اس سے قبل ایک طرح کا منفی ماحول تھا اور اس نے ایک وسیع افزوں اثر چھوڑا ہے۔ ملک کے تاجر اور صنعت کاروں نے بیرون ملک کی جانب دیکھنا شروع کردیا تھا۔ حکومت مفلوج ہوچکی تھی۔ جب ہم برسراقتدار آئے تو ہمیں لگاتار دو خشک سالیوں کا سامنا کرنا پڑا، پانی کی قلت اور، عالمی معیشت میں مندی کا ماحول تھا۔ لہٰذا چنوتیوں کا ایک سلسلہ سامنے تھا۔ مگر ہمارا ارادہ پختہ اور پالیسیاں واضح تھیں۔ ایک مستحکم ارادہ تھا کیوں کہ مفاد پرستی نہیں تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مثبت ماحول بہت تیزی سے سازگار ہوا۔ (وزیراعظم نریندر مودی ۔ نیٹ ورک 18 کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے)