پی ایم انڈیا
نئی دہلی۔26؍فروری۔اروویلے کے گولڈن جوبلی ہفتے کے موقع پر یہاں آکر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے۔ جناب اربندو کا بھارت کی روحانی قیادت کے تئیں جو نظریہ تھا وہ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
دراصل اروویلے اسی نظریے کا مظہر ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران یہ سماجی ، ثقافتی ، تعلیمی ، اقتصادی اور روحانی جدت طرازیوں کا مرکز بن کر اُبھرا ہے۔
دوستو،
آج جناب اربندو کے عمل اور خیالات دونوں کو یاد کرنے کی اہمیت ہے اور یہ یاد کرنا ضروری ہے کہ وہ کتنے وسیع النظر تھے۔ ایک عملی انسان، ایک فلسفی ایک شاعر ان کی شخصیت کے کئی پہلو تھے اور ہر پہلو ملک اور انسانیت کی فلاح وبہبود کیلئے وقف تھا۔
رابندر ناتھ ٹیگو کے الفاظ میں:
رابندرناتھ ، او اربندو، میں آپ کے سامنے سر عقیدت خم کرتا ہوں۔
اے دوست ، میرے ملک کے دوست ، ایک الوہی آواز ، آزاد بھارت کی روح !
دوستو ،
جیسا کہ ماں نے خیال ظاہر کیا تھا ، اروویلے کو ایک آفاقی شہر کی شکل لینا تھا، اروویلے کا مقصد انسانی اتحاد کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ آج یہاں اتنی کثرت سے لوگوں کا اجتماع انہیں خیالات کا مظہر ہے، صدیوں سے بھارت دنیا کیلئے روحانی مرکز رہا ہے۔ نالندہ اور تکشلا کی عظیم دانشگاہیں تمام دنیا سے طلباء کی متوجہ کرتی تھیں۔ دنیا کے بہت سے عظیم ترین مذاہب یہیں پیدا ہوئے۔ یہ وہ مذاہب تھے جنہوں نے ہر طبقے کے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا تاکہ وہ اپنے روزانہ کے کاروبار میں روحانیت کا راستہ اپنا سکیں۔
حال ہی میں اقوام متحدہ نے 21 جون کو یوگ کا بین الاقوامی دن قرار دیتے ہوئے ایک عظیم بھارتی روایت کو اعتبار بخشا ہے۔ اروویلے افراد وخواتین، پیرو وجواں ہرطبقے کے لوگوں کو ، ہرشناس والے لوگوں کو یکجا کرنے کا باعث بنا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اروویلے چارٹر فرنچ میں تحریر شدہ قلمی نسخہ تھا جسے الوہی ماں نے خود تنصیف کیا تھا۔ چارٹر کے مطابق ماں نے اروویلے کیلئے پانچ اصول متعین کیے تھے۔
پہلا اصول اروویلے کا یہ ہے کہ یہ تمام تر بنی نوع انسان سے وابستہ ہے۔ یہ ہمارے وسودھیو کٹمب کم کے قدیم نظریے کا مظہر ہے۔ یعنی پوری دنیا ایک کنبہ ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ 1968 اروویلے کی تقریب کے افتتاح میں 124 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی تھی۔ آج مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس میں 49 ممالک کے 2400 شہری شریک ہورہے ہیں۔
اس سے اروویلے کے دوسرے عظیم اصول کا اظہار ہوتا ہے ، جس کے مطابق کوئی بھی جو روحانی بیداری کی خدمت کیلئے تیار ہو وہ اروویلے میں رہنے کا مستحق ہے۔
مہارشی اربندو کا فلسفہ یعنی عرفان ذات صرف بنی نوع انسان کو مربوط نہیں کرتا بلکہ پورے عالم کو اپنے ساتھ مربوط کرلیتا ہے۔ یہ اس قدیم مقولے سے ہم آہنگ ہے جس کا ذکر ایشووسیہ اُپنیشد میں کیا گیا ہے۔ مہاتما گاندھی نے اس کا ترجمہ ان معنوں میں کیا تھا’’ہرچیز یہاں تک کہ سب سے چھوٹا ایٹم اولوہی حیثیت کا حامل ہے‘‘ ۔
اروویلے کا تیسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ ماضی اور مستقبل کے مابین ایک پُل کا کام کریگا۔ اگر کوئی شخص یہ دیکھنا چاہے کہ پوری دنیا اور بھارت 1968 میں کہاں تھے جب اروویلے کی بنیاد پڑی تھی، معلوم ہوگا کہ دنیا چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی اور سرد جنگ سے گزر رہی تھی۔ اروویلے کا نظریہ یہ تھا کہ تجارت، سفر اور مواصلات کے ذریعے دنیا کو مربوط کیا جائے ۔
اروویلے کے تحت تصوراتی خاکہ یہ تھا کہ پوری انسانیت کو ایک چھوٹے سے رقبے میں مربوط کردیاجائے ۔ اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ مستقبل میں ایک مربوط دنیا قائم ہوسکے گی۔ اروویلے کا چوتھا بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ ہم عصر دنیا کی روحانی اور مادی نظریاتی اثاث کو مربوط کریگا۔ جیسے جیسے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا مادی ترقی حاصل کرے گی ، اسے افزوں طور پر روحانی تسکین اور سماجی نظام اور استحکام کی ضرورت ہوگی۔ اروویلے میں مادی اور روحانی دونوں پہلو شانہ بہ شانہ ہم آہنگی کے ساتھ موجود ہیں۔
اروویلے کا پانچواں بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ مقام لامتناہی تعلیم اور تدریس کا مسکن ہوگا اور لگاتار ترقی کرے گا تاکہ کوئی چیز جمود کا شکار نہ ہو۔ انسانیت کی ترقی اس بات کا متقاضی ہے کہ لگاتار پیمانے پر فکر اور غور وفکر کا ردعمل جاری رہے تاکہ انسانی دماغ ایک نظریے کے ساتھ منجمد ہوکر نہ رہ جائیں۔
یہ حقیقت کہ اروویلے اتنے برے پیمانے پر گوناں گوں افراد اور نظریات کو یکجا کرنے کا باعث ثابت ہوا ہے، اس کے ذریعے گفت وشنید اور باہمی تبادلہ خیالات فطری طور پر ممکن ہوسکتے ہیں۔
بھارت کا معاشرہ بنیادی طور پر گوناں گونی کا حامل معاشرہ ہے اس نے فلسفیانہ روایات اور باہمی تبادلات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اروویلے دنیا کواس قدیم بھارت کی جھلک دکھاتا ہے جس میں عالمی پیمانے کی گوناں گونی کی شمولیت ہے۔ بھارت نے ہمیشہ باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کا لحاظ کیا ہے اور مختلف مذاہب اور ثقافت یہاں موجود رہے ہیں۔ بھارت صدیوں پرانی گروکُل روایات کا حامل رہا ہے۔ جہاں تدریس کا عمل محض درجے تک محدود نہیں تھا۔ جہاں زندگی ایک زندہ تجربہ گاہ تھی، اروویلے بھی ایک ایسے مقام کے طو رپر اُبھرا ہے جہاں لامتناہی اور تاحیات ملنے والی تعلیم کا التزام کیا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں ہمارے سادھو سنت اور رشی حضرات عظیم کوششوں کے لئے کبھی کبھی یگیہ کیا کرتے تھے۔ یہ یگیہ تاریخ ساز ہوا کرتے تھے۔
ایک ایسے ہی یگیہ برائے اتحاد 50 سال قبل یہاں منعقد کیا گیا تھا ،افراد وخواتین دنیا کے تمام حصوں سے مٹی لیکر آئے تھے۔ مٹی کے باہمی امتزاج کے ساتھ یکجائی کا سفر شروع ہوا تھا۔ دنیا نے اروویلے سے مثبت محرکات حاصل کیے ہیں اور گزشتہ برسوں میں کئی شکلوں میں یہ محرکات گئے ہیں۔ خواہ لامتناہی تعلیم ہو، ماحولیاتی احیاء ہو ، قابل احیاء توانائی ہو ، نامیاتی کاشت ہو، معقول عمارت سازی کی ٹیکنالوجیاں ہوں، آبی انتظام ہو یا فضلہ انتظام، اروویلے ہمیشہ ایک پیش رو کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ آپ نے ملک میں تعلیم کی کوالٹی کو بہتر بنانے کیلئے بہت کچھ کیا ہے ۔ اروویلے کے پچاس برس مکمل ہونے پر مجھے امید ہے کہ آپ اس سمت میں اپنی کوششوں کو مزید بڑھاوا دے سکتے ہیں۔ نوجوان اذہان کو تعلیم کے ذریعے باشعور بنانا اروبندو اور ماں دونوں کو ایک بڑا خراج عقیدت ہوگا۔
آپ میں سے بہت لوگ شاید ناواقف ہوں گے مگر میں بھی تعلیم کے معا ملے میں آپ کی کوششوں کا پیروکار رہا ہوں۔ جناب کریٹ بھائی جوشی، جو جناب اربندو اور ماں کے ایک فعال شاگرد رہے ہیں ، وہ خود ایک ممتاز ماہر تعلیم تھے۔ وہ میرے مشیر تعلیم بھی رہے ہیں جب میں گجرات کا وزیراعلیٰ تھا۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، تاہم بھارت میں تعلیم کے شعبے میں ان کا تعاون یاد کرنے کے لائق ہے۔
دوستو،
رِگ وید کہتا ہے’’آنوبھدرا :کرتوو ینتو وشووت‘‘ یعنی عظیم خیالات کو چار وانگ عالم سے آنے دو۔ خدا کرے کہ اروویلے اس ملک کے عام شہریوں کو بااختیار بنانے کے نظریات کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بنارہے۔ خدا کرے دور دراز کے لوگ اپنے ساتھ نئے خیالات اور نظریات لیکر آئیں، خدا کرے کہ اروویلے ایسا مرکز بن جائے، جہاں تمام نظریات وخیالات کا مرقع سامنے آسکے۔ خدا کرے کہ اروویلے دنیا کے لئے ایک علامت ، ایک مینارہ نور بن جائے۔ خدا کرے کہ یہ ایک ایسا سرپرست بن جائے جو انسان کے ذہن سے تنگ نظری کو مٹادے۔ خدا کرے کہ یہ ہرکس وناکس کو بنی نوع انسانیت کی سالمیت کے امکانات سے لطف اندوز ہونے کیلئے متوجہ کرتا رہے۔ خدا کرے کہ مہارشی اربندو اور اولوہی ماں کی روح اروویلے کو اپنے عظیم بنیادی نظریے کی تکمیل کی جانب رواں دواں رکھے۔
شکریہ۔
م ن۔ ۔ ع ن۔
U-1059
It is important today to remember the vast extent of action and thought of Shri Aurobindo. A man of action, a philosopher, a poet, there were so many facets to his character. And each of them was dedicated to the good of the nation and humanity: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) February 25, 2018
Auroville has brought together men and women, young and old, cutting across boundaries and identities. I understand that Auroville’s Charter was hand-written in French by the Divine Mother herself. According to the Charter, the Mother set five high principles for Auroville: PM
— PMO India (@PMOIndia) February 25, 2018
Maharishi Aurobindo’s philosophy of Consciousness integrates not just humans, but the entire universe. This matches with the ancient saying: “ईशावास्यम इदम सर्वम्.” This has been translated by Mahatma Gandhi to mean “everything down to the tiniest atom is divine”: PM
— PMO India (@PMOIndia) February 25, 2018
As the world progresses materially through science and technology, it will increasingly long for and need spiritual orientation for social order and stability. At Auroville, the material and the spiritual, co-exist in harmony: PM
— PMO India (@PMOIndia) February 25, 2018
The fact that Auroville has brought together such huge diversity of people and ideas makes dialogue and debate natural. Indian society is fundamentally diverse. It has fostered dialogue & a philosophic tradition. Auroville show-cases this ancient Indian tradition to the world: PM
— PMO India (@PMOIndia) February 25, 2018
India has always allowed mutual respect & co-existence of different religions and cultures. India is home to the age old tradition of Gurukul, where learning is not confined to classrooms. Auroville too has developed as a place of un-ending and life-long education: PM
— PMO India (@PMOIndia) February 25, 2018