Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

سوچھتا ہی سیوا مہم کے آغاز کے موقع پر وزیراعظم کا خطاب

سوچھتا ہی سیوا مہم کے آغاز کے موقع پر وزیراعظم کا خطاب

سوچھتا ہی سیوا مہم کے آغاز کے موقع پر وزیراعظم کا خطاب


 

نئی دہلی۔15ستمبر   2018؛   ہر کونے سے جڑے آپ سبھی صفائی کارکنوں کا دل سے شکریہ اداکرتا ہوں، آپ سب کا استقبال کرتا ہوں۔ آج 15 ستمبر کا یہ دن اپنے آپ میں بہت تاریخی ہے۔ تاریخی اس لیے کیونکہ آج کی صبح ایک نیا عہد، ایک  نئی امنگ،  ایک نئے خواب لے کر کے آئی ہے۔ آج آپ، میں سوا سو کروڑ ہم وطنوں، سوچتھا ہی سیوا کے عزم کو پھر سے ایک بار دوہرانے جا رہے ہیں۔ آج سے لے کر 2 اکتوبر یعنی باپو کے یوم پیدائش تک ملک بھر میں ہم سبھی نئی توانائی کےساتھ، نئے جوش کے ساتھ اپنے ملک کو، اپنے ہندوستان کو صاف بنانے کے لیے شرمدان کریں گے، اپنا تعاون دیں گے۔

دیوالی کے وقت ہم دیکھتے ہیں گھر کتنا ہی صاف ستھرا کیوں نہ ہوا ہو۔ لیکن دیوالی آتے ہی پورا کنبہ گھر کے ہر کونے کی صفائی میں لگ جاتے ہیں۔ ویسی ہی ہمیں بھی ملک کے ہر کونے میں صفائی  ہر مہینے، ہر سال کرنی ہوگی۔

چار سال پہلے جو مہم کا آغاز ہوا، صفائی کی تحریک اب ایک اہم پڑاؤ پر آ پہنچا ہے۔ ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ قوم کا ہر طبقہ، ہر فریق، ہر ذات، ہر عمر کے میرے ساتھی اس بڑے مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ گاؤں ہو، گلی ہو، نکڑ ہو، شہر ہو کوئی بھی اس مہم سے بچ نہیں سکا۔

2014 میں ہندوستان کی سوچھتا کا کوریج صرف 40 فیصد تھا۔ آج آپ سب کے انسان دوستی اور عزم کا نتیجہ ہے کہ سوچتھا کا کوریج 90 فیصد سے زیادہ ہوا ہے۔ کس نے سوچا ہوگا کہ گذشتہ چار سالوں میں ہم سوچھتا کے کوریج میں اتنی ترقی حاصل کر لیں گے جتنی اس سے پہلے تقریباً 65-60 سال میں بھی نہیں ہو پائی۔ کیا کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ ہندوستان میں چار سالوں میں تقریباً 9 کروڑ بیت الخلاء تعمیر کیے گئے۔ کیا کسی نےیہ تصور کیا تھا  کہ چار سال میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ گاؤں کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہو جائیں گے۔ کیا کسی نے تصور کیا تھا کہ چار سالوں میں 450 سے زیادہ ضلعے کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہو جائیں گے۔ کیا کسی نے یہ تصور کیا تھا کہ چار سالوں میں 20 ریاست اور مرکزی کے زیر انتظام علاقے کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہو سکتے ہیں۔

یہ ہندوستان ہندوستانیوں کی، آپ سب صفائی کارکنوں کی قوت ہے۔ اس سطح کی تبدیلی صرف حکومت کبھی نہیں لا سکتی۔ بات خواہ صحت کی ہو یا دولت کی ہو، سوچھتا لوگوں کی زندگی میں اصلاح کرنے میں بہت بڑی تعاون فراہم کر رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ، ڈبلیو ایچ او کے ایک تخمینہ کے مطابق تین لاکھ لوگوں کی زندگی بچانے میں سوچھتا کا رول ہوگا اور ایک مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوچھتا سے  ڈائریا کے معاملوں میں 30 فیصد کی کمی آئے گی۔

لیکن بھائیوں اور بہنوں صرف اور صرف بیت الخلاء تعمیر کرنے سے ہندوستان تو صاف ہو جائے گا، ایسا نہیں ہے۔ بیت الخلاء کی سہولت دینا،  کوڑے دان کی سہولت فراہم کرنا، کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کرنا یہ سارے انتظامات ایک ذریعہ ہے۔ سوچھتا ایک عادت ہے جس کو روزانہ کی عادات میں شامل کرنا پڑتا ہے۔ یہ مزاج میں تبدیلی کی وجہ ہے۔ جس میں ملک کے عوام آپ سبھی اپنی طرح سے فعال تعاون دے رہے ہیں۔

میری کوشش ہے کہ سوچھ بھارت مشن سے جڑے آپ کے تجربہ سنوں ، آپ سے کچھ سیکھوں اور پھر ہم سبھی مل کر کے شرمدان کریں گے۔ آج ہمیں ہندوستان کے مختلف کونے کونے میں جانے کا موقع ملے گا۔ وہاں جو کوششیں ہو رہی ہیں اس کی جانکاری براہ راست طور پر ملنے کا موقع ملے گا۔

میں آج پھر ایک بار ہم وطنوں سے کہنا چاہتا ہوں ملک بھر کے صفائی کرنے والوں کے عہد اور تندہی کرنے کے جذبے کو ہم نے دیکھا، سنا ، جانا، محسوس کیا، کیسا اہم ترین تعاون ہے۔ ملک کے بڑی بڑی عظیم شخصیات  تقریباً دو گھنٹے اس طرح سے اس کام میں اس طرح سے  شامل ہونا، کرنا،  ان کے تجربات سننا، ہمیں خیال آتا ہے کہ ہندوستان کے ہر کونے میں کس طرح سے سوچھتا کے تئیں سوا سو کروڑ ہم وطنوں نے اس تحریک کو پوری دنیا کے سامنے آج پیش کیا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے۔

مستقبل میں اس عوامی تحریک کے بارے میں جب بھی لکھا جائے گا، پڑھا جائے گا تو آپ سبھی صفائی کارکنوں کا نام سنہرے حرف سے لکھا جائے گا۔ جس طرح آزادی کے لیے زندگی گنوانے والے شہیدوں کو آج عزت اور احترام کے ساتھ دیکھا جاتا ہے، آپ بھی تعاون اسی عزت اور احترام کے ساتھ عظیم باپو کے سچے وارث کے طور پر دنیا یاد کرے گی، یہ میرا یقین ہے۔ کیونکہ آپ قوم کے تعمیر نو، غریب، کمزور کی زندگی بچانے اور ملک کی عزت کو دنیا میں پھر سے قائم کرنے والے ایک جنگجو بن گئے ہیں۔ سوا سو کروڑ کی قوت لامحدود ہے، ہمارا جوش اٹھان پر ہے۔ ہمارا یقین چوٹی پر ہے اور ہمارے عہد کامیابی کے لیے ہے۔ آپ سبھی شرمدان کے لیےتیار ہیں۔ آپ سبھی کو بہت بہت مبارکباد، میں ابھی آپ سے رخصت ہوتا ہوں کیونکہ مجھے بھی آپ کے ساتھ کہیں نہ کہیں شرمدان کے اس کام میں جڑنا ہے۔

میں پھر سے ایک بار آپ  کی ترغیب کے لیےآپ کے  انسانی دوستی کے لیے آپ کا دل سے خوش آمدید کرتا ہوں۔ سبھی عظیم شخصیتوں کو نمسکار کرتے ہوئے میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (م ن ۔ رض۔ م ج۔ ت ح(

U-4774,