Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

بارہ بیگھا گراؤنڈ، جنک پور، نیپال میں منعقدہ شہری ضیافت میں وزیر اعظم کی تقریر

بارہ بیگھا گراؤنڈ، جنک پور، نیپال میں منعقدہ شہری ضیافت میں وزیر اعظم کی تقریر

بارہ بیگھا گراؤنڈ، جنک پور، نیپال میں منعقدہ شہری ضیافت میں وزیر اعظم کی تقریر

بارہ بیگھا گراؤنڈ، جنک پور، نیپال میں منعقدہ شہری ضیافت میں وزیر اعظم کی تقریر


یہاں حاضر تمام معزز شخصیات اور بڑی تعداد میں آئے ہوئے جنک پور کے میرے پیارے بھائیوں اور بہنوں۔

جے سیا رام، جے سیا رام،

جے سیا رام، جے سیا رام،

جے سیا رام، جے سیا رام۔

بھائیو اور بہنوں،

اگست 2014میں جب میں وزیر اعظم کے طور پر پہلی بار نیپال آیا تھا تو سنویدھان سبھا میں ہی میں نے کہا تھا کہ جلد ہی میں جنک پور جاؤں گا۔ میں سب سے پہلے آپ سب سے معافی چاہتا ہوں کیونکہ میں فوراً آ نہیں سکا۔ آنے میں مجھے کافی تاخیر ہوئی۔ اور اسی لئے پہلے تو میں معافی کا طلب گار ہوں۔ لیکن دل کہتا ہے کہ شاید ممکنہ طور پر سیتا ماّآ جی نے ہی آج بھدرکالی اکادشی کے دن ہی مجھے درشن دینے کے لئے طے کیا تھا۔ میری عرصے سے خواہش تھی کہ راجا جنک کی راجدھانی اور مادرِ عالم سیتا کی مقدس سرزمین پر آکر انہیں سلامِ عقیدت پیش کروں۔ آج جانکی مندر میں درشن کر میری بہت سالوں کی جو آرزو تھی اس آرزو کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر اپنی زندگی میں سکون محسوس کرتا ہوں۔

بھائیو اور بہنوں،

بھارت اور نیپال دو ملک، لیکن ہمارے یہ دوستی آج کی نہیں، تریتا عہد کی ہے۔ راجا جنک اور راجا دشرتھ نے صرف جنک پور اور ایودھیا کو ہی نہیں، بھارت اور نیپال کو بھی دوستی اور اشتراک کے بندھن میں باندھ دیا تھا۔ یہ بندھن ہے رام سیتا کا، یہ بندھن ہے بدھ کا بھی اور مہاویر کا بھی۔ اور یہی بندھن رامیشورن میں رہنے والوں کو کھینچ کر پشو پتی ناتھ لے کر آتا ہے۔ یہی بندھن لمبنی میں رہنے والوں کو بودھ گیا لے جاتا ہے۔ اور یہی بندھن، یہی عقیدت، یہی یگانگت آج مجھے جنک پور کھینچ کر کے لے آئی ہے۔

مہا بھارت، رامائن کے عہد میں جنک پورکا، مہابھارت کے دور میں وراٹ نگر کا، اس کے بعد سمران گنج کا بدھ کے دور میں، لمبنی کا یہ تعلق عہد در عہد سے چلا آ رہا ہے۔ بھارت۔ نیپال تعلقات کسی تعریف کے مملو نہیں بلکہ اس زبان سے بندھے ہوئے ہیں، یہ زبان ہے عقیدت کی، یہ زبان ہے اپنے پن کی، یہ زبان ہے روٹی کی، یہ زبان ہے بھارت کی بیٹی کی۔ یہ ماں جانکی کا دھام ہے اور جس کے بنا ایودھیا ادھوری ہے۔

ہماری ماتا بھی ایک ہماری عقیدت بھی ایک۔ ہماری فطرت بھی ایک ہماری ثقافت بھی ایک۔ ہمارا راستہ بھی ایک اور ہماری دعا بھی ایک۔ ہماری محنت کی مہک ایک اور ہماری شجاعت کی گونج ایک۔ ہماری نظر بھی یکساں اور ہماری تخلیق بھی یکساں۔ ہمارے سکھ بھی سمان اور ہماری چنوتیاں بھی سمان۔ ہماری امید بھی سمان ہماری توقعات بھی یکساں۔ ہماری خواہش بھی یکساں اور ہمارا راستہ بھی یکساں۔ ہمارے دل، ہمارے منصوبے اور ہماری منزل ایک ہی ہے۔ یہ ان عملی شخصیات کی سرگرمی ہے جن کے تعاون سے بھارت کی ترقی کے افسانے میں اور رفتار آتی ہے۔ ساتھ نیپال کے بنا بھارت کی عقیدت بھی ادھوری ہے۔ نیپال کے بغیر بھارت کا یقین ادھورا ہے، تاریخ ادھوری ہے۔ نیپال کے بغیر ہمارے دھام ادھورے، نیپال کے بغیر ہمارے رام بھی ادھورے ہیں۔

بھائیو اور بہنوں،

آپ کو مذہب میں جتنا گہرا یقین ہے، وہ یقین سمندر سے بھی گہرا ہے اور آپ کی خودداری سمندر کی لہروں سے بھی بلند ہے۔ جیسے متھلا کی تلسی بھارت کے آنگن میں پاکیزگی، عقیدت اور وقار کی مہک بھر جاتی ہے، ویسے ہی نیپال سے بھارت کی قربت اس مکمل علاقے کو امن، سلامتی اور اچھی روایات کی تری وینی سے سینچتی ہے۔

متھلا کی ثقافت اور ادب متھلا کی لوک کلا، متھلا کی مہمان نوازی، سب کچھ بے مثال ہے۔ اور میں آج محسوس کر رہا ہوں، آپ کے پیار کا احساس کر رہا ہوں۔ آپ کے آشیرواد کا احساس ہو رہا ہے۔ پوری دنیا میں متھلا کی تہذیب کا مقام بہت اوپر ہے۔ شاعر ودیاپتی کی تخلیقات آج بھی بھارت اور نیپال میں یکساں طور پر اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے الفاظ کی مٹھاس آج بھی بھارت اور نیپال دونوں کے ساہتیہ میں گھلی ہوئے ہیں۔

جنک پور دھام آکر، آپ لوگوں کا اپنا پن دیکھ کر ایسا نہیں لگا کہ میں کسی دوسری جگہ پہنچ گیا ہوں۔ سب کچھ اپنے جیسا، ہر کوئی اپنوں جیسا، سب کچھ اپنا پن، یہ سب اپنے تو ہیں۔ ساتھیوں، نیپال، روحانیت اور فلسفے کا مرکز رہا ہے۔ یہ وہ مقدس سرزمین ہے جہاں لمبنی ہے۔ وہ لمبنی جہاں بھگوان بدھ کی پیدائش ہوئی تھی۔ ساتھیوں، زمین سے نکلی ہوئی دوشیزہ ماتا سیتا، ان انسانی اقدار، ان اصولوں اور روایات کی علامت ہیں جو ہم دو ملکوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتی ہیں۔ جنک کی نگری سیتا ماتا کی وجہ سے خواتین بیداری کی گنگوتری بن گئی ہے۔ سیتا ماتا یعنی ایثار، مجاہدہِ نفس، سپردگی اور جدوجہد کی زندہ جاوید تصویر۔ کٹھمنڈو سے کنیاکماری تک ہم سبین سیتا ماتا کی روایت کے علمبردار ہیں۔ جہاں تک ان کی عظمت کی بات ہے تو ان کے عقیدت مند ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ وہ سرزمین ہے جس نے دکھایا کہ بیٹی کو کس طرح سے عزت دی جاتی ہے۔ بیٹیوں کے احترام کی یہ تعلیم آج سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ساتھیوں، عورت ذات کی قوت کی ہماری تاریخ اور روایات کے تحفظ میں بھی ایک بڑا کردار رہا ہے۔ اب جیسے یہاں کی متھلا پینٹنگس کو، اگر اس کو دیکھیں تو اس روایت کو آگے بڑھانے میں سب سے زیادہ تعاون ہماری ماؤوں، بہنوں کا خواتین کا رہا ہے۔ اور متھلا کا یہی فن آج پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اس فن میں بھی ہمیں فطرت کی، ماحولیات کی بیداری ہر پل نظر آتی ہے۔ آج خواتین کو بااختیار بنانے اور موسمیاتی تبدیلی کے ذکر کے درمیان متھلا کا دنیا کو یہ بہت بڑا پیغام ہے۔ راجا جنک کے دربار میں گارگی جیسی عالمہ اور اشٹاوکر جیسے عالم کا ہونا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ علمیت اور روحانیت کو کتنی اہمیت دی جاتی تھی۔

راجا جنک کے دربار میں رفاعِ عامہ کی پالیسیوں پر اہل علم کے مابین بحث ہوتی تھی۔ راجا جنک بذاتِ خود اس بحث میں شریک ہوتے تھے اور اس غور و فکر سے جو نتیجہ نکلتا تھا اس کو رعایہ کے مفاد میں عوام کے مفاد میں اور دیش کے مفاد میں نافذ کرتے تھے۔ راجا جنک کے لئے ان کی رعایہ ہی بہت کچھ تھی۔ انہیں اپنے کنبے کے رشتے ناطے کسی سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ بس دن رات اپنی رعایا کی فکر کرنے کو ہی انہوں نے اپنا مذہب بنا دیا تھا۔ اس لئے ہی راجا جنک کو ودیہہ بھی کہا گیا تھا۔ ودیہہ کا مطلب ہوتا ہے جس کا اپنے جسم یا اپنے بدن سے کوئی بھی مطلب نہ ہو۔ اور صرف مفاد عامہ میں ہی خود کو وقف کردے۔ مفادِ عامہ کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دے۔

بھائیو اور بہنوں،

راجا جنک اور مفادِ عامہ کے اس پیغام کو لے کر ہی آج نیپال اور بھارت آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپ کے نیپال اور بھارت کے تعلقات سیاسی، سفارتکارانہ عسکری پالیسی اور اس سے بھی آگے بڑھ کر الوحی پالیسی سے بندھے ہیں۔ شخصیات اور حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں۔ تاہم یہ ہمارا تعلق دیرینہ اور غیر فانی ہے۔ یہ وقت ہمیں مل کر روایات، تعلیم، امن سلامتی اور خوشحالی کی عمارت کی حفاظت کرنے کا ہے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ نیپال کی ترقی میں ہی علاقائی ترقی کا حصول ہے۔ بھارت اور نیپال کی دوستی کیسی رہی ہے۔ اس کو رام چرتر مانس کی چوپائیوں سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

जे न मित्र दु:ख होहिं दुखारी।

तिन्हहि बिलोकत पातक भारी॥

निज दु:ख गिरि सम रज करि जाना।

मित्रक दु:ख रज मेरु समाना॥

یعنی جسے اپنے دوست کے دکھ سے دکھ نہ ہو۔ ان کو دیکھنے سے بھی گناہ ہوتا ہے اور اسی لئے آپ کا اپنا دکھ پہاڑ جیسا بھاری بھی ہوتو اسے زیادہ اہمیت مت دیں۔ لیکن اگر دوست کا دکھ دھول جتنا بھی ہو تو اسے پہاڑ کے بقدر سمجھ کر کے جو کر سکتے ہوں کرنا چاہئے۔

ساتھیوں،

تاریخ گواہ رہی ہے کہ جب جب ایک دوسرے پر مصیبتیں آئییں، بھارت اور نیپال مل کر کھڑے ہوئے۔ ہم نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ بھارت دہائیوں سے نیپال کا ایک مستقل ترقیاتی شریک کار رہا ہے۔ نیپال ہماری ہمسایہ اول، اس پالیسی میں سب سے پہلے آتا ہے۔

آج بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی جانب تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، تو آپ کا نیپال بھی تیز رفتار سے ترقیات کی بلندیوں کی جانب گامزن ہے۔آج اس شراکت داری کو نئی توانائی دینے کے لئے مجھے نیپال آنےکا موقع ملا ہے۔

بھائیو اور بہنوں،

ترقی کی پہلی شرط ہوتی ہے جمہوریت۔ مجھے خوشی ہے کہ جمہوریت کا نظام آپ کو مضبوطی دے رہا ہے۔ حال میں ہی آپ کے یہاں انتخابات منعقد ہوئے۔ آپ نے ایک نئی سرکار منتخب کی ہے۔ اپنی توقعات اور تمناؤں کو پورا کرنے کے لئے آپ نے رائے عامہ دی ہے۔ ایک سال کے اندر تین سطحوں پر کامیابی سے انتخاب منعقد کرانے کے لئے میں آپ کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ نیپال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیپال کے سبھی سات صوبوں میں صوبائی سرکاری بنی ہیں۔ یہ نہ صرف نیپال کے لئے فخر کی بات ہے، بلکہ بھارت اور پورے خطے کے لئے بھی ایک فخر کی بات ہے۔ نیپال سماجی۔ اقتصادی تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جو اچھی حکمرانی اور شمولیت پر مبنی ترقی پر مشتمل ہے۔

اس سال، دس سال پہلے نیپال کے نوجوانوں نے بندوق کی گولی چھوڑ کر ووٹ ڈالنے کا راستہ منتخب کیا تھا۔ یدھ سے بدھ تک کی اس بامعنی تبدیلی کے لئے بھی میں نیپال کے لوگوں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جمہوری قدر ایک اور کڑی ہے جو بھارت اور نیپال کے قدیم تعلقات کو اور نئی مضبوطی دیتی ہے۔ جمہوریت وہ قوت ہے جو عوام سے خواص کو بے دریغ اپنے خواب پورے کرنے کا موقع اور استحکام دیتی ہے۔ بھارت نے اس قوت کو محسوس کیا ہے اور آج بھارت کا ہر شہری خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مصروف ہے۔ میں آج سبھی کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھ سکتا ہوں کہ آپ بھی نیپال کو اسی راستے پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ میں آپ کی آنکھوں میں نیپال کے لئے ویسے ہی خواب دیکھ رہا ہوں۔

ساتھیوں،

حال میں ہی نیپال کے وزیر اعظم محترم عالی جناب اولی جی کا خیر مقدم کرنے کا موقع مجھے دہلی میں حاصل ہوا تھا۔ نیپال کو لے کر ان کا مستقبل کا خواب کیا ہے۔ یہ جاننے کا مجھے موقع حاصل ہوا۔ اولی جی نے خوشحال نیپال، آسودہ نیپال کے خواب سنجوئے ہوئے ہیں۔ نیپال کی آسودگی اور خوشحالی کی تمنا بھارت بھی ہمیشہ کرتا آیا ہے، کرتا رہے گا۔ وزیر اعظم اولی جی کو ان کے اس خواب کو پورا کرنے کے لئے سوا سو کروڑ بھارتیوں کی طرف سے حکومت ہند کی طرف سے، میں بہت بہت نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔ یہ ٹھیک اسی طرح کا اندازِ فکر ہے جیسا میرا بھارت کے تئیں ہے۔

بھارت میں ہماری حکومت، ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے بنیادی اصول کو لے کر کے آگے بڑھ رہی ہے۔ سماج کا ایک طبقہ، ملک کا ایک بھی حصہ ترقی کے دھارے سے ٹوٹ نہ جائے، ایسی کوشش ہم لگاتار کرتے رہے ہیں۔ مشرق، مغرب، شمال، جنوب، ہر سمت میں ترقی کا رس دوڑ رہا ہے۔ بطور خاص ہماری حکومت کی توجہ ان علاقوں میں زیادہ رہی ہے جہاں تک ترقی کی روشنی نہیں پہنچ پائی ہے۔ اس میں پوروانچل یعنی مشرقی بھارت جو نیپال کی سرحد سے ملا ہوا ہے، اس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یوپی سے لے کر بہار تک، شمال مشرق، مغربی بنگال سے لے کر اڈیشہ تک، اس پورے خطے کو ملک کے باقی حصے کے برابر کھڑا کرنے کا عہد ہم نے کیا ہے۔ اس شعبے میں جو بھی کام ہو رہا ہے۔ اس کا فائدہ یقینی طور پر ہمسایہ ہونے کے ناطے نیپال کو سب سے زیادہ ملنے والا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

جب میں سب کا ساتھ، سب کا وکاس کی بات کرتا ہوں تو صرف بھارت کے لئے ہی نہیں، سبھی ہمسایہ ملکوں کے لئے بھی میری یہ تمنا ہوتی ہے۔ اور اب، جب نیپال میں ’خوشحال نیپال، آسودہ نیپالی‘ کی بات ہوتی ہے تو میرا دل بھی اور زیادہ خوش ہو جاتا ہے۔ سواسو کروڑ ہندوستانیوں کو بھی بہت خوشی ہوتی ہے۔ جنک پور کے میرے بھائیوں اور بہنوں ، ہم نے بھارت میں ایک بہت بڑا عہد کیا ہے، یہ عہد ہے نیو انڈیا کا۔

2022 میں بھارت کی آزادی کے 75 برس پورے ہو رہے ہیں۔ تب تک سوا سو کروڑ بھارتیوں نے نیو انڈیا بنانے کا نصب العین رکھا ہے۔ ہم ایک نئے بھارت کی تعمیر کر رہے ہیں جہاں غریب سے غریب شخص کو بھی ترقی کے مساوی مواقع فراہم ہوں گے۔ جہاں تفریق، اونچ نیچ کا کوئی مقام نہ ہو، سب کا احترام ہو، جہاں بچوں کو پڑھائی، نوجوانوں کو کمائی اور بزرگوں کو دوائی، یہ حاصل ہوں۔ زندگی آسان ہو۔ عوام الناس کو انتظامی امور سے الجھنا نہ پڑے۔ بدعنوانی اور بدسلوکی سے مبرا معاشرہ بھی ہو اور سسٹم بھی ہو۔ایسے نئے بھارت کی جانب ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

ہم نے بھارت اور انتظامیہ میں کئی اصلاحات کی ہیں۔ ضوابط کو سہل بنایا ہے۔ اور دنیا ہمارے ان قدموں کو، ہم نے جو قدم اٹھائے ہیں آج دنیا میں چاروں طرف اس کی تعریف ہو رہی ہے۔ ہم تعمیر ملک اور عوامی شراکت داری کا تعلق مضبوط کر رہے ہیں۔ نیپال کے عام انسانوں کی زندگی کو بھی خوشحال بنانے میں تعاون کے لئے سواسو کروڑ ہندوستانیوں کو بہت مسرت ہوگی۔ یہ میں آج آپ کو یقین دلانے آیا ہوں۔

ساتھیوں، بھائی چارگی تب اور بھی مضبوط ہوتی ہے جب ہم ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے رہتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ نیپال کے وزیر اعظم کے دورہ بھارت کے فوراً بعد مجھے آج یہاں آپ کے درمیان آنے کا موقع حاصل ہوا۔ جیسے میں یہاں بار بار آتا ہوں، ویسے ہی دونوں ممالک کے لوگ بھی بے روک ٹوک آتے جاتے رہنے چاہئیں۔

ہم ہمالیہ پہاڑ سے مربوط ہیں۔ ترائی کے کھیت کھلیانوں سے مربوط ہیں۔ بیشمار کچے پکے رستوں سے جڑے ہیں۔ چھوٹی بڑی درجنوں ندیوں سے جڑے ہیں۔ اور ہم اپنی کھلی سرحد سے بھی جڑے ہیں۔ لیکن آج کے دور میں صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے۔ ہمیں درونِ ملک آبی شاہراہوں سے بھی جڑنا ہے، آبی راستوں سے بھی جڑنا ہے۔ پانی ہو کہ دھرتی، آسمان ہو یا خلاء، ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑنا ہے۔ عوام الناس کے درمیان رشتے ناطے پھلے پھولیں مضبوط ہوں، اس کے لئے کنیکٹیوٹی انتہائی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہندوستان اور نیپال کے درمیان کنیکٹیوٹی کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔

آج میں نے اولی صاحب کے ساتھ مل کر جنک پور سے ایودھیا تک کی بس سروس کا افتتاح کیا ہے۔ پچھلے ماہ وزیر اعظم اولی جی اور میں نے بیرگنج میں پہلی انٹی گریٹڈ چیک پوسٹ کا افتتاح کیا تھا۔ جب یہ نگراں چوکی پوری طرح سے کام کرنا شروع کر دے گی، اس وقت سرحد پر کاروبار اور آمدو رفت آسان ہو جائے گی۔ جیت نگر۔ جنک پور ریلوے لائن پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

بھائیو، بہنوں،

جاری سال کے آخر تک اس لائن کا کام پورا کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔ جب اس ریل لائن کا کام پورا ہو جائے گا، تب نیپال اور ہندوستان، ایک عظیم نیٹ ورک میں ریل نیٹ ورک سے بھی جڑ جائیں گے۔ اب ہم بہار کے رکسول سے ہوتے ہوئے کٹھمنڈو کو بھارت سے جوڑنے کے لئے تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہی نیہں بلکہ ہم آبی راستوں سے بھی ہندوستان کو نیپال سے جوڑنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ نیپال کا پانی ہندوستان کے آبی راستوں کے ذریعہ سمندر سے بھی جڑ جائے گا۔ ان آبی راستوں سے نیپال میں تیار ہونے والا سامان، دنیا کے دور دراز ملکوں میں بھی آسانی سے پہنچ پائے گا۔ اس سے نیپال میں کاروبار قائم ہوں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ منصوبہ نہ صرف نیپال کے سماجی اور اقتصادی بدلاؤ کے لئے ضروری ہے، بلکہ کاروباری لحاظ سے بھی ازحد ضروری ہے۔

آج ہندوستان اور نیپال کے درمیان، بڑی مقدار میں کاروبار ہوتا ہے۔ کاروبار کے لوگ یہاں وہاں کے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ پچھلے مہینے ہم نے زراعت کے شعبے میں ایک نئی شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس شراک داری کے تحت زراعت کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ اس بات پر بھی توجہ دی جائے کہ دونوں ملکوں کے کسانوں کی آمدنی میں کیسے اضافہ کیا جائے۔ ہم کاشتکاری کے میدان میں سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال کے شعبے میں بھی باہمی تعاون میں اضافہ کریں گے۔

بھائیو، بہنوں،

آج کے دور میں، ٹکنالوجی کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ ہندوستان اسپیس ٹکنالوجی کی دنیا میں، دنیا کے پانچ بڑے ملکوں میں شامل ہے۔ آپ کو یاد ہوگا جب میں پہلی بار نیپال آیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ ہندوستان، نیپال جیسے اپنے پڑوسی ملکوں کے لئے ایک سیٹلائٹ بھیجے گا۔ میں اپنے اس وعدے کو پچھلے سال پورا کر چکا ہوں۔ پچھلے برس خلا میں بھیجا گیا ساؤتھ ایشیا سیٹلائٹ آج اپنی پوری اہلیت و صلاحیت سے اپنا کام کر رہا ہے اور نیپال کو اس کا بھرپور فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

ہم ہندوستان اور نیپال کی ترقی کے لئے پانچ ٹی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ ان میں سے پہلا ٹی ہے، ٹریڈیشن یعنی روایت، دوسرا ٹی ہے ٹریڈ یعنی تجارت، تیسرا ٹی ہے ٹورزم یعن سیاحت، چوتھا ٹی ہے ٹکنالوجی اور پانچواں ٹی ہے ٹرانسپورٹ۔ یعنی روایت، کاروبار، سیاحت، ٹکنالوجی اور ٹرانسپورٹ سے ہم نیپال اور ہندوستان کو ترقی کے راستے پر آگے لے جانا چاہتے ہیں۔

ساتھیوں، تہذیب و ثقافت کے علاوہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان کاروباری رشتے بھی ایک اہم کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نیپال بجلی کی پیداوار کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ آج نیپال کو تقریباً 450 میگا واٹ بجلی ہندوستان سے فراہم کرائی جاتی ہے، اس کے لئے ہم نے نئی ٹرانسمشن لائنیں بچھائی ہیں۔

ساتھیوں، 2014 میں نیپال کے ایوان آئین ساز میں، میں نے کہا تھا کہ تیل ٹرکوں سے ہی کیوں آنا جانا چاہئے، راست طور سے پائپ لائن کے ذریعہ کیوں نہیں۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ہم نے موتیہاری۔ املیکھ گنج پائپ لائن کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔

ہندوستان میں ہماری سرکار سودیش درشن کے نام سے ایک اسکیم چلا رہی ہے۔ جس کے تحت ہم اپنی تاریخی وراثتوں اور مقاماتِ عقیدت کو آپس میں جوڑ رہے ہیں۔ رامائن سرکٹ میں ہم ان سبھی مقامات کو جوڑ رہے ہیں جہاں جہاں بھگوان رام اور ماتا جانکی کے قدم پڑے تھے۔ اب اس کی کڑی میں نیپال کو بھی جوڑنے کی سمت میں ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ جہاں جہاں رامائن کے نشان ہیں، ان مقامات کو ہندوستان کے باقی علاقوں سے جوڑ کر عقیدت مندوں کو سستا اور دلچسپ سفر کا لطف حاصل ہو۔ اور وہ بڑی تعداد میں نیپال آئیں، یہاں کی سیاحت کو فروغ حاصل ہو۔

بھائیوں اور بہنوں،

ہر سال وِواہ پنچمی کے موقع پر ہزاروں عیقدت مند ہندوستان سے جنک پور آتے ہیں۔ پورے سال پرکرما کے لئے بھکتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ جنک پور اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی ترقی کے لئے نیپال سرکار کی اسکیم میں ہم تعاون کریں گے تاکہ عقیدت مندوں کو مشکلوں سے بچایا جا سکے۔ اس کام کے لئے ہندوستان کی جانب سے سو کروڑ روپئے کی امداد دی جائے گی۔ نیپال کی سرکار اور یہاں کی صوبائی سرکار کے ساتھ مل کر منصوبوں کی شناخت کی جائے گی۔ یہ روایت راجا جنک کے دور سے چلی آ رہی ہے کہ جنک پور دھام نے ایودھیا کو ہی نہیں بلکہ پورے سماج کو کچھ نہ کچھ دیا ہے۔ میں تو یہاں صرف ماں جانکی کے درشن کرنے آیا تھا۔ جنک پور کے لئے یہ اعلانات ہندوستان کے سوا سو کروڑ کی عوام کی جانب سے ماں جانکی کے قدموں میں یہ اقدام اور اعلانات نذر کرتا ہوں۔

ایسے ہی دو پروگرام اور ہیں۔ بدھسٹ سرکٹ اور جین سرکٹ۔ اس کے تحت بدھ اور مہاویر جین سے جڑے جتنے بھی مقدس مقامات ہندوستان میں ہیں، انہیں آپس میں جوڑا جا رہا ہے۔ نیپال میں بودھ اور جین عقیدے کے کئی مقدس مقامات ہیں۔ یہ بھی دونوں ملکوں کے عقیدت مندوں اور سیاحوں کے لئے ایک اچھے بندھن کا کام کر سکتا ہے۔ اس سے نیپال میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

بھائیوں اور بہنوں،

ہمارے کھانے پینے اور بول چال میں بہت سی ملتی جلتی باتیں ہیں۔ میتھلی زبان بولنے والوں کی جتنی تعداد ہندوستان میں ہے، اتنی ہی یہاں نیپال میں بھی ہے۔ میتھلی فنون، تہذیب اور ثقافت کے ذکر میں عالمی سطح پر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جب دونوں ملک میتھلی کی ترقی کے لئے مل کر اجتماعی کوششیں کریں گے۔ تب اس زبان کی ترقی اور بھی زیادہ ممکن اور آسان ہو سکے گی۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ میتھلی فلم ساز اب نیپال۔ ہندوستان سمیت قطر اور دبئی میں بھی ایک ساتھ نئی میتھلی فلمیں ریلیز کرنے جا رہے ہیں۔ اس قدم کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے، اس کو فروغ دیے جانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح یہاں میتھلی بولنے والوں کی کافی تعداد موجود ہے۔ ویسے ہی ہندوستان میں نیپالی زبان بولنے والوں کی خاصی تعداد موجود ہے۔ نیپالی زبان کے ادب کے ترجمے کو بھی آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ نیپالی زبان ہندوستان کی ان زبانوں میں شامل ہے جنہیں آئینِ ہند کی منظوری شامل ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

ایک اور میدان ایسا ہے جہاں ہماری شراکت داری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہندوستانی عوام نے سووَچھتا کی ایک بہت بڑی مہم شروع کی ہے۔ یہاں بہار اور پڑوس کی دوسری ریاستوں میں جب آپ اپنی رشتہ داری میں جاتے ہیں تب آپ نے بھی پڑھا ہوگا اور سنا ہوگا کہ محض تین چار سال کی مدت میں ہی ہندوستان کے 80 فیصد گاؤں کھلے میں رفع حاجت کی لعنت سے پاک ہو چکے ہیں۔ ہندوستان کے ہر اسکول میں بچیوں کے لئے الگ ٹوائلیٹ تعمیر کیے گئے ہیں۔ مجھے یہ جان کر ازحد خوشی ہوئی ہے کہ سووَچھ بھارت اور سووَچھ گنگا کی ہی طرح، آپ لوگوں نے بھی جنک پور کے تاریخی مذہبی مقاموں کو صاف کرنے کی کامیاب مہم شروع کی ہے۔ میں اس کے لئے آپ کو، یہاں میئر جی کو مبارک باد دیتا ہوں۔ افسانوی اور اساطیری اہمیت کے مقامات کو محفوظ رکھنے کی کوششوں سے نیپال کے نوجوانوں کا جڑنا اور بھی خوشی کی بات ہے۔
میں خاص طور سے یہاں کے میئر صاحب کو مبارک باد دینا چاہتاہوں، ان کے ساتھیوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، یہاں کے نوجوانوں کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں اور یہاں کے ممبرانِ اسمبلی اور ممبرانِ پارلیمنٹ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے سووَچھ جنک پور مہم کو آگے بڑھایا ہے۔ بھائیوں اور بہنوں آج میں نے ماں جانکی کے درشن کیے، کل مکتی ناتھ دھام اور پشوپاتی ناتھ جی کا بھی آشیرواد لینے کا موقع مجھے حاصل ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ دیوتاؤں کے آشیرواد اور آپ سب کے آشیش سے جو بھی معاہدے ہوں گے وہ آسودہ نیپال اور خوشحال ہندوستان کے عزم کو عملی تعبیر دینے میں معاون ہوں گے۔

میں ایک بار پھر نیپال کے وزیر اعظم عزت مآب اولی صاحب، ریاستی سرکار، ضلع کی سرکار اور یہاں کے عوام الناس کے تئیں ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

جے سیا رام۔ جے سیا رام