاتار قدم اٹھارہی ہے۔ بینکوں کا مفاد محفوظ ہوگا، گراہکوں کا مفاد محفوظ ہوگا تبھی ملک کا مفاد محفوظ ہوگا۔

ایسے میں فکی جیسے اداروں کا بڑا رول ہے۔ صحیح جانکاری کے ساتھ صنعتی دنیا اور لوگوں کو بیدار کرنے کی بھی ہے۔ اب جیسے گزشتہ کچھ دنوں سے مالی ریزولیشن اینڈ ڈپازٹ انشورنس بل ، ایف آر ڈی آئی کو لے کر افواہیں پھیلائی جارہی ہے۔

سرکار گراہکوں کے مفاد کو محفوظ بنانے کے لیے، بینکوں میں جمع ان کی رقم کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کررہی ہے، لیکن خبریں اس کے بالکل برعکس چلائی جارہی ہیں۔صنعتی دنیا کو اور عام شہریوں کو بھرم میں ڈالنے والی ایسی کوششوں کو ناکام کرنے میں فکی جیسے ادارے کا بھی تعاون بہت ضروری ہے۔

آپ گورنمنٹ کی Voice(آواز) صنعت کی آواز اور عوام کی آواز کے ساتھ تال میل کیسے قائم کریں گے یہ بھی آپ کو سوچنا ہوگا۔ یہ تال میل کیوں لازم ہے، اس کی ایک اور مثال دوں گا۔

ساتھیوں، ہندوستانی صنعت کی پرانی مانگ تھی کہ اسے جی ایس ٹی چاہیے، جی ایس ٹی چاہیے اب جب جی ایس ٹی لاگو ہو چکا ہے تو اسے بااثر بنانے کے لیے آپ کا ادارہ کیا رول نبھارہا ہے؟ جو لوگ سوشل میڈیا پر ہیں، انہوں نے دھیان دیا ہوگا کہ بہت دنوں تک لوگ ریسٹورنٹ کے بل پوسٹ کر رہے تھے کہ ٹیکس بھلے کم ہوگیا، لیکن کچھ ریسٹورنٹ والوں نے بنیادی لاگت بڑھا کر پھر حساب برابر کردیا۔ یعنی گراہک تک وہ فائدہ پہنچا ہی نہیں جو پہنچنا چاہئے تھا۔

ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سرکار اپنی طرف سے کوشش کررہی ہے، لیکن کیا فکی کی طرف سے لوگوں میں ، تاجروں میں کسی طرح کی بیداری لانے کی کوشش ہوئی۔

بھائیو اور بہنوں، جی ایس ٹی جیسے نظام راتوں رات نہیں کھڑے ہوتے اور ہم تو پچھلے 70 سال کے بنائے ہوئے نظام کو بدل رہے ہیں۔ ہمارا یہ بھی نشانہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تاجر اس نظام سے جڑیں۔

چاہے لاک روپے مہینے کا ٹرن اوور ہو یا دس لاکھ کا، چھوٹے سے چھوٹے تاجر کو ہم فارمل سسٹم میں لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ سرکار کو پیسہ کمانا ہے، ٹیکس وصول کرنا ہے۔ سرکار یہ سب اس لیے کررہی ہے، کیونکہ نظام جتنا فارمل ہوگا، جتنا شفاف ہو گا اتناہی غریبوں کو فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ فارمل سسٹم کی وجہ سے انہیں آسانی سے بینکوں سے قرض ملے گا۔ خام مال کی خوبی بڑھے گی اور لاجسٹک کی لاگت بھی گھٹے گی۔یعنی عالمی کاروبار میں چھوٹے  صنعت کار بھی زیادہ مقابلہ جاتی ہوں گے۔ مجھے امید ہے کہ فکی نے بڑے پیمانے پر چھوٹے تاجروں کی رہنمائی کے لیے کوئی اسکیم ضرور بنا رکھی ہوگی۔

بھائیو اور بہنو! مجھے بتایا گیا ہے کہ فکی کے ایم ایس ایم ای ورٹکل کی تشکیل 2013 میں کی گئی تھی۔ 90 سال کے اس ادارے میں ایم ایس ایم ای ورٹکل صرف چار سال پہلے بنی۔ میں کچھ اور تبصرہ تو نہیں کروں گا مگر اتنا ضرور چاہوں گا کہ آپ کا یہ ورٹکل کرنسی اسکیم، اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا جیسی اسکیموں کی تشہیر بڑھانے میں اور مدد کریں۔اتنا تجربہ کار ادارہ اب ہماری چھوٹی صنعتوں کی ہینڈ ہولڈنگ کرے گی، تو وہ بھی اور زیادہ اور جوش کے ساتھ کام کرے گی۔

سرکار نے گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس-یعنی جی ای ایم نام سے جو نظام کھڑا کیا ہے اس سے بھی ملک کے چھوٹے صنعت کاروں کو جوڑنے میں آپ کو اپنی کوشش بڑھانی ہوگی۔ جی ای ایم کے توسط سے اب چھوٹے چھوٹے مینوفیکچرر بھی اپنا سامان سرکار فروخت کرسکتے ہیں۔

میری آپ سے ایک توقع یہ ہے کہ  ایم ایس ایم ای کا جو پیسہ بڑی کمپنیوں پر بقایہ رہتا ہے، اس کی ادائیگی وقت پر ہو جائے، اس کیلئے بھی کچھ کیجئے۔ قاعدہ ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے  کہ چھوٹے صنعت کاروں کا پیسہ زیادہ تر بڑی کمپنیوں کے پاس اٹکا رہتا ہے۔ تین مہینے، چار مہینے بعد انہیں پیمنٹ ملتا ہے۔ کاروباری رشتے نہ بگڑ جائیں اس لئے چھوٹا صنعت کار اپنے پیسے مانگنے میں بھی ہچکچاتا ہے۔ اس کی اس تشویش کو، اس مسئلے کو دور کرنے کیلئے بھی آپ کی طرف سے کوشش کی جانی چاہئے۔

ساتھیوں ایسی بہت سی وجوہات ہیں، جن کے باعث ہمارا ملک پچھلی صدی میں صنعتی انقلاب کا پوری طرح فائدہ نہیں اٹھاپایا۔ آج بہت سی وجوہات ہیں، جن کے سبب بھارت نئے انقلاب کا آغاز کر سکتا ہے۔

یہ سرکار ملک کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے نئی پالیسیاں بنا رہی ہے۔ پرانے قانون ختم کر رہی ہے، نئے قانون بنا رہی ہے۔

ابھی حال ہی میں ہم نے  بانس کو لے کر بھی ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ بانس پیڑ ہے یا نہیں ہے ، اسے لے کر ہمارے یہاں دو الگ الگ قانون تھے، اب سرکار نے طے کر دیا ہے کہ جنگلوں سے باہر جو بانس اگتاہے، اسے پیڑ نہیں مانا جائےگا۔ اس فیصلے سے ان لاکھوں چھوٹے صنعت کاروں کا فائدہ ہوگا، جو بانس پر مبنی صنعت سے منسلک ہیں۔

ساتھیوں مجھے بتایا گیا ہے کہ فکی کے  ارکان میں سب سے زیادہ لوگ مینوفیکچرنگ کمپنیوں سے جڑے ہیں۔ انجینئرنگ سامان، بنیادی ڈھانچہ، ریئل اسٹیٹ تعمیری سامان جیسی کمپنیاں  فکی کا ایک چوتھائی حصہ ہیں۔ بھائیو اور بہنو پھر کیوں ایسا ہوا کہ بلڈروں کی منمانی کی خبر پہلے کی سرکار تک نہیں پہنچی۔ متوسط طبقہ پس رہاتھا، زندگی بھر کی کمائی بلڈ ر کو دینے کے بعد بھی اسے گھر نہیں مل رہے تھے اور پھر بھی کچھ ٹھوس قدم نہیں اٹھائے جا رہے تھے، کیوں؟۔ آر ای آر اے جیسے قانون پہلے بھی تو بنائے جا سکتے تھے، لیکن نہیں بنے۔ متوسط طبقے کی اس پریشانی کو اس سرکار نے ہی سمجھا اور قانون بنا کر بلڈروں کی منمانی پر روک لگائی۔

بھائیو اور بہنو ہم نے ہی اس بات کو سمجھا کہ مارچ میں بجٹ پیش ہونے پر  اسکیموں کو سال بھر کام کرنے کا موقع نہیں مل پاتا۔ مانسون کی وجہ سے تین چار مہینے برباد ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اس سال بجٹ کا وقت ایک مہینے پہلے کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس سال محکموں کو معینہ وقت پر پیسہ ملااورمنصوبوں پر کام کرنے کیلئے پورا ایک برس ملا۔

ساتھیو اس سرکار نے یوریا کو لے کر نئی پالیسی  تیار کی،  ٹیکسٹائل کے شعبے کو لے کر نئی پالیسی تیار کی۔ ہواباز، کے شعبے کیلئے  پالیسی تیار کی، ٹرانسپورٹ شعبے کے انٹیگریشن کو لے کر پالیسی تیار کی، صحت کو لے کر نئی پالیسی تیار کی گئی اور صرف ایسا نہیں ہے کہ پالیسی بنانی ہے، تو پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔

ہم نے یوریا کو لے کر پالیسی تبدیل کی، تو ملک میں یوریا کے نئے کارخانوں کے بغیر 18 سے 20لاکھ ٹن یوریا کی پیداوارمیں اضافہ ہوگیا۔ٹیکسٹائل کے شعبے میں نئی پالیسی روزگارکے ایک کروڑمواقع پیدا کرے گی۔ ہوابازی کے شعبے کی پالیسی میں جو تبدیلی کی گئی ہے، اس سے ہوائی چپل والوں کو بھی ہوائی اڑان کی سہولت ملے گی۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے کا انٹیگریشن آمدورفت کے مختلف انتظامات  پر بارکم کرے گا۔

گزشتہ تین برسوں میں 21 سیکٹروں کے سلسلے میں 87 اہم اصلاحات کی گئی ہیں۔ دفاعی شعبے، تعمیری شعبے، مالیاتی خدمات، فوڈ پروسیسنگ جیسے کتنے ہی شعبوں میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اسی کا نتیجہ آپ کو معیشت سے منسلک مختلف پیرامیٹرس میں نظر آ رہا ہے۔

کاروبار میں آسانی کی رینکنگ میں ہندوستان صرف تین برسوں میں 142سے 100ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ہندوستان کا زرمبادلہ کا ریزرو تقریبا 30ہزار کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 40ہزار کروڑ ڈالرسے زیاد ہ ہو گیا ہے۔ عالمی مسابقتی عدد اشاریہ میں ہندوستان کی رینکنگ میں 32 نمبروں کی بہتری آئی ہے۔ عالمی اختراعی عدد اشاریہ میں بھارت کی رینکنگ میں 21 درجہ بلند ہوئی ہے۔ لاجسٹکس پرفارمنس انڈیکس میں 19 درجات کی بہتری آئی ہے۔ اگرمجموعی ایف ڈی آئی کی بات کریں، تو گزشتہ تین برسوں میں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 70فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
بھائیوں اور بہنوں میں،فکی، تعمیراتی شعبے سے وابستہ ارکان بہت زیادہ ہیں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ تعمیراتی شعبے میں  اب تک کی مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا 75فیصد  حصہ گزشتہ تین برسوں میں حاصل  ہوا ہے۔

اسی طرح ایئر ٹرانسپورٹ سیکٹر ہو، کانکنی کا شعبہ ہو، کمپیوٹر سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر ہو، برقی آلات ہوں سبھی میں  اب تک ہوئی سرمایہ کاری کی  نصف  سے زیادہ سرمایہ کاری  گزشتہ تین برسوں میں ہوئی ہے۔

معیشت کی مضبوطی کے کچھ اور اعداد و شمار آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ دو تین دن پہلے آئے یہ اعداد و شمار  آپ کو معلوم ہوں گے، لیکن ان کی طرف آپ کی توجہ پھر سے دلانا چاہتا ہوں۔

ساتھیو، گھریلو بازر میں پیسنجر وہیکل  کی فروخت کی شرح نومبر میں 14 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ کمرشیل وہیکل  کی فروخت، جو کہ ملک میں اکونومک ایکٹی وٹی کو ظاہر کرتی ہے، اس میں 50 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ تھری وہیلر کی فروخت، جسے روزگار کا بھی ایک اشاریہ مانا جاسکتا ہے، اس میں نومبر کے مہینے میں، تقریباً 80 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹو وہیلر، جس کی فروخت گاوں  اور  متوسط طبقے کی آمدنی میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے، اس میں 23 فیصدسے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

ساتھیو! آپ کو معلوم ہے کہ اتنی بڑی سطح پر تبدیلی اسی وقت آتی ہے جب معیشت پر عام آدمی کا بھروسہ ہوتا ہے۔ یہ سدھار اس بات کا ثبوت ہے کہ زمینی سطح پر جاکر حکومت بڑے  انتظامی، مالی اور قانونی قدم اٹھا رہی ہے۔ یہ سدھار اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ سرکار کی سماجی اصلاحات، اقتصادی اصلاحات بھی  اپنے آپ لا رہےہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ایک بڑا رول ادا کررہےہیں۔

جیسے میں اگر آواس یوجنا کی بات کروں تو سرکار اس مقصد کے لئے کام کررہی ہے کہ 2022 تک ملک کے غریب کے پاس اپنا گھر ہو۔ اس کے لئے گاوؤں میں، شہروں میں لاکھوں گھروں کی تعمیر کی جارہی ہے۔ ان گھروں کو بنانے کے لئے افراد قوت تو  مقامی سطح پرہی حاصل کی جارہی ہے۔ گھروں کی تعمیر میں جو سامان لگ رہا ہے، وہ بھی مقامی بازار سے ہی آرہا ہے۔ اسی طرح ملک میں گیس پائپ لائن بچھانے کا جو کام ہورہا ہے اس سے کئی شہروں میں، سٹی گیس ڈسٹری بیوشن سسٹم کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ جن شہروں میں سی این جی پہنچ رہی ہے، وہاں پر روزگار کے معاملے میں ایک نیا ماحولیاتی نظام بن رہا ہے۔
بھائیوں اور بہنوں، ہم  ملک کی سبھی  ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے  کام کریں گے۔ تب ہی لوگوں کی امیدوں  اور خواہشات کی تکمیل ہوگی۔ فکی سے وابستہ ممبر کمپنیوں کو اس بارے میں بھی غور کرنا چاہیے کہ کیسے ہم ان چیزوں کی ملک میں پیدا وار کریں جنہیں ہمارا ملک باہر سے منگوانے کے لئے مجبور ہے۔ کتنے ہی شعبوں میں ہم سے ہی خام مال لیکر، ہم کو ہی واپس بیچا جاتا ہے۔ اس صورتحال سے ہمیں اپنے ملک کو باہر نکالنا ہے۔ آرٹی فیشل انٹلی جنس، سولر پاور سیکٹر، ہیلتھ کیئر ان سبھی کو فکی کے تجربے کا فائدہ مل سکتا ہے۔ کیا آپ کی تنظیم ملک کے ایم ایس ایم ای شعبے کے لئے تھنک ٹینک کے طور پر کام کرسکتی ہے؟

بھائیو اور بہنوں  کرنے کے لئے بہت کچھ ہے بس ہمیں عہد کرنا ہے اور اسے ثابت کرنا ہے۔  جب ہمارے پختہ ارادے ثابت ہوجائیں گے تو ملک درست ہوجائے گا۔ ہاں بس اس بات کا دھیان رکھنا ہے کہ جیسے کرکٹ میں کچھ بلے باز  90 پر آکر 100 رن بنانے کے انتظار میں آہستہ کھیلنے لگتے ہیں، ویسے ہی فکی نہ کرے۔ اٹھئے سیدھے ایک چھکا ایک چوکا  اور سینکڑا پار کریں۔

میں ایک بار پھر فکی کو اس کے ارکان کو نیک خواہشات کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ آپ سبھی کا بہت بہت شکریہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

م ن۔ج۔ ح ا۔ ش ت۔ ا گ ۔ ن ا۔ن ع۔ را۔ ک ا۔

U- 6256