پی ایم انڈیا
نئی دہلی، 15 اکتوبر 2018/ ہندستان اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے تیل اور گیس کے عالمی ماہرین اور چیف ایگزیکٹیو افسران (سی ای اوز) نے آج وزیراعظم جناب نریندر مودی سے ملاقات کی۔ وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے ان عالمی ماہرین اور سی ای اوز میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرا ء ،متعدد اداروں، تنظیموں بشمول سعودی ارامکو ، ا ے ڈی این او سی ، بی پی، روزنیفٹ ، آئی ایچ ایس مارکٹ، پائنیر نیچرل ریسورسیز کمپنی ، ایمرسن الیکٹرک کمپنی، ٹیلورین ، مبادلہ انویسٹ منٹ کمپنی ، شولمبرگر لمیٹیڈ ، اوڈمیکنزی ، عالمی بینک، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی( آئی ای اے) این آئی پی ایف پی ، بروکنگس انڈیا کے علاوہ بالائی اور ذیلی آپریشنز میں مصروف عمل مختلف ہندستانی کمپنیوں کے ماہرین اور سی ای اوز شامل تھے ۔
عالمی ماہرین اور سی ای اوز کے ساتھ وزیراعظم کے تبادلہ خیال کے دوران مرکزی وزیر جناب ارون جیٹلی اور جناب دھرمیندر پردھان ، نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین ڈاکٹر راجیو کمار ، مرکزی حکومت اور نیتی آیوگ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ اس میٹنگ کے دوران عالمی سی ای اوز اور ماہرین نے گزشتہ چار برسوں کے دوران تجارتی عمل کو آسان بنانے کیلئے اور بالخصوص ہندستان میں توانائی کے شعبے میں مرکزی حکومت کے ذریعہ کئے گئے متعدد اقدامات کو سراہا۔ ان ماہرین نے بالائی سرمایہ کاری نقطہ نظر سے ہندستان کی مسابقتی درجہ بندی کا خصوصی ذکر کیا تھا جو کہ 44 سے بڑھ کر 56 ہوگیا ہے۔ اس میٹنگ کے دوران ہندستان میں تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع ، تیل کی پیداوار اور کھوج میں اضافہ کرنے ، شمسی توانائی اور حیاتیاتی ایندھنوں کے شعبے میں امکانات ، توانائی کے شعبے میں مرکزی حکومت کے مجموعی نقطہ نظر جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ ماہرین نے اس طرح کی بات چیت کے نادر پہل کی بھی تعریف کی جس کے نتیجے میں متعدد شراکت دار پالیسی سازی کے لئے ایک ساتھ اکٹھا ہوئے ہیں۔
توانائی کے شعبے کے عالمی ماہرین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے تیل اور گیس کے بازارمیں ہندستان کے اہم مقام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیل کا بازار، تیل کی پیدوار کرنے والے ملکوں پر منحصر ہے ۔ تیل کی پیداوار کی مقدار اور قیمتوں کا تعین ، تیل پیداوار کرنے والے ملکوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ تیل کی پیداوار اگرچہ مناسب مقدار میں ہے لیکن تیل کے شعبے میں مارکیٹنگ کے نادر طریقہ کار نے تیل کی قیمتوں کوبڑھا دیا ہے۔ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے تیل کے بازار میں تیل کی پیدوار کرنے والے ممالک اور صارفین کے درمیان شراکت داری کے لئے کافی زور دیا۔ جس طرح سے یہ طریقہ کار دیگر بازاروں میں موجود ہے۔ اس سے عالمی معیشت کو متوازن کرنے میں مدد ملے گی جوکہ بحالی کےراستے پر گامزن ہے۔
جناب مودی نے ہندستان سے متعلق بعض خصوصی اہم پالیسی مسائل کی جانب ماہرین کو متوجہ کیا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب تیل کے صارف ملکوں کودیگرمتعدد اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہے۔اس میں وسائل کی سخت قلت بھی شامل ہے۔ تیل کی پیداوار کرنے والے ملکوں کے درمیان اشتراک و تعاون ، اس کمی کو پر کرنے میں کلیدی مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے تیل کی پیدوار کرنے والے ملکوں سے اپیل کی کہ وہ ترقی پذیر ممالک میں تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نےتیل کی کھوج کے تحت مزید رقبے کو شامل کرنے کے بارےمیں بات کی اور ترقی پذیر ملکوں میں ٹکنالوجی اور کوریج کی توسیع دونوں میں تعاون کا مطالبہ کیا ۔ علاوہ ازیں گیس کے شعبے کی تقسیم میں نجی شراکت داری کے رول کا بھی مطالبہ کیا۔ ٹکنالوجی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ان سے ایسے شعبوں میں مدد کے لئے اپیل کی جہاں اعلی مقدار کے حامل اور اعلی درجہ حرارت ٹکنالوجی ایپلی کیشنز، قدرتی گیس کی تجارتی کھوج کے موافق ہیں ۔ سب سے آخر میں اور سب سے زیادہ اہم انہوں نے ادائیگی کے شرائط پر نظر ثانی کی درخواست کی تاکہ مقامی کرنسی کو وقتی راحت فراہم ہوسکے۔
وزیراعظم نے تیل اور گیس کے شعبے میں اپنی حکومت کے ذریعہ کئے گئے متعدد پالیسی اور ترقیاتی اقدامات کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے گیس کی قیمت اور مارکیٹ کے شعبے میں آسانی لانے کو اجاگر کیا جو کہ سخت مشکل میں رہا ہے اور جس کو اعلی مقدار اور اعلی درجہ حرارت میں تیل کی کھوج کے لئے ٹکنالوجی کی ضرورت رہی ہے ۔ انہوں نے کھلے رقبہ لائسنسنگ پالیسی ، کوئلہ بیڈ میتھین کی پیشگی نقدی حاصل کرنے ، قومی سطح پر چھوٹے آئل فیلڈوں کی کھوج اور موسمیاتی سروے کے لئے ترغیبات دیئے جانے کا بھی ذکر کیا۔ جاری تجارتی استحصال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پیداوار تبادلے کے معاہدوں کی توسیع کا خصوصی ذکر کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔ م ع۔ ج۔
U- 5340
PM's meeting with Global Oil and Gas Experts/CEOs. https://t.co/1ql1ZjskGT
— PMO India (@PMOIndia) October 15, 2018
via NaMo App pic.twitter.com/UK73XyjRul