پی ایم انڈیا
جناب گلاب چند کٹاریہ جی، مرکز میں میرے ساتھی جے پی نڈا جی، اشونی ویشنو جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی منیش تیواری جی، یہاں اس اجتماع میں بھی کئی اراکین اسمبلی، وزراء اور ممبران پارلیمنٹ موجود ہیں۔ دیگر تمام معزز شخصیات بھی موجود ہیں، آج کئی پرانے ساتھیوں کے دیدار ہو رہے ہیں۔
بھائیو اور بہنو،
آج آپ سب کے درمیان آ کر دل میں خوشی کا ایک الگ ہی احساس ہے۔
ساتھیو،
چنڈی گڑھ صرف ایک شہر نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستان کے لیے ترقی کے ایک ماڈل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ چنڈی گڑھ منظم ترقی کے لیے مشہور ہے، چنڈی گڑھ کی پہچان بہتر طرزِ زندگی اوربہتر زندگی گزارنے کی سہولیات کے لیے ہے۔ چنڈی گڑھ کی شناخت بہتر طبی سہولیات کے حوالے سے بھی ہے اور ان سب کے ساتھ ساتھ چنڈی گڑھ کی پہچان ہے، ماں چنڈی کا آشیرواد۔ اسی لیے چنڈی گڑھ کی ترقی ہمیشہ سے این ڈی اے حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ تقریباً ڈیڑھ برس قبل ملک نے عدالتی نظام میں ایک بہت بڑی اصلاحت کی تھی۔ ہم نے تعزیراتی قوانین کی جگہ بھارتیہ نیائے سنہتالے کر آئے ہیں۔ بھارتیہ نیائے سنہتا یعنی سزا پر مبنی قوانین کی جگہ انصاف پر مبنی قانونی نظام قائم کرنا ہے اور تب بھارتیہ نیائے سنہتا نافذ کرنے کی شروعات چنڈی گڑھ سے ہی ہوئی تھی۔
ساتھیو،
گزشتہ برسوں کے دوران انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ، اسمارٹ پارکنگ اور ڈیجیٹل گورننس جیسے کئی منصوبوں پر کام کیا گیا ہے تاکہ چنڈی گڑھ کو جدید اور ہائی ٹیک بنایا جا سکے۔ اس مشن کے تحت ڈھائی ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جا چکے ہیں۔ آج بھی یہاں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق ترقیاتی کاموں کا آغاز ہو رہا ہے۔ میں ان تمام منصوبوں کے لیے چنڈی گڑھ کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
یہاں آنے سے پہلے میں ہریانہ کے جند میں تھا اور یہاں سے اس کے بعد مجھے پنجاب کے ترقیاتی کاموں کے لیے جالندھر جانا ہے۔ ان دونوں پروگراموں کے درمیان آج چنڈی گڑھ کا یہ پروگرام ہو رہا ہے، کیونکہ ہمارا چنڈی گڑھ ہریانہ، پنجاب، ہماچل اور پورے خطے کو آپس میں جوڑتا ہے۔ چنڈی گڑھ کی ترقی سے جہاں یہاں کے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آتی ہی ہے،ساتھ ہی ہریانہ، ہماچل، پنجاب اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی اس کا بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ طبی خدمات کے شعبے میں تو چنڈی گڑھ پورے خطے کا ایک بڑا مرکز ہے۔
ساتھیو،
جب میں چنڈی گڑھ میں رہتا تھا تو مجھے کئی مرتبہ پی جی آئی جانا ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ ہمارے کسی ساتھی یا ان کے خاندان کا کوئی فرد، چاہے وہ جموں و کشمیر سے ہو، پنجاب سے، ہماچل سے یا ہریانہ سے، بیمار ہو کر یہاں علاج کے لیے آتا تھا، تو میرا ان سے ملاقات کے لیے جانا ایک فطری بات ہوتی تھی۔ اسی لیے میں جانتا ہوں کہ پورے خطے کے لوگوں کے لیے صحت کے اعتبار سے یہ ایک نہایت اہم مرکز رہا ہے۔
ساتھیو،
آج یہاں چنڈی گڑھ پی جی آئی میں جدید طبی سہولیات کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ یہاں ایڈوانس نیورو سائنسز سینٹر، ایڈوانس مدر اینڈ چائلڈ سینٹر اور کریٹیکل کیئر ہاسپٹل بلاک جیسے منصوبے لاکھوں لوگوں کو علاج کی مزید بہتر سہولیات فراہم کریں گے۔مجھے یاد ہے کہ 2015 میں، میں نے چنڈی گڑھ پی جی آئی کے جلسہ تقسیمِ اسناد میں شرکت کی تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ آج مجھے ورچوئل وسیلے سے وہاں کے اپنے پرانے ساتھیوں سے بھی ملاقات کا موقع مل رہا ہے۔ اس وقت سے اب تک اس دہائی میں پی جی آئی کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔میں پی جی آئی چنڈی گڑھ کی انتظامیہ، یہاں کے پروفیسرز اور نوجوان ڈاکٹروں کی ستائش کرتا ہوں اور انہیں اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
جب ہم صحت کی بات کرتے ہیں تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس میں صفائی ستھرائی کا کتنا اہم کردار ہے۔ اسی لیے جب ہماری حکومت بنی تو ہم نے ملک کے لیے ’سوچھ بھارت مشن‘ کا آغاز کیا۔ ملک بھر میں کروڑوں بیت الخلا تعمیر کیے گئے،ہندوستان کو کھلے میں رفعِ حاجت سے پاک بنایا گیا، عوامی مقامات کی صفائی کے لیے مہمات چلائی گئیں، صفائی کو ہماری زندگی کا حصہ بنانے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے گئے۔ ہمارے شہروں کی سوچھ بھارت درجہ بندی بھی اسی کوشش کا ایک حصہ ہے اور چنڈی گڑھ اس میں بہتر کارکردگی کے لیے مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے۔
ساتھیو،
میں آج چنڈی گڑھ کے ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر اندرجیت سنگھ سدھو جی کی بھی ستائش کرنا چاہوں گا۔ انہیں ’بروم وارئیر‘ کے نام سے پہچان ملی ہے۔ انہوں نے چنڈی گڑھ میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے ایک نئی بیداری پیدا کی اور لوگوں کو اس کے لیے ترغیب دی۔ اس خدمت کے اعتراف میں ہماری حکومت نے انہیں رواں برس پدم اعزاز سے بھی نوازا ہے۔
ساتھیو،
صفائی ستھرائی کوئی ایک دن کا کام نہیں ہے، بلکہ صفائی ایک طرزِ زندگی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج کے اس پروگرام کے ساتھ بھی صفائی کو جوڑا گیا ہے۔ آج یہاں ’سوچھتا سے سواگت‘ پہل کے تحت خصوصی صفائی مہم چلائی گئی۔ میں دیکھ رہا تھا کہ سوشل میڈیا پر تمام رہنما اور عوام بھی صفائی کے کام میں مصروف تھے۔ ان تمام مناظر کو دیکھ کر ملک میں خوشی اور جوش کا ماحول نظر آ رہا تھا۔چنڈی گڑھ کے تمام بھائیوں اور بہنوں کو میں اس پہل کے لیے ذاتی طور پر بڑے فخر کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
صفائی ستھرائی کی ایسی مہمات ملک میں متعدد بیماریوں کی روک تھام میں بہت مددگار ثابت ہوئی ہیں۔
ساتھیو،
ایک وقت تھا، جب ہندوستان کے صحت کے شعبے کو لے کر پوری دنیا تشویش کا اظہار کرتی تھی۔ جب کسی بڑی آفت کا اندیشہ ہوتا تھا تو لوگ سوال اٹھانے لگتے تھے کہ ہندوستان میں کیا ہوگا؟ کورونا کے دور میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح ہندوستان ہی دنیا کی تشویش کا مرکز بن گیا تھا، لیکن ہماری حکومت نے نہ صرف ہندوستان کی صلاحیت کو بدلا بلکہ دنیا کا نقطۂ نظر بھی تبدیل کیا۔جب کورونا وبا آئی تو ہندوستان مدد مانگنے والا ملک نہیں تھا، بلکہ ہندوستان دنیا کو مدد فراہم کر رہا تھا۔ آج کئی ممالک سے لوگ سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے ہندوستان آتے ہیں۔ ہندوستان طبی سیاحت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ساتھیو،
یہ تبدیلی گزشتہ 12 برسوں کی ایماندارانہ کوششوں اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ 12 برس پہلے ہم نے عزم کیا تھا کہ ہمارے ملک کے لوگ صحت کی سہولیات کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا نہیں کریں گے، انہیں بہتر علاج کی سہولیات دستیاب ہوں گی اور وہ بھی کم قیمت پر فراہم کی جائیں گی۔ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کی کامیابیاں اسی عزم کا نتیجہ ہیں۔گزشتہ برسوں کے دوران ہندوستان نے اپنے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے وسعت دی ہے۔ 2014 کے بعد ملک میں 15 نئے ایمس کے قیام کو منظوری دی گئی ہے۔ آج ملک کے مختلف حصوں میں نئے ایمس فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں سیکڑوں نئے میڈیکل کالج قائم کیے گئے ہیں۔ کینسر جیسی سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے خصوصی طبی مراکز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔یہاں چنڈی گڑھ میں بھی ہومی بھابھا کینسر اسپتال قائم کیا گیا ہے، جو یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ 2022 میں مجھے اس کے افتتاح کا موقع ملا تھا۔ آج یہ اسپتال ہزاروں مریضوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔
ساتھیو،
گاؤں گاؤں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ہر سطح پر صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن شروع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ملک بھر میں کریٹیکل کیئر بلاکس، مربوط عوامی صحت لیبارٹریز اورپبلک ہیلتھ یونٹس جیسی سہولیات کا نیٹ ورک تیار کیا گیا ہے۔ آج شہری اور دیہی علاقوں سے لے کر قبائلی خطوں تک ملک میں تقریباً پونے دو لاکھ آیوشمان آروگیہ مندر بھی کام کر رہے ہیں۔ آروگیہ مندروں میں بنیادی علاج کی سہولیات تو موجود ہیں ہی، ساتھ ہی یہاں صحت سے متعلق 12 مختلف پیکیج خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے ذریعے کروڑوں لوگوں کی ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کی جانچ کی گئی ہے۔
ساتھیو،
ہماری حکومت ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی علاج کو آسان بنا رہی ہے۔ ہم نے ای-سنجیونی مشن کے ذریعے ٹیلی میڈیسن کی سہولت شروع کی۔ اس کے تحت آج ملک میں 48 کروڑ سے زیادہ ٹیلی میڈیسن مشاورتیں مکمل ہو چکی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ بھی بڑے اسپتالوں اور ڈاکٹروں سے مشورہ حاصل کر رہے ہیں۔
ساتھیو،
صحت خدمات کے اس پھیلاؤ کی وجہ سے آج ملک میں 90 فیصد سے زیادہ زچگی کے معاملات ادارہ جاتی مراکز میں ہو رہے ہیں۔ ہمارے یہاں زچگی کے دوران اموات کی شرح میں 86 فیصد کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کی اموات کی شرح میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
ساتھیو،
بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ آج احتیاطی صحت تدابیر(پریوینٹیو ہیلتھ کیئر) پر بھی یکساں توجہ دی جا رہی ہے۔ پوشن ابھیان، مشن اندر دھنش، یوگا، ایچ پی وی ویکسینیشن اور یو-ون پلیٹ فارم جیسے متعدد اہم اقدامات کے ذریعے کروڑوں لوگوں کی زندگی کو محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
ساتھیو،
ہم نے ملک کو تپِ دق (ٹی بی) سے پاک بنانے کا عزم بھی کیا ہے۔ اس کے لیے ٹی بی مکت بھارت ابھیان چلایا جا رہا ہے۔ عوامی شراکت داری کے ذریعے ہر فرد کو بیدار کیا جا رہا ہے۔ ٹی بی کی بروقت جانچ کی جا رہی ہے اور مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں ٹی بی کے علاج کی کوریج 90 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔ گزشتہ برس جاری ہونے والی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق دس برسوں کے اندر اندر ٹی بی کے انفیکشن میں بھی 21 فیصد کمی آئی ہے۔ان کوششوں کا سب سے بڑا فائدہ ملک کے غریب طبقے کو ہو رہا ہے، ہمارے متوسط طبقے کو بھی اس کا فائدہ مل رہا ہے اور ہماری ماؤں اور بہنوں کو اس سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ کیونکہ مائیں اور بہنیں اکثر خاندان کے کاموں کو ترجیح دیتی ہیں۔ بیماری کو برداشت کرنا بھی جیسے ماؤں اور بہنوں نے اپنی عادت بنا لی تھی، لیکن ان فعال کوششوں کی وجہ سے ماؤں اور بہنوں کی جانچ کی گئی، ان کی دیکھ بھال کی گئی اور آج ٹی بی سے نجات حاصل کرنے والوں میں ہماری ماؤں اور بہنوں کی تعداد بھی بڑی ہے۔ ہندوستان میں صحت کی خدمات اب کوئی خصوصی سہولت نہیں رہیں، بلکہ آج صحت کی خدمات ملک کے عام شہری کا حق بنتی جا رہی ہیں۔
ساتھیو،
صحت کے شعبے پر حکومت کی توجہ سے ہندوستان کے نوجوانوں کو بھی بہت بڑا فائدہ پہنچا ہے۔ ہمارے نوجوان ڈاکٹر اس بات سے واقف ہوں گے کہ پہلے ڈاکٹر بننے کا خواب کتنا مشکل ہوا کرتا تھا۔ نوجوانوں کو ڈاکٹر بننے کے مناسب مواقع ہی نہیں ملتے تھے، کیونکہ میڈیکل نشستوں اور میڈیکل کالجوں کی تعداد بہت کم تھی۔ ہم نے اس صورتحال کو بھی تبدیل کیا ہے۔آج ملک میں میڈیکل کالجوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ ایم بی بی ایس اور پوسٹ گریجویٹ نشستوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اب چنڈی گڑھ پی جی آئی میں بھی ایم بی بی ایس کالج کے قیام کو منظوری دے دی گئی ہے۔ جلد ہی یہاں داخلے بھی شروع ہو جائیں گے۔ اس سے ملک کے کتنے ہی باصلاحیت نوجوانوں کو ایسے اعلیٰ درجے کے ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ ملک کو بڑی تعداد میں بہترین ڈاکٹرز ملیں گے۔
ساتھیو،
چنڈی گڑھ ایک ایسا شہر ہے ،جہاں تعلیم، انجینئرنگ، طبی سائنس اور تحقیق سے متعلق بڑے ادارے ایک ساتھ موجود ہیں۔ بہت کم شہروں میں ایسی خصوصیات ہوتی ہے۔ آنے والے وقت میں یہی ادارے نئی ٹیکنالوجی، صحت کی سہولیات، اسٹارٹ اپس اور جدت طرازی کے بڑے مراکز بن سکتے ہیں۔ آج تعلیم سے متعلق کئی اہم منصوبے بھی اس سفر کو نئی رفتار دے رہے ہیں۔پنجاب انجینئرنگ کالج میں کروکشیتر بوائز ہاسٹل اینڈ میس کا افتتاح کیا گیا ہے۔ سیکٹر-46 کے گورنمنٹ کالج کے لیے نیا ہاسٹل بھی تیار کیا گیا ہے۔ ریسرچ اسکالرز ہاسٹل کا سنگِ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو تحقیق کے لیے بہتر لیبارٹریز اور بہتر اساتذہ دستیاب ہوں۔ جب تحقیق کا ماحول بہتر اور مضبوط ہوگا تو جدت طرازی کو بھی تیزی ملے گی۔مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر، جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیپ ٹیک جیسی تمام ٹیکنالوجیز میں ہمیں ہندوستان کو آگے لے کر جانا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ چنڈی گڑھ کے تعلیمی ادارے، یہاں کے اساتذہ اور نوجوان اس سمت میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ساتھیو،
بنیادی ڈھانچے کی ترقی کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا نقشۂ راہ ہوتی ہے۔ اسی لیے پہلی بار ملک میں بنیادی ڈھانچے کو ایک جامع نقطۂ نظر کے ساتھ ترقی دی جا رہی ہے۔ آج چنڈی گڑھ میں رابطے کے شعبے سے متعلق بھی کئی اہم منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے۔آئی ٹی سٹی سے کُرالی تک چھ لین والے گرین فیلڈ ہائی وے کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس سے ایئرپورٹ روڈ پر دباؤ کم ہوگا اور موہالی اور کھرڑ کے لوگوں کو ٹریفک جام سے راحت ملے گی۔ امبالہ-چنڈی گڑھ گرین فیلڈ ہائی وے سے ’پی آر سیون اسپَر‘ کی بنیاد بھی رکھی گئی ہے۔ ایسے تمام ترقیاتی منصوبوں سے صنعت اور کاروبار کو نئی رفتار ملے گی۔ ہمارے چنڈی گڑھ میں معیار زندگی(ایز آف لیون)میں مزیدبہتری آئے گی۔
ساتھیو،
علاقائی رابطے پر مزیدتوجہ مرکوز کرتے ہوئے آج جالندھر میں ریلوے سے متعلق منصوبوں کا بھی افتتاح ہونے جا رہا ہے۔ اس کا فائدہ پنجاب کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ آج ہریانہ کے جند سےجند-سونپت کے لیے ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین بھی شروع کی گئی ہے۔ صاف ایندھن سے چلنے والی یہ ٹرین ایک بہت بڑی شروعات ہے۔ میں اس کے لیے بھی آپ سب کو اور ملک کے تمام شہریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
وکست بھارت کے سفر میں ہمیں مستقبل کی ٹیکنالوجی، مستقبل کے نقل و حمل کے نظام اور مستقبل کی صحت کی خدمات کے حوالے سے اسی جدید سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہیں ،جن کا فائدہ نہ صرف موجودہ نسل کو ملے ،بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سےمسلسل مستفید ہوتی رہیں۔ ہمیں ایسے ادارے قائم کرنے ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جائیں۔بی جے پی-این ڈی اے حکومت اسی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ میں چنڈی گڑھ، پنجاب، ہریانہ، ہماچل اور پورے خطے کے لوگوں کو ان نئے منصوبوں کے لیے ایک بار پھر بہت بہت مبارکبادپیش کرتا ہوں۔آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
میرے ساتھ بولیے:
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بہت بہت شکریہ۔
*******
ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن
U- 0086
Chandigarh is witnessing a significant boost in healthcare, education and connectivity today. Delighted to launch projects that will benefit people here.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 17, 2026
https://t.co/k5wxtsZ0Q8
Cleanliness is not a one-day activity... it is a way of life. pic.twitter.com/aVgVkfh0tW
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026
When the COVID-19 pandemic struck, India was not a nation seeking help... it was a nation extending help to the world. pic.twitter.com/RT7zRMQ4zb
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026
In India, healthcare is no longer a privilege... it is becoming a right. pic.twitter.com/nO532dcORn
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026