پی ایم انڈیا
نئی دہلی،26مئی 2018؍ اسٹیج پرموجود جھاركھنڈ کی گورنر مسز دروپدی مرمو جی، یہاں کے مقبول وزیر اعلیٰ جناب رگھوبر داس جی،مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب آر کے سنگھ جی، اشونی جی، سدرشن بھگت جی، جھاركھنڈحکومت میں وزیرجناب امركمار جی،رام چندرجی،ہمارے رکن پارلیمنٹ جناب پریم سنگھ جی،ممبر اسمبلی بھائی پھول چند جی اور بڑی تعداد میں تشریف لائے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!
سب سے پہلے میں بھگوان برسا منڈا کی اس ویردھارا کونمن کرتا ہوں۔ یہ زمین تیاگ اورقربانی کی زمین ہے۔یہ جے پال سنگھ سری منڈا جی کی جدوجہد کی سر زمین ہے اور یہ اٹل بہاری واجپئی کے خوابوں کی سرزمین ہے۔یہاں کے معدنی ذخائر، کوئلے کی کانیں، ملک کی ترقی کے انجن کے طور پر ایک توانائی دینے کا کام کر رہی ہیں۔
مجھے بتایا گیاہے کہ آپ یہاں دو سے تین تین گھنٹے سے بیٹھے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں آکر گرمی جوشی سے ہمارا استقبال کیا،آپ نے آشیروار دیا۔آپ کی اس محبت کےلئے میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ جب میں انتخابات کے دوران جھارکھنڈ میں آیا تھا،تو میں جھارکھنڈ کے لئے کہا کرتا تھا کہ جھارکھنڈ کی ترقی کے لئے ڈبل انجن کی ضرورت ہے۔ ایک رانچی والا اور دوسرا دہلی والااور آپ نے اسے چار سالوں میں دیکھ لیا ہے۔ جب دونوں حکومتیں ملک کر ایک سمت میں ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کو لے کر چلتے ہیں،مقصد کا تعین کرتے ہے اور مقصد حاصل کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں تو ترقی کے کیسے نتائج ہوتے ہیں، وہ جھارکھنڈ کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ جب ہم عوامی زندگی میں کام کرتے ہیں، ہمارا راستہ صحیح ہے کہ نہیں ، ہمارا ارادہ نیک ہے کہ نہیں، ہم لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کررہے ہیں یا نہیں کررہے ہیں، اس کا پیمانہ ایک ہی ہوتاہے جمہوریت میں۔ اور وہ ہوتا ہے عوامی حمایت کا۔ میں جھارکھنڈ سرکار کے وزیر اعلیٰ رگھوبر داس جی کو اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں، کہ پچھلے دنوں جب یہاں بلدیاتی انتخابات ہوئے، پنچایتوں کے چناؤ ہوئے اور جھارکھنڈ کی جنتا نے جو بھاری حمایت دی وہ جھارکھنڈ حکومت کے اور دہلی سرکار کے کاموں کے تئیں عوام کا کیا احساس ہے، اس کا اظہار کرتاہے۔
بھائیو اور بہنوںً! میں یہاں جب 2014 میں انتخابات کے دوران آیا تھا تب میں نے کہا تھا کہ جھارکھنڈ مجھے جو پیار دے رہا ہے، میں سود سمیت لوٹاؤں گااور ترقی کرکے لوٹاؤں گا۔ اور آج جب ایک کے بعد ایک قدم اٹھائے ہیں اس یہ صاف نظر آرہا ہے کہ دہلی میں بیٹھی ہوئی سرکار جھارکھنڈ کی ترقی کے لئے کتنی عہد بستہ ہے۔ دلت ہو، پنڈت ہو، محروم شخص ہو، میرے آدی باسی بھائی بہوں، عورتیں ہوں، نوجوان ہوں، ہر کسی کی فلاح کے لئے ایک کے بعد ایک وسیع اسکیموں کے ساتھ ہم آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔
آج قریب قریب 27ہزار کروڑ روپے یہ ریاستی سرکاروں کے بجٹ سے بھی بہت بڑی رقم ہے۔27 ہزار کروڑ روپے کے 5 بڑے پروجیکٹ، اس کا جھارکھنڈ کی سرزمین پر افتتاح ہورہا ہے۔ سندری میں ہاتھ کا کارخانہ، پتراتو کا پاور پروجیکٹ، بابا بھولے ناتھ کی نگری دیو گھر میں ہوائی اڈہ اور ایمس اور رانچی میں پائپ لائن سے گیس پہنچانے کا پروجیکٹ، ایک ساتھ 27ہزار کروڑ روپے کا کام آج جھارکھنڈ کی سرزمین پر شروع ہورہا ہے۔ قریب قریب 80 ہزار کروڑ کے اور کام جو مقرر ہیں، 50 سے زیادہ کام چل رہے ہیں۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ جھارکھنڈ ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے کتنا آگے پہنچ جائے گا۔
میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ جھارکھنڈ کے عوام ہیرے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ڈائمنڈ پر بیٹھے ہوئے ہیں، کالا ہیرا، بیلک ڈائمنڈ یہ ہمارا کوئلہ بھلے کالے رنگ میں رنگا ہو، لیکن اس میں اجالا پھیلانے کی طاقت ہے، روشنی پیدا کرنے کی طاقت ہے، توانائی سے بھر دینے کی طاقت ہے اور اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے 18 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے یہاں پر پتراتو میں آج پاور پروجیکٹ کا افتتاح کیا گیا۔ یہاں کا کوئلہ یہیں کی بجلی، یہ جھارکھنڈ ، اقتصادی طاقت تو بنے گا ہی، یہ جھارکھنڈ کے نوجوانوں کو روزگار بھی دے گاا ور ترقی کے نئے باب کھولنے کا کام آج سے پتراتو کا پاور پلانٹ سے شروع ہورہا ہے۔ کوئلہ کانوں سے جو بے گھر ہوئے ہیں ان کے کنبے کے افراد کو روزگارملے، ان کنبوں کی پریشانی کو دیکھا جائے۔
مجھے خوشی ہے کہ آج کچھ نوجوانوں کو ، مجھے ان کے روزگار کے لیٹر دینے کا بھی موقع ملا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہزاروں نوجوانوں کو اس سے مواقع حاصل ہونے والے ہیں۔ ہمارا خواب تھا کہ ہندوستان کے ہر گاؤں میں بجلی پہنچے۔2014 میں جب میں نے کام کاج سنبھالا، اس دیش کے 18 ہزار گاؤں ایسے تھے ، جہاں پر صدیاں بیت گئی، زندگی اندھیرے کے باہر نہیں نکل پائی تھی۔ بجلی دیکھی نہیں تھی، بجلی کا کھمبا نہیں دیکھا تھا۔بجلی کا تار نہیں آیا، بجلی کا لٹو نہیں دیکھا تھا۔ ان ہزاروں گاوؤں کو روشنی دینے کا کام کا ہم نے بیڑا اٹھایا۔ یہ دشوار گزار علاقے تھے ۔ ووٹ بینک کی سیاست میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو محروم لوگوں کی پروا نہیں ہوتی ہے، وہ اپنے صرف ووٹ بینک کی ہی فکر کرنے کی عادی ہوتے ہیں۔ ہم سب کا ساتھ سب کا وکاس کا منتر لے کر چلنے والے لوگ ہیں اور اسی لئے 18 ہزار گاؤں میں پہنچنی چاہئے۔ کتنا ہی کتنا دشوار گزار کیوں نہ ہو، پہاڑ کی چوٹیوں پر کیوں نہ ہو، گھنے جنگلوں میں کیوں نہ ہو، تار پہنچانے کے لئے ہزاروں لاکھوں روپے خرچہ کیوں نہ لگ جائے، لیکن ایک بار دیش میں ہر گاؤں کو بجلی پہنچانا ہے۔
اور مجھے خوشی ہے کہ طے حد کے اندر وقت سے پہلے 18 ہزار گاوؤں میں بجلی پہنچادینی ہے۔ اس ملک میں پہلے کبھی کسی کو پہلے فرصت نہیں تھی کہ جاکر پوچھ لیا جائے کہ آزادی کے 60-50 کے بعد بھی کتنے ہیں گاؤں ہیں جہاں بجلی نہیں پہنچی ہے۔ میں اسے اچھا کہتا ہوں کہ جن 18ہزار گاؤں کو دیکھنے کی پہلے فرصت نہیں تھی آج لوگوں کے کہنے والے کرکے دھول چٹانے کے لئے جانا پڑ رہا ہے۔اس سے بڑھ کر خوشی کی نوبت او رکیا ہوسکتی ہے اور اس سے سرکاری بابو بھی چوکنے رہتے ہیں۔ ان کو بھی لگتا ہے کہ بولا ہے تو پورا کرکے ہی دکھانا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں کام ہوتے ہیں۔ دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ جب اعلان کرکے کام کرتے ہیں تو دباؤ پیدا ہوتا ہے، جب ہم 18 ہزار گاوؤں کی بات کرتے تھے تو کچھ لوگ ملک کو گمراہ کرنے کے لئے بول رہے تھے، لیکن گاؤں میں کھمبا لگ گیا، تار لگ گیا ، بجلی پہنچانے کا کام پورا کیا۔سوبھاگیہ یوجنا سے چار کرو ڑ گھروں میں بھی بجلی پہنچا کر ہی دم لیں گے۔ یہ ہم نے بیڑا اٹھا یا ہے۔
جو لوگ صبح شام امیروں کو یاد کئے بغیر سو نہیں پاتے ہیں، جن لوگوں کو امیروں کو گالی دے کر اپنی غریبوں کی بھکتی دکھا نے کا شوق لگتا ہے۔ فیشن ہوگئی ہے۔ وہ دن رات کہتے ہیں مودی امیروں کے لئے کام کرتا۔ جن 18 ہزار گاوؤں میں بجلی پہنچی وہ کون امیر رہتا ہے۔ میں ذرا ایسے لوگوں کو پوچھنا چاہتا ہوں کہ جن چار کروڑگھروں میں آج بھی اندھیرا ہے، جہاں مودی بجلی پہنچانے کے لئے دن رات لگا ہے ان چار کروڑ گھر میں امیر ماں باپ یا بیٹا رہتا ہے۔ میں ذرا ان نام داروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو کام داروں کی درد نہیں جانتے اور اس لئے بھائیو اور بہنوں میں کہنا چاہتا ہوں۔
ہم سماج کے ، آخر انسان ہیں، دلت ہوں، متاثرہ ہو، مظلوم ہو، محروم ہو اسے ہم ترقی کے سفر میں جوڑنا چاہتے ہیں۔ جھارکھنڈ میں بھی ان چار کروڑ کنبو ں میں ، 32 لاکھ کنبے جھارکھنڈ میں ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ وزیر اعلیٰ جی نے بھی بھارت سرکار کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر مقررہ وقت میں ان 32 لاکھ گھروں میں بھی بجلی پہچانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اور کامیاب ہوکر رہیں گے۔ یہ میرا یقین ہے۔
بھائیو بہنو!وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی بدلنی چاہئے، وہ بدلی نہیں، ہم نے گیس کی بنیاد پر کام کرنے کی سمت میں قدم اٹھائے اور آنے والے کچھ وقت میں یہ کارخانہ بھی چالو ہو جائے گا۔ مشرقی اترپردیش میں گورکھپور میں بھی ایسا ہی ایک کارخانہ شروع ہوجائے گا۔
بھائیو بہنو!سندری اور دھنباد ایک طرح سے اینکر سٹی کے بنیاد کی طرح بٹ سکتے ہیں۔ ترقی کے بڑے امکانات اس میں موجود ہیں۔ بھائیو بہنو! یہ یوریا کے کارخانے ، جنہیں آسانی سے گیس ملے گی۔ بہار کا برونی ہو، مشرقی اترپردیش کا گورکھپور ہو یا جھارکھنڈ کا سندری ہو، یوریا کے یہ تینوں کارخانے شروع ہوں گے تو مشرقی ہندوستان میں دور دور سے یوریا ٹرانسپور کرکے لانا پڑتا ہے، وہ خرچہ کم ہو جائے گا۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور یوریا حاصل ہونے کی وجہ سے ملک میں زراعت کا دوسرا نقلاب مشرقی بھارت میں ہونے والا ہے۔ اس میں بہت بڑا سہایک ہونے والا ہے اور اس کا م کو بھی ہم آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
ہم نے نیم کوٹی یوریا کا کام شروع کیا۔ پہلے کسانوں کے نام پر سبسڈی جاتی تھی۔ یوریا کھیت میں نہیں پہنچتا تھا، امیروں کے کارخانوں میں پہنچ جاتا تھا، جو نامدار امیروں کے سیوا میں 70 سال سرکاری چلائی ہے، انہوں نے کبھی سوچا نہیں کہ یوریا چوری ہوکرکے کیمیکل کے کارخانوں میں چلا جاتا ہے۔ سرکاری خزانوں سے ہزاروں کروڑ روپے کی سبسڈی چلی جاتی ہے، یہ یوریا روکنے کا راستہ کھوجنا چاہئے۔ ہم نے آکر کے صد فیصد یوریا کا نیم کوٹنگ کردیا ۔ نیم کی جو پھلی ہوتی ہے اس کے تیل لگانے سے یوریا چوری نہیں ہوسکتا۔یوریا کسی کارخانے میں کام نہیں آ سکتا۔ یوریا صرف اور صرف کھیتی ہی کے کام میں آ سکتا ہے اور اسی وجہ سے چوری بند ہوگئی۔
امیروں کے لئے جینے مرنے والے لوگ ، اب یہ چوری بند ہوگئی ہے اس کی وجہ سے پریشان ہے، لیکن میرا کسان اس کے حق کے یوریا کے لئے اب اس قطار میں کھڑا رہنا نہیں پڑتا ہے۔ اس کو بلیک میں یوریا لانا نہیں پڑتاہے۔ یوریا پانے کے لئے کبھی پولس کی لاٹھیاں کھانی پڑتی تھی، اس سے وہ بچ گیا ہے۔ آج جو دو سال ہوگئے ہیں، ہندوستان میں یوریا نہیں ہے، ایسی ایک آواز نہیں اٹھی، کیونکہ چوری بند ہم نے کردی ہے۔
بھائیو بہنو!میں بدعنوانی کے خلاف لڑنے والا انسان نہیں ہوں، بے ایمانی کے خلاف لڑنے والا انسان ہوں او رایک کے بعد ایک قدم اسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ آج مجھے رانچی میں گھر گھر میں پائپ لائن سے گیس پہنچانے کا پروجیکٹ کا بھی آغاز کرنے کا موقع ملے گا۔ اکیسویں صدی کا بنیادی ڈھانچہ کیسا ہو، جس میں گیس گریڈ ہو، آپٹیکل فائبر نیٹ ورک ہو، پانی کا ڈگری ہو، بجلی کی ہر طرح کی جدید سہولیات ہوں، کیا وجہ ہے کہ میرا جھارکھنڈ پیچھے رہ جائے اور اسی لئے ہندوستان نے تیزی سے آگے بڑھے والے شہروں کی برابری اب رانچی بھی کرنے لگ جائے گا۔یہ خواب دیکھ کر کے گیس گریڈ کا کام ہم نے اٹھایا ہے۔ گھر گھر میں گیس پہنچے گا اور آگے جا کر یہ گیس یوپی، بہار، مغربی بنگال، اڈیشہ اور آسام کے تقریباً 70 ضلعوں میں پائپ لائن سے گیس پہنچنے والا ہے۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ دھوئیں سے پاک رسوئی گھر ، یہ جو ہمارا خواب تھا اس کو پورا کرنے میں ہم نے اجولا یوجنا چلائی۔ اب دوسرا قدم ہے پائپ لائن سے گیس پہنچانا اور ایک تیسرے پر کام چل رہا ہے۔ کلین کوکنگ کا سولر انرجی والے چولہے ، تاکہ غریب کا شمسی توانائی سے ہی کھانا پک جائے اور اس کو ایندھن کا بھی خرچ نہ آئے۔ اس سمت میں بھی تیزی سے کام کیا جارہا ہے۔
آج مجھے یہاں دیو گھر میں ایمس کی تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا ہے۔ تمام مشرقی ہندوستان سے بہت بڑی تعداد میں مریضوں کو دہلی ایمس تک پہنچنا پڑتا ہے۔ غریب کے پس پیسے نہیں ہوتے، دشواریاں ہوتی ہیں۔ ہم نے مشرقی ہندوستان میں ایمس کا جال بچھاکر ملک کے غریب سے غریب ترین افراد کو اچھی اچھی سہولیات ملے، اس سمت میں کام شروع کیا ہے اور اسی کے ذریعے آج دیوگھر میں یہ مسافر یہاں آنا چاہتے ہیں۔ سیاحت کے لئے بھرپور انتظام ہے اور اس لئے اس کو ایئر پورٹ کی کنکٹی وٹی میں اس سمت میں ہم کام کررہے ہیں۔
سیاحت کی وزارت بھی اس کام کو لے کر اور ہمارا خواب ہے کہ ہوائی چپل پہننے والا بھی ہوائی جہاز میں جائے یہ ہمارا خواب ہے اور آپ کو جان کر کے کہ خوشی ہوگی کہ پچھلے سال ریلوے کے اے سی ڈبے میں سفر کرنے والوں سے زیادہ ہوائی جہاز میں سفر کرنے والوں کی نکلی ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ملک کس طرح سے عام آدمی کی زندگی کے ساتھ بدلاؤ لا رہا ہے۔
بھائیو اور بہنو! وکاس کے بہت سے پروجیکٹ لے کر آج ہم آگے بڑھ رہے ہیں، تب 2022 تک غریبوں کو گھر دینے کا سپنا ہے۔ گھر بھی ہو اور بیت الخلاء بھی ہو۔ بجلی بھی ہو اور بچوں کے لئے نزدیک میں پڑھنے کے لئے سہولیات بھی ہو۔ ایسے گھر کی منصوبہ بہت تیز رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔2022 آزادی کے 75سال ہو ، دیش میں کوئی بغیر گھر کے نہ ہو، یہ خواب لے کر ہم آگے چل رہے ہیں۔
بھائیو اور بہنو! میری آپ سے درخواست ہے کہ ہم ترقی کے سفر میں بھاگیدار بنیں۔ آج ملک ایمانداری کی طرف پڑا ہے اور ہندوستان کا عام انسان ایمانداری کے لئے جوجھتا ہے اور یہ سرکار ان عام لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے، جو ایمانداری کے لئے جیتے ہیں، ایمانداری کے جوجھتے ہیں اور اسی لئے بھائیو بہنو آپ کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے ایک اہم ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں آکر آپ نے آشیرواد دیئے۔ اتنے بڑے پروگراموں کے بیچ آج جھارکھنڈ ایک نئی اونچائی پر، نئے جھارکھنڈ کی سمت آگے بڑھے گا۔ اس یقین کے ساتھ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
م ن۔و ا۔ن ع
U: 2799
I begin by paying homage to Bhagwan Birsa Munda. This land of Jharkhand is a land of courage: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
For the last four years the Central Government and Government of Jharkhand have been working for the progress of the state and empowerment of the people: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
The Central Government is devoting significant resources for the empowerment of the power, Dalits and Tribal communities.
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
Today, we have laid the foundation stone for five big projects. The total cost of these projects is Rs. 27,000 crore: PM @narendramodi
The holy land of Deoghar will get a state-of-the-art airport and AIIMS: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
All the development projects in the state will give opportunities to the youth of Jharkhand: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
When we assumed office there were 18,000 villages lacking access to electricity. We worked to brighten the lives of people in these villages and took electricity there: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
Now, we have gone a step further and we are ensuring every household in India has access to electricity: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
Fertiliser plants which had stopped working are in the process of being revived. Eastern India will gain the most from this: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
The coming of AIIMS will transform the healthcare sector in Jharkhand. The poor will get access to top quality healthcare: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
It is our Government that has made aviation accessible and affordable. We want more Indians to fly. Better connectivity will also improve tourism: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 25, 2018
Addressed a huge public meeting in Sindri, Jharkhand. Paid tributes to Bhagwan Birsa Munda and highlighted the development initiatives being undertaken by the Central Government for welfare of the poor, Dalits and Tribal communities. https://t.co/2p0oHvSSKh pic.twitter.com/IwvyqVlyNA
— Narendra Modi (@narendramodi) May 25, 2018
The foundation stones for key development projects were laid during the public meeting in Jharkhand. This includes the revival of the Sindri Fertiliser Project, which is a part of our efforts to revive fertiliser plants in Eastern India. pic.twitter.com/MjLwHZgP1e
— Narendra Modi (@narendramodi) May 25, 2018
Today is a memorable day for the people of Deoghar. The upcoming AIIMS will cater to the healthcare needs of people. The development of Deoghar Airport will bring more pilgrims and tourists to this blessed land. pic.twitter.com/tplxDKT8Zd
— Narendra Modi (@narendramodi) May 25, 2018