میں نے ان کے وزیر اعظم ہو نے کے بعد، نریندر بھا ئی سے کبھی کبھی ملاقات کی ہے۔ میں نے ‘‘اچھی حکمرانی’’ کے متعلق ان کے خیالات جا ننے چا ہے ہیں۔ مجھے ان سے جو ایک جواب ملا وہ میرے لئے بڑا خوشگوار تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایک گاؤں میں ایک بس اسٹاپ بنا نا چا ہتے ہیں تو انہیں صرف سیمنٹ کی ضرورت ہو گی۔ تاہم وہ چا ہتے ہیں کہ بسیں وقت پر آئیں اور جا ئیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ چونکہ گاؤں کے متعدد نادار افراد بس کی سواری کریں گے ۔ لہٰذا وہ چا ہیں گے کہ بس کنڈکٹر ،منکسر المزاج اور ان کا احترام کر نے والے ہوں۔ مجھے شک ہے کہ اگر دون اسکول اور آکس برج ایلمس کے ما لکان، جنہوں نے عرصہ دراز تک بھارت پر حکومت کی ہے ، ایسے خیالات کے حامل ہوں گے، اب میں عمل کی ذمہ داری انہیں پر چھوڑتا ہوں۔