بھارت ماتا کی جے
بھارت ماتا کی جے
گجرات کے مقبول وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، نائب وزیر اعلیٰ بھائی ہرش سنگھوی جی، اسمبلی کے اسپیکر جناب شنکر بھائی چودھری، گجرات حکومت کے تمام وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی، دیگر عوامی نمائندوں، بھائیو اور بہنو!
آج ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کے تمام اضلاع کے کسان بھی ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ آج ٹیکنالوجی کے ذریعے گجرات کے ہر گاؤں کے کسان بھی ہمارے ساتھ وابستہ ہیں۔ مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزراء بھی آج کسانوں کے اس اہم پروگرام میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ میں ان سب کا بھی تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہوں۔
آج بناس کانٹھا نے اپنی دھاک جما دی ہے۔ ابھی اسکرین پر دیکھ رہا تھا کہ شاید دنیا میں اتنا بڑا کھاٹلا سبھا (چارپائیوں پر منعقد ہونے والا اجتماع) کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ ملک کے لوگوں کے لیے بھی یہ ایک حیرت انگیز منظر ہوگا کہ اس سبھا میں تمام لوگ چارپائیوں پر بیٹھے ہیں۔ ہمارے گاؤں کی اس عظیم روایت کو آج بناس کانٹھا نے زندہ کر دیا ہے۔ اگر آپ نے پہلے ہی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ والوں کو اس بارے میں مطلع کر دیا ہوتا تو وہ یقیناً آج اسے ایک ریکارڈ کے طور پر درج کر لیتے۔ ابھی یہاں اس کا ذکر بھی کیا گیا۔
آپ لوگوں نے مجھے جو ذمہ داری سونپی تھی، اسے نبھاتے ہوئے آج 25 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اور اتفاق دیکھیے کہ 25 سال مکمل ہونے کے بعد میرا پہلی بار بناس کانٹھا آنا ہوا ہے۔ میں آپ لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 2001 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد میرا پہلا سب سے بڑا عوامی پروگرام ڈیسا میں منعقد ہوا تھا۔ وہ عوامی فلاح و بہبود میلہ تھا، جو بزرگوں کو یاد ہوگا۔ اور وہ پروگرام شاید تاریخی ثابت ہوا تھا۔ ایک ہی ضلع سے اس پروگرام میں تین لاکھ لوگ شریک ہوئے تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ آج تک کسی نے اس ریکارڈ کو توڑا ہو۔ یہ ریکارڈ بناس کانٹھا کے نام درج ہے۔ جہاں سے اس سفر کا آغاز کیا تھا، وہیں آج مجھے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کا حساب پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔
نوراتری کے چند ہی دن بعد ماں امبا کی اس مقدس سرزمین پر آنے کا موقع ملا ہے۔ میں ماں امبا کے قدموں میں عقیدت کے ساتھ سر جھکاتا ہوں۔ تھوڑی دیر پہلے یہاں خواتین، بچوں، کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور ان کا افتتاح کیا گیا۔ ملک کے کروڑوں چھوٹے کسانوں کے کھاتوں میں پی ایم کسان سمان ندھی کی نئی قسط بھی پہنچ گئی ہے۔ میں گجرات کے لوگوں، ملک کے باشندوں اور پورے ملک کے کسانوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں۔
ساتھیو!
سب سے پہلے تو مجھے گجرات اور بناس کانٹھا کے لوگوں سے معذرت کرنی ہے کہ مجھے ہندی میں بولنا پڑے گا، کیونکہ ملک بھر کے لوگ بھی اس پروگرام سے جڑے ہوئے ہیں۔ تو آپ کی اجازت ہے نا کہ میں ہندی میں بات کروں؟ شاباش!
ساتھیو!
ہمارے کسان، ہمارے اَنّ داتا، وکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان )کے سب سے مضبوط ستونوں میں سے ایک ہیں اور ہماری حکومت نے ہمیشہ کسانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کو ترجیح دی ہے۔ 2013-14 کے مقابلے میں ملک کا زرعی بجٹ اب پانچ گنا سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ پی ایم کسان سمان ندھی اب کروڑوں چھوٹے کسانوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ آج تقریباً 10 کروڑ کسانوں کے کھاتوں میں 18 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھیجی گئی ہے۔ گجرات کے 50 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو بھی اس کا فائدہ ملا ہے۔ ان کے کھاتوں میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ جمع ہوئے ہیں۔ یہاں بناس کانٹھا کے لاکھوں کسان خاندانوں کے کھاتوں میں بھی تقریباً 50 کروڑ روپے پہنچے ہیں۔
ساتھیو!
گزشتہ برسوں کے دوران ہماری حکومت کی پالیسیوں کی بدولت کسانوں کو 50 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ملی ہے یا ان کی اتنی بچت ہوئی ہے۔ جی ہاں، 50 لاکھ کروڑ روپے! میں آپ کو صرف پانچ اسکیموں کی مثال دوں گا۔ پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت تقریباً ساڑھے چار لاکھ کروڑ روپے براہ راست چھوٹے کسانوں کے بینک کھاتوں میں پہنچے ہیں۔بہن، تم نے تو مجھے مات دے دی۔ مجھے لگا تھا کہ تم تھوڑی دیر میں بیٹھ جاؤ گی، تمہارے ہاتھوں میں درد ہونے لگے گا۔ ہمارے ایس پی جی کے اہلکاروں سے گزارش ہے کہ یہ بیٹی سرس فوٹو بناکرلائی ہے، اس سے لے لیجیے، ورنہ ہاتھ اوپر اٹھائے رکھنے سے وہ تھک جائے گی۔ یہاں سے لے لیں گے بیٹا، یہاں سے وہاں آئیں گے،تم یہیں کھڑی رہو۔ ذرا ایس پی جی کے اہلکار جا کر اسے لے لیں۔آزادی کے بعد کبھی ان چھوٹے کسانوں کی ضروریات کو نہیں سمجھا گیا، کبھی ان کی خبر نہیں لی گئی، حالانکہ ملک میں چھوٹے کسانوں کی تعداد 85 فیصد سے زیادہ ہے۔ ہمارے ملک میں چھوٹے کسانوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ ایسے چھوٹے کسانوں کی فکر ہماری حکومت نے ہی کی اور انہیں پی ایم کسان سمان ندھی کے ذریعے مدد پہنچائی۔
ساتھیو!
گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی سطح پر غیر یقینی صورت حال کے باعث کھاد کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، لیکن کسانوں کے لیے وقف ہماری حکومت نے اس کا بوجھ کسانوں پر نہیں پڑنے دیا۔ اس پر حکومت نے تقریباً 16 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ آپ لوگوں کو کھاد سستی ملے، اس کے لیے سرکاری خزانے سے 16 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے پڑے، تاکہ آپ پر اس کا بوجھ نہ پڑے۔
ساتھیو!
پہلے کی حکومتیں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے معاملے میں بھی کسانوں کو دھوکا ہی دے رہی تھیں، لیکن یہ ہماری حکومت ہے جس نے ایم ایس پی سے متعلق اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں گیہوں اور دھان کے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت کے طور پر 24 لاکھ کروڑ روپے ملے ہیں۔ جی ہاں، 24 لاکھ کروڑ روپے کسانوں کے کھاتوں میں پہنچے ہیں۔
ساتھیو!
ہماری حکومت نے پی ایم فصل بیمہ یوجنا کے ذریعے کسانوں کو ایک نہایت مضبوط حفاظتی ڈھال فراہم کی ہے۔ ہم نے کسانوں کے لیے فصل بیمہ اسکیم بڑے پیمانے پر شروع کی۔ گزشتہ 10 سے 12 برسوں میں کسانوں کو فصل کے نقصان کے معاوضے کے طور پر بھی 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مل چکے ہیں۔ یعنی جب فصلوں کو نقصان پہنچا تو بیمے کے معاوضے کے طور پر 2 لاکھ کروڑ روپے کسانوں تک پہنچے۔ ہماری مسلسل کوشش ہے کہ کسانوں کی آب پاشی پر آنے والی لاگت بھی کم ہو۔ اس میں پی ایم کُسُم یوجنا کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک تقریباً 12 لاکھ شمسی پمپ فراہم کیے جا چکے ہیں۔ جی ہاں، پانی نکالنے کے لیے کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے 12 لاکھ پمپ دیے گئے ہیں۔ اس سے بجلی اور ڈیزل کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ اگر یہ شمسی پمپ نہ ملے ہوتے تو کسانوں کو 80 کروڑ لیٹر سے زیادہ ڈیزل خریدنا پڑتا۔ یعنی اس پر جو رقم خرچ ہوتی، اس کی بچت لاکھوں کسانوں کو ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، ان پمپوں سے جو اضافی بجلی پیدا ہوئی، وہ الگ ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو صرف ان پانچ اسکیموں یا فیصلوں کی بدولت ملک کے کسانوں کو 50 لاکھ کروڑ روپے کے برابر کی بچت ہوئی ہے یا یہ رقم ان کے کھاتوں میں جمع ہوئی ہے۔ 50 لاکھ کروڑ روپے کا یہ اعداد و شمار بہت بڑا ہے۔ ان 50 لاکھ کروڑ روپے نے ملک کے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے اور ہندوستان میں زراعت کی صلاحیت کو بڑھایا ہے۔
ساتھیو!
زراعت ہمارے ملک کی روایت بھی ہے، زراعت ہماری ثقافت بھی ہے۔ زراعت ہماری تہذیب کا حصہ ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں ہماری حکومت نے زراعت میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو بھی بڑے پیمانے پر شامل کیا ہے۔ ہم نے کھیتی باڑی اور مویشی پروری کو سائنسی طریقوں سے جوڑا ہے۔ مٹی کی صحت سے متعلق کارڈ اس کی بہترین مثال ہے۔ پہلے کسانوں کو یہ معلوم کرنے میں دشواری ہوتی تھی کہ ان کے کھیت کو کس کھاد کی ضرورت ہے اور کتنی مقدار میں ضرورت ہے۔ مٹی کی صحت سے متعلق کارڈ نے اس مسئلے کا حل فراہم کیا ہے۔ آج ملک کے کسانوں کے پاس 26 کروڑ سے زیادہ مٹی کی صحت سے متعلق کارڈ موجود ہیں۔ ان کے ذریعے کھیتی باڑی کے طریقوں میں جدیدیت آئی ہے۔
ساتھیو!
موسم میں ہونے والی تبدیلی کسانوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسی لیے ہماری کوشش ہے کہ کسانوں کو مسلسل بیجوں کی نئی اقسام دستیاب کرائی جائیں، جو بدلتی ہوئی آب و ہوا کے مطابق ہوں۔ گزشتہ برسوں کے دوران بیجوں کی تقریباً تین ہزار نئی اقسام کسانوں کو فراہم کی گئی ہیں۔
ساتھیو!
مویشی پروری ہماری دیہی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے اور اس میں ہماری بہنوں کی بہت بڑی شراکت ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران ہم نے مویشی پروری اور ڈیری کے شعبے میں بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے، کیونکہ مویشیوں کی نسل بہتر ہوگی تو دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ ابھی شنکر بھائی بتا رہے تھے کہ جتنا دودھ چار گایوں سے حاصل ہوتا ہے، ہماری کوشش ہے کہ اتنا ہی دودھ ایک گائے سے حاصل ہو۔ مویشیوں کو وقت پر ٹیکے لگیں گے اور علاج کی سہولت ملے گی تو بیماریوں سے ہونے والا نقصان کم ہوگا۔ یعنی مویشی صحت مند ہوں گے تو میرے مویشی پالنے والے بھائی بہنوں کی آمدنی بھی بڑھے گی۔
ساتھیو!
آپ راشٹریہ گوکل مشن کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس مشن کے تحت دیسی نسلوں کے تحفظ اور سائنسی طریقے سے افزائش نسل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ بناس کانٹھا میں قائم کیا گیا نیا تحقیقی مرکز اس مشن کو مزید مضبوط بنائے گا۔ یہاں گیر، ساہیوال اور کانکریج جیسی دیسی گایوں اور مہسانہ، مرّہ اور جعفرآبادی جیسی بھینسوں کی نسلوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی نسلوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی بہت بڑا کام کیا جائے گا۔ کانکریج نسل کے لیے تو یہ ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی سہولت ہے۔ اسے ایک مثال سے سمجھیے، اگر کسی کسان کے پاس اچھی نسل کی ایسی گائے ہے جو زیادہ دودھ دیتی ہے اور کم خرچ میں صحت مند رہتی ہے تو وہ چاہے گا کہ گائے کی آئندہ نسل میں بھی یہ خوبیاں برقرار رہیں۔ مصنوعی بارآوری کی جدید تکنیک (آئی وی ایف) اس میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس سے اچھی نسل کی خصوصیات اگلی نسل تک منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کا براہ راست فائدہ مویشی پالنے والوں کو ہوگا۔
ساتھیو!
مویشیوں کو بیماریوں سے بچانا بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ کھرپکا اور منہ پکا کی بیماری سے مویشیوں کی صحت اور دودھ کی پیداوار، دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے ملک بھر میں مفت ٹیکہ کاری کی مہم شروع کی۔ اب تک مویشیوں کو تقریباً ڈیڑھ سو کروڑ ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔ 8 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے مویشیوں کو مفت ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ اس سے مویشی پالنے والوں پر خرچ کا بوجھ بھی کم ہوا ہے۔
ساتھیو!
ان کوششوں کے اثرات دودھ کی پیداوار میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ 2013-14 میں ایک گائے یا بھینس سے روزانہ اوسطاً 5 لیٹر سے بھی کم دودھ حاصل ہوتا تھا۔ جب آپ لوگوں نے مجھے دہلی بھیجا تھا، یہ اُس وقت کی بات ہے۔ ایک دن میں پانچ لیٹر سے بھی کم دودھ! آج یہ اوسط بڑھ کر تقریباً 8 لیٹر ہو گئی ہے۔ پورے ملک میں اوسط پیداوار 8 لیٹر ہے۔ دودھ کی پیداوار میں فی مویشی حاصل ہونے والے دودھ کی شرح بڑھنے کی رفتار دنیا میں سب سے تیز ہندوستان کی ہے۔ دودھ کی پیداوار کے معاملے میں ہندوستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کا فائدہ دیہی علاقوں کو پہنچا ہے اور کسان خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
ساتھیو!
ہم چاہتے ہیں کہ مویشی پالنے والوں کی آمدنی دودھ کے ساتھ ساتھ گوبر سے بھی بڑھے۔ گوبر اور کھیتی کے باقیات سے حیاتیاتی گیس، حیاتیاتی سی این جی اور نامیاتی کھاد تیار کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ قائم کیا جا رہا ہے۔ اس میں بناس ڈیری جیسے اداروں کا اہم کردار ہے۔ آج یہاں دو بایو- سی این جی کارخانوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ ہمارا مقصد بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ مویشی صحت مند ہوں، دودھ کی پیداوار بڑھے اور گوبر کا بھی بھرپور استعمال ہو۔ ہم مویشی پروری کو محض ایک روایت نہیں، بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور دیہات کو خوشحال بنانے کا ایک مضبوط ذریعہ بنا رہے ہیں۔ ابھی جب میں تمام بہنوں سے بات کر رہا تھا تو بہنوں نے بتایا کہ ہم دو کروڑ روپے کا دودھ فراہم کرتی ہیں۔ دو کروڑ روپے کا دودھ! اور جب میں نے پوچھا کہ آپ کتنی پڑھی لکھی ہیں تو انہوں نے کہا کہ چار کتابیں پڑھی ہیں، اور دو کروڑ روپے کا دودھ فراہم کرتی ہیں۔
ساتھیو!
گزشتہ برسوں کے دوران ہم نے دیہات کی خوشحالی کے لیے جامع نقطۂ نظر اپناتے ہوئے ہر شعبے میں ہمہ گیر انداز سے کام کیا ہے۔ آپ ماہی پروری کے شعبے ہی کو دیکھیے، اس میں کتنی وسعت آئی ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ہندوستان سے سمندری خوراک کی برآمدات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ ہمارے سمندر کے ساحلی علاقوں کے ماہی گیر سمندر میں جا کر مچھلی اور جھینگے پکڑتے ہیں اور انہیں فروخت کرتے ہیں۔ آج اس شعبے نے بہت بڑی چھلانگ لگائی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس کی مانگ بڑھی ہے۔ ماہی پروری کے شعبے میں امداد باہمی / کو آپریٹیو کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
ساتھیو!
ایک اور شعبہ ہے، جس نے ہمارے کسانوں کو آمدنی کا ایک اور ذریعہ فراہم کیا ہے۔ یہ شعبہ شہد کی مکھیوں کی پرورش کا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں شہد کی پیداوار دوگنی ہو گئی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں بناس کانٹھا آیا تھا تو آپ سب سے اپیل کی تھی کہ ہمیں میٹھا انقلاب برپا کرنا ہے، شہد کی پیداوار میں انقلاب لانا ہے۔ آج بناس کانٹھا شہد کی پیداوار میں نئے ریکارڈ قائم کرنے لگا ہے۔ ابھی جب میں نے بہنوں سے ملاقات کی تو انہوں نے بتایا کہ ہم 35 لاکھ روپے کا شہد فروخت کرتی ہیں۔ آپ کو یہ جان کر فخر ہوگا کہ ہمارا ملک قدرتی شہد کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا ہے۔ شہد کی پیداوار میں آنے والے اس انقلاب میں ہماری بہنوں کے خود امدادی گروپوں کا تعاون بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ساتھیو!
چند روز پہلے، 7 اکتوبر کو، مجھے حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے عوام کی خدمت کرتے ہوئے 25 سال مکمل ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ او ہو-ہو، یہ تو کل کی ہی بات ہے! جب 7 اکتوبر 2001 کو میں نے پہلی بار حلف لیا تھا، تب آپ نے اپنے نریندر بھائی کو بے پناہ محبت دی تھی، مجھ پر بہت پیار نچھاور کیا تھا۔ آج یہاں مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔ ملک بھر میں جو چل رہا ہے، وہ تو چلتا رہے گا، لیکن یہاں ہمارے شنکر بھائی نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب، وزیر اعظم صاحب، آپ ہی بتائیے، کیا یہ خطاب میرے گلے سے اترے گا؟ ہمیں تو عادت ہے کہ ہمارے نریندر بھائی، کون آیا ہے بھئی، ہمارے نریندر بھائی! کیا اس طرح کہنا اچھا لگے گا یا نہیں؟ ارے، وزیر اعظم اور صاحب کہنے میں کیا مزہ آئے گا! اور جب گجرات کے میرے بھائی مجھے پیار سے ہمارے نریندر بھائی کہتے ہیں تو میرا سینہ فخر سے بھر جاتا ہے۔ محبت سے بڑھ کر، گجرات کے ایک ایک باشندے نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے، مجھے صحیح راستے پر چلنے کی رہنمائی کی ہے اور تحریک دی ہے۔ اُس وقت میں سرکاری دفاتر، حکومت اور فائلوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کو، جس کی نسلوں نے کبھی گاؤں کا سربراہ بننے کا خواب تک نہیں دیکھا تھا، آپ نے اس قابل سمجھا۔ آپ نے پہلے گجرات اور پھر ملک کی خدمت کی ذمہ داری مجھے سونپی۔ ابھی جب میں بہنوں سے بات کر رہا تھا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کے ذہن میں ایسے خیالات کیسے آئے؟ جیوتی گرام، پانی لانے، قدرتی کھیتی اور مویشیوں کے لیے یہ سب کام کرنے کے خیالات کیسے آئے؟ یہ سب آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟ میں نے کہا کہ اس میں کوئی نیا حساب کتاب نہیں ہے، یہ سب آپ ہی لوگوں نے مجھے سکھایا اور میں نے وہاں جا کر اسے عملی جامہ پہنایا۔
ساتھیو!
میں صرف دو ہی باتیں جانتا تھا—عوام کی خدمت کے ذریعے ملک کی خدمت اور گجرات کی ترقی کے ذریعے ملک کی ترقی۔ باقی، یہ سب کیسے کرنا ہے اور کس طرح آگے بڑھنا ہے، یہ آپ ہی لوگوں نے مجھے سکھایا ہے۔ میں ملک کے لیے جو کچھ بھی کر سکا ہوں، اس کا سہرا تمام اہلِ وطن اور آپ سبھی کو جاتا ہے۔ اس کے لیے میں زندگی بھر آپ کا احسان مند رہوں گا، زندگی بھر آپ کا قرض دار رہوں گا۔ اور زندگی کے آخری لمحے تک آپ کی خدمت میں ہی مصروف رہوں گا۔ آخری سانس تک خدمت، خدمت اور خدمت—اہلِ وطن کی خدمت، آپ سب کی خدمت۔
ساتھیو!
یہاں موجود بڑی عمر کے ساتھیوں کو پرانی باتیں آج بھی یاد ہوں گی۔ 25 سال پہلے جب میں یہاں آتا تھا تو اس وقت یہاں بجلی اور پانی کی کتنی قلت تھی۔ میں تب بھی کہا کرتا تھا کہ ہمیں بجلی اور پانی بچانا ہوگا۔ کسان میرے خلاف احتجاج کرتے تھے کہ مودی کون ہوتا ہے ہمیں یہ کہنے والا کہ پانی بچاؤ، اور ہمیں بجلی نہیں دے گا۔ میں آپ سے مسلسل بحث کرتا رہا، آخرکار آپ نے میری بات مان لی۔ اور آج، آج دیکھیے کہ ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ آج وہ پرانے مسائل صرف یادوں کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں۔ آج میں آپ سے پھر وہی بات کہوں گا کہ پانی بھی بچانا ہے اور بجلی بھی بچانی ہے۔
ساتھیو!
نرمدا کے پانی اور ٹپک آب پاشی جیسی جدید تکنیک نے بناس کانٹھا کی تصویر بھی بدل دی ہے اور اس کی تقدیر بھی بدل دی ہے۔ بناس کانٹھا کے آلو آج دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اب کوئی بناس کانٹھا کے لوگوں کے پاس آ کر یہ نہیں کہے گا کہ میں آلو سے سونا بناؤں گا، وہ تو کہیں گے کہ ہم پہلے ہی یہ کر رہے ہیں۔ یہاں بناس ڈیری جیسا امدادباہمی کا ایک برانڈ موجود ہے، جو کاشی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی امدادباہمی کی تحریک کو وسعت دے رہا ہے۔ میں بناس ڈیری کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں، کیونکہ میری کاشی میں بھی آپ کے تجربے اور خدمات کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اب تو فرنچ فرائز بنانے والے آلو کے کارخانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے آلو کی زیادہ خریداری ممکن ہو سکے گی۔ یہ آلو کے کسانوں کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔
ساتھیو!
پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام چلایا جا رہا ہے۔ اس کے تحت آج 12 کلسٹروں کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ کلسٹر ٹماٹر، آلو، مرچ، انگور، کیلا، پیاز، سنترہ، انار اور کوکو جیسی پھلوں اور سبزیوں کی فصلوں سے متعلق ہیں۔ اس پروگرام کے تحت کسانوں کو نئے باغات لگانے اور پرانے باغات کی تجدید و بحالی کے لیے تیار کیا جائے گا اور اس پورے منصوبے کے لیے سبسڈی بھی دی جائے گی۔ شمالی گجرات کو جو دو کلسٹر ملے ہیں، ان سے بناس کانٹھا اور سابَر کانٹھا کے آلو کے کسانوں کو بہت فائدہ ہوگا۔
ساتھیو!
آج گجرات کی ترقی سے متعلق کئی دیگر منصوبوں کا بھی سنگِ بنیاد رکھا گیا اور افتتاح کیا گیا ہے۔ آج گجرات کو احمد آباد-وارانسی سابرمتی ایکسپریس ٹرین اور مہسانہ-بےچارجی-سابرمتی میمو ٹرین، یہ دو نئی ریل خدمات ملی ہیں۔ دونوں ہی ریل رابطے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ احمد آباد میٹرو سروس میں بھی توسیع کی جا رہی ہے۔ آج گفٹ سٹی اور ہوائی اڈے کو جوڑنے والے میٹرو منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ احمد آباد-مہسانہ شاہراہ اب چار لین سے بڑھا کر آٹھ لین کی کی جانے والی ہے۔
ساتھیو!
آج گجرات کے بچوں کے لیے 4 ہزار سے زیادہ جدید آنگن واڑی مراکز کا بھی افتتاح کیا جا رہا ہے۔ ان سے تقریباً 4 لاکھ بچوں اور حاملہ خواتین کو فائدہ پہنچے گا۔
ساتھیو!
ترقی کی ایسی ہر کوشش ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے ہے۔ آج ملک کا ہر کسان، ہر نوجوان، ہر بہن اور بیٹی ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو یہ بات اچھی نہیں لگ رہی، کچھ لوگوں سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ اور یہ ایسے لوگ ہیں جو ملک کو مشکلات میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ملک پر کوئی بحران آئے تو انہیں خوشی ہوتی ہے۔ جب ملک پر مصیبت آتی ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں۔
ساتھیو!
اس کی تازہ مثال ایران اور خلیجی ممالک کے آس پاس جاری جنگ ہے۔ ایک طرف ہندوستان متحد ہو کر اس صورت حال کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے، تو دوسری طرف یہ لوگ افواہیں پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ افواہیں پھیلائی گئیں، کسانوں کو کھاد کی قلت کا خوف دلایا گیا کہ کھاد نہیں ملے گی۔ مصنوعی طور پر قطاریں لگوائی گئیں اور ماحول خراب کیا گیا۔ بہنوں کو ڈرایا گیا کہ اب گیس نہیں ملے گی، کھانا کیسے پکاؤ گی، بچے اسکول کیسے جائیں گے۔ ان کا منصوبہ ملک میں افراتفری پھیلانے کا تھا، تاکہ یہ مودی کو بدنام کر سکیں۔
ساتھیو!
میں ملک کے کسان بھائیوں اور بہنوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں نے کہا تھا کہ مودی پوری مضبوطی کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ اور آپ دیکھیے، یہ جنگ آج بھی جاری ہے، لیکن مودی نے کسانوں کے لیے کھاد کی کوئی کمی نہیں ہونے دی، کھاد کی قلت پیدا نہیں ہونے دی۔
ساتھیو!
اس جنگ کے باعث دنیا بھر میں کھاد کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ کھاد تیار کرنے میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں کی قیمتوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن حکومت نے اس کا بوجھ بھی کسانوں پر نہیں پڑنے دیا۔ دنیا میں یوریا کی ایک بوری کی قیمت 3 ہزار روپے ہے، جبکہ ہندوستان کے کسانوں کو وہی بوری 300 روپے سے بھی کم میں ملتی ہے۔ دنیا میں یوریا کی ایک بوری کی قیمت 3 ہزار روپے ہے، اس کا پورا بوجھ حکومت اپنے کندھوں پر اٹھاتی ہے اور آپ کو وہی بوری 300 روپے میں فراہم کرتی ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت تو دنیا میں 5 ہزار روپے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، لیکن ہندوستان کے کسانوں کو وہی بوری 1350 روپے میں مل رہی ہے۔ ملک یہ مدد اس لیے کر رہا ہے تاکہ ہمارے کسان بااختیار ہوں اور ان کی زندگی بہتر ہو۔
ساتھیو!
غیر یقینی صورت حال سے بھری دنیا میں ہندوستان کی تیز رفتار ترقی پوری دنیا کے لیے ایک نئی امید ہے۔ ایسے میں ہمیں ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے راستے پر مسلسل آگے بڑھنا ہے۔ اور کل، یعنی 31 اکتوبر، اس عزم کو مضبوط کرنے کا دن ہے۔ کل سردار ولبھ بھائی پٹیل کا یوم پیدائش ہے، قومی یوم اتحاد ہے۔ کل سردار صاحب کی سالگرہ ہے اور پورا ملک قومی یوم اتحاد منائے گا۔ اس دن پورے ملک میں اتحاد کی دوڑ(رن آف یونیٹی) کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ابھی ہر طرف سے خبریں آ رہی ہیں کہ اتحاد کی دوڑ کے لیے کس طرح شاندار تیاریاں کی گئی ہیں۔ میں تمام اہل وطن، بالخصوص اپنے نوجوان ساتھیوں سے اپیل کروں گا کہ وہ کل صبح اتحاد کی دوڑ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
ساتھیو!
ہر سال 31 اکتوبر کی صبح ایکتا نگر میں اتحاد کا تہوار منایا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس بار اتحاد کی دوڑ اور دیگر پروگراموں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تقریب صبح کے بجائے شام کو منعقد کی جائے گی۔ اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔ کل شام ساڑھے پانچ بجے ایکتا نگر میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ اتحاد کا تہوار منایا جائے گا۔ کل شام ساڑھے پانچ بجے بڑے پیمانے پر اتحاد کا تہوار منانے جا رہے ہیں۔ آپ لوگ اسے ٹیلی ویژن پر ضرور دیکھیے گا۔ گجرات کی سرزمین پر ایسی پریڈ ہوگی کہ آپ کو 26 جنوری اور دہلی کی یاد آ جائے گی۔ اسے ضرور دیکھیے گا۔ پولیس اور حفاظتی دستوں کی پریڈ ہوگی اور جھانکیاں نکالی جائیں گی۔ میں تمام اہل وطن سے کہوں گا کہ کل شام اس تقریب سے بھی ضرور جڑیں۔ کشمیر سے کنیا کماری تک، کچھ سے کاماکھیا تک، ہم سب، پورا ملک، سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کریں اور ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے عزم کو دہرائیں۔ اسی اپیل کے ساتھ ایک بار پھر آپ سب کو ترقیاتی کاموں کے لیے دلی مبارک باد۔
آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
وہاں پیچھے بیٹھی بہنیں میری بلائیں لے رہی ہیں۔ ماتا جی، میں آپ کے قدم چھوتا ہوں۔ آپ میری بلائیں لے کر مجھے بہت طاقت دے رہی ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔
بھارت ماتا کی جے!
بھارت ماتا کی جے!
وضاحت: وزیر اعظم کی تقریر کا کچھ حصہ گجراتی زبان میں بھی ہے، جس کا یہاں مفہوم کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔
***
ش ح۔م م ۔ م الف
U. No- 6953
From farms and dairy to infrastructure and connectivity, Banaskantha is making new strides in development. https://t.co/PCTYAW27DN
— Narendra Modi (@narendramodi) October 30, 2026
हमारे किसान, हमारे अन्नदाता, विकसित भारत के सबसे मजबूत स्तंभों में से एक है। और हमारी सरकार ने हमेशा किसानों के कल्याण को, किसानों को सशक्त करने को प्राथमिकता दी है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 30, 2026
पशुपालन हमारी ग्रामीण अर्थव्यवस्था का महत्वपूर्ण अंग है। इसमें हमारी बहनों की बहुत बड़ी भागीदारी है। बीते दशक में हमने पशुपालन और डेयरी सेक्टर में भी विज्ञान और टेक्नोलॉजी के इस्तेमाल पर जोर दिया है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 30, 2026
हम पशुपालन को केवल परंपरा नहीं बल्कि किसान की आमदनी बढ़ाने और गांवों को समृद्ध बनाने का मजबूत साधन बना रहे हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) October 30, 2026
जीवन के अंतिम क्षण तक... आपकी सेवा में ही जुटा रहूंगा: PM @narendramodi in Banaskantha
— PMO India (@PMOIndia) October 30, 2026