Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

سورت، گجرات میں ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن

سورت، گجرات میں ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن


بھارت ماتا کی جے۔ بھارت ماتا کی جے۔ بھارت ماتا کی جے۔

 

گجرات کے مقبول وزیرِ اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی سی آر پاٹل، ریاست کے نائب وزیرِ اعلیٰ بھائی ہرش سنگھوی، گجرات بی جے پی کے صدر جگدیش وشوکرما جی، یہاں موجود دیگر وزراء، عوامی نمائندگان، اور یہاں موجود سورت کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔

سب کیسے ہیں؟ اور ہمارا سورت مزے میں ہے نا؟ بھائی، تم کیا لے کر آئے ہو؟ شکریہ دوست، تم نے بہت خوبصورت تصویر بنائی ہے۔ ذرا ایس پی جی کے لوگ، یہ بھائی مجھے یہ تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ بہت بہت شکریہ بھائی، میری ٹیم کو دے دو۔

ساتھیو،

میں اپنی بات شروع کروں، اس سے پہلے، کچھ دن پہلے ہی میرے انتہائی قریبی ساتھی، جن کے ساتھ میں نے برسوں تک کام کیا، اور جو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک سرگرم رہے، ایسے کنوبھائی ماوانی کے انتقال پر، میں انہیں عقیدت کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ایک ساتھی کو کھونے کا درد فطری ہے، لیکن آج جب میں سورت کی سرزمین پر آیا ہوں، تو ان کی نیک یاد کے ساتھ اپنی بات آگے بڑھاتا ہوں۔

ساتھیو،

مجھے کئی بار لگتا ہے کہ یہ سورت صرف ایک شہر نہیں ہے، سورت ایک جذبہ ہے، اور یہی جذبہ ہے کہ ماحولیاتی دن کے موقع پر ہر خاندان کو جوڑتے ہوئے، ماحولیات کے لیے وقف 15000 بہت عمدہ پوسٹر لوگ بنا کر لائے ہیں۔ جن جن خاندانوں کے افراد نے یہ کام کیا ہے، میں ان سب کو دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کیونکہ جب انہوں نے یہ سوچا ہوگا، تو ان کا دل اب ماحول کے تحفظ کے لیے وقف ہو گیا ہوگا۔

اور ہمارے کاٹھیاواڑ کے بہت سے بھائی یہاں سورت میں رہتے ہیں، جبکہ ان کی کھیتی وہاں ہے، تو میرا ان سے ایک مطالبہ ہے کہ ماحولیات کے ایک کام کے طور پر ”کھیت بچاؤ“ مہم سے جڑ جائیں۔ کیمیکل سے پاک کھیتی، وہی قدرتی کھیتی جو ہمارے بزرگ کیا کرتے تھے۔ اور میں تو سورت کے جتنے بھی لوگوں کی جہاں جہاں کھیتی ہے، سب سے اپنا حق سمجھ کر کہنا چاہتا ہوں کہ اتنا میرا کام ضرور کرنا۔

ساتھیو،

یہاں سبھی نے میرا استقبال کیا، مختلف یادگاری تحفے دیے، نذرانے پیش کیے، لیکن اس کے علاوہ بھی سورت نے مجھے ایک انمول تحفہ دیا ہے، اس سے بھی زیادہ قیمتی۔ سورت کا کچرا مجھے تحفے میں دیا گیا ہے۔ 1 لاکھ لوگوں نے 5 دن تک صفائی مہم چلائی۔ میرے لیے یہ سب سے بڑا تحفہ ہے اور میں 1 لاکھ لوگوں اور پورے سورت کا دل سے شکر گزار ہوں۔

لوگ سوچیں گے کہ یہ کیسا وزیرِ اعظم ہے؟ استقبال میں کچرا ملا اور وہ اس پر فخر کر رہا ہے! کیونکہ میں صفائی کو ایک تہذیب، ایک عادت بنانا چاہتا ہوں۔ 1 لاکھ لوگوں کا جڑنا، یعنی 1 لاکھ خاندانوں کا جڑنا، اور یہ صرف صفائی کی مہم نہیں ہے، بلکہ ایک صحت مند مستقبل کے لیے ایک تہذیبی تہوار ہے، اور اس کے لیے سورت کے تمام ساتھی بہت بہت مبارکباد کے مستحق ہیں۔

ساتھیو،

بلدیاتی انتخابات کے بعد، میں پہلی بار گجرات آیا ہوں، سورت آیا ہوں۔ میں سورت سے پورے گجرات کے لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں، انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

ڈھائی دہائیوں سے بھی زیادہ وقت ہو گیا ہے، آپ ہم سب کو، بھارتیہ جنتا پارٹی کو، مسلسل اپنا آشیرواد دے رہے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ آشیرواد بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ دیکھیے، ایک بیٹی آپ سب کو کھینچ کر یہاں لے آئی۔ حال ہی میں ضلع پریشد، تحصیل پریشد، نگر پالیکا اور مہانگر پالیکا کے انتخابات ہوئے ہیں۔ ان انتخابات میں گجرات کے لوگوں نے بی جے پی کو اتنا زبردست تعاون دیا کہ پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اور آج میں اس لیے زیادہ خوش ہوں کہ آپ سب نے میرے ریکارڈ بھی توڑ دیے۔

میں سیاست میں بہت دیر سے آیا تھا، شاید 1987 میں سیاست میں آیا، اور اس کے بعد پہلا انتخاب سورت، احمد آباد کارپوریشن وغیرہ کا تھا، اور پہلے ہی انتخاب میں ہمیں زبردست کامیابی ملی، اور تب سے لے کر آج تک یہ کامیابی کا سفر جاری ہے۔ دنیا کے جمہوری معاشروں میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی ایک جماعت کو اتنے طویل عرصے تک عوام الناس کا آشیرواد ملے اور خدمت کا موقع حاصل ہو۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔

ساتھیو،

یہاں سورت اور نوساری کے کئی منتخب عوامی نمائندے بھی موجود ہیں۔ میں آپ سب کو بھی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ ہم سب کو ہمیشہ یاد رکھنا ہے کہ گجرات کی عوام نے ہمارے جذبۂ خدمت کی حمایت کی ہے۔ یہ شاندار کامیابی، خدمت کے اس مشن کو مزید وسعت دینے کے لیے ہے۔ اب ہم سب کو اور زیادہ محنت کرنی ہے۔ ہمارا عزم — ترقی یافتہ گجرات، ترقی یافتہ بھارت — اس عزم کو پورا کرنا ہے، اور وہ بھی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر۔

جب میں کہتا ہوں کہ سورت ایک شہر نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، تو اس کے پیچھے میرا پختہ یقین ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ پورے ہندوستان میں جو شہر مسلسل صفائی کے ایوارڈ حاصل کرتا ہو، فطری طور پر اس کے دل میں آ سکتا ہے کہ بہت ہو گیا، اتنے ایوارڈ لے لیے، اب اور کیا کرنا ہے۔ لیکن سورت ایسا نہیں کرتا۔ وہ آج بھی صفائی کی مہم کو ترجیح دیتا ہے۔ تبھی میں کہتا ہوں کہ سورت صرف ایک شہر نہیں، سورت ایک جذبہ ہے۔

ساتھیو،

یہ جو ہمارا عزم ہے، ترقی یافتہ بھارت اور ترقی یافتہ گجرات کا، یہ تبھی پورا ہوگا جب ہم ملک کے ہر گاؤں، ہر ضلع، ہر شہر کو ترقی یافتہ بنائیں گے۔ اور اسی لیے بی جے پی کے تمام منتخب عوامی نمائندوں کا کردار بہت اہم ہے۔

ساتھیو،

آج کا دن ایک اور خوشگوار اتفاق کا دن ہے۔ آج 5 جون، عالمی یومِ ماحولیات ہے۔ اور اس موقع پر میں ملک کے سب سے صاف ستھرے شہروں میں شمار ہونے والے سورت میں موجود ہوں۔ اور یہ کتنے فخر کی بات ہے کہ یہی سورت کبھی طاعون جیسی وبا سے متاثر تھا، اور آج صفائی کے لیے پہچانا جا رہا ہے۔ اس کے لیے گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ اس میں سورت کے تمام لوگوں، افسران، ملازمین، عوامی نمائندوں، سب کا تعاون شامل ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں یہاں صفائی کے لیے خصوصی مہم بھی چلائی گئی۔ میں سورت کے تمام باشندوں کو، اور جیسا کہ مقامی زبان میں کہتے ہیں ”سورتیوں“، میرے پیارے سورتیوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سورت کی ترقی کو رفتار دینے کے لیے آج یہاں کئی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور افتتاح کیا گیا ہے۔ میں آپ سب کو ان منصوبوں کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

دنیا اب سبز دور، یعنی گرین فیوچر کی طرف بہت سنجیدگی سے متوجہ ہو چکی ہے، اور آہستہ آہستہ اس سمت میں قدم بھی بڑھا رہی ہے۔ بھارت بھی گرین گروتھ پر بہت زیادہ کام کر رہا ہے۔ اور اس میدان میں بھی گجرات نے برسوں پہلے ہی تیز رفتاری سے قدم اٹھانے شروع کر دیے تھے۔ گجرات وہ ریاست ہے جس نے اس صدی کے آغاز ہی میں کلائمٹ چینج کے لیے الگ محکمہ قائم کیا تھا۔ ایسا انتظام قائم کرنے والا گجرات، ملک کی پہلی ریاست تھا۔

اور جیسا کہ ابھی وزیرِ اعلیٰ صاحب نے ذکر کیا، گجرات کے اپنے پاٹن کے چارنکا گاؤں میں بھارت کا پہلا سولر پارک بھی قائم کیا گیا تھا۔ اور ایک طرح سے اُس وقت وہ زیارت گاہ بن گیا تھا، لوگ دور دور سے دیکھنے آتے تھے کہ اتنا وسیع سولر پلانٹ، جو دور تک دکھائی دیتا تھا۔

ساتھیو،

گجرات میں اس وقت آپ سب نے جو کام کیا، اس نے پورے ملک کو تحریک دی ہے۔ آج بھارت، فطرت کے ساتھ ترقی کے منتر کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ اکانومی بھی، ایکولوجی بھی۔

اور ساتھیو،

سورت میں تو یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے۔ آج کل سورت کی ”سرکیولر واٹر اکانومی“ کی بہت چرچا ہو رہی ہے۔ یہاں شہر کے گندے پانی کو ٹریٹ کرکے صنعتوں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس سے گندے پانی کا انتظام بھی ہو جاتا ہے، اور پانی سے آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے۔ گزشتہ 12 برسوں سے ملک میں ”ویسٹ ٹو ویلتھ“ کا ایک بہت بڑا عوامی تحریک چل رہی ہے۔ یہ ہمارے شہروں کی صفائی اور انہیں گرین اور کلین بنانے میں بہت مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

ساتھیو،

اب کوشش یہ ہے کہ آنے والی کئی دہائیوں تک سورت کے لیے پینے کے پانی کا مکمل انتظام ہو، اس کے لیے تاپی بیراج پروجیکٹ منظور کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ واٹر مینجمنٹ اور واٹر ڈرینیج بھی حکومت کی بہت بڑی ترجیح ہے۔ آج بھی یہاں ایسے کئی منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔

ساتھیو،

سورت صرف صفائی اور سرکیولر اکانومی تک محدود نہیں ہے، بلکہ گرین گروتھ کے دوسرے ذرائع بھی بے مثال رفتار سے فروغ پا رہے ہیں۔ جیسے اب الیکٹرک موبیلٹی ہے۔ سورت ایسی سہولتیں تیار کرنے میں مصروف ہے جہاں سڑکوں پر چلنے والی تمام بسیں الیکٹرک ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں سورت میٹرو کی توسیع بھی جاری ہے۔ یہ تمام اقدامات، ایک گرین سٹی کے طور پر سورت کی شناخت کو مزید مضبوط کریں گے۔

اور ہاں، آنے والے وقت میں ہزیرا انڈسٹریل ایریا گرین اسٹیل کی پیداوار کے لیے بھی جانا جائے گا۔ یعنی اسٹیل کی پیداوار میں گرین انرجی کا استعمال کیا جائے گا۔

ساتھیو،

آج دنیا غیر معمولی چیلنجوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے کہا تھا کہ یہ دہائی دنیا کے لیے آفات کی دہائی ثابت ہو رہی ہے۔ ہم نے پچھلے کچھ وقت میں ایک کے بعد ایک عالمی بحران دیکھے ہیں۔ پہلے کورونا جیسا بڑا بحران آیا، پھر جگہ جگہ جنگیں شروع ہو گئیں، اور اب اتنا بڑا توانائی بحران، جس نے پوری دنیا کو درہم برہم کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے، گیس کی سپلائی چین تباہ ہو رہی ہے۔

لیکن بھائیو اور بہنو،

مجھے بہت اطمینان ہے کہ 140 کروڑ بھارتیوں کی مشترکہ کوششوں سے، ملک ہر ایسے بحران کا مضبوطی سے مقابلہ کر رہا ہے۔ اس جدوجہد میں آپ میرے ساتھ ہیں نا؟ ہمیں یہ لڑائی بھی جیتنی ہے نا؟

اور ساتھیو،

اس میں بھی گجرات کا بہت بڑا کردار ہے۔ گزشتہ برسوں میں گجرات نے ریفائننگ کے شعبے میں، سولر اور ونڈ پاور کے میدان میں، اپنی جو صلاحیت بڑھائی ہے، وہ ملک کے بہت کام آ رہی ہے۔ آج بھارت کی رینیوایبل انرجی کی صلاحیت 250 گیگاواٹ ہے۔ ہمارے ملک میں کبھی میگاواٹ سے آگے سوچا ہی نہیں جاتا تھا، آج گیگاواٹ کی بات ہو رہی ہے۔ اور اس میں 50 گیگاواٹ کا حصہ صرف گجرات کا ہے۔ 250 گیگاواٹ میں 50 گیگاواٹ، یہ آپ سب کی طاقت ہے۔ یعنی ملک کی گرین انرجی کا پانچواں حصہ صرف گجرات پیدا کرتا ہے۔

شمسی توانائی کی پیداوار میں گجرات نے قابلِ تعریف کام کیا ہے۔ اور اب جب ملک گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا جیسے شعبوں میں کام کر رہا ہے، تو اس میں بھی گجرات کا کردار بہت بڑا ہونے والا ہے۔

ساتھیو،

یہ جو عالمی بحران چل رہا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کے معاملے میں خود انحصاری کتنی ضروری ہے۔ اور گزشتہ 12 برسوں میں ملک نے جو صلاحیت تیار کی ہے، اس کی کتنی بڑی اہمیت ہے۔ ایک طرف ہم نے دنیا کے مختلف حصوں سے تیل اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا، دوسری طرف رینیوایبل انرجی میں تاریخی سرمایہ کاری بڑھائی۔

12 سال پہلے بھارت میں شمسی توانائی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر تھی، آج ہم دنیا کے ٹاپ 5 ممالک میں شامل ہیں۔ اور صرف شمسی توانائی ہی نہیں، ہم نے بھارت میں ایتھنول بلینڈنگ کی صلاحیت بڑھائی، ریلوے کی برق کاری کو تیز کیا، جوہری توانائی پر کام کیا، ہمارے بجلی کے ترسیلی نیٹ ورک جو پرانے ہو چکے تھے، ان کی جدید کاری کی، ان کی توسیع کی۔ گیس پائپ لائن نیٹ ورک کا دائرہ بہت وسیع کیا۔ ہمارے بندرگاہوں کی صلاحیت بڑھائی تاکہ وہاں زیادہ سے زیادہ پیٹرولیم مصنوعات پہنچ سکیں اور جہاں ممکن ہو وہاں ذخیرہ بھی کی جا سکیں۔

آنے والے وقت میں ملک کی یہ صلاحیت مزید بڑھے گی۔ اس سمت میں ہماری حکومت کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

ساتھیو،

یہاں سورت میں آپ کے درمیان آنے سے پہلے میں ہزیرا گیا تھا، جس کا ابھی ہرش بھائی ذکر کر رہے تھے۔ آتم نربھر بھارت یعنی خود کفیل بھارت کا مطلب کیا ہوتا ہے، یہ ہزیرا جا کر صاف نظر آتا ہے۔ ہزیرا آج صرف ایک صنعتی علاقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ایکو سسٹم بن چکا ہے جہاں توانائی ہے، اسٹیل ہے، دفاعی پیداوار ہے، بندرگاہ ہے، اور عالمی تجارت کا ایک مکمل نظام موجود ہے۔

ہزیرا، ملک کے ایک بڑے میری ٹائم-انڈسٹریل حب کے طور پر ترقی کر رہا ہے، اور آتم نربھر بھارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

لیکن ساتھیو،

آج ملک میں کچھ مایوس ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں، جو آتم نربھر بھارت مہم کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ وہ ملک کے اس عزم کو مسلسل کم تر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ بھارت کو دوسرے ممالک پر منحصر رکھا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسروں پر منحصر ملک، ترقی کی وہ بلندی کبھی حاصل نہیں کر سکتا جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔

ساتھیو،

آتم نربھر بھارت کو رفتار دینے کے لیے آج ملک میں کنیکٹیویٹی پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ وڈودرا-ممبئی ایکسپریس وے، ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور، اور بلٹ ٹرین جیسے منصوبے بھارت کی اسی ترجیح کو ظاہر کرتے ہیں۔ آج وڈودرا-ممبئی ایکسپریس وے کے ایک بڑے حصے کا افتتاح ہو چکا ہے۔ یہ ملک کے دو بڑے صنعتی اور تجارتی مراکز کو مزید بہتر رابطہ فراہم کرے گا۔

ساتھیو،

ہماری کوشش سب کو جوڑنے کی ہے، سب کو یکساں مواقع اور سہولیات فراہم کرنے کی ہے۔ دور دراز علاقے، قبائلی خطے، جہاں سہولیات نہیں پہنچ پائی تھیں، وہاں آج جدید کنیکٹیویٹی پہنچ رہی ہے۔ داہود-بوڈیلی-واپی کوریڈور اسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ سوچیے، نرمدا اور تاپی اضلاع کے قبائلی علاقوں تک فور لین سڑک کی سہولت پہنچ رہی ہے۔ اس سے سفر کا وقت کم ہوگا، کرایہ کم ہوگا، یعنی قبائلی اور دیہی علاقوں کے لوگوں کو تعلیم، علاج اور روزگار کی بہتر سہولتیں حاصل ہوں گی۔

ساتھیو،

اس کوریڈور سے چھوٹا اُدے پور، نرمدا، بھروچ اور تاپی اضلاع کے قبائلی علاقے صنعتی پٹی سے جڑ جائیں گے۔ اس سے جنوبی گجرات کے قبائلی علاقوں میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ اسٹیچو آف یونٹی، ساپوتارا اور آس پاس کے سیاحتی مقامات تک پہنچنا بہت آسان ہو جائے گا۔

ساتھیو،

آج یہاں سورت میں ایک جدید ESIC اسپتال کا بھی افتتاح ہوا ہے۔ یہ اسپتال ہمارے مزدور بھائیوں بہنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے بہتر طبی خدمات کا نیا مرکز بنے گا۔ دوسرے ریاستوں سے جو ساتھی یہاں رہنے اور روزگار کے لیے آئے ہیں، انہیں بھی اس اسپتال سے بہت مدد ملنے والی ہے۔

ساتھیو،

ہماری حکومت، ملک کی ترقی کو سب سے اوپر رکھتے ہوئے کام کر رہی ہے۔ اور اسی لیے ملک کا بھروسہ بی جے پی پر ہے، بی جے پی کے ترقیاتی کاموں پر ہے۔ اسی لیے ملک کی عوام بار بار بی جے پی کو مینڈیٹ دے رہی ہے۔ حال ہی میں ہونے والے بنگال کے انتخابات — آپ کو لگتا ہوگا کہ میں نے جیسے ہی بنگال کہا، یہاں اچانک جوش آ گیا — لیکن میرا تجربہ یہ تھا کہ میں پچھلے دنوں پانچ ممالک کے دورے پر تھا، وہاں بھی بنگال بنگال ہو رہا تھا، ہر کوئی بنگال کی بات کر رہا تھا۔

بنگال، آسام اور پڈوچیری کے انتخابات میں بی جے پی اور این ڈی اے کو بہت بڑا مینڈیٹ ملا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں جو پنچایتوں اور کارپوریشنوں کے انتخابات ہو رہے ہیں، وہاں بھی بی جے پی کو کامیابی مل رہی ہے۔

ساتھیو،

ہر انتخاب کا ایک ہی پیغام ہے کہ ملک انتشار، غیر یقینی صورتحال اور مایوسی کو پسند نہیں کرتا۔ کانگریس گزشتہ 12 برسوں سے انتشار اور غیر یقینی فضا پیدا کر کے اپنے لیے مواقع تلاش کر رہی ہے، لیکن ملک کی عوام اسے بار بار سخت جواب دے رہی ہے۔

گجرات کے آپ لوگوں نے تو کانگریس کو حاشیے پر دھکیل دیا ہے، لیکن جہاں جہاں کانگریس کی حکومتیں ہیں، وہاں بھی عوام کانگریس کی بدانتظامی سے تنگ آ چکی ہے۔ ابھی حال ہی میں ہماچل میں بھی بلدیاتی انتخابات ہوئے، وہاں کانگریس کی حکومت ہے، لیکن کانگریس بری طرح ہار گئی۔ ہماچل کی عوام نے کانگریس کی بدانتظامی کو مسترد کر دیا ہے۔

اس سے پہلے ہریانہ کے بلدیاتی انتخابات میں بھی کانگریس کو شکست ملی، اور پنجاب کے لوگوں نے بھی کانگریس کو واضح پیغام دے دیا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ کانگریس کی طفیلانہ سیاست نہیں چلے گی، کانگریس کی انتشار میں مواقع تلاش کرنے والی سیاست نہیں چلے گی۔ کرناٹک کی عوام میں بھی کانگریس حکومت کے خلاف بہت غصہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کرناٹک میں بھی کانگریس کو وزیرِ اعلیٰ تبدیل کرنا پڑ رہا ہے۔

ساتھیو،

بھارت منفی سوچ سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہ لامحدود امیدوں والا ملک ہے۔ حیرت انگیز امنگوں سے بھرپور ملک ہے۔ بھارت کے شہری خوابوں سے بھرے ہوئے ہیں، عزم سے بھرے ہوئے ہیں۔ اور ان عزائم کو کامیابی میں بدلنے کے لیے عوام پوری طرح پُرعزم ہیں۔ اور جب ملک کی عوامی طاقت پُرعزم ہو، تو ملک ہر ہدف حاصل کر سکتا ہے۔ یہی، یہی بھارت کی طاقت ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کو رفتار دیں، ہم خوابوں کو عزم میں بدلیں، اور عزم کو کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کر دیں دوستو۔ میں آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوں۔ آپ دو قدم چلیں گے، تو میں تین قدم چلنے کے لیے تیار ہوں۔ رکنا اور تھکنا ہمیں منظور نہیں ہے۔ اسی پیغام کے ساتھ، ایک بار پھر ترقیاتی منصوبوں کے لیے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

وندے ماترم۔

**********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 8046