پی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کابینہ نے 10تا 13 دسمبر 2017 کے دوران ارجنٹینا کے بوئنس ایئرس میں منعقدہ ڈبلیو ٹی او کی وزارتی سطح کی گیارہویں کانفرنس میں بھارت کے اختیار کردہ طریقہ کار کو منظوری دی

 

نئی دہلی،  03 جنوری  /    وزیراعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے محکمہ تجارت کے ذریعہ پیش کردہ نوٹ اور دسمبر 2017 میں ارجنٹینا کے بوئنس ایئرس میں منعقدہ ڈبلیو ٹی او کی وزارتی سطح کی 11 ویں کانفرنس میں بھارت کے ذریعہ اختیار کئے گئے طریقہ کار کو منظوری دے دی ہے۔ کانفرنس میں اختیار کردہ طریقہ کار کا مقصد وزارتی سطح کی کانفرنس میں بھارت کے مفادات ، ترجیحات اور تشویشات کا تحفظ کرنا تھا۔

کانفرنس کے پیش نظر بالی ؍ نیروبی مینڈیٹ کے مطابق غذائی تحفظ مقاصد کیلئے سرکاری ذخیرہ اندوزی کے مسئلہ پر کسی مستقل حل سے متعلق فیصلے کئے جانے کی توقع تھی۔ ڈبلیو ٹی او کے چند رکن ممالک  خدمات میں گھریلو قوانین ،ماہی گیری میں ترغیبات، ای-کامرس، سرمایہ کاری کا راستہ ہموار ہونا اور بہت چھوٹی ، متوسط اور چھوٹی صنعتوں سے متعلق ضوابط پر نتائج کے خواہاں تھے۔ تاہم اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے غذا کی تحفظ مقاصد یا دیگر زرعی امور سے متعلق سرکاری ذخیرہ اندوزی پر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

نومبر 2014 میں جنرل کونسل فیصلہ کے ساتھ بالی میں وزارتی سطح پر کیا گیا فیصلہ جس کا دسمبر 2015 میں ڈبلیو ٹی او کی دسویں وزارتی سطح کی کانفرنس میں اعادہ کیا گیا، وہ غذائی تحفظ مقاصد کے لئے سرکاری ذخیرہ اندوزی سے متعلق ایک عبوری میکانزم کی دستیابی کے ذریعے بھارت کا تحفظ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ کسی مستقل حل پر اتفاق رائے ہو جائے اور جسے ڈبلیو ٹی او اختیار کرے۔ اس طرح کم از کم امدادی قیمتوں پر بھارت کے غذائی اجناس کی خریداری کے پروگرام محفوظ ہوگئے۔

کانفرنس کے دوران وزارتی سطح کے جو فیصلے کئے گئے ،ان میں ماہی گیری ترغیبات سے متعلق ضوابط پر ایک ورک پروگرام شامل ہے جس کا مقصد2019 میں ڈبلیو ٹی او کی وزارتی سطح کی بارہویں کانفرنس کسی فیصلے پر پہنچنا ہے۔ سرمایہ کاری کے لئے راستہ ہموار کرنا، ایم ایس ایم ای اور تجارت جن پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، ان جیسے نئے امور پر وزارتی سطح کے فیصلوں کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔

 

 ( م ن ۔  ن ا ۔ م ف  ۔  )

No. 82