پی ایم انڈیا
نئی دہلی:25ستمبر،2021۔
نمستے!
اس نوجوان اور پُرجوش اجتماع سے خطاب کرنا میرے لیے خوشی کی بات ہے۔ میرے سامنے ایک عالمی کنبہ ہے، جو ہماری زمین کے تمام خوبصورت تنوع سے بھرا ہوا ہے۔
گلوبل سٹیزن مہم، دنیا کو ایک ساتھ لانے کیلئے موسیقی اور تخلیقیت کا استعمال کرتی ہے۔ کھیل کی طرح موسیقی میں بھی لوگوں کو متحد کرنے موروثی صلاحیت ہوتی ہے۔ عظیم شخصیت ہینری ڈیویڈ تھورو نے ایک مرتبہ کہا تھا اور میں اسے یہاں نقل کرتا ہوں ‘‘جب میں موسیقی سنتا ہوں، تو میں کسی خطرے سے نہیں ڈرتا ہوں۔ مجھ میں عدم تحفظ کا جذبہ نہیں رہتا ہے۔ مجھے کوئی دشمن نہیں دکھتا ہے۔ میں وقت کے سب سے پرانے دور اور وقت کے جدید ترین دور سے اپنے آپ کو جڑا ہوامحسوس کرتا ہوں’’۔
موسیقی کا ہماری زندگی پر پُرسکون اثر پڑتا ہے۔ یہ دماغ اور پورے جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے۔ ہندوستان میں موسیقی کی بہت سی روایات ہیں۔ ہر ایک ریاست میں، ہر ایک علاقے میں، موسیقی کے مختلف انداز ہیں۔ میں آپ سبھی کو بھارت آنے اور ہماری موسیقی کی رونق اور تنوع کی دریافت کرنے کیلئے مدعو کرتا ہوں۔
دوستو،
لگ بھگ دو برسوں سے انسانیت پوری زندگی میں ایک بار آنے والی عالمی وبا سے جوجھ رہی ہے۔ وبا سے لڑنے کے ہمارے مشترکہ تجربے نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب ہم ساتھ ہوتے ہیں، تو ہم زیادہ مضبوط اور بہتر ہوتے ہیں۔ ہم نے اس اجتماعی جذبے کی جھلک تب دیکھی جب ہمارے کووڈ-19 کے جانبازوں،ڈاکٹروں، نرسوں، صحت کارکنوں نے وبا کے خلاف لڑنے میں اپنا بہترین تعاون دیا۔ ہم نے یہ جذبہ اپنے سائنسدانوں اور اختراع کاروں میں دیکھا، جب انہوں نے ریکارڈ وقت میں نئی ویکسین تیار کی۔ نسلیں اس عمل کو یاد رکھیں گی، جس میں انسانی برداشت ہر چیز سے بالا تر تھی۔
دوستو،
کووڈ کے علاوہ دیگر چیلنجزبھی موجود ہیں۔ غریبی ان چیلنجوں میں سے ایک ہے جو لگاتار بنی ہوئی ہیں۔ غریب طبقے کو حکومتوں پر زیادہ منحصر بناکر غریبی سے نہیں لڑا جاسکتا۔ غریبی سے تبھی لڑا جاسکتا ہے، جب غریب معاشرہ حکومتوں کو ایک بھروسے مند ساتھی کے طور پر دیکھنا شروع کردیں گے، جو انہیں غربیت کے شیطانی چکر کو ہمیشہ کیلئے توڑنے کیلئے سرگرم بنیادی ڈھانچہ فراہم کریں گے۔
دوستو،
جب اقتدار کا استعمال غریبوں کو بااختیار بنانے کیلئے کیا جاتا ہے تو انہیں غربت سے لڑنے کی طاقت ملتی ہے۔ اور اس لئے ہماری کوششوں میں بینکنگ خدمات کا فائدہ اٹھانے سے محروم رہ گئے لوگوں کو بینکنگ خدمات کی سہولت فراہم کرنا، لاکھوں لوگوں کو سماجی تحفظ کا کوریج فراہم کرنا، 50 کروڑ (500 ملین ) بھارتیوں کو مفت اور معیاری صحت خدمات فراہم کرنا شامل ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ہمارے شہروں اور گاؤں میں بے گھر لوگوں کیلئے تقریباً 3 کروڑ (30 ملین) گھر بنائے گئے ہیں۔ ایک گھر محض ایک پناہ گاہ نہیں ہوتا ہے۔ سر پر چھت لوگوں کو عزت کا احساس دلاتی ہے۔ بھارت میں ہر گھر میں پینے کے پانی کا کنکشن مہیا کرانے کیلئے ایک اور جن آندولن ہورہا ہے۔ سرکار جدید ترین بنیادی ڈھانچے کیلئے ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی رقم خرچ کررہی ہے۔ پچھلے سال کئی مہینوں سے اور اب بھی ہمارے 80 کروڑ (800 ملین) شہریوں کو مفت اناج دستیاب کرایا جارہا ہے۔ یہ سبھی قدم اور دیگر کئی کوشش غریبی کے خلاف لڑائی کو طاقت فراہم کریں گی۔
دوستو،
ہمارے سامنے آب وہوا کی تبدیلی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عالمی ماحولیات میں کسی بھی تبدیلی کی شروعات سب سے پہلے خود سے ہوتی ہے۔ آب وہوا کی تبدیلی کو کم کرنے کا سب سے آسان اور سب سے کامیاب طریقہ فطرت کے موافق طرز زندگی کو اپنانا ہے۔
عظیم شخصیت مہاتما گاندھی امن اور عدم تشدد کے بارے میں اپنے خیالات کے لئے وسیع پیمانے پر جانے جاتے ہیں لیکن، کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے ماحولیاتی ماہرین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے صفر کاربن اخراج والی زندگی کو اپنایا تھا۔ انہوں نے جو کچھ بھی کیا اس میں ہمارے کرہ ارض کی فلاح وبہبود کو ہر چیز سے مقدم رکھا۔ انہوں نے ٹرسٹی شپ کے حصول کو اجاگر کیا تھا، جس کے مطابق ہم سبھی اس کرۂ ارض کے ٹرسٹی ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرنا ہمارا فرض ہے۔
آج بھارت جی۔20 سے جڑا واحد ایسا ملک ہے جو پیرس معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر پوری طرح قائم ہے۔ بھارت کو بین الاقوامی شمسی معاہدے اور قدرتی آفات کو روکنے سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے لئے سمجھوتے کے بینر تلے پوری دنیا کو ایک ساتھ لانے پر بھی فخر ہے۔
دوستو،
ہم تمام بنی نوع انسان کی ترقی کے لئے بھارت کی ترقی میں یقین رکھتے ہیں۔ میں رگ وید کا حوالہ دیکر اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں، جو شاید دنیا کے قدیم ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔ اس کے چھند ابھی بھی عالمی شہریوں کی ترقی میں سونے کا معیار ہیں۔
رگ وید میں کہا گیا ہے:
संगच्छध्वंसंवदध्वंसंवोमनांसिजानताम्
देवाभागंयथापूर्वेसञ्जानानाउपासते||
समानोमन्त्रःसमितिःसमानीसमानंमनःसहचित्तमेषाम्।
समानंमन्त्रम्अभिमन्त्रयेवःसमानेनवोहविषाजुहोमि।।
समानीवआकूति: समानाहृदयानिव: |
समानमस्तुवोमनोयथाव: सुसहासति||
اس کے معنی ہیں:
آؤ ہم سب ملکر ایک آواز میں بولتے ہوئے، آگے بڑھیں؛
ہم سب متحد ہوں اور جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے، اسے ہم ٹھیک اسی طرح ساجھا کریں جیسے بھگوان ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔
آئیے ہم ایک مشترکہ مقصد اور مشترکہ خیالات رکھیں۔ آئیے ہم ایسے اتحاد کیلئے دعا کریں۔
آئیے ان ارادوں اور خواہشات کو مشترک کریں، جو ہم سب کو متحد کرے۔
دوستو،
ایک گلوبل سٹیزن کیلئے اس سے بہتر منشور اور کیا ہوسکتا ہے؟ ہم سبھی ایک رحم دل، انصاف پسند اور جامع دنیا کے لئے ملکر کام کرتے رہیں۔
شکریہ۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
نمستے۔
———————–
ش ح۔م ع۔ ع ن
U NO: 9410
PM @narendramodi’s address at the Global Citizen Live programme. https://t.co/VpFI5bUGMX
— PMO India (@PMOIndia) September 25, 2021
The Global Citizen Movement uses music and creativity to bring the world together.
— PMO India (@PMOIndia) September 25, 2021
Music, like sports, has an inherent ability to unite: PM @narendramodi
For almost two years now, humanity is battling a once in a lifetime global pandemic.
— PMO India (@PMOIndia) September 25, 2021
Our shared experience of fighting the pandemic has taught us - we are stronger and better when we are together: PM @narendramodi
We saw glimpses of this collective spirit when our COVID-19 warriors, doctors, nurses, medical staff gave their best to defeat the pandemic: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 25, 2021
Poverty cannot be fought by making the poor more dependent on governments.
— PMO India (@PMOIndia) September 25, 2021
Poverty can be fought when the poor start seeing governments as trusted partners.
Trusted partners who will give them the enabling infrastructure to forever break the vicious circle of poverty: PM
The threat of climate change is looming large above us.
— PMO India (@PMOIndia) September 25, 2021
The world will have to accept that any change in the global environment first begins with the self.
The simplest & most successful way to mitigate climate change is to lead lifestyles that are in harmony with nature: PM