وزیر اعظم کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں (ایف ٹی ایس سیز) کے لیے مرکزی سرپرستی والی اسکیم، جس میں خصوصی طور پر پاکسو عدالتیں بھی شامل ہیں، کو مزید پانچ سال کی مدت یعنی یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 3,788.04 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 2,353.15 کروڑ روپے اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا حصہ 1,434.89 کروڑ روپے ہوگا۔ مرکزی حکومت کا حصہ نربھیا فنڈ سے فراہم کیا جائے گا۔
منظور شدہ اسکیم کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
اہم نتائج:
اس اسکیم کو جاری رکھنے سے درج ذیل اہم فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے:
عمل درآمد کی حکمت عملی اور اہداف:
اس اسکیم پر عمل درآمد محکمۂ انصاف، متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ساتھ تال میل قائم کرکے کرے گا۔ اس سلسلے میں عمل درآمد کی اہم حکمت عملیاں اور اہداف درج ذیل ہیں:
1. فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں (ایف ٹی ایس سیز) میں توسیع: موجودہ 779 فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز ہے، تاکہ مزید اضلاع کو ان کے دائرۂ کار میں شامل کیا جا سکے۔ اس توسیع کا فیصلہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مقدمات کے زیر التوا ہونے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
2. مخصوص قانونی معاونت: مقدمات کی تیز رفتار سماعت کو یقینی بنانے کے لیے ہر فاسٹ ٹریک خصوصی عدالت کے ساتھ خصوصی طور پر ایک سرکاری وکیل کی تعیناتی کا انتظام کیا جائے گا۔
3. عدالتی عملے کی مناسب تعیناتی: انتظامی امور کو منظم کرنے اور پرانے زیر التوا مقدمات کو تیزی سے نمٹانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر فاسٹ ٹریک خصوصی عدالت میں ایک عدالتی افسر اور معاون عملے کے چھ ارکان تعینات کیے جائیں گے۔
4. مالی امداد: منظور شدہ مالی اعانت کے طریقۂ کار اور مقررہ رہنما اصولوں کے مطابق شریک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکزی امداد فراہم کی جائے گی۔
5. نگرانی اور جائزہ: محکمۂ انصاف، فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کی کارکردگی کی نگرانی ایف ٹی ایس سی ڈیش بورڈ، وقتاً فوقتاً پیش رفت کی رپورٹوں اور ریاستوں کے اخراجات کے گوشواروں کے ذریعے کرے گا۔ اس کے علاوہ، اسکیم پر مؤثر عمل درآمد کے لیے محکمۂ انصاف، ہائی کورٹس اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشاورت بھی کرے گا اور ان کی آرا حاصل کرے گا۔
6. کارکردگی کے اہداف: اس اسکیم کا مقصد عصمت دری اور پاکسو قانون کے تحت درج زیر التوا مقدمات کے تصفیے کی شرح میں بہتری لانا، مقدمات کے التوا میں کمی کرنا اور مقررہ مدت کے اندر سماعت کو یقینی بنانے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
اس اسکیم کے بنیادی مستفیدین عصمت دری اور بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے سے متعلق قانون، 2012 (پاکسو) کے تحت درج جرائم کی شکار خواتین اور بچے ہیں۔
اس اسکیم کو وسعت دے کر فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کی تعداد 850 تک کرنے کی تجویز ہے۔ اس توسیع کے تحت مزید اضلاع کو شامل کیا جائے گا، جن کی نشاندہی عصمت دری اور پاکسو قانون کے تحت درج مقدمات کے زیر التوا ہونے کی بنیاد پر کی جائے گی۔
پس منظر:
یہ اسکیم 2 اکتوبر 2019 سے نافذ العمل ہے۔ عصمت دری اور پاکسو قانون کے تحت درج مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے مخصوص فاسٹ ٹریک عدالتوں کا تسلسل برقرار رکھنے کی غرض سے اس اسکیم کی مدت میں وقتاً فوقتاً توسیع کی جاتی رہی ہے۔ اسکیم کی موجودہ صورتِ حال درج ذیل ہے:
|
آغاز کی تاریخ |
02.10.2019 |
|
حصہ لینے والی ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے |
29 |
|
کل فنکشنل ایف ٹی ایس سیز بشمول خصوصی کورٹس پی او سی ایس او |
779 بشمول 399 خصوصی پی او سی ایس او عدالتیں۔ |
|
اسکیم کے آغاز سے اب تک نمٹائے گئے کل کیسز |
4,02,457 |
|
توسیعی اسکیم کے تحت ایف ٹی ایس سیز کی مجوزہ تعداد |
850 |
|
منظور شدہ تسلسل کی مدت |
2026سے 31مارچ2031 تک |
تفصیلات |
|---|
اس
اسکیم کے تحت عصمت دری اور پاکسو قانون کے تحت درج مقدمات کو نمٹانے کے لیے مخصوص عدالتیں قائم کرکے جنسی جرائم کے خلاف عدالتی کارروائی کو مستحکم بنانے میں مدد ملی ہے۔ محکمۂ انصاف، ایف ٹی ایس سی ڈیش بورڈ، ہائی کورٹس سے وقتاً فوقتاً اعداد و شمار حاصل کرنے اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرنے کے ذریعے ان عدالتوں کے کام کاج کی باقاعدگی سے نگرانی کرتا ہے۔ اس اسکیم کو مزید پانچ سال تک جاری رکھنے سے عدلیہ کی ادارہ جاتی صلاحیت مزید مستحکم ہونے، جنسی جرائم سے متعلق زیر التوا مقدمات میں کمی آنے اور متاثرین، بالخصوص خواتین اور بچوں کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں سے متعلق مرکزکی سرپرستی والی اسکیم کا آغاز 2 اکتوبر 2019 کو فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ، 2018 کے تحت کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے سو موٹو رِٹ (فوجداری) نمبر 1/2019 میں 25 جولائی 2019 کو جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد بھی تھا۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ ان اضلاع میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جہاں پاکسو قانون، 2012 کے تحت 100 سے زیادہ مقدمات زیر التوا ہوں۔
اس کے مطابق مرکزی حکومت نے مخصوص فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں قائم کرنے کے لیے اس اسکیم کا آغاز کیا، جن میں خصوصی طور پر پاکسو عدالتیں بھی شامل ہیں۔ اس اسکیم میں عصمت دری اور پاکسو قانون، 2012 کے تحت درج جرائم سے متعلق زیر التوا مقدمات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹانے پر زور دیا گیا تھا۔
ابتدا میں اس اسکیم کا آغاز ایک سال کی مدت کے لیے کیا گیا تھا، جس کے بعد اس میں توسیع کرتے ہوئے اسے 31 مارچ 2026 تک جاری رکھا گیا۔ اب اس کی منظوری سے اسکیم کو مزید پانچ سال، یعنی 31 مارچ 2031 تک جاری رکھنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔
*****
ش ح۔ک ح۔ اش ق
U. No- 7215