پی ایم انڈیا
نئی دہلی۔04 مارچ، 2018 ؛ عزت مآب سوامی گوتمانند جی مہاراج، سوامی جیتکامانند جی مہاراج ، سوامی نربھیانند سرسوتی جی، سوامی وریشانند جی سرسوتی مہاراج، سوامی پرمانند جی مہاراج، ملک کے تمام حصے سے آئے رشی –مُنی- سنت اور ہزاروں کی تعداد میں موجود میرے نوجوان ساتھی۔
شتایوشی پرم پوجیہ سدگنگا مہاسوامی جی
یورگے پرنام گلو
تُمکورو رام کرشن آشرم ایپپت ایدو ورش
سوامی وویکانند شکاگو سندیشانورا ایپپت ایدو ورش
بھگینی نویدیتانورا ایوتنے جنم ورش
نِمّ یوا سماویشا – تروینی سنگما
شری رام کرشنا، شری شاردا ماتے
سوامی وویکانندر سندیش واہک راد ننو پریتے سودر سودریئے رگی پریتیہ شبھاشیگلو
تمكوروكا یہ اسٹیڈیم اس وقت ہزاروں وویکانند، ہزاروں بھگینی نیویدیتا کی طاقت سے چمک رہا ہے۔ ہر طرف زعفرانی رنگ اس توانائی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ آپ کی اس طاقت کا آشیرواد میں بھی براہ راست آکر حاصل کرنا چاہتا تھا، اس لیے جب تین دن پہلے سوامی وریشانند جی سرسوتی جی کا خط ملا تو میں آپ کے درمیان آنے کے لیے جوش میں آ گیا۔ لیکن وقت کی کچھ نزاکتیں ہوتی ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ کل سے پارلیمنٹ کا اجلاس بھی شروع ہو رہا ہے اور اس لیے میرے لیے یہاں سے نکلنا تھوڑا مشکل تھا۔ میں آپ کے درمیان براہ راست نہیں آ پا رہا ہوں۔ لیکن جدید سائنس ، جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ آپ سے جڑنے کا مجھے موقع حاصل ہوا ہے۔
نوجوان نسل کے ساتھ کسی بھی طرح کا پیغام ہو ، ان سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور اس لیے میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ نوجوانوں سے جتنا ممکن ہو سکے ملوں ، ان سے بات کروں ، ان کے تجربات شیئر کروں۔ ان کی توقعات ، خواہشات جان کر ان کے مطابق کچھ کام کر سکوں اور اس کے لیے میں مسلسل کوشش کرتا رہتا ہوں۔
یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اس عظیم نوجوانوں کے کنونشن اور سادھو بھگتوں کے کانفرنس کا آغاز کرنے کا مجھے موقع ملا ہے۔ تین سال پہلے جب میں عزت مآب شیو کمار سوامی جی کا آشیرواد لینے تمکورو آیا تھا تو وہاں کے لوگوں اور خاص کر نوجوانوں سے جو پیار حاصل ہوا تھا وہ میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ بھگوان وشویشور اور سوامی وویکانند جی کے آشیرواد سے شیو کمار سوامی جی ملک کی تعمیر کے یگیہ میں وقف ہیں۔ اپنے جسم کو ہر پل ہر لمحہ انہوں نے ملک کے لیے وقف کر دیا ہے۔ میں ان کی اچھی صحت اور طویل عمر کے لیے پرماتما سے ہمیشہ پرارتھنا کرتا رہتا ہوں۔
ساتھیوں ایسا بہت کم ہوتا ہے جب تین عظیم تہوار ایک ساتھ منایا جائے۔ لیکن تمکورو میں جشن کی اس تریوینی کا اپنا ایک اتفاق ہوا ہے۔ تمکورو میں رام کرشن آشرم کے قیام کے 25 برس، شکاگو میں سوامی وویکانند جی کے خطاب کے 125 برس اور بھگنی نویدیتا جی کی پیدائش 150 سال پورے ہونے پر منعقد یہ پروگرام اپنے آپ میں بہت خاص ہے۔ میں ایسا محسوس کرتا ہوں۔ ان تینوں مواقع کی تریوینی میں غوطہ لگانے کے لیے کرناٹک کے ہزاروں نوجوانوں کے اس جشن میں یہاں جمع ہونا ،اپنے آپ میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ میں آپ سب کو ایک بار پھر اس جشن کے لیے ، سوامی جی کو رام کرشن مشن کو دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور بزرگوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
آج کے تینوں مواقع کے جشن کا مرکز سوامی وویکانند ہیں۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کرناٹک پر تو سوامی وویکانند جی کا خاص پیار رہا ہے۔ امریکہ جانے سے پہلے ، کنیہ کماری جانے سے پہلے وہ کچھ دن کرناٹک میں رکے تھے اور سوامی وویکانند جی نے ہماری روحانی وسعت کو وقت کی ضروریات کے ساتھ جوڑا تھا ۔ انہوں نے ہماری تاریخ کو حال کے ساتھ جوڑا تھا۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ آج کا یہ پروگرام سادھو – بھگت کانفرنس کے طور پر ہماری روحانی وسعت اور نوجوانوں کے کنونشن کے طور پر ہمارے حال کے ساتھ جڑ کر، کندھے سے کندھا ملا کر ، ریل کی پٹری کی طرح آج دیش کو آگے بڑھانے کے لیے سوچ رہا ہے۔
ملک بھر کا سنت سماج بھی مصروف ہے اور نوجوان بھی ۔ اور یہاں تیرتھوں کی بات ہو رہی ہے ، تو ٹکنالوجی کی بھی بات ہو رہی ہے ۔ یہاں ایشور کی بھی بات ہورہی ہے اور نئے اختراعات کا بھی ذکر ہے۔ کرناٹک کے روحانی تہوار اور یوتھ فیسٹول کا ایک ماڈل فروغ پا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ انعقاد ملک بھر میں دوسروں کے لیے تحریک کا باعث بنے گا ، مستقبل کی تیاریوں کے لیے ہماری تاریخی روایات اور موجودہ نوجوان طاقت کا یہ سنگم حیرت انگیز ہے ۔
اگر ہم اپنے ملک کی آزادی کی تحریک دھیان دیں ، انیسویں اور بیسویں صدی کے اس عہد پر غور کریں تو پائیں گے کہ اس وقت بھی الگ الگ سطح پر ایک متحدہ عزم دیکھنے کو ملا تھا ۔ یہ متحدہ عزم تھا ملک کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کے لیے ۔ تب سنت ہو یا بھکت ہو ، مذہبی ہو یا غیر مذہبی ، گرو ہو یا شاگرد، محنت کش ہو یا پیشہ ور، سماج کے سبھی حصے ایک ہی عزم سے جڑے ، اسی عزم سے جڑ گئے تھے۔
اس وقت ہمارا سنت سماج یہ صاف دیکھ رہا تھا کہ الگ الگ ذاتوں میں منقسم سماج ، الگ الگ طبقوں میں منقسم سماج انگریزوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اسی کمزوری کو دور کرنے کے لیے اس دوران ملک میں الگ الگ حصوں میں بھکتی آندولن چلے ، سماجی تحریک چلے ۔ ان تحریکوں کے توسط سے ملک کو متحد کیا گیا ، ملک کو اس کی اندرونی خرابیوں سے نجات دلانے کی ایک مہم چلائی گئی۔ ان تحریکوں کی کمان سنبھالنے والوں نے ملک کے عام لوگوں کو ایک جیسا سب کو برابری کا بنا دیا ، ہر ایک کو یکساں عزت دی، انہوں نے دیش کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اپنے روحانی سفر کو قوم کی تعمیر کے سفر کے اندر پنہاں کر دیا ، جوڑ دیا ، وقف کر دیا ۔ عوامی خدمت کو ہی انہوں نے خدائی خدمت کا ذریعہ بنایا ۔
ساتھیوں ، تقریبا یہی وہ عہد تھا جب الگ الگ شعبوں سے بڑی تعداد میں طلباء اور پیشہ ور افراد تحریک آزادی میں شامل ہوئے، وکیل ہوں ، اساتذہ ہوں ، سائنسداں ہو، ڈاکٹر ہوں ، انجینئر ہوں ۔ ان پیشہ ور افراد نے ملک کی آزادی کی تحریک کو نیا سمت دیا اور آزادی کے بعد بھی ملک کی تعمیر کی بنیاد کو مضبوط بنایا ۔
یہ دو کوششیں جب ایک ساتھ ہوئیں تو ملک دانشورانہ اور سماجی طور پر اٹھ کھڑا ہوا اور ہندوستان کے متحد لوگوں نے انگریزوں کو کھدیر کر ہی دم لیا ، آزادی کے متحدہ عزم کو ثابت کر کے دکھایا ۔
آزادی کے کئی دہائیوں کے بعد اب ملک میں ایک بار پھر ویسی ہی عزم کی طاقت ابھرے ، ویسے ہی عزم کی طاقت نظر آئے ، اور نظر آ رہی ہے ۔ اور اس عزم کی طاقت کے کبھی کبھی درشن بھی ہوتے ہیں ۔ ابھی ابھی آپ نے دیکھا ، کل ہی نارتھ ایسٹ میں ہم نے دیکھا اور آپ نے دیکھا کہ پرسوں پورا ملک ہولی کے رنگوں میں رنگا ہوا تھا ۔ لیکن کل نارتھ ایسٹ کے چناؤ کے نتیجے نے پھر ایک بار پورے ملک میں ایک جشن کا ماحول پیدا کیا ہے ۔
آپ کو لگتا ہوگا کہ میں اس پروگرام میں اس بات کا ذکر کیوں کر رہا ہوں ؟ مجھے لگتا ہے کہ آپ کے درمیان اپنے دل کے احساس کا اظہار ضرور کرنا چاہیے ۔ دیکھئے نارتھ ایسٹ میں کل جو چناؤ ہوا اور جو نتیجے آئے ہیں ، میں اسے کون جیتا ، کون ہارا ، کس پارٹی کی جیت تھی ، ایک پارٹی کی ہار تھی یا دوسری پارٹی کی جیت تھی ، میں اسے سیاسی جماعتوں کی ہار جیت کے ترازو سے نہیں دیکھتا۔
اہم یہ ہے کہ نارتھ ایسٹ کے لوگوں کی خوشی میں پورا ملک شامل ہوا ہے ۔ ایسے موقع بہت کم آتے ہیں کہ نارتھ ایسٹ کی کوئی کامیابی ملک کی کامیابی بن جائے ۔ اور آج کل جب ہم نے دیکھا کہ پورا ملک نارتھ ایسٹ کے لوگوں کے خوابوں کے مطابق ان کے احساسات کے مطابق صبح سے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا ہے ۔ جیسے وہ خود ہی وہاں انتخاب کی جنگ میں ہوں ، ویسا ہر ہندوستانی محسوس کرنے لگا۔
میں سمجھتا ہوں کہ میرے شمال مشرق کے بھائیوں ، بہنوں کے لیے اور انہوں نے جو عوامی رائے دی ہے ، یہ اپنےآپ میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ رام کرشن مشن ہو ، وویکانند کیندر ہو ، ہزاروں کارکنان زندگی وقف کرنے والے نوجوان ، سادھو –سنت نارتھ ایسٹ کی بہبودکے کاموں مصروف ہیں ، اور اس کے باعث یہاں جو بیٹھے ہوئے ہیں ، آپ لوگوں کو وہاں کی زمینی حقیقت کیا ہے ، آپ لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے۔ اور اس لیے میں کہتا ہوں کہ نارتھ ایسٹ کے انتخاب کے نتیجے کے بعد ملک نے جو مزاج دکھایا ہے ، وہ ہر نارتھ ایسٹ کے شخص کے دل میں پورا ہندوستان ان کے احساسات کے ساتھ جڑا ہے ، اس کا ایک طاقتور پیغام دیا ہے ۔ ملک کے اتحاد کے لیے ، ایک ہندوستان ، عظیم ہندوستان کے لیے یہ احساسات کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے ۔
ساتھیوں ، پہلے ہمارے یہاں پالیسیاں اور فیصلے ایسے ہوئے کہ شمال مشرق کے لوگوں میں اجنبیت کا احساس گھر کر گیا ۔ لوگ ترقی کی نہیں ، اعتماد اور اپنائیت کی خاص دھارا سے بھی خود کو کٹا ہوا محسوس کرنے لگے ۔ کتنے مسائل کی وجہ یہ احساسات بھی تھی ۔ پچھلے چار سالوں میں ہماری حکومت کی پالیسیوں ، فیصلوں نے اس خلیج کو بھرنے کی کوشش کی ، اس علیحدگی کے احساس کو بھرنے کی کوشش کی ۔ ہم نے شمال مشرق کے جذباتی ہم آہنگی کا عزم کیا اور اسے ثابت کر کے دکھایا ہے ۔
میں آپ کو تریپورہ کے قبائلی علاقے میں جو نتیجے آئے ہیں ، یہ بھی مجھے ایک بہت ہی اطمینان دیتے ہیں اور میں اس کا ذرا آپ کو خاص طور پر بتانا چاہتا ہوں ۔ ساتھیوں ، تریپورہ کے اتنی چھوٹی سی ریاست میں 20 اسمبلی نشستیں ہیں ۔ قبائلیوں کی اکثریت والے علاقے ہیں ۔ اور ہمارے یہاں ایک بھرم پھیلایا جاتا ہے کہ جہاں قبائلی ہیں ، وہاں ماؤنواز ہیں ، وہاں نکسل ازم ہے ، بائیں بازو کی انتہاپسندی ہے ، بہت باتیں ہوتی ہیں ۔ بہت باتیں ہوتی ہیں ۔ اور یہ بھرم پھیلا کر ان کو بھی الگ تھلگ کرنے کی ایک لگاتار کوشش ہو رہی ہے ۔ تاکہ ملک کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کو وہاں اچھی زمین تیار ہوجائے ۔ لیکن کل تریپورہ کے نتیجوں نے ایک الگ مثال قائم کی ہے ۔ شمال مشرق قبائلی بھائیوں بہنوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق یکطرفہ ووٹ کر کے نفرت کی سیاست کو مسترد کردیا ہے ۔
ساتھیوں ، بنیاد پرستی کا جواب ہم آہنگی سے ہی دیا جا سکتا ہے ۔ ملک کا کوئی بھی محکمہ ، کوئی طبقہ خود کو قومی دھارا سے کٹا ہوا محسوس نہ کرے ، اس کے لیے ہماری حکومت کے ذریعہ عہد بستہ ہو کر لگا تار کوشش کی جارہی ہے لیکن پورے ملک نے بھی ایکتا کے منتر کو ہر لمحہ طاقت ور بنانا ہی ہوتا ہے۔عزم کی طاقت کا یہ مظاہرہ اس وقت کرناٹک کے اسٹیڈیم میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ جو حضرات اسٹیج پر ہیں وہ اسے اور زیادہ محسوس کر رہے ہوں گے ۔
ساتھیوں، ملک کی تعمیر کے لئے وقف اس عزم کو سوامی وویکانند جی کے ایک پیغام سے اور بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے. سوامی جی نے کہا تھا –
“Life is short، but the soul is immortal and eternal، and one thing being certain، death، let us therefore take up a great idea and give up our whole life to it.”
زندگی بہت چھوٹی ہے، تاہم روح غیر فانی اور لازوال ہے اور جو چیز یقینی ہے وہ موت ہے ۔ اس لیے آئیے ہمیں ایک عظیم تصور کریں اور اس کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردیں ۔
آج ہزاروں نوجوانوں کے درمیان میں آپ سبھی سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ عزم کیا ہونا چاہیے ؟ کئی بار میں دیکھتا ہوں کہ کسی نوجوان سے اچانک پوچھا جائے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ تو وہ براہ راست جواب نہیں دے پاتا ہے ۔ وہ اپنی زندگی کے مقصد کو لے کر ہی مشکوک ہے۔ ساتھیوں ، ہماری زندگی میں جب عزم اور مقصد واضح ہوں گے تبھی ہم کچھ ثابت بھی کر پائیں گے ، ملک کو انسانیت کو کچھ دے پائیں گے۔ جب عزم مشکوک ہوگا ، تو مقصد کو حاصل کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا ۔ ریلوے پلیٹ فارم پار پہنچنے کے بعد ڈھیر ساری گاڑیاں کھڑی ہیں ، اور پتہ نہیں کہ کس ٹرین میں بیٹھنا ہے تو آپ منزل پر پہنچ سکتے ہیں نہ آپ سفر کا راستہ طے کر سکتے ہیں ۔
سوامی وویکانند جی بھی ، ان کا ایک بہت مشہور قول ہے ، اور وہ کہتے تھے ، “take up one idea. Make that one idea your life, think of it, dream of it, live on that idea, let the brain, muscles, nerve, every part of your body be full of that idea and just leave every other idea along. This is the way to success.”
میرا آج اس نوجوان فیسٹول میں آئے ہر نوجوان سے درخواست ہے کہ اپنے عزم کو لے کر واضح رہیں ، اسے زندگی میں کیا کرنا ہے ، اس کو لے کر ہمیشہ واضح رہنا چاہیے ۔
بھائیوں اور بہنوں ، آج ہمارا ہندوستان پوری دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے ۔ 65 فیصد سے زیادہ لوگوں کی عمر 35 سال سے کم ہے ۔ نوجوانوں کی طاقت کی یہ بیش بہا طاقت ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے ، پورے ملک کو طاقت ور بنا سکتی ہے ۔ 2014 میں حکومت بننے کے بعد اور اس لیے ہماری حکومت نے نوجوانوں کی طاقت کو دھیان میں رکھتے ہوئے ، اس طاقت کا ملک کی تعمیر میں استعمال کرنے کے لیے مختلف فیصلے کیے اور یہ عمل مسلسل جاری ہے ۔
میں آج ان تقریبات کے انعقاد کے لیے رام کرشن وویکانند آشرم کو ایک بار پھر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سبھی سنتوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ شیو گری مٹھ کو سلام پیش کرتا ہوں اور آپ سب نوجوانوں کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ!
U-1166
तुमकूरू का ये स्टेडियम इस समय हजारों विवेकानंद, हजारों भगिनी निवेदिता की ऊर्जा से दमक रहा है। हर तरफ केसरिया रंग इस ऊर्जा को और बढ़ा रहा है: PM @narendramodi https://t.co/CqeCgasxvn
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
युवा पीढ़ी के साथ किसी भी तरह का संवाद हो, उनसे हमेशा कुछ ना कुछ सीखने को मिलता है: PM @narendramodi https://t.co/CqeCgasxvn
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
इसलिए मैं यथासंभव प्रयास करता हूं कि युवाओं से ज्यादा से ज्यादा मिलूं, उनसे बात करूं, उनके अनुभव सुनूं। उनकी आशाएं, उनकी आकांक्षाएं जानकर, उनके मुताबिक कार्य कर सकूं, इसका मैं निरंतर प्रयत्न करता हूं: PM @narendramodi https://t.co/CqeCgasxvn
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
भगवान वसवेश्वर और स्वामी विवेकानंद जी के आशीर्वाद से श्री शिवकुमार स्वामी जी राष्ट्र निर्माण के यज्ञ में जुटे हुए हैं। मैं उनके बेहतर स्वास्थ्य और उनकी दीर्घायु की प्रार्थना करता हूं: PM @narendramodi https://t.co/CqeCgasxvn
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
आज के तीनों आयोजनों के केंद्र बिंदु स्वामी विवेकानंद हैं। कर्नाटक पर तो स्वामी विवेकानंद जी का विशेष स्नेह रहा है। अमेरिका जाने से पहले, कन्याकुमारी जाने से पहले वो कर्नाटक में कुछ दिन रुके थे: PM @narendramodi https://t.co/CqeCgaK8TX
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
यहां तीर्थों की बात हो रही है, तो Technology की भी चर्चा है। यहां, ईश्वर की भी बात हो रही है और नए Innovations की भी चर्चा है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
कर्नाटक में Spiritual Festival और Youth Festival का एक नया मॉडल विकसित हो रहा है। मुझे आशा है कि ये आयोजन देशभर में दूसरों को प्रेरणा देगा। भविष्य की तैयारियों के लिए हमारी ऐतिहासिक परंपराओं और वर्तमान युवा शक्ति का ये समागम अद्भुत है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
अगर हम अपने देश के स्वतंत्रता आंदोलन पर ध्यान दें, उन्नीसवी और बीसवी शताब्दी के उस कालखंड पर गौर करें, तो पाएंगे कि उस समय भी अलग-अलग स्तर पर एक संयुक्त संकल्प देखने को मिला था: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
ये संयुक्त संकल्प था देश को गुलामी की बेड़ियों से मुक्त करने के लिए। तब संत समाज - भक्त समाज, आस्तिक – नास्तिक, गुरु- शिष्य, श्रमिक वर्ग – प्रोफेशनल वर्ग, जैसे समाज के विभिन्न अंग इस संकल्प से जुड़ गए थे: PM @narendramodi https://t.co/CqeCgaK8TX
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
उस समय हमारा संत ये स्पष्ट देख रहा था कि अलग-अलग जातियों में बंटा हुआ समाज, अलग-अलग वर्ग में विभाजित समाज अंग्रेजों का मुकाबला नहीं कर सकता: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
इसी कमजोरी को दूर करने के लिए उस दौरान देश में अलग-अलग हिस्सों में सामाजिक आंदोलन चले। इन आंदोलनों के माध्यम से देश को एकजुट किया गया, देश को उसकी आंतरिक बुराइयों से मुक्त करने का प्रयास किया गया: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
इन आंदोलनों की कमान संभालने वालों ने देश के सामान्य जन को बराबरी का मान दिया, सम्मान दिया। उन्होंने देश की आवश्यकता को समझते हुए अपनी आध्यात्मिक यात्रा को राष्ट्र निर्माण से जोड़ा। जनसेवा को उन्होंने प्रभु सेवा का माध्यम बनाया: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
आपने देखा कि परसों, पूरा देश होली के रंग में रंगा हुआ था। कल North East के नतीजों ने फिर एक बार पूरे देश में उत्सव का वातावरण बना दिया।मैं इसे एक पार्टी की जीत, एक पार्टी की हार के तौर पर नहीं देखता हूं। महत्वपूर्ण ये है कि North East के लोगों की खुशी में पूरा देश शामिल हुआ: PM
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
पहली बार ऐसा हुआ जब देश के अन्य राज्यों के लोग भी ये देखने के लिए सुबह से टीवी खोलकर बैठ गए कि मेरे उत्तर-पूर्व के भाइयों-बहनों ने क्या जनादेश दिया है। ये एक बहुत बड़ा बदलाव है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
पहले हमारे यहां नीतियां और निर्णय ऐसे हुए, कि उत्तर पूर्व के लोगों में alienation की भावना घर कर गई थी। लोग विकास की ही नहीं, विश्वास और अपनत्व की मुख्यधारा से भी खुद को कटा हुआ महसूस करने लगे थे: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
पिछले 4 वर्षों में हमारी सरकार की नीतियों-निर्णयों ने इस भावना को खत्म करने का काम किया है। हमने North East के भावनात्मक Integration का संकल्प लिया और उसे सिद्ध करके दिखाया है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
Radicalization का जवाब Integration से ही दिया जा सकता है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
हमें एक संकल्प तय करके उस पर अपना जीवन न्योछावर कर देना चाहिए: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
आज युवाओं के बीच, मैं सभी से प्रश्न करना चाहता हूं कि ये एक संकल्प क्या होना चाहिए? ये सवाल मैं इसलिए भी आपसे पूछ रहा हूं, क्योंकि जीवन में मैंने भी स्वयं से एक बार ये प्रश्न किया था। इस प्रश्न का हम जितना जल्दी सामना कर लें, जीवन में आगे का रास्ता उतना ही स्पष्ट हो जाता है: PM
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
आज हमारा भारत पूरी दुनिया का सबसे नौजवान देश है। 65 प्रतिशत से ज्यादा लोगों की आयु 35 वर्ष से कम है। युवा शक्ति की ये अपार ऊर्जा देश का भाग्य बदल सकती है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
2014 में सरकार बनने के बाद इसलिए हमारी सरकार ने Youth Power को ध्यान में रखते हुए, इस ऊर्जा का राष्ट्र निर्माण में इस्तेमाल करने के लिए अनेक फैसले लिए और ये प्रकिया निरंतर जारी है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
युवा अपने दम पर अपना बिजनेस शुरू कर सकें, उन्हें बिना बैंक गारंटी कर्ज मिल सके, इसके लिए सरकार द्वारा प्रधानमंत्री मुद्रा योजना चलाई जा रही है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
मुद्रा योजना के तहत अब तक देश में करीब-करीब 11 करोड़ Loan दिए गए हैं। कर्नाटक के नौजवानों के भी 1 करोड़ 14 लाख से ज्यादा लोन स्वीकृत किए गए हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
Skill Development और Self-Employment को बढ़ावा देने के साथ ही हमारी सरकार ने नौजवानों के products के लिए बाजार बनाने का भी काम किया है। सरकार ने नीतिगत परिवर्तन किया है ताकि सरकारी खरीद में स्थानीय उत्पादों को ही प्राथमिकता मिले: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
Innovation ही बेहतर भविष्य का आधार है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
स्कूलों में कम उम्र के बच्चों के Ideas को Innovation में बदलने के लिए सरकार ने Atal Innovation Mission की शुरुआत की है। अब तक देशभर में 2400 से ज्यादा Atal Tinkering Labs को स्वीकृति दी जा चुकी है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
केंद्र सरकार एक और बहुत ही बड़े मिशन पर काम कर रही है और वो है देश में 20 वर्ल्ड क्लास शिक्षा संस्थान बनाने का काम: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
इस बजट में हमने RISE नाम से एक नई योजना भी शुरू की है। इसके तहत हमारी सरकार अगले चार साल में देश के Education System को सुधारने के लिए 1 लाख करोड़ रुपए खर्च करने जा रही है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
अपने इतिहास, अपने वर्तमान और अपने भविष्य के बीच कनेक्ट बनाना बहुत आवश्यक है। अपनी परंपराओं से जितना ये कनेक्ट मजबूत होगा, उतना ही देश का युवा, खुद को मजबूत महसूस करेगा: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
“विद्यार्थी देवो भव” सिर्फ आपका ही नहीं, हमारा भी मंत्र है। बल्कि मैं तो आपकी स्वीकृति से इसमें ये भी जोड़ना चाहूंगा- “युवा देवो भव: - युवाशक्ति देवो भव:” : PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
युवा सिर्फ ये नहीं सोचता कि जो पहले अच्छा था, वही बेहतर था। युवा ये सोचता है कि पुराने से सीख लकर वर्तमान और भविष्य को और बेहतर कैसे बनाया जाए: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018
युवा चाहता है कि भविष्य, वर्तमान और अतीत दोनों से ज्यादा बेहतर और मजबूत हो: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 4, 2018