PMINDIA

مزید دیکھیں

The content is auto sourced from PIB

کرناٹک میں اُجیرے کے مقام پر وزیراعظم کا عوامی میٹنگ سے خطاب

 

 

 

نئی دہلی۔30؍اکتوبر۔

بڑی تعداد میں یہاں آئے ہوئے پیارے بھائیو اور بہنو،

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے آج بھگوان  منجوناتھ کے قدموں میں آکر آپ سب کے درشن کرنے کا بھی موقع ملا ہے۔ پچھلے ہفتے میں کیدارناتھ جی میں تھا۔ آدی شنکر آچاریہ جی نے ہزاروں برس پہلے اس جگہ پر قومی ایکتا کے لئے کتنی بڑی ریاضت  کی ہوگی۔ آج مجھے پھر ایک بار جنوب کی طرف منجوناتھیشور کے قدموں میں آنے کا موقع ملا ہے۔

میں نہیں ماتنا ہوں کہ  نریندر مودی نام کے کسی شخص کو  ڈاکٹر ویریندر ہیگڑے جی کا احترام کرنے کا حق ہے، یا نہیں ہے؟ ان کا ایثار ، ان کی ریاضت ، ان کی زندگی ؛ 20 سال کی چھوٹی عمر میں ایک زندگی  ایک مشن ،  یہ اپنے آپ کو پیش کیا اور آج بڑی دیر سے سنا، فطری ہے۔ اتنا دیر سے؟ ایسی ایک تفصیلی زندگی اُن کو اعزاز دینے کیلئے شخص کے ناطے میں بہت چھوٹا ہوں۔ لیکن سوا سو کروڑ ہم وطنوں کے نمائندے کی شکل میں، جس عہدے پر آپ نے مجھے بٹھایا  ہے، اس عہدے کے وقار کے سبب میں اس کام کو کرتے ہوئے اپنے آپ کو بہت بڑا خوش قسمت مانتا ہوں۔

عوامی زندگی میں اور وہ بھی روحانی مقام پر خدا کو گواہ رکھ کر، قول اور فعل میں یکسوئی  ، دل اور زبان اور عمل میں وہی پاکیزگی اور جس مقصد کو زندگی میں طے کیا ، اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے خود کے لئے نہیں سب کے لئے،  انا کی خاطر نہیں  سب کی خاطر ، میں نہیں تو ہی، اس زندگی کو جینا؛  ہر قدم پر کسوٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہر کسوٹی سے ، ہر ترازو سے ، اپنے ہر قول کو ، اپنے ہر کام کو تولا جاتا ہے۔ اور اس لئے 50 سال کی یہ ریاضت ؛ یہ اپنے آپ میں ہم جیسے لوگوں کیلئے ایک جذبے کا وسیلہ ہے اور اس لئے میں آپ کو احتراماً سلام کرتا ہوں، آپ کے آگے سر جھکاتا ہوں۔

اور جب مجھے احترام کرنے کا موقع ملا، بڑی آسانی سے ، اور میں نے دیکھا ہے ہیگڑے جی سےجتنی بار ملا ہوں، ان کے چہرے پر مسکراہٹ کبھی ہٹتی نہیں ہے۔ کوئی بھاری بھرکم کام کا بوجھ نظرنہیں آتا ہے۔سادہ آسان؛ جیسے گیتا میں کہا ہےبے لوث کام۔ اور احترام کررہا تھا ، انہوں نے آسان طریقے سے مجھے کہا ۔ مودی جی یہ 50 سال پورے ہوئے، اس کا احترام نہیں ہے؛ آپ تو میرےسے آگے 50 سال ایسے ہی کام کروں، اس کی گارنٹی مانگ رہے ہو۔ اتنی عزت، اتنا احترام حاصل ہوتا ہو، ایشور کا آشیرواد ہو، 800 سال کی عظیم ریاضت وراثت میں ملی ہو، اس کے باوجود زندگی کو ہر لمحہ عمل کی راہ پر ہی آگے بڑھانا، یہ میں سمجھتا ہوں ہیگڑے جی سے ہی سیکھنا ہوگا۔ چاہے موضوع یوگ کا ہو، تعلیم کا ہو، صحت کا ہو، گاؤں کی دیہی ترقی کا ہو، غریبوں کی بہبود کا ہو، نئی نسل کی پرورش کیلئے منصوبوں کا ہو، ڈاکٹر ویریندر ہیگڑے جی نے اپنے فکر کے دروازے ، اپنی صلاحیت کے ذریعے انہوں نے ان سب چیزوں کو یہاں کی موجودہ صورتحال کے مطابق ڈھال کر آگے بڑھایا ہے اور مجھے اس بات کے کہنے میں شک نہیں ہے، کئی ریاستوں میں اور ملک میں بھی ہنرمندی کے فروغ کو لیکر جتنے کام چل رہے ہیں، اس کے طور طریقے کام کے طریقے کیا ہوں،  کس طرح سے کیا جائے ، اس کا بہت سارا نمونہ ڈاکٹر ویریندر ہیگڑے جی نے یہاں جو کوشش کی ہے، اسی سے ملا ہے۔

آج اکیسویں صدی میں دنیا کا ترقی یافتہ سے ترقی یافتہ ملک بھی ہنرمندی کے فروغ کا ذکر کرتا ہے۔ ہنرمندی کا فروغ ترجیحی شعبے کی شکل میں مانا جاتا ہے۔ بھارت جیسا ملک ، جس کے پاس 800 ملین، 65 فیصد لوگ 35 سال سے کم عمر کے ہوں، ڈیموگرافٹ تقسیم کا ہم فخر کرتے ہوں، اس ملک میں ہنرمندی کا فروغ ، وہ بھی صرف پیٹ پوجا کی خاطر کی نہیں، بھارت کے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے ہنرمندی کو بڑھانا، دنیا بھر میں انسانی وسائل کی جو ضرورت ہوگی، آنے والے زمانوں میں، اس کو مکمل کرنے کیلئے اپنی بانہوں میں وہ طاقت لانا ، اپنے ہاتھ کے ا ندر وہ صلاحیت لانا،  اس ہنر کو حاصل کرنا، یہ چیز ڈاکٹر ویریندر ہیگڑے جی نے بہت سالوں پہلے دیکھی تھی اور اس کام کو آگے بڑھایا۔  اور میں اس کام ، اس اہم کام کو رفتار دینے کیلئے، ہمارے یہاں زیارت کے علاقے  کیسے ہونے چاہئیں ؟ مسلک ، عقیدہ ، روایتیں، ان کا مقصد کیا ہونا چاہئے؟ اس موضوع پر جتنا مطالعہ ہونا چاہئے ، افسوس کی بات یہ ہے کہ نہیں ہوا ہے۔ آج دنیا میں عمدہ قسم کے بزنس مینجمنٹ اسکول کیسے چل رہے ہیں، اس کا تو ذکر ہوتا ہے۔ اس کی درجہ بندی بھی ہوتی ہے۔ ملک کے بڑے بڑے میگزین بھی اس کی درجہ بندی کرتے ہیں۔ لیکن آج میں جب دھرم استھل جیسے مقدس مقام پر آیا ہوں تب، جب جناب ویریندر ہیگڑے جی کے مقدس مقدموں میں پہنچا ہوں، تب میں دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے دعوت دیتا ہوں، ہندوستان کی بڑی بڑی یونیورسٹیز کو دعوت دیتا ہوں کہ ہم اسپتالوں کا جائزہ لیتے ہیں، ان کے کام کرنے کے انداز کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ہم انجینئرنگ کالجوں کی درجہ بندی کرتے ہیں۔ طرح طرح کی درجہ بندی پر خرچ بھی ہوتا ہے لیکن وقت کی مانگ ہے، صدیوں سے ہمارے ملک میں، ہماری اس رشی مونی روایت نے کس انداز سے اداروں کو بنایا ہے، کس طرح سے اسے آگے بڑھایا ہے، نسل در نسل وہ اقدار کیسے پھیلائے ہیں، ان کے فیصلے کا عمل کیا ہوتا ہے، ان کا مالی بندوبست کیا ہوتا ہے۔ شفافیت اور دیانتداری کو انہوں نے کس انداز سے اپنایا ہوا ہے، وقت کے مطابق تبدیلی کیسے لائے ہیں؟ وقت اور زمانے کے مطابق ، وقت کی ضرورتوں کے مطابق انہوں نے ان اداروں کے جذبوں کو زندہ کیسے رکھا ہوا ہے، اور میں مانتا ہوں کہ ہندوستان میں ایسے ایک دو نہیں ،  ہزاروں ادارے ہیں۔ ہزاروں تحریکیں ہیں۔ ہزاروں انجمنیں ہیں ، جو اب بھی جوق در جوق لوگوں کی زندگی کو جذبہ عطا کرتے ہیں۔ خود سے نکل کر سبھی کیلئے زندگی کا وسیلہ دیتے ہیں۔ اور اس میں مذہبی مقام ، 800 سال کی وراثت، یہ اپنے آپ میں ایک قابل مثال ہے۔

اچھا ہوگا دنیا کی یونیورسٹیز  بھارت کی ایسی تحریک کا مطالعہ کریں ، دیکھیں دنیا کو حیرت ہوگی کہ ہمارے یہاں کیا بندوبست ہیں؟ کیسے نظام چلتے ہیں؟ معاشرے کے اندر روحانی بیداری کی روایت کو کیسے نبھایا جاتا ہے۔ ہمارے اندر جو صدیوں میں پلی اچھائیاں ہیں ان اچھائیوں کے تئیں فخر کرتے ہوئے پُرامن اور اچھے بننے کیلئے بڑا موقع ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ صرف عقیدہ تک محدود نہ رہتے ہوئے اس کے سائنسی طور طریقوں کی طرف بھی ملک کی نوجوان پیڑھی کو دلچسپ بنانے کی ضرورت ہے۔

اب آج مجھے یہاں خواتین کے ’’اپنی مدد آپ ‘‘ گروپ ، ان کے روپے کارڈ دینے کا موقع ملا۔ جن لوگوں نے پارلیمنٹ میں  پچھلے نومبر، دسمبر ، جنوری ، فروری کے دوران جو تقریریں کی ہیں ، ان کو اگر سنا ہوگا ، نہ سنا ہو، تو ریکارڈ پر آپ پڑھ لیجئے۔ہماری بڑی بڑی  ہستیاں اپنے آپ کو بڑا تیس مار خاں مانتی ہیں۔ دانشوری میں اپنے آپ کو بہت چوٹی کی شخصیت ماننے والے لوگ پارلیمنٹ میں یہ باتیں کہتے تھے کہ ہندوستان میں تو ناخواندگی ہے، غریبی  ہے، یہ ڈیجیٹل لین دین کیسے ہوگا؟ لوگ بنا نقدی والے  کیسے بنیں گے؟ یہ ناممکن ہے، لوگوں کے پاس موبائل فون نہیں ہے۔ نہ جانے جتنا برا کہہ سکتے ہیں، جتنا برا سوچ سکتے ہیں، کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن آج ڈاکٹر ویریندر ہیگڑے جی نے پارلیمنٹ میں اٹھی  اُن آوازوں کو جواب دے دیا  ہے۔

گاؤں میں بسنے والی میری ماں بہنیں، خواندہ ہیں یا نہیں، پڑھی لکھی ہیں یا نہیں، آج انہوں نے عزم کیا ہےاور 12 لاکھ لوگ ، کم نہیں۔ 12 لاکھ لوگوں نے عزم کیا ہے کہ وہ اپنے’اپنی مدد آپ‘ گروپ کا پورا کاروبار بغیر نقدی کے کریں گے، نقد کے بنا کریں گے، ڈیجیٹل لین دین کریں گے، روپے کارڈ سے کریں گے، بھیم ا یپ سے کریں گے۔ اگر ارادہ ہو تو رکاوٹیں بھی کبھی کبھی تیز رفتار کو پانے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور وہ آج ڈاکٹر ویریندر ہیگڑےجی نے دکھادیا ہے۔

میں آپ کو دل سے مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ نے آنے والے بھارت کے بیج بونے کی ایک عمدہ کوشش ڈیجیٹل انڈیا ، کم نقدی سماج ، اس طرف ملک کو لے جانے کیلئے، اور اس علاقے کے لوگوں کو محسوس کیا ہے، جن تک شاید سرکار یا بینکنگ نظام کو جاتے جاتے پتہ نہیں کتنی دہائیاں لگ جاتیں۔

لیکن آپ نے نیچے سے انتظام کو شروع کیا ہے اور اس کو کرکے دکھایا ہے۔ میں ان ’اپنی مدد آپ‘ گروپ کی بہنوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں، ڈاکٹر ویریندر ہیگڑے جی کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آج انہوں نے ملک کے لئے فائدے مند ایک بہت بڑی مہم کو شروع کیا ہے۔ اب وقت بدل چکا ہے، اور یہ جو کرنسی ہے، جو نقد ہے، ہر دور میں بدلتی رہی ہے۔ کبھی پتھر کے سکے ہوا کرتے تھے، کبھی چمڑے کے سکے ہوا کرتے تھے، کبھی سونے چاندی کے ہوا کرتے تھے، کبھی ہیرے جواہرات کے روپ میں ہوا کرتے تھے، کبھی کاغذ کے بھی آئے، کبھی پلاسٹک کے آئے، بدلتا گیا ہے ، وقت رہتے بدل گیا ہے اب ، اب وہ  ڈیجیٹل کرنسی کا دور شروع ہوچکا ہے، بھارت نے دیر نہیں کرنی چاہئے۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ نقد سماجی برائیوں کو کھینچ کرکے لے آتی ہے۔ خاندان میں بھی اگر بیٹا بڑا ہوتا ہے، بیٹی بڑی ہوتی ہے، ماں باپ سکھی ہوں، مطمئن ہوں، پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہو، تو بھی ایک حد تک ہی اس کو پیسے دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں ، پیسے خرچ کرنے سے وہ ڈرتے ہیں، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اگر زیادہ پیسہ اس کی جیب میں ہوگا تو بچوں کی عادت بگڑ جائے گی اور اس لئے تھوڑا تھوڑا دیتے ہیں اور پوچھتے رہتے ہیں ، بھائی کیا کیا ؟ ٹھیک خرچ کیا یا نہیں کیا؟ جو خاندان میں اولاد کی فکر کرنے والے ماں باپ ہیں، وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر جیب میں پیسے ہوتے ہیں، تو پتہ نہیں کہا ں سے کہاں راستے بھٹک جاتے ہیں۔ اور اس لئے یہ بہت بڑا کام سماج کو خود کی خود کے ساتھ جوابدہی ، یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ خود کی خود کے ساتھ جوابدہی ، یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے۔

آج جس سمت میں ڈاکٹر ہیگڑے جی لیے جارہے ہیں ، میں سمجھتا ہوں بعد کے لئے بہت بڑی شاہراہ کھول رہے ہیں۔ آج اور بھی ایک کام ہوا ہے۔ اس لوگو ، کا اجرا ہوا ہے اور وہ بھی زمین کے تئیں، یہ دھرتی ماتا کے تئیں ہمیں ہمارا قرض چکانے کا جذبہ عطا کرتا ہے۔ ہم تو یہ مانتے ہیں، یہ درخت کی ذمہ داری ہے کہ یہ ہمیں آکسیجن دیتا رہے، ہماری ذمہ داری نہیں اس درخت کو بچانا۔ ہم تو حق لے کے آئے ہیں کہ وہ وہاں کھڑا رہے اور ہم کو آکسیجن دیتا رہے، ہم تو جیسے حق لے کے آئے ہیں، یہ دھرتی ماتا ہے، اس کی ذمہ داری  ہے ہمارا پیٹ بھرتی رہے۔ جی نہیں، اگر اس دھرتی ماں کا فرض ہے تو اس کے بیٹے کے، اولاد کے ناطے ہمارا بھی فرض ہے۔ اگر درخت کا ہم کو آکسیجن دینے کا فرض ہم کو لگتا ہے تو میرا بھی فرض بنتا ہے اس کی پرورش کروں۔ اور جب یہ سودا ، یہ ذمہ داریاں عدم توازن پیدا کرتی ہیں، دینے والا تو دیتا رہے، لینے والا کچھ نہ کرے،  وہ بھوگتا رہے، اس سماج میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، انتظامات میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، فطرت میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے اور تب جاکر عالمی تابکاری کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

آج ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ پانی کا مسئلہ بنی نوع انسان کیلئے بہت بڑا چیلنج بننے والا ہے۔ اور یہ ہم نہ بھولیں اگر ہم آج تک گلاس بھی پانی پیتے ہیں یا بالٹی سے نہاتے ہیں بھی ہیں، تو وہ ہماری محنت کا نتیجہ نہیں ہے، اور نہ ہی وہ ہمارے حق کا ہے۔ ہمارے آبا واجداد نے کفایت سے کام کیا اور ہمارے لئے کچھ چھوڑ کر گئے۔ اس کے سبب وہ حاصل ہوا ہے، اور یہ ہے ہماری آنے والی پیڑھی کے حق کا۔ آج میں اپنی آئندہ نسل کا کھا رہا ہوں۔ میری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ میرے آباواجداد جس طرح میرے لیے چھوڑ کر گئے ، ویسے ہی مجھے بھی آگے آنے والی پیڑھی کے لئے چھوڑ کر جانا ہوگا۔ اس جذبے کو بیدار کرنے کی کوشش ، ماحول کی حفاظت کی ایک بہت بڑی مہم، دھرم استھل سے شروع ہورہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ پوری کائنات کی خدمت کاکام ہے۔

ہم کس طرح سے فطرت کے ساتھ جڑیں، 2022 بھارت کی آزادی کے 75 سال ہورہے ہیں۔ دھرم استھل سے اتنی بڑی مہم شروع ہوئی ہے اور ایک بات دھرم استھل سے مہم شروع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ہیگڑے جی کے آشیرواد ملے ہیں، تو میرا تو بھروسہ ہے کہ کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔

آج ہم اپنی عقل ، طاقت ، لالچ کے سبب اس دھرتی ماتا ہو جتنا چوستے ہیں ، چوستے ہی رہتے ہیں۔ ہم کبھی اس ماں کی پرواہ نہیں کرتے ہیں کہ کہیں یہ میری ماں بیمار تو نہیں ہوگئی ہے؟ پہلے ایک فصل لیتا تھا، دو لینے لگ گیا، تین لینے لگ گیا، مختلف قسم کی لینے لگ گیا، زیادہ پانے کیلئے یہ دوائی ڈالتا رہا، وہ کیمیکل ڈالتا رہا، وہ فرٹیلائزر ڈالتا رہا۔ اس کا ہوگا سو ہوگا ، مجھے فوراً فائدہ ملتا جائیگا، اسی جذبے سے ہم چلتے رہے۔ اگر یہی صورتحال چلی تو پتہ نہیں ہم کہاں جاکر رکیں گے۔

کیا دھرم استھل سے ڈاکٹر ہیگڑے جی کی قیادت میں ہم آج تک عزم کرسکتے ہیں کیا؟ ہمارے اس پورے علاقے میں سب کسان یہ عزم کرسکتے ہیں کیا  کہ 2022 جب آزادی کے 75 سال ہوں گے تب ، ہم جو یوریا کا استعمال کرتے ہیں، ا س یوریا کو 50 فیصد پر لے آئیں گے۔ آج جتنا کرتے ہیں، اس کو آدھا کردیں گے۔ آپ دیکھئے دھرتی ماں کی حفاظت کیلئے کتنی بڑی خدمت ہوگی۔کسان کا پیسہ تو بچے گا، اس کا خرچ بچے گا، پیداوار میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور اس کے باوجود اس کا کھیت  اور کھلیہان ، وہ دھرتی ماتا ہمیں آشیرواد دیگی، وہ زیادہ اضافی منافع کا سبب بنے گی۔

اسی طرح سے پانی ، ہم جانتے ہیں کرناٹک کے اندر قحط کے سبب کیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے؟ بنا پانی کیسی مشکل آتی ہے اور میں نے تو دیکھا ہے یہ ہمارے یدی یورپا جی ، سپاری کے دام گرجائیں تو میرا گلا آکر کے پکڑتے تھے۔ گجرات کا میں وزیراعلیٰ تھا تو بھی ۔ وہ کہتے تھے مودی جی آپ خرید لیں لیکن ہمارے منگلور علاقے کو بچالیں۔ دوڑ کرکے آتے تھے۔

پانی ، کیا ہمارے کسان مائیکرو سینچائی کی طرف 2022 تک ، ٹپک سینچائی، فی بوند ، مزید فصل،  اس عزم کو لیکر کے آگے بڑھ سکتے ہیں کیا؟  بوند بوند پانی ایک موتی کی طرح اس کا فائدہ کیسے ہو؟  موتی سے قیمت کا بوند بوند پانی کی قیمت سمجھ کر کیسے کام کریں، اگر ان چیزوں کو لیکر ہم چلتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم ایک بہت بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں۔

جب میں ڈیجیٹل انڈیا کی بات کررہا تھا، بھارت سرکار نے ابھی ایک نیا قدم اٹھایا ہے، جی ای ایم۔ یہ ایک ایسا بندوبست ہے جو خاص کر ہمارے جو خواتین کے ’اپنی مدد آپ‘ گروپ ہیں، ان کو میں دعوت دیتا ہوں۔ جو بھی کوئی پیداوار کرتا ہے، جو اپنی پیداوار بیچنا چاہتا ہے، وہ بھارت سرکار کا یہ جو جی ای ایم پورٹل ہے ، اس پر اپنی رجسٹری کروا سکتا ہے آن لائن۔ اور بھارت سرکار کو جن چیزوں کی ضرورت ہے ، ریاستی سرکاروں کو جن چیزوں کی ضرورت ہے، وہ بھی اس پر جاتے ہیں، کہتے ہیں بھئی ہمیں اتنی کرسی چاہئے، اتنی میز چاہئے،  اتنے گلاس چاہئیں، اتنے فرز چاہئیں، جو بھی ان کی ضرورت ہے وہ اس پر ڈالتے ہیں اور جو جی ای ایم میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں ، گاؤں کے لوگ بھی وہ آتے ہیں بھئی میرا مال ہے، میرے پاس پانچ چیزیں ہیں، میں بیچنا چاہتا ہوں، سارا شفاف بندوبست ہے۔

پچھلے سال میں نے 9 اگست کو اس کو شرو ع کیا تھا، نئی چیز تھی۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے قریب 40 ہزار  پیداوار کرنے والے لوگ اس جی ای ایم کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ ملک کی پندرہ ریاستیں ، انہوں نے ایم او یو کرلیا  اور ہزاروں کروڑ روپئے کا کاروبار ، سرکار جو خریدنا ہوتا ہے، وہ جی ای ایم کے وسیلے سے آتا ہے۔ ٹینڈر نہیں ہوتا ہے، پردے کے پیچھے کچھ نہیں ہوتا ہے، ساری چیزیں کمپیوٹر پر سامنے ہوتی ہیں۔ جو چیز پہلے 100 روپئے میں ملتی تھی ، آج یہ صورتحال آگئی ہے کہ وہ سرکار کو 50 اور 60 روپئے ملیں ملنا شروع ہوگئی ہے۔

 انتخاب کیلئے  اسکوپ ملتا ہے اور پہلے بڑے بڑے لوگ سپلائی کرتے تھے، آج گاؤں کا ایک غریب شخص بھی کوئی چیز  بناتا ہے، وہ بھی سرکار کو سپلائی کرسکتا ہے، یہ ہمارے جو خواتین کے ’اپنی مدد آپ‘ گروپ ہیں،وہ اپنی مصنوعات اس میں بیچ سکتے ہیں، میں ان کو دعوت دیتا ہوں۔

اور میں کرناٹک سرکارسے بھی اصرار کرتا ہوں۔ ہندوستان کی پندرہ ریاستیں انہوں نے بھارت کے سرکار کے ساتھ جی ای ایم کے ایم او یو کیا ہے۔ کرناٹک سرکار بھی دیر نہ کرے، آگے آئے۔ اس سے کرناٹک کے اندر جو عام آدمی پیداوار کرتا ہے، اس کو ایک بہت بڑا بازار مل جائے گا۔ سرکار ایک بہت بڑی خریدار ہوتی ہے۔ جس کا فائدہ یہاں کے غریب سے غریب شخص بھی جو چیز بناتا ہے، اس کو ایک اچھی یقینی مارکٹ مل جائے گی اور اس کو گارنٹی رقم بھی ملے گی۔

میں چاہتا ہوں کہ کرناک سرکار اس دعوت کو تسلیم کرے گی اور کرناٹک کے جو عام لوگ ہیں ان کے فائدے میں جو چیز جاتی ہے، وہ ان کو فائدہ ملے گا۔

ہم نے آدھار ، آج دیکھا آپ نے، روپے کارڈ کو آدھار سے جوڑا ہے،موبائل فون  سے جوڑا ہے، بینک کی خدمات مل رہی ہے، ہمارے ملک میں غریبوں کو فائدہ ملے گا، ایسا کوئی منصوبہ چلتا ہے۔ لیکن پتہ ہی نہیں چلتا کہ جس کے لئے منصوبہ ہے اسی کو جاتا ہےیا کسی اور جگہ پر جاتا ہے؟ بیچ میں کہیں لیکیج تو نہیں ہورہی ہے؟

ہمارے ملک کے وزیراعظم نے کبھی کہا تھا کہ دلّی سے ایک روپیہ نکلتا ہے، گاؤں جاتے جاتے پندرہ پیسہ ہوجاتا ہے۔ یہ روپیوں کو گھسنے والا پنجا کون ہوتا ؟  یہ کونسا پنجا ہے جو روپئے کو گھستا گھستا پندرہ پیسے بنادیتا ہے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ دلّی سے ایک روپیہ نکلے  گا تو غریب کے ہاتھ میں 100 کے 100 پیسے پہنچیں گے، 99 نہیں۔ اور اسی غریب کےہاتھ میں پہنچیں گے، جس کاا س پر حق ہے۔ ہم نے براہِ راست فائدے کی منتقلی کا بندوبست کیا ، رجسٹریشن کیا اور میں اس مقدس جگہ پر بیٹھا ہوں ، ڈاکٹر ویریندر ہیگڑے جی کے بغل میں بیٹھاہوں، یہاں کے تقدس کا مجھے پورا اندازہ ہے، یہاں کی ایمانداری کا مجھے پورا ا ندازہ ہے۔ اور اس مقدس مقام سے میں کہہ رہا ہوں، ہماری اس ایک کوشش کے سبب اب تک ، ابھی تو سب ریاستیں ہمارے ساتھ جڑی رہی ہیں، کچھ ریاستوں نے قدم اٹھایا ہے، بھارت سرکار نے کئی اقدامات کیے ہیں، اب تک 57 ہزا رکروڑ روپئے جو کسی غیرقانونی لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا تھا ، چوری ہوجاتا تھا، وہ سارا بند ہوگیا اور صحیح لوگوں کے ہاتھ میں صحیح پیسہ جارہا ہے۔ اب مجھے بتائیے جن کی جیب میں ہر سال پچاس ساٹھ ہزار کروڑ جاتا تھا، ان کی جیب میں جانا بند ہوگیا ، وہ مودی کو پسند کریں گے کیا؟ وہ مودی پر غصہ کریں گے کہ نہیں کریں گے؟ مودی کے بال نوچ لیں گے کہ نہیں نوچ لیں گے؟۔

آپ کو تعجب ہے دوستو، لیکن میں ایک ایسے مقدس مقام پر کھڑا ہوکر کہہ رہا ہوں، ہم رہیں یا نہ رہیں ، اس ملک کو برباد نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نے اپنے لیے جینا ہی نہیں سیکھا ہے، ہم بچپن سے آوروں کے لئے ہی جینا سیکھ کر آئے ہیں۔

اور اس لئے بھائیو بہنو، میرے لیے خوش قسمتی ہے، ایک خیال میرے دل میں آتا ہے، وہ بھی میں ڈاکٹر ویریندر جی کے سامنے رکھنے کی ہمت کرتا ہوں۔ میں اس کی سائنسی چیزوں کو زیادہ جانتا نہیں ہوں، ایک عام آدمی کے ناطے بتاتا ہوں۔ اور میں مانتا ہوں، آپ کر دکھائیں گے۔ ہمارے جو سمندری کنارے ہیں، منگلور کے بغل میں سمندری کنارے ہیں۔ سمندری کنارے پر ہمارے جو ماہی گیر بھائی بہن کام کرتے ہیں، وہ سال میں کچھ مہینے ہی ان کو کام ملتا  ہے، بعد میں بارش آجاتی ہے، تو چھٹی کا وقت ہوجاتا ہے۔ ایک اور کام ہے، جو ہم سمندری کنارے پر کرسکتے ہیں، اچھی طرح کرسکتے ہیں، اور وہ ہے سی ویڈ کی کھیتی ۔ لکڑی کا ایک بنانا پڑتا ہے کراپا، اس میں کچھ ویڈ ڈال کر سمندر کے کنارے پر چھوڑ دینا ہوتا ہے  پانی میں۔ وہ تیرتا رہتا ہے اور 75 دن میں فصل ہوجاتی ہے۔ دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتی ہے، بہت ہی خوبصورت ہوتی ہے اور بھرپور پانی سے بھری ہوتی ہے۔

آج دواساز دنیا کیلئے یہ بہت بڑا طاقتور پودا مانا جاتا ہے۔ لیکن میں ایک اور کام کیلئے مشورہ دیتا ہوں۔ ہمارے یہاں کے سمندری کنارے پر خواتین کے ’اپنی مدد آپ‘ گروپ کے ذریعے اس طرح کی سی ویڈ  کی کھیتی شروع کی جائے۔ 45 دن میں فصل آنا شروع ہوگی، 12 مہینے فصل ملتی رہے گی، اور وہ جو  پودے ہیں، جب کسان زمین کو جوتے ، اس کے ساتھ زمین میں ملا دیا جائے ، اس کے اندربھرپور پانی ہوتا ہے اور اس میں بہت غذائیت ہوتی ہے۔ ایک بار ہم اس دھرم استھل کے اگل بغل کے گاؤں میں تجربہ کرکے دیکھیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں کی زمین کو سدھارنے کیلئے یہ سی ویڈ کے پودے بہت بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ بہت مفت میں تیار ہوجاتے ہیں۔ اس سے ہمارے ماہی گیر بھائیوں کو بھی آمدنی ہوجائے گی۔ اور اس میں جو پانی کا عنصر ہے وہ زمین کو پانی دار  بناتے ہیں۔ بڑا طاقتور بناتے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ دھرم استھل سے یہ تجربہ ہو۔ اگر یہاں پر کچھ تجربے ہوں  تو آپ کے سائنسداں ہیں، آپ کے تعلیم کے لوگ ہیں، اس کا جو مطالعہ کریں گے ، مجھے ضرور رپورٹ بھیجیے۔ سرکار کو میں نے یہ کام کبھی کہا نہیں ہے، میں پہلی بار یہاں کہہ رہا ہوں۔ کیوں کہ یہ جگہ ایسی ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ تجربہ کریں گے اور سرکار کے اصولوں اور ضابطوں کی پابندی آجاتی ہے۔ آپ کھلے دل سے کر سکتے ہیں۔ اور آپ دیکھئے وہ زمین اتنی بدل جائے گی ، پیداوار اتنی بڑھ جائے گی، کبھی سوکھے کی صورتحال میں بھی ہمارا کسان پریشان نہیں ہوگا۔ تو دھرتی ماتا کی حفاظت کے بہت سے ہمارے عزائم ہیں، ان سب کو لیکر چلیں گے۔

میں پھر ایک بار آج اس مقام پر آیا، ڈاکٹر ویریندر جی کے مجھے آشیرواد ملے۔ منجوناتھیشور کے آشیرواد ملے، ایک نئی اُمنگ ملی، نیا جذبہ ملا۔ اگر اس علاقے کی عام پڑھی لکھی مائیں ، بہنیں، 12 لاکھ بہنیں ، اگر نقدی کے بغیر لین دینے کیلئے آگے آتی ہیں، تو میں اس پورے ضلع سے اپیل کروں گا، ہمیں ان بہنوں سے پیچھے نہیں رہناچاہئے، ان خواتین کے ’اپنی مدد آپ ‘ گروپ سے۔ ہم بھی بھیم ایپ کا استعمال کرنا سیکھیں۔ ہم بھی بغیر  نقدی والے لین دین کو سیکھیں۔ آپ دیکھئے ملک میں ایمانداری کا دور شروع ہوا ہے۔ ایمانداری کو جتنی ہم طاقت دیں گے۔ بے ایمانی کی تعداد کم ہونا فطری بات ہوجائے گی۔ کوئی وقت تھا جب بے ایمانی کو طاقت ملی تھی، اب وقت ہے ایمانداری کو طاقت ملے گی اور یہی طاقت ہے اگر ہم  دیا  جلائیں گے تو اندھیرے کا جانا طے ہوتا ہے ۔ اگر ہم ایمانداری کو طاقت دیں گے تو بے ایمانی کا ہٹنا طے ہوتا ہے۔ اسی ایک عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ میری آپ سب کو بہت بہت مبارکباد  ہے۔ ڈاکٹر ویریندر ہیگڑے جی کو میری بہت نیک خواہشات ہیں اور ان کو میں سلام کرتا ہوں، پچاس برس کے طویل عرصے اور آنے والے پچاس سال تک ، وہ ملک کو ، اس میدان کی اتنی ہی خدمت کرتے رہیں۔

بہت بہت شکریہ۔

 

U-5403