Search

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 151ویں یوم پیدائش کے موقع پر قومی یومِ اتحاد کی تقریبات میں شرکت

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 151ویں یوم پیدائش کے موقع پر قومی یومِ اتحاد کی تقریبات میں شرکت


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج گجرات کے ایکتا نگر میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 151ویں یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ قومی یومِ اتحاد کی تقریبات میں شرکت کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے صبح کے روایتی پروگرام کے بجائے شام کو تقریب منعقد کرنے کی تبدیلی کا ذکر کیا۔ انہوں نے گزشتہ شام بھارت پرو پویلین میں پیش کیے گئے شاندار مظاہرے اور آج صبح اتحاد کے عزم کے ساتھ منعقدہ اتحاد کی دوڑ میں لاکھوں شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت کا حوالہ دیا۔

دنیا کے سب سے بلند مجسمے، مجسمۂ اتحاد کی تعمیر میں ملک بھر کے عوام کی اجتماعی شرکت، اس مقام کی منفرد شان اور یومِ اتحاد کے ولولہ انگیز ماحول کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس یادگار کا دورہ کرنے سے ہر ہندوستانی شہری کا دل اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے تئیں گہرے تشکر کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’آزادی کے بعد انہوں نے 550 سے زیادہ نوابی ریاستوں کو متحد کیا اور فولادی عزم کے ساتھ اس ملک کو اتحاد کے دھاگے میں پرو دیا۔‘‘

آزادی اور جمہوریہ کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کسی ملک کو اپنی تقدیر خود سنوارنے کا اختیار دیتی ہے، جبکہ جمہوریہ آئینی حدود کے اندر فیصلے کرنے اور عوام کے تئیں جواب دہی یقینی بنانے کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اتحاد وہ بنیادی قوت فراہم کرتا ہے جو ایک قوم کی حیثیت سے مل کر آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اسی لیے اب ہمارے ملک میں یومِ آزادی، یومِ جمہوریہ اور یومِ اتحاد، تینوں قومی تہوار پورے جوش و خروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔‘‘

ایکتا نگر میں اس سال کی قومی یگانگت پریڈ کے ذریعے قومی اتحاد کے شاندار مظاہرے کا ذکر کرتے ہوئے، جو پولیس اور سلامتی دستوں کی بہادری کے نام وقف تھی، اور ہندوستان کے ورثے اور عزائم کی عکاسی کرنے والی جھانکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یومِ اتحاد محض رسمی تقریبات تک محدود نہیں رہا، بلکہ عوامی شرکت سے تقویت پانے والے قومی فخر کے جشن میں تبدیل ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اس موقع پر میں تمام اہلِ وطن کو قومی یومِ اتحاد کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے قدموں میں عقیدت کے ساتھ اپنا سر جھکاتا ہوں۔‘‘

سردار پٹیل کو تاریخ کی ایک ایسی عظیم شخصیت قرار دیتے ہوئے، جن کے بغیر جدید ہندوستان کا تصور ممکن نہیں، وزیر اعظم نے ملک کی موجودہ جغرافیائی اور سیاسی شکل تشکیل دینے کا سہرا انہیں دیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’تقسیم کے بعد بھی جس شخصیت نے ہمالیہ سے بحرِ ہند تک ہندوستان کو محفوظ رکھا، وہ خود سردار پٹیل تھے۔‘‘

یہ بتاتے ہوئے کہ سردار پٹیل کو کامیابی اس لیے حاصل ہوئی کیونکہ وہ ہندوستان کی فطرت اور شعور کو گہرائی سے سمجھتے تھے، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ اس رہنما نے تنوع کو رکاوٹ نہیں بلکہ قومی اتحاد کی حقیقی بنیاد تسلیم کیا، جس نے ہزاروں برس سے ہندوستانی تہذیب کو برقرار رکھا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اسی قوت کے بل پر ہم نے ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں کو چھوا ہے۔‘‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سردار پٹیل نے ملک کو جغرافیائی اور جذباتی دونوں اعتبار سے متحد کرکے جدید ہندوستان کی بنیاد رکھی، وزیر اعظم نے ملک کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کے آغاز میں ان کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’گجرات میں سومناتھ مندر کی ازسرِ نو تعمیر کے ذریعے انہوں نے ملک کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز بھی کیا۔‘‘

اس سال سومناتھ مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی 75ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ظالموں کے سامنے سینہ سپر ہوکر ایک ہزار برس تک سربلند لہراتے رہنے والے مندر کے پرچم نے ملک بھر میں جاری سومناتھ سوابھیمان پرو (سومناتھ فخرِ خودداری تہوار) کے انعقاد کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اور اس سال ملک اسی جوش و خروش کے ساتھ یہ تہوار بھی منا رہا ہے۔‘‘

قومی اتحاد کی شاندار تقریبات، عالمی سطح پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے وقار، تیز رفتار اقتصادی ترقی اور کاشی وشوناتھ سے رام مندر تک جاری ثقافتی احیا کو ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک اسی راستے پر آگے بڑھ رہا ہے جس کا تصور سردار پٹیل نے کیا تھا۔ جناب مودی نے کہا، ’’اور اس کے لیے یہ ملک ہمیشہ ان کا احسان مند رہے گا۔‘‘

سردار پٹیل کی 150ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں دو سال تک جاری رہنے والی تقریبات کو یاد کرتے ہوئے، جن کے دوران ملک نے کئی اہم عہد کیے تھے، وزیر اعظم نے ان کی 151ویں یومِ پیدائش پر اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان عہدوں کو انتہائی مختصر مدت میں پورا کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ان دو برسوں میں ملک نے کئی غیر معمولی سنگِ میل عبور کیے ہیں۔‘‘

سردار پٹیل کی 150ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ان کے قدموں میں کیے گئے اپنے اس پختہ عہد کو یاد دلاتے ہوئے کہ نکسل ازم اور ماؤ نواز دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے، وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ایک سال کے اندر بائیں بازو کی انتہا پسندی کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نکسل ازم سے متاثرہ اضلاع کی تعداد 2015 میں 126 تھی، جو مارچ 2026 تک گھٹ کر صفر ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں کے خون خرابے سے متاثرہ علاقے اب ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں، جہاں سڑکوں، موبائل نیٹ ورک، اسکولوں اور صحت کی سہولتوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’جن نوجوانوں کو کبھی غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا تھا، ان کے لیے اب تعلیم، روزگار اور آگے بڑھنے کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔‘‘

قومی یومِ اتحاد کی تقریبات میں سابقہ نکسل متاثرہ علاقوں سے آنے والے خاندانوں کا خصوصی مہمانوں کی حیثیت سے خیرمقدم کرتے ہوئے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے امن کے قیام کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے سلامتی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’آج میں ان تمام بہادر جوانوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے ملک کے ان علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ٹھوس قومی کامیابیوں اور حساس طرزِ حکمرانی کے نتیجے میں عوام کا اعتماد بڑھا ہے، جس کی وجہ سے آج ہندوستان پہلے سے زیادہ محفوظ اور پُرعزم ہے۔ انہوں نے آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک کھوکھلے نعروں کے باوجود غربت کے خاتمے کے میدان میں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابی کو اجاگر کیا، جب ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا نعرہ لگانے والے خود اپنی دولت میں اضافہ کرتے رہے۔ انہوں نے عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2024 سے پہلے کے 10 سے 12 برسوں کے دوران 50 کروڑ ہندوستانی غربت سے باہر نکلے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’یعنی پہلے جہاں ہر 100 میں سے 27 افراد شدید غربت کی گرفت میں تھے، آج یہ تعداد گھٹ کر 3 سے بھی کم رہ گئی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ عالمی سطح پر سراہا جانے والا یہ کارنامہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران غریبوں کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کو ترجیح دینے کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے براہِ راست مستفیدین کے کھاتوں میں رقوم کی منتقلی کے شفاف نظام، مفت راشن، مفت طبی سہولتوں، کروڑوں پکے مکانات، بیت الخلاء، دھوئیں سے پاک باورچی خانوں اور وسیع پیمانے پر بیمہ سہولتوں کو یقینی بنایا گیا۔ وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ سماجی تحفظ کا دائرہ 2014 سے پہلے 25 کروڑ سے بھی کم لوگوں تک محدود تھا، جو آج بڑھ کر تقریباً 100 کروڑ شہریوں تک پہنچ گیا ہے۔ سردار پٹیل کا آشیرواد حاصل کرتے ہوئے، جنہیں آج ملک خراجِ عقیدت پیش کر رہا ہے، انہوں نے غربت کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’صرف ایسی ہی کوششوں سے ہم ملک سے غربت کا خاتمہ کریں گے اور اسے ترقی یافتہ ہندوستان بنائیں گے۔‘‘

گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے زیادہ ہنگامہ خیز عالمی دور میں، جب جنگوں، اقتصادی بدحالی، وسائل کی قلت اور رسدی سلسلوں کے متاثر ہونے جیسے مسائل درپیش ہیں، قومی اتحاد کو استحکام اور کامیابی کی ضمانت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستانیوں کا باہمی اتحاد ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے حالیہ بین الاقوامی توانائی بحران کا حوالہ دیا، جس کے باعث کئی ممالک میں ایندھن کی راشن بندی کرنا پڑی اور ہندوستان جیسے کثیر آبادی والے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے شدید مشکلات کی پیش گوئیاں کی جانے لگیں۔ اس دوران ہندوستان مخالف عناصر بھی سرگرم ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سفارتی حکمتِ عملی اور عوام کے باہمی اتحاد، دونوں نے شہریوں کو اس بحران کے اثرات سے محفوظ رکھا۔

وزیر اعظم نے ان تفرقہ انگیز قوتوں سے خبردار کیا جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی سیاسی مایوسی کے بعد کھل کر سامنے آئی ہیں اور سازشیں رچنے، شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے، سوشل میڈیا کو افواہیں پھیلانے اور ہندوستان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خفیہ غیر ملکی ملاقاتوں، ہندوستان مخالف عناصر کی بیرونی پشت پناہی اور ملک کے دشمنوں کی زبان سے ملتے جلتے بیانات جیسے طور طریقوں کو پہچانیں۔ جناب مودی نے خبردار کیا، ’’ہم نے دور دراز علاقوں سے نکسل ازم کا خاتمہ کر دیا ہے، لیکن نظریاتی انتہا پسندوں کا خطرہ ابھی ملک سے پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے اور ملک کو ایسے عناصر کے خلاف ہمیشہ چوکس رہنا ہوگا۔‘‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قومی اتحاد کا عظیم مشن اور ایک مضبوط و اہل ہندوستان کی تعمیر کا سفر ہر طرح کی مشکلات کے باوجود بلاتعطل جاری رہنا چاہیے، وزیر اعظم نے ملک کی آئندہ اہم ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔ ان میں ہندوستان کی سرحدوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا، دراندازی اور آبادیاتی تبدیلیوں کو روکنا اور یکساں شہری قانون کی جانب پیش رفت کرنا شامل ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بڑے عہدوں اور جرأت مندانہ فیصلوں کی راہ میں رکاوٹیں اور طوفان آنا لازمی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ملک ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ اور ’’ترقی یافتہ ہندوستان‘‘ کے غیر متزلزل عزائم سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ملک 2047 کے ہدف کے حصول کے لیے اپنی ہر سانس اور ہر دھڑکن کے ساتھ مسلسل محنت کرتا رہے گا۔ آخر میں وزیر اعظم نے تہوار کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعرے لگائے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ہم محنت کی انتہا تک پہنچیں گے، طوفانوں کا پوری قوت سے مقابلہ کریں گے، لیکن ہماری نگاہ صرف ایک ہدف پر مرکوز رہے گی، 2047 تک ایک مضبوط اور اہل ہندوستان کی تعمیر!‘‘

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-7029