پی ایم انڈیا

نئی دہلی، 06 جون ۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر پانچ جون 2018 کو وگیان بھون میں جو تقریر کی تھی اس کا متن حسب ذیل ہے :
میرے وزارتی ساتھی ،ڈاکٹر ہرش وردھن، ڈاکٹر مہیش شرما اور جناب منوج سنہا جی !
اقوام متحدہ کے ماحولیات پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر !
ماحولیات ، جنگلات اور تبدیلی ماحولیات کی وزارت کے سکریٹری !
ملک اور بیرون ملک سے یہا ں تشریف لائے سرکردہ اور اکابر حضرات اور
خواتین وحضرات !
میں ،ہندوستان کی ایک ارب 30 کروڑ افراد کی آبادی کی جانب سے نئی دلی میں آمد پر آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔
امید کرتا ہو ں کہ اس تقریب کے موقع پر یہاں تشریف لانے والے مندوبین حضرات دہلی کی تاریخ او ر اس عظیم شہر کی چمک دمک دیکھنے کے لئے کچھ وقت نکال سکیں گے۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم عالمی یوم ماحولیات 2018 کی تقریبات کی میزبانی کررہے ہیں ۔
آج جب ہم اس اہم موقع کی تقریبات منارہے ہیں تو ہمیں آفاقی بھائی چارے کی قدیمی قدریں یاد آرہی ہیں ۔ اس عظیم جذبے کی ترجمانی سنسکرت کے مشہور عالم محاورے ’’ وسودھیو کٹم بکم ‘‘ میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ کی گئی ہے ۔
اسی جذبے کی ترجمانی مہاتما گاندھی کی ٹرسٹی شپ کے طور وطریق سے بھی مظہر ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ دھرتی ہرایک کی ضروریات کی تکمیل کے لئے کافی ہے لیکن ہر ایک کی حرص وہوس کے لئے کافی نہیں ہے ۔
ہماری روایات میں فطرت کی ساتھ ہم آہنگی رکھتے ہوئے زندگی کرنے پر زوردیا جاتا رہا ہے ۔
یہ فطرت کے تئیں ہمارے احترام کا مظہر ہے اور یہی ہمارے تہواروں اور قدیمی مخطوطات میں تحریر ہے ۔
خواتین وحضرات !
آج ہندوستان انتہائی تیز رفتاری سے ترقی کرتی ہوئی دنیا کی بڑی معیشت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہم اپنے عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے تئیں عہد بستہ ہیں ۔
ہم اس کام کو پائیدار اور سرسبز طریقے سے کرنے کے ؎تئیں عہد بستہ ہیں ۔
ہم نے اس سلسلے میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 40 ملین نئے رسوئی گیس کنکشن دئے ہیں۔
اس سے ہماری دیہی خواتین کو زہریلے دھوئیں سے نجات مل گئی ہےاور
اس سے ایندھن کی لکڑی پرانحصار پوری طرح ختم ہوگیا ہے ۔
یہی وہ عہد بستگی ہے جو ہندوستان بھر میں 300 ملین ایل ای ڈی بلب نصب کئے جانے کے پس پشت کارفرما ہے ۔اس سے نہ صرف بجلی میں بچت ہوئی ہے بلکہ فضامیں کاربن ڈائی آکسائڈ کے اضافی اخراج سے بچاؤ ممکن ہوسکا ہے ۔
ہم آج قابل تجدید توانائی کی پیداوار کی زبردست کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ہمارا نشانہ ہے کہ 2022 تک 75 گیگاواٹ شمسی اور ہوائی توانائی پیدا کی جاسکے ۔
ہم دنیا میں سب سے زیادہ شمسی توانائی پیداکرنے والے پانچویں بڑے ملک کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ ہم قابل تجدید توانائی پیدا کرنے والے دنیا کے چھٹے بڑے ملک کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ہمارا نشانہ ہے کہ ہر کنبے کو بجلی کا کنکشن دستیاب کرایا جائے ۔ جس سے ایندھن سے ہونے والے ماحولیاتی انحطاط پر انحصار مزید کم ہوسکے گا۔
ہم باقیات سے حاصل ہونے والے ایندھن پر انحصار کو کم کررہے ہیں ۔ ہم جہاں سے بھی ممکن ہو، ایندھن حاصل کررہے ہیں ۔ ہم شہروں اور عوامی ٹرانسپورٹ نظام میں زبردست تبدیلیاں کررہے ہیں۔
ہم ایک جواں سال قوم ہیں ۔ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے ہندوستان کو ایک گلوبل مینو فیکچرنگ ہب بنارہے ہیں۔
ہم نے میک ان انڈیا کمپین شروع کی ہے ۔اس کا م کے دوران ہم سازوسامان کے نقص اوراثرات سے پاک تیاری پر زور دے رہے ہیں۔اس کا مطلب ہے ایک ایسی مینو فیکچرنگ جو نہ صرف نقائص سے پاک ہو بلکہ ماحولیات کے بھی مضرت رساں نہ ہو ۔
ہندوستان ،قومی پیمانے پر تعین شدہ خدمات کے جزو کی حیثیت سے 2005 سے 2030 تک کی مدت کے دوران اپنی مجموعی گھریلو شر ح نمو کی شدت سے گیسوں کے اخراج میں 33سے 35 فیصد تک کمی کرنے کے تئیں عہد بستہ ہے ۔ ہم قومی تعین شدہ خدمات کا نشانہ حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہیں ۔
یو این ای پی کی گیپ (جی ای پی ) رپورٹ کے مطابق ہندوستان اپنے کوپن ہیگن عہد کی تکمیل کے راستے پر چل رہا ہے ۔ ہم 2005 سے 2020 کی مدت کے اندر ہندوستان کی مجموعی گھریلو شرح نمو کی شدت سے ہونے والے گیسوں کے اخراج میں 20سے 25 فیصد تک کمی کرسکیں گے۔
ہمارے پاس قومی حیاتیاتی تنوع پر مبنی مضبوط حکمت عملی موجود ہے ۔ دنیا کے محض 2.4فیصد زمینی رقبے کے ساتھ ہندوستان اندراج شدہ متنوع نسلوں کی آبیاری کررہے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی ہندوستان تقریباََ 18 فیصد انسانی آبادی کی بھی حمایت کررہا ہے ۔ ہمارے درختوں اور جنگلات میں بھی گزشتہ دو برسوں کے دوران ایک فیصد اضافہ ہوا ہے ۔
ہم نے جنگلاتی زندگی کے بچاؤ کے میدان میں بھی بہت اچھا کام کیا ہے ۔ملک کے جنگلوں میں چیتوں ،ہاتھیوں ،شیروں ، بارہ سنگھوں اورمتعدد دیگر اقسام کے جنگلی جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔
ہمیں پانی کی دستیاب کی مسئلے کو حل کئے جانے کی ضرورت کا بھی احساس ہے کہ یہ مسئلہ ہندوستان کے لئے ایک مستقل چیلنج کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے ۔ ہم نے زبردست نمامی گنگے اقدام کیا ہے ۔اس پروگرام کے خوشگوار نتائج آنے شروع ہوگئے ہیں اور اس سے ہمارے سچے قیمتی دریا کی باز بحالی ممکن ہوسکے گی ۔
ہندوستان بنیادی اعتبار سے ایک کسان ملک ہے ۔کھیتی کے لئے پانی کی مسلسل دستیابی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا اسی مقصدسے شروع کی گئی ہے تاکہ کوئی بھی کھیت پانی سے محروم نہ رہ سکے ۔ ہمارا نعرہ ہے ’’فی قطرہ زیادہ فصل ‘‘
ہم نے اس مقصد سے کہ ہمارے کسان اپنے زرعی کوڑا کرکٹ کو جلانے کے بجائے قیمتی غذائی مادوں میں تبدیل کرسکیں ، ایک زبردست مہم شروع کی ہے۔
خواتین وحضرات !
آج یہاں ساری دنیا دشوار گزار سچائی پر توجہ مرکوز کررہی ہے ، وہیں ہم آسان اقدامات کے راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہ آسانی سے قابل عمل اقدامات کا ہی نتیجہ تھا جس نے ہندوستان کی بین الاقوامی شمسی اتحاد کی فرانس کے ساتھ تشکیل کے لئے رہنمائی کی ۔یہ شاید پیرس معاہدے کے بعد ماحولیات کے تحفظ کی سمت میں واحد اہم عالمی اقدام ہے ۔
تین ماہ قبل 45 ملکوں کے قائدین اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہ بین الاقوامی شمسی اتحاد کانفرنس کی تشکیل کے لئے نئی دہلی آئے تھے۔
ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ ترقی ماحول دوست ہوسکتی ہے لیکن اسے ہمارے سبز اثاثہ جات کی راہ میں مانع نہیں ناچاہئے۔
اس سال عالمی یوم ماحولیات کو اہم چیلنجوں کے تدارک کا مسئلہ درپیش ہے ۔
پلاسٹک ، انسانی زندگی کے لئے شدید خطرے کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے ۔ اس کا بیشتر حصہ تجدیدی ٹوکری تک نہیں پہنچ پاتا اور اس سے خراب بات یہ ہے کہ اس کا بیشتر حصہ غیر حیاتیاتی درجہ بندی سے ماورا ہوتا ہے ۔
پلاسٹک ہمارے بحری فضائی نظام پر مضر اثرات مرتب کررہا ہے ۔ ہمارے سائنسدانوں اور ماہی گیروں نے بہ یک وقت اس خطرے کے آثار کی نشاندہی کی ہے ،جس میں کم مقدار ماہی گیری ،سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ اور غائب ہوتی ہوئی بستیاں شامل ہیں۔
بحری کوڑا کچڑا بالخصوص مائیکروپلاسٹک ایک زبردست بین سرحدی مسئلہ ہے ۔ ہندوستان مہم برائے ’’صاف ستھرے سمندر ‘‘ میں شامل ہونے کی تیاریاں کررہا ہے اور سمندروں کے بچاؤ کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیار ہے ۔
آج پلاسٹک کی آلودگی ہماری غذائی اشیا کی دوکانوں میں بھی داخل ہورہی ہے ۔ دراصل مائیکرو پلاسٹک ہمارے نمک ، بوتل بند پانی اور ٹوٹی کے پانی جیسی غذائی اشیا میں پہلے ہی داخل ہوچکا ہے ۔
دوستو!
ہندوستان میں پلاسٹک کی فی کس کھپت دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ملکوں سے بہت کم ہے ۔
ہمارے صفائی ستھرائی کے قومی مشن ،سؤچھ بھارت ابھیان میں ،’’ پلاسٹک کے کوڑے وکچڑے کے انتظام وانصرام ‘‘ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔
میں نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی ماحولیات ، جنگلات اور تبدیلی ماحولیات کی وزارت کی جانب سے اہتمام کی گئی نمائش دیکھی ۔اس میں ہماری کامیابیو ں کی کچھ کہانیاں شامل ہیں ۔ اس نمائش کے شرکا میں اقوام متحدہ ،مرکزی اور ریاستی سرکاریں ،صنعتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں شامل ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ یہ ادارے پلاسٹک کی آلودگی پر قابو پانے کے کام میں مثالی خدمات انجام دیتے رہیں گے ۔
خواتین وحضرات !
ماحولیاتی انحطاط ،غربیوں اور کمزور طبقات پر سب سے مضرت رساں اثرات مرتب کرتا ہے ۔ عالمی برادری نے پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے جزو کی حیثیت سے ،’’ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے ‘‘ کے مرکزی خیال پراتفاق رائے کا اظہار کیا تھا۔ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا، جب تک ہم فطرت کے عطاکردہ وسائل اور سرمائے کی مل جُل کر حفاظت نہیں کرتے ۔
دوستو!
یہ ہندوستانی طریقہ ہے اورہم عالمی یوم ماحولیات کے مقدّس موقع پر اس طریقے کو عالمی برادری کے ساتھ بانٹتے ہوئے خوشی محسوس کررہے ہیں ۔
آخر میں یوم ماحولیات 2018 کے عالمی میزبان کی حیثیت سے میں ایک بار پھر پائیدار ترقی کے تئیں اپنی عہد بستگی کا اعادہ کرتا ہوں ۔
آئیے !
ہم سب مل کر پلاسٹک کی آلودگی کوختم کرنے کے لئے کام کریں اور اس کرہ ٔ ارض کو زندگی جینے کی ایک بہترین سرزمین بناسکیں ۔
آج ہم یہاں جو فیصلے کریں گے ، وہ ہمارے اجتماعی مستقبل کی چہرہ کاری کریں گے ۔ یہ فیصلے آسان نہیں ہوں گے ، لیکن بیداری ، ٹکنالوجی اورحقیقی عالمی شراکتداری کے ذریعہ ہم صحیح فیصلے کرسکیں گے ، اس کا مجھےیقین ہے ۔
شکریہ !
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
م ن ۔س ش ۔رم
U-2947
Greetings on #WorldEnvironmentDay. Together, let us ensure that our future generations live in a clean and green planet, in harmony with nature. pic.twitter.com/HYUNlCCQ2P
— Narendra Modi (@narendramodi) June 5, 2018