PMINDIA

مزید دیکھیں

The content is auto sourced from PIB

29۔10۔2017 کو آکاشوانی کے من کی بات پروگرام میں وزیراعظم کے خطاب کا اصل متن

 نئی دہلی۔29  اکتوبر؛ میرے پیارے ہم وطنوں۔ نمسکار۔ دیوالی کے چھ دن بعد منائے جانے والا مہاپرو چھٹ، ہمارے ملک میں سب سے زیادہ عقیدے  کے ساتھ منائے جانے والے تہواروں میں سے ایک ہے۔ جس میں کھانے پینے سے لے کر ملبوسات تک ، ہر بات میں روایت  سے منسلک ضوابط کو اپنایا جاتا ہے۔ چھٹ پوجا ایک فطرت سے منسلک ہے۔ سورج اور پانی، مہاپرو چھٹ کی عبادت کے مرکز میں ہیں، تو بانس اور مٹی سے بنے برتن اور زمین کے اندر اگنے والی اشیاء، ان کی پوجا کرنے کے طریقے سے منسلک دیگر اشیاء ہیں۔عقیدے کے اس مہاپرو میں اگتے ہوئے سورج کی اپاسنا اور ڈوبتے ہوئے سورج کی پوجا کا پیغام بہت اہم ہے۔ دنیا تو اٹھنے والوں کو پوجنے میں لگی رہتی ہے لیکن چھٹ پوجا ہمیں، ان کی عبادت کرنے کا بھی علم دیتی ہے جن کا ڈوبنا بھی یقینی ہے۔ ہماری زندگی میں صفائی کی اہمیت کو ظاہر کرنا بھی اس تہوار میں سمائی ہوئی ہے۔ چھٹ سے پہلے پورے گھر کی صفائی، ساتھ ہی ندی، تالاب، پوکھر کے کناروں، پوجا کرنے کی جگہ یعنی گھاٹوں کی بھی صفائی ، پورے جوش سے سب لوگ مل کر کرتے ہیں۔ سورج کی عبادت یا چھٹ پوجا، ماحولیاتی تحفظ، بیماری سے پاک و نظم و ضبط کا تہوار ہے۔

عام طور پر لوگ کچھ مانگ کر لینے کو ٹھیک نہیں سمجھتے ہیں لیکن چھٹ پوجا میں صبح کے بعد پرساد مانگ کر کھانے کا ایک خصوصی رواج رہا ہے۔ پرساد مانگنے کی اس روایت کے پیچھے یہ بھی ماننا ہے کہ اس سے گھمنڈ ختم ہوتا ہے۔ ایک ایسی سوچ جو لوگوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ہندوستان کی اس اہم روایت کے تئیں ہر کسی کو فخر ہونا بہت فطری بات ہے۔

میرے پیارے ہم وطنوں، ’من کی بات‘ کی تعریف بھی ہوتی رہی ہے، تنقید بھی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن جب کبھی میں ’من کی بات‘ کے اثرات کی جانب دیکھتا ہوں تو میرا یقین پکا ہو جاتا ہے کہ اس ملک میں عام لوگ کے ساتھ ’من کی بات‘ سو فیصد نہ ٹوٹنے والے رشتے سے بندھ چکی ہے۔ کھادی اور ہینڈلوم کی ہی مثال لے لیجیے۔ گاندھی جی کے یوم پیدائش پر میں ہمیشہ ہینڈ لوم کے لیے، کھادی کے لیے وکالت کرتا رہتا ہوں اور اس کا نتیجہ کیا ہے۔ آپ کو بھی یہ جان کر خوشی ہوگی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس مہینے 17 اکتوبر کو ’دھن تیرس‘ کے دن دلی کے کھادی گرام ادیوگ بھون اسٹور میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ روپیے کی ریکارڈ فروخت ہوئی ہے۔ کھادی اور ہینڈ لوم کا، ایک ہی اسٹور پر اتنا بڑا فروخت ہونا، یہ سن کر کے آپ کو بھی خوشی ہوئی ہوگی، سکون ملا ہوگا۔ دیوالی کے دوران کھادی گفٹ کوپن کی فرخت میں تقریباً 680 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ کھادی اور ہینڈی کرافٹ کی کل فروخت میں بھی گذشتہ سال سے ، اس سال تقریباً 90 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آج نوجوان، بڑے بوڑھے، خواتین، ہر عمر کے لوگ کھادی اور ہینڈ لوم کو پسند کر رہے ہیں۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ اس سے کتنے بُنکر کنبوں کو ، غریب خاندان کو، ہتھ کرگھا پر کام کرنے والے کنبوں کو، کتنا فائدہ ملا ہوگا۔ پہلے کھادی، ’کھادی فار نیشن‘ تھا اور ہم نے ’کھادی فار فیشن‘ کی بات کہی تھی، لیکن پچھلے کچھ وقت سے میں تجربے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کھادی فور نیشن اور کھادی فور فیشن کے بعد اب ، کھادی فور ٹرانس فارمیشن کی جگہ لے رہا ہے۔ کھادی غریب سے غریب لوگوں کی زندگی میں، ہینڈ لوم غریب سے غریب فرد کی زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے انہیں بااختیار بنانے کا، طاقتور اشیا بن کر کے ابھر رہا ہے۔ گرام ادیوگ کے لیے یہ بہت بڑا رول ادا کر رہا ہے۔

جناب راجن بھٹ نے نریندر مودی ایپ پر لکھا ہے کہ وہ حفاظتی دستوں کے ساتھ میری دیوالی کے تجربے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے حفاظتی دستے کیسی دیوالی مناتے ہیں۔ جناب تیجس گائکواڈ نے بھی نریندر مودی ایپ پر لکھا ہے – ہمارے گھر کی بھی مٹھائی حفاظتی دستوں تک پہنچانے کی سہولت ہو سکتی ہے کیا؟ ہمیں بھی ہمارے بہادر حفاظتی دستوں کی یاد آتی ہے۔ ہمیں بھی لگتا ہے کہ ہمارے گھر کی مٹھائی ملک کے جوانوں تک پہنچنی چاہیے۔ دیوالی  آپ سب لوگوں کے لیے خوب ہنسی خوشی سے منائی ہوگی۔ میرے لیے دیوالی اس بار بھی ایک اہم تجربہ لے کر کے آئی۔ مجھے ایک بار پھر سرحد پر تعینات ہمارے جانباز حفاظتی دستوں کے ساتھ دیوالی منانے کا موقع ملا۔ اس بار جموں و کشمیر کے گریز سیکٹر میں حفاظتی دستوں کے ساتھ دیوالی منانا میرے لیے ایک یاد گار رہا۔ سرحد پر جن مشکلات اور مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے ہمارے حفاظتی دستے ملک کی حفاظت کرتے ہیں اس جدوجہد ، اپنے آپ کو وقف کرنےاور تیاگ کے لیے میں سبھی ہم وطنوں کی طرف سے ہمارے حفاظتی دستوں کے  جوانوں کی عزت کرتا ہوں۔ جہاں ہمیں موقع ملے، جب ہمیں موقع ملے – ہمارے جوانوں کے تجربہ کو جاننا چاہئے، ان کی بہادری کے قصے سننے چاہئیں۔ ہم میں سے کئی لوگوں کو معلوم نہیں ہوگا کہ ہمارے حفاظتی دستے کی زندگی، نہ صرف ہماری سرحد  پر، بلکہ دنیا بھر میں امن قائم کرنے میں اہم رول نبھا رہی ہیں۔ یو این پیس کیپر بن کر کے، وہ دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ابھی گذشتہ دنوں 24 اکتوبر کو ملک بھر میں یو این ڈے، اقوام متحدہ دن منایا گیا۔ دنیا میں امن قائم کرنے کے یو این کی کوششوں، اس کے مثبت رول کو ہر کوئی یاد کرتا ہے۔ اور ہم تو ’وسودھیو کوٹمبکم‘ کو ماننے والے ہیں یعنی پوری دنیا ہمارا کنبہ ہے۔ اور اسی یقین کی وجہ سے ہندوستان شروع سے ہی اقوام متحدہ کے مختلف اہم پہل میں مثبت حصہ داری نبھاتا  آ رہا ہے۔ آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے کہ ہندوستان کے آئین دیباچہ اور یو این چارٹر کے آئین ، دونوں ’وی دا پیپل‘ انہیں جملوں کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ ہندوستان نے خواتین  کی عزت کرنے پر ہمیسہ زور دیا ہے اور یو این ڈیکلریشن آف ہیومین رائٹس اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس کے ابتدائی جملے میں جوتجاویز پیش کی گئی تھیں وہ تھیں ’آل مین آر بورن فری اینڈ ایکول‘ جسے ہندوستان کی نمائندہ ہنسا مہتا کی کوششوں سے تبدیل کر لیا گیا اور بعد میں منظور ہوا ’آل ہیومین بی انگس آر بورن، فری اینڈ اکول‘ ۔ ویسے تو یہ بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک صحیح سوچ اس میں دکھائی دیتی ہے۔ یو این امبریلا کے تحت ہندوستان نے جو ایک سب سے اہم تعاون دیا ہے وہ ہے یو این پیس کیپنگ آپریشنز میں ہندوستان کا رول۔ اقوام متحدہ کے امن حفاظت مشن میں، ہندوستان ہمیشہ بہت مثبت رول ادا کرتا رہا ہے۔ آپ میں سے بہت سے لوگ ہیں جن کو شاید یہ جانکاری پہلی بار مل رہی ہوگی۔ 18 ہزار سے زائد حفاظتی دستوں نے یو این پیس کیپنگ آپریشنز میں اپنی خدمات دی ہیں۔ موجودہ وقت میں ہندوستان کے تقریباً سات ہزار فوج یو این پیس کیپنگ پہل سے منسلک ہیں اور یہ پوری دنیا میں تیسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ اگست 2017 تک ہندوستانی جوانوں نے یو این کے دنیا بھر کے 71 پیس کیپنگ آپریشنس میں سے ، تقریباً نصف آپریشنز میں اپنی خدمات دی ہیں۔ یہ آپریشنز، کوریا، کمبوڈیا، لاؤس، ویتنام، کانگو، قبرص، لائبیریا، لیبنان ، سوڈان، دنیا کےکرۂ ارض میں، کئی ممالک میں چلے ہیں۔ کانگو اور مشرقی سوڈان میں ہندوستانی فوج کے اسپتال میں 20 ہزار سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے اور کافی تعداد میں لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ ہندوستان کے حفاظتی دستوں نے، مختلف  ممالک میں نہ صرف وہاں کے لوگوں کی حفاظت کی ہے بلکہ پیپل رینڈلی آپریشنز کر ان کا دل بھی جیت لیا ہے۔ ہندوستانی خواتین نے امن قائم کرنے کے کاموں میں اہم رول ادا کیا ہے۔ بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہوں گے کہ ہندوستان پہلا ملک تھا جس نے لائبیریا میں اقوام متحدہ کے امن  مشن میں خواتین پولیس یونٹ بھیجی تھی۔ اور دیکھیے ،ہندوستان کا یہ قدم دنیا بھر کے ممالک کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن گیا ۔ اور اس کے بعد، سبھی ممالک نے اپنی اپنی خواتین پولیس یونٹس کو بھیجنا شروع کیا۔ آپ کو سن کر فخر محسوس ہوگا کہ ہندوستان کا رول صرف پیس کیپنگ آپریشن تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہندوستان تقریباً 85 ممالک کے، 85 مملک کے پیس کیپرس کو تربیت دینے کا بھی کام کر رہا ہے۔ مہاتما گاندھی اور گوتم بدھ کی اس سرزمین سے ہمارے بہادر امن محافظوں نے دنیا بھر میں امن اور استحکام کا پیغام پہنچایا ہے۔ پیس کیپنگ آپریشنز آسان کام نہیں ہے۔ ہمارے حفاظتی دستے کے جوانوں کو خطرناک علاقوں میں جا کر کام کرنا پڑتا ہے۔ الگ الگ لوگوں کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ مختلف حالات اور مختلف کلچر کو جاننا سمجھنا پڑتا ہے۔ انہیں وہاں کی مقامی ضرورتوں، ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ آج جب ہمارے بہادر یو این پیس کیپرس کو یاد کرتے ہیں تو کیپٹن گربچن سنگھ سلاریا کو کون بھول سکتا ہے جنہوں نے افریقہ کے کانگو میں امن کے لیے لڑتے ، اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا تھا۔ انہیں یاد کر، ہر شہری کا سینا فخر سے پھول جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے یو این پیس کیپر تھے، بہادر انسان تھے، جنہیں پرم ویر چکر سے نوازا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل پریم چند جی ان انڈین پیس کیپر میں سے ایک ہیں جنہوں نے قبرص میں خاص پہچان بنائی۔ 1989 میں، 72 سال کی عمر میں انہیں نامیبیا میں آپریشن کے لیے فورس کمانڈر بنایا گیا اور انہوں نے اس ملک کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی خدمات انجام دیں۔ جنرل تھیمیا ، جو ہندوستانی فوج کے بھی سربراہ رہے ، نے قبرص میں یو این پیس کیپنگ فورس کی قیادت کی اور امن کے کاموں کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا۔ ہندوستان، امن کا پیغام دینے والے کے طور پر ہمیشہ سے ملک میں امن، اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا رہا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ ہر کوئی امن، یکجہتی کے ساتھ زندگی بسر کرے اور بہتر اور پرامن کل کی تعمیر کی سمت میں آگے بڑھے۔

میرے پیارے ہم وطنوں ، ہماری پاک سرزمین ایسے عظیم لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے بے لوث  انسان کی خدمت کی ہے۔ سسٹر نویدیتا، جنہیں ہم بھگینی نیویدیتا بھی کہتے ہیں، وہ بھی ان غیرمعمولی لوگوں میں سے ایک تھیں۔ وہ آئرلینڈ میں مارگریٹ ایلیزابیتھ نوبیل کے طور پر پیدا ہوئی تھیں لیکن سوامی وویکانند نے انہیں ’نویدیتا‘ نام دیا۔ اور نویدیتا کا مطلب ہے وہ جو پوری طور پر وقف ہو۔ بعد میں انہوں نے اپنے نام کے مطابق ہی اپنے آپ کو ثابت کر کے دکھایا۔ کل سسٹر نویدیتا کا 150داں یوم پیدائش تھا۔ وہ سوامی وویکانند سے اتنا متاثر ہوئی، کہ اپنی خوشحال زندگی کو چھوڑ کر اور اپنی زندگی کو غریبوں کی خدمت میں وقف کر دیا۔ سسٹر نویدیتا برٹش دور حکومت میں ہونے والے مظالم سے بہت دکھی تھیں۔ انگریزوں نے، نہ صرف ہمارے ملک کو غلام بنایا تھا بلکہ انہوں نے ہمیں ذہنی طور سے بھی غلام بنانے کی کوشش کی تھی۔ ہماری ثقافت کو نیچا دکھا کر ہم میں  احساس کمتری پیدا کرنا، یہ کام مسلسل چلتا رہتا تھا۔ بھگنی نویدیتا جی نے ہندوستانی ثقافت  کو پھر سے قائم کیا۔ قومی شعور کو پھر سے جگا کر لوگوں کو  متحد کرنے کا کام کیا۔ انہوں نے دنیا بھر کے الگ الگ ممالک میں جاکر سناتن دھرم اور درشن کے بارے میں کیے جا رہے غلط  پیغام کے خلاف آواز اٹھائی۔ مشہورقوم پرست اور تمل شاعر سبھرمنیم بھارتی اپنی انقلابی کویتا ’پدومئی پین‘ نیو وومین اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مشہور رہے ہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ محرک بھگنی نویدیتا ہی تھیں۔ بھگینی نویدیتا جی نے عظیم سائنٹسٹ جگدیش چندر بسو کی بھی مدد کی۔ انہوں نے اپنے مضمون اور کانفرنسوں کے ذریعے سے بسو کے تحقیق کی اشاعت اور فروغ میں تعاون دیا۔ ہندوستان کی یہی ایک خاص خوبصورتی ہے کہ ہماری ثقافت میں روحانیت اور سائنس، ایک دوسرے کے مکمل ہیں۔ سسٹر نویدیتا اور سائنٹسٹ جگدیش چند بسو اس کی اہم مثال ہیں۔ 1899 میں، کلکتہ میں خطرناک پلیگ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگوں کی جانیں چلی گئی۔ سسٹر نویدیتا نے اپنی صحت کا خیال کیے بغیر ، نالیوں اور سڑکوں کی صفائی کا کام شروع کر دیا۔ وہ ایک ایسی خواتین تھیں جو آرام دہ زندگی گزار سکتی تھیں لیکن وہ غریبوں کی خدمت میں لگی رہیں۔ ان کے اسی تعاون سے فروغ پاکر لوگوں نے خدمت کے کاموں میں ان کا ہاتھ بنٹایا۔ انہوں نے اپنے کاموں سے لوگوں کو صفائی اور خدمت کی اہمیت کا سبق سکھایا۔ اور ان کی قبر پر لکھا ہے ’ہیئر ری پوزیز سسٹر نویدیتا ہو گیو ہر آل ٹو انڈیا‘ – یہاں سسٹر نویدیتا آرام کر رہی ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ ہندوستان کو دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اس عظیم شخصیت کے لیے آج اس سے بہتر خراج عقیدت اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ سبھی شہری ان کی زندگی سے تعلیم حاصل کر خود اس خدمت کی راہ پر چلنے کی کوشش کریں۔

فون کال : عزت مآب وزیراعظم  جی، میرا نام ڈاکٹر پرتھ شاہ ہے۔۔۔ 14 نمبر کو ہم بال دن کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو جی کا یوم پیدائش ہے۔۔۔ اسی دن کو عالمی ذیابطیس بھی مانا جاتا ہے۔۔۔ ذیابطیس صرف بڑے کا مرض نہیں ہے، وہ کافی سارے بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔۔۔ تو اس چیلنج کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟

آپ کے فون کال کے لیے شکریہ۔ سب سے پہلے تو ہمارے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو جی کے یوم پیدائش پر منائے جانے والے چلڈرنس ڈے ، بال دوس کی سبھی بچوں کو بہت بہت مبارکباد۔ بچے نئے ہندوستان کی تعمیر کے سب سے اہم ہیرو ہیں، نائک ہیں۔ آپ کی فکر صحیح ہے کہ پہلے جو بیماریاں بڑی عمر میں آتی تھیں، زندگی کے آخری عمر کے آس پاس آتی تھیں – وہ آج کل بچوں میں بھی نظر آنے لگی ہیں۔ آج بڑا تعجب ہوتا ہے جب سنتے ہیں کہ بچے بھی ذیابطیس میں  مبتلا ہیں۔ پہلے کے زمانے میں ایسے مرض کو راج جوگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ راج روگ کا مطلب ایسی بیماریاں جو صرف امیر لوگوں کو ، عیش و آرام کی زندگی جینے والوں کو ہی ہوا کرتی تھی۔ نوجوان لوگوں میں ایسی بیماریاں بہت کم ہوتی تھیں۔ لیکن ہماری طرز زندگی بدل گئی ہے۔ آج ان بیماریوں کو لائف اسٹائل ڈس آرڈر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نوجوان عمر میں اس طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کی اہم وجہ ہے – ہماری طرز زندگی میں فزیکل ایکٹی ویٹی کی کمی اور ہمارے کھانے پینے کے طریقوں میں بدلاؤ۔ سماج اور کنبوں کو اس چیز کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔ جب وہ اس پر سوچیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ کچھ بھی ایکسٹرا آرڈینری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس ضرورت ہے ، چھوٹی چھوٹی چیزوں کو صحیح طریقے سے ، مسلسل طور پر کرتے ہوئے انہیں اپنی عادت میں بدلنے کی، اسے اپنا ایک زندگی کی عادت بنانے کی۔ میں تو چاہوں گا کہ سبھی کنبے بیداری کے ساتھ یہ کوشش کریں کہ بچے ، کھلے میدان میں کھیلنے کی عادت بنائیں۔ ممکن ہو تو ہم کنبوں کے بڑے لوگ بھی ان بچوں کے ساتھ ذرا کھلے میں جاکر کر کے کھیلیں۔ بچوں کو لفٹ میں اوپر جانے آنے کی بجائے سیڑھیاں چڑھنے کی عادت لگائیں۔ رات کے کھانے کے بعد پورا کنبہ بچوں کو لے کر کچھ چہل قدمی کرنے کی کوشش کریں۔ یوگا فار ینگ انڈیا ۔ یوگ ، خاص طور سے ہمارے نوجوان دوستوں کو ایک ہیلتھی لائف اسٹائل بنائے رکھنے اور لائف اسٹائل ڈس آرڈر سے بچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اسکول سے پہلے 30 منٹ کا یوگ، دیکھیے کتنا فائدہ ہوگا۔ گھر میں بھی کر سکتے ہیں اور یوگ کی خاصیت بھی تو یہی ہے – وہ آسان ہے، سب کے لیے ہے اور میں آسان ہے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کسی بھی عمر کا آدمی آسانی سے کر سکتا ہے۔ آسان اس لیے ہے کہ آسانی سے سیکھا جا سکتا ہے اور سرو سولبھ اس لیے ہے کہ کہیں پر بھی کیا جا سکتا ہے – خاص اوزار یا میدان کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ڈائبٹیز کنٹرول کرنے میں یوگ کتنا اثردار ہے، اس پر کئی اسٹڈیز چل رہی ہے۔ ایمس میں بھی اس پر اسٹڈی کی جا رہی ہے اور ابھی تک جو نتائج آئے ہیں، وہ کافی حواصلہ افز ہیں۔ آیوروید اور یوگ کو ہم صرف طب معالج کے طور پر نہ دیکھیں، انہیں ہم اپنے زندگی کا حصہ بنائیں۔

میرے پیارے ہم وطنوں، خاص کر کے میرے نوجوان ساتھیوں، کھیل کے شعبے میں پچھلے دنوں اچھی خبریں آئی ہیں۔ الگ الگ کھیل میں ہمارے کھلاڑیوں نے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ہاکی میں ہندوستان نے شاندار کھیل دکھا کے ایشیا کپ ہاکی کا خطاب جیتا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں نے بہترین مظاہرہ کیا اور اسی کے باعث ہندوستان دس سال بعد ایشیا کپ چمپئن بنا ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان 2003 اور 2007 میں ایشیا کپ چمپئن بنا تھا۔ پوری ٹیم اور سپورٹ اسٹاف کو میری طرف سے ، شہریوں کی جانب سے بہت بہت مبارکباد۔

ہاکی کے بعد بیڈمنٹن میں بھی ہندوستان کے لیے اچھی خبر آئی۔ بیڈمنٹن اسٹار کیدامبی سری کانت نے بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ڈینمارک اوپن خطاب جیت کر ہر ہندوستانی کو فخر کا احساس دلایا ۔ اندونیشیا اوپن اور آسٹریلیا اوپن کے بعد یہ ان کا تیسرا سپر سیریز پریمیئر خطاب ہے۔ میں، ہمارے نوجوان ساتھی کو ان کی اس کامیابی کےلیے اور ہندوستان کو فخر دلانے کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

دوستوں، اسی مہینے فیفا انڈر 17 ورلڈ کپ  منعقد ہوا۔ دنیا بھر کی ٹیمیں ہندوستان آئیں اور سبھی نے فٹبال کے میدان پر اپنی مہارت دکھائی۔ مجھے بھی ایک میچ دیکھنے  کا موقع ملا۔ کھلاڑیوں ، شائقین سبھی کے درمیان بہت جوش تھا۔ ورلڈ کپ کا اتنا بڑا ایوینٹ، پوری دنیا آپ کو دیکھ رہی ہو۔ اتنا بڑا میچ م، میں تو سبھی نوجوان کھلاڑیوں کی جوش، امنگ کچھ کر دکھانے کے جذبے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔ ورلڈ کپ کا انعقاد کامیابی کے ساتھ ہوا اور سبھی ٹیموں نے اپنا سب سے بہترین مظاہرہ کیا۔ حالانکہ ہندوستان خطاب نہ جیت پائی لیکن ہندوستان کے نوجوان کھلاڑیوں نے سبھی کا دل جیت لیا۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا نے کھیل کے اس مہوتسو کو انجائے کیا اور یہ پورا ٹورنامنٹ فٹبال شائقین کے لیے مزیدار اور بہترین رہا۔ فٹبال کامستقبل بہت روشن ہے، اس کے اشارے نظر آنے لگے ہیں۔ میں ایک بار پھر سے سبھی کھلاڑیوں کو، ان کے معاون کو اور سبھی کھیل شائقین کو مبارکباد دیتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنوں، صاف ہندوستان کے بارے میں مجھے جتنے لوگ لکھتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ان کے جذبات کے ساتھ اگر میں انصاف کرنے کی سوچوں تو مجھے ہر روز ’من کی بات‘ کا پروگرام کرنا پڑے گا اور ہر روز مجھے صفائی کے موضوع پر ہی ’من کی بات‘ کو وقف کرنا پرے گا۔ کوئی ننھے مننے بچوں کو کوششوں کے فوٹو بھیجتے ہیں تو کہیں نوجوان کی ٹیم ایفرٹس کا قصہ ہوتا ہے۔ کہیں سوچھتا کو لے کر کسی  اختراع کی کہانی ہوتی ہے یا پھر کسی افسران کے جنون کو لے کر آئے تبدیلی کی نیوز ہوتی ہے۔ گذشتہ دنوں مجھے بہت وسیع ایک رپورٹ حاصل ہوئی، جس میں مہاراشٹر کے چندرپور قلعے کے کایاکلپ کی کہانی ہے۔ یہ ایکولاجیکل پروٹیکشن آرگنائزیشن نام کے ایک این جی او کی پوری ٹیم نے چندر پور قلعے میں صفائی کی مہم چلایا۔ دو سو دنوں تک چلے اس مہم میں لوگوں نے بغیر رکے، بغیر تھکے، ایک ٹیم ورک کے ساتھ قلعے کی صفائی کا کام کیا۔ دو سو دن لگاتار۔ بیفار اور آفٹر – یہ فوٹو انہوں نے مجھے بھیجے ہیں۔ فوٹو دیکھ کر کے بھی میں حیران رہ گیا اور جو بھی اس فوٹو کو دیکھے گا جس کے بھی من میں اپنے آس پاس کی گندگی کو دیکھ کر کبھی مایوسی ہوتی ہو، کبھی اس کو لگتا ہو کہ صفائی کا خواب کیسے پورا ہوگا – تو میں ایسے لوگوں کو کہوں گا ایکولاجیکل پروٹیکشن آرگنائزیشن کے نوجوانوں کو، ان کے پسینوں کو، ان کے حوصلوں کو، ان کے ارادے کو، ان جیتی جاگتی تصویروں میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اسے دیکھتے ہی آپ کی مایوسی، یقین میں ہی بدل جائے گی۔ صفائی کی یہ اہم کوشش خوبصورتی،  جمعیت، صفائی کی ایک اہم مثال ہے۔ قلعے تو ہماری وراثت کی نشانی ہے۔ تاریخی دھروہر کو محفوظ اور صاف رکھنے کی ذمہ داری ہم سبھی ہم وطنوں کی ہے۔ میں ایکالوجیکل پروٹیکشن آرگنائزیشن کے اور ان کی پوری ٹیم کو اور چندر پور کے شہریوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنوں، آنے والے 4 نومبر کو ہم سب گرو نانک جینتی منائیں گے۔ گرو نانک دیو جی، سکھوں کے پہلے گرو ہی نہیں بلکہ وہ جگت گرو ہوں۔ انہوں نے پوری انسانی برادری کی فقدان کے بارے میں سوچا، انہوں نے سبھی ذات کو ایک جیسا بتایا۔ خواتین کو بااختیار بنانے اور خواتین کی عزت کرنے پر زور دیا۔ گرو نانک دیو جی نے پیدال ہی 28 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا اور اپنی اس سفر کے دوران انہوں نے سچی انسانی ہمدردی کا پیغام دیا۔ انہوں نے لوگوں سے بات چیت کی، انہوں سچائی، وقف، اور کام کرنے کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے سماج میں یکسانیت کا پیغام دیا اور اپنے اس پیغام کو باتوں سے ہی نہیں، اپنے کرم سے کر کے دکھایا۔ انہوں نے لنگر چلایا جس سے لوگوں میں خدمت کے جذبے پیدا ہوئے۔ ایک ساتھ بیٹھ کر لنگر کھانے سے لوگوں میں متحد اور یکسانیت کا احساس پیدا ہوا۔ گرو نانک دیو جی نے صحیح زندگی کے تین پیغام دیے – پرماتما کا نام لو، محنت کرو – کام کرو اور ضرورتمندوں کی مدد کرو۔ گرو نانک دیو جی نے اپنی بات کہنے کے لیے گربانی کی تخلیق کی۔ آنے والے سال 2019 میں، ہم گرو نانک دیو جی کا 550واں پرکاش ورش منانے جا رہے ہیں۔ آیئے ، ہم ان کے پیغام اور تعلیم کے راستے پر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔

میرے پیارے ہم وطنوں ، دو دن کے بعد 31 اکتوبر کو ہم سردار ولبھ بھائی پٹیل جی کا یوم پیدائش منائیں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جدید ہندوستان کی بنیاد  ، انہوں نے ہی رکھی تھی۔  بھارت ماں کی اس عظیم اولاد کی غیرمعمولی سفر سے آج ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ 31 اکتوبر کو شریمتی اندرا گاندھی بھی اس دنیا کو چھوڑ کر کے چلی گئیں۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ نہ صرف ٹرانسفورمیشن کا خیال دیتے تھے، لیکن وہ اس کو کر دکھانے کے لیے مشکل سے مشکل مسائل کا اصولی حل ڈھونڈ نے میں قابل تھے۔ خیالات کو حقیقت میں بدلنے، اس میں ان کی مہارت تھی۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ہندوستان کو ایک ہی ڈور میں پیرونے کی ذمہ داری  سنبھالی۔ یہ یقینی بنایا کہ کروڑوں ہندوستانیوں کو ایک ملک اور ایک آئین کے تحت لایا جائے۔ ان کے فیصلے لینے کی قوت نے انہیں ساری مشکلات کو پار کرنے کا حوصلہ دیا۔ جہاں منانے کی ضرورت تھی، وہاں انہوں نے منا منول کیا، جہاں قوت استعمال کرنے کی ضرورت تھی وہاں وہ قوت کا استعمال کیا۔ انہوں نے ایک مقصد طے کر لیا اور پھر صرف اسی کی جانب پوری قوت کے ساتھ وہ بڑھتے ہی گئے، بڑھتے ہی گئے۔ ملک کو ایک کرنے کا یہ کام صرف وہی کر سکتے تھے، جنہوں نے ایک ایسے قوم کا تصور کیا جہاں سبھی لوگ ایک جیسے ہوں، انہوں نے کہا تھا اور میں چاہوں گا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی بات ہمیشہ ہمیشہ ہم لوگوں کے لیے باعث ترغیب دینے والی ہیں۔ انہوں  نے کہا تھا ’’ذات اور پنتھ کی کوئی تفریق ہمیں روک نہ سکے، سبھی ہندوستان کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، ہم سبھی کو اپنے ملک سے پیار کرنا چاہیے اور آپسی پیار اور یکجہتی پر اپنی خواہش کی تعمیر کرنی چاہیے۔‘‘

سردار صاحب کی یہ کہی ہوئی بات آج بھی ہمارے نیو انڈیا کے ویژن کے لیے ترغیب بخش  اور تعریف کے قابل ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کے یوم پیدائش ’راشٹریہ ایکتا دیوس‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ملک کو ایک مصمم قوم کی شکل دینے میں ان کا تعاون بیش قیمت ہے۔ سردار صاحب ےی یوم پیدائش کے موقعے پر 31 اکتوبر کو ملک بھر میں رن فار یونیٹی کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں ملک بھر سے بچے، نوجوان، خواتین ، سبھی عمر کے لوگ شامل ہوں گے۔ میرا آپ سبھی سے گزارش ہے کہ آپ بھی رن فار یونیٹی آپسی یکجہتی کے اس تہوار میں حصہ لیں۔

میرے پیارے ہم وطنوں ، دیوالی کی چھٹیوں کے بعد ، نئے عہد کے ساتھ، نئے یقین کے ساتھ، آپ سب اپنی روز مرہ کی زندگی میں پھر سے ایک بار جٹ گئے ہوں گے۔ میری طرف سے تمام شہریوں کو، ان کے سبھی خواب پورے ہوں، یہ نیک خواہشات ہیں۔ بہت بہت شکریہ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 (م ن ۔ رض۔ م ج۔ ت ح(

(29.10.2017; 16:24)

U-5398,