پی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیراعظم کا فِکّی کی 90ویں سالانہ جنرل میٹنگ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

نئی دہلی،13؍ ۔دسمبر، وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج فکی کی 90ویں سالانہ جنرل میٹنگ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے1927 میں فکی کے قیام کے وقت کا تذکر ہ کیا، جبکہ بھارتی صنعت سائمن کمیشن کے خلاف متحد ہوئی تھی۔ سائمن کمیشن کی تشکیل برطانوی حکومت نے کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اُس وقت قومی مفاد میں بھارتی صنعت نے بھارتی سماج کے دیگر تمام طبقات کو جوڑدیاتھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج بھی کچھ اسی طرح کا ماحول موجود ہے۔ ایک ایسا ماحول جس میں ملک کے عوام قوم کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی امیدیں اور امنگیں ملک کو بدعنوانی اور کالے دھن جیسے اندرونی مسائل سے چھٹکارا دلانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں اور صنعتی چیمبرز کو ملک کی ضروریات اور لوگوں کے احساسات کو مدنظررکھتے ہوئے اس کے مطابق کام کرنا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد سے بہت کچھ حاصل کیا جا چکا ہے، لیکن اسی کے ساتھ متعدد چیلنجز آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ غریب  بینک کھاتوں، گیس کنکشنز، اسکالرشپ اور پنشن وغیر ہ جیسی چیزوں کیلئے سسٹم کےخلاف جدوجہد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اس  کی اس جدوجہد کو ختم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہےا ور وہ ایک ایسا سسٹم پیدا کرنے جا رہی ہے، جو شفاف اور حساس ہو۔ انہوں نے کہا کہ جن دھن یوجنااس کی ایک مثال ہے اور مرکزی حکومت کی توجہ زندگی کی آسانیاں بڑھانے پر ہے ۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اُجّولا یوجنا ، سوؤچھ بھارت مشن کے تحت بیت الخلاء کی تعمیر اور پردھان منتری آواس یوجنا کا بھی تذکرہ کیا۔ وزیراعظم  نے کہا کہ انہوں نے غربت کو بہت قریب سے دیکھا ہے اوروہ غریبوں  اور قوم کی ضروریات کیلئے کام کرنے کی ضرورت کوبہترطورپر سمجھتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت بینکاری نظام کو مضبوط کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این پی اے ایک ایسی وراثت ہے، جو موجودہ حکومت کو ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال فائنانشیئل ریگولیشن اور ڈپازٹ انشورنس(ایف آر ڈی آئی) بل کے بارے میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کھاتے  داروں کے مفادات کے تحفظ کیلئے کام کر رہی ہے، لیکن اس سلسلے میں جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، وہ اس کے بالکل برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فکی جیسی تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات کے بارے میں لوگوں کے اندر بیداری پیداکریں۔ انہوں نےکہا کہ اسی طرح فکی کو جی ایس ٹی کو مزید مؤثر بنانے میں ایک اہم رول ادا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سسٹم جس قدر رسمی ہوگا، اسی قدراس سے غریبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس سے بینکوں سے قرض کی  باآسانی دستیابی ممکن ہو سکے گی اور اس سے لاجسٹک اخراجات میں کمی آئے گی اور نتیجتاً تجارت میں مسابقت کو فروغ ملے گا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ چھوٹے تاجروں میں بڑے پیمانے پر بیداری پیداکرنے کیلئے فکی کے پاس کچھ منصوبے ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ فکی کو ضرورت پڑنے پر تشویشات  کا اظہارکرنا چاہئے، خاص طورپر ایسے معاملا ت میں جبکہ بلڈر عام آدمی کا استحصال کر رہے ہوں۔

وزیراعظم نے یوریا، ٹیکسٹائل، شہری ہوابازی اور صحت جیسے شعبوں میں حکومت کے پالیسی فیصلوں اور ان سے ہونے والے فوائد کا بھی تذکرہ کیا۔وزیراعظم نے دفاع، تعمیرات اور ڈبہ بند خوراک وغیرہ جیسے شعبوں میں اصلاحات کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا نتیجہ یہ ہوا کہ عالمی بینک کی ‘‘ ایز آف ڈوئنگ بزنس’’ کی درجہ بندیوں میں  بھارت کی درجہ بندی 142 سے 100 پر پہنچ گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ  حکومت کے ذریعے کئے  گئے متعدد اقدامات ملازمت کی پیداوارمیں بھی  ایک کلیدی رول ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ فکی کو ڈبہ بند خوراک، اسٹارٹ اپ، آرٹفیشئل انٹلیجنس، شمسی توانائی اورحفظان صحت جیسے  شعبوں میں کلیدی رول ادا کرنا ہوگا۔وزیراعظم نے اس موقع پر فکی سے اپیل کی کہ وہ ایم ایس ایم ای شعبے میں ایک تھنک ٹینک کا رول ادا کرے۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

م ن۔ ن ا  ۔ک ا

U- 6254