Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیراعظم نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید ملک وقوم کے نام وقف کیا

وزیراعظم نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید ملک وقوم کے نام وقف کیا

وزیراعظم نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید ملک وقوم کے نام وقف کیا

وزیراعظم نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید ملک وقوم کے نام وقف کیا


نئی دہلی۔17؍اکتوبر۔وزیراعظم نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید ملک وقوم کے نام وقف کیا۔

اس موقع پر اپنی تقریر میں وزیراعظم نے آیوروید دیوس کو دھن منتری جینتی کے طور پر منانے کیلئے ملک وقوم کو مبارکباد دی ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کے قیام کیلئے آیوش کی وزارت کی بھی ستائش کی۔

وزیراعظم نےاپنی تقریر میں کہا کہ قومیں اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتیں جب تک کہ وہ اپنی تاریخ اور وراثت کی اہمیت اور افادیت کو محسوس نہیں کرتیں۔ وہ قومیں جو اپنی وراثت کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں ان کی شناخت ختم ہوجانا یقینی ہوجاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب ہندستان آزاد نہیں تھا اس کی یوگا اور آیوروید جیسی روایات کو کمتر تصور کیا جاتا تھا ، یہاں تک کہ کوششیں کی جاتی تھیں کہ ہندوستانیوں کو اپنے اس عقیدے سے گریز پر بھی آمادہ کرلیاجائے جو انہیں کلاسیکی معلومات عامہ اور روایات پر تھا۔ لیکن گزشتہ تین برسوں کے دوران صورتحال اس حد تک تبدیل ہوچکی ہے کہ لوگوں کا عقیدہ اور اعتبار ہماری وراثت پر بحال ہوتا جارہا ہے۔ہماری وراثت پر افتخار کا اظہار اسی بات سے ہوتا ہے کہ آج لوگ ا تنی بڑی تعداد میں یوگا دیوس اور یوم آیوروید کے موقع جمع ہونے لگے ہیں۔

جناب نریندر مودی نے مزید کہا کہ آیوروید محض ایک طبی طریقہ علاج نہیں ہے بلکہ یہ نظام صحت عامہ اور صحت ماحولیات پر بھی اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار نے آیوروید کو مضبوط کرنے اور یوگا اور دیگر آیوش نظام علاج کو صحت عامہ کے نظام میں مربوط کرنے پر زور دیا ہے۔

جناب مودی نے کہا کہ جڑی بوٹیوں اور دواؤں کے پودے عالمی سطح پر اور ہندوستان میں بھی آمدنی میں نمایاں اضافے کا ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کو اس سلسلے میں اپنی اہلیت کو بروئے کار لانا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نے صحت عامہ کی دیکھ بھال کے انتظام میں 100فیصد راست غیرملکی سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکار غریبوں کو کفایتی شرحوں پر صحت کی دیکھ بھال کے خدمات فراہم کرانے پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردست صحت کی تدارکی دیکھ بھال اور کفایتی علاج پر زور دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچھتا یا صفائی ستھرائی تدارکی طریقہ علاج کا ایک سادہ نظام ہے۔انہوں نے بتایا کہ سرکار نے گزشتہ تین برسو ں کے دوران ملک میں پانچ کروڑ بیت الخلاء تعمیر کرائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نئے ایمس ادارے قائم کئے جارہے ہیں تاکہ لوگ صحت کی بہتر دیکھ بھال تک رسائی حاصل کرسکے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اسٹنٹ اور نی امپلانٹ اور جن اوسدھی کیندر قائم کئے جانے جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

***

م ن۔ س ش۔ ع ن۔
U-5212