Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیرِ اعظم نے خواتین و اطفال کی ترقی سے متعلق قومی محکمانہ اجلاس کے اختتامی اجلاس کی صدارت کی

وزیرِ اعظم نے خواتین و اطفال کی ترقی سے متعلق قومی محکمانہ اجلاس کے اختتامی اجلاس کی صدارت کی


وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج قبل ازیں سشما سوراج بھون میں خواتین اور اطفال کی ترقی سے متعلق دو روزہ قومی محکمانہ اجلاس کے اختتامی اجلاس کی صدارت کی۔

وزیرِ اعظم کے تصور کردہ محکمانہ اجلاسوں کے سلسلے کے ایک حصے کے طور پر منعقد ہونے والے اس اجلاس میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں غذائیت اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت، بچوں کا تحفظ، خواتین کی سلامتی اور بااختیاری، نیز مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل کے ذریعے خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے جیسے موضوعات پر مرکوز تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کو سراہا اور مرکز اور ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون سے فیصلے کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ریاستیں اس نمونے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ نگر پالیکا اور مہانگر پالیکا کی سطح پر بھی اسی طرح کے فکری اجلاس منعقد کر سکتی ہیں۔ انہوں نے آنگن واڑی کارکنوں کے لیے الگ سے خصوصی فکری اجلاس منعقد کرنے کی تجویز بھی دی، تاکہ وہ اپنے تجربات، اختراعی طریقوں اور عملی میدان میں اختیار کیے جانے والے مؤثر حل ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکیں۔

عوامی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ آنگن واڑی مرکز کو محض ایک الگ تھلگ ادارے کے طور پر کام نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے عوامی شرکت کا مرکز بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز کے آس پاس رہنے والے خاندانوں کو بھی خصوصی مواقع پر بچوں کے لیے غذائیت سے بھرپور کھانے، کھلونے اور مقامی ضروریات کے مطابق دیگر اشیا فراہم کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔

وزیرِ اعظم نے جامعات اور تعلیمی اداروں کو آنگن واڑی مراکز کے ساتھ زیادہ گہرائی سے وابستہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اپنے قریبی آنگن واڑی مراکز کو گود لے سکتی ہیں اور ان کے سماجی اثرات کا مطالعہ کر سکتی ہیں۔ اس سے طلبہ کو اپنا تعاون پیش کرنے کے مواقع ملیں گے اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے مفید معلومات بھی حاصل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ طبی طلبہ، قومی خدمت اسکیم (این ایس ایس) اور قومی طلبہ فوج (این سی سی) کے رضاکاروں کو بھی اسی طرح آنگن واڑی مراکز اور عوامی فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوعمر لڑکیوں کی صحت، غذائیت اور مجموعی نشوونما پر زیادہ توجہ دینے کی اپیل بھی کی۔

وزیرِ اعظم نے خواتین کے تحفظ سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ بچوں کے لیے ان کی عمر کے مطابق خواتین کے تحفظ، وقار اور بااختیاری کے موضوعات پر تعلیمی مواد تیار کیا جائے۔ انہوں نے مختلف محکموں کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے احتیاطی اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔

صفائی، صحت اور غذائیت کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ملک بھر کے خواتین و اطفال کی ترقی کے محکموں سے اپیل کی کہ وہ صفائی مہم کی ذمہ داری فعال طور پر سنبھالیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اچھی صحت اور غذائیت کا آغاز صفائی سے ہوتا ہے اور آنگن واڑی مراکز نیز ان کے آس پاس کی آبادیاں اس طرزِ عمل میں تبدیلی کو فروغ دینے کے اہم مراکز بن سکتی ہیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ’مقامی مصنوعات کو فروغ دو‘ اور ’ایک ضلع، ایک مصنوعات‘ (او ڈی او پی) جیسی قومی مہمات کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے اجتماعی گروہ اور سماجی ادارے مقامی مصنوعات، روزگار کے ذرائع اور معاشی بااختیاری کو مضبوط بنانے میں اہم شراکت دار بن سکتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت اور ریاستوں میں اس کے متعلقہ محکموں کے سپرد معاشرے کے سب سے بڑے اور اہم طبقوں میں سے ایک سے وابستہ ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج آنگن واڑی مراکز میں جن بچوں کی پرورش کی جا رہی ہے، وہی آگے چل کر ایسے نوجوان اور شہری بنیں گے جو ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کریں گے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4942