پی ایم انڈیا
نئی دہلی۔ 05 جنوری
اسٹیج پر براجمان جھارکھنڈ کی گورنر محترمہ دروپدی مرمو جی، ریاست کے جواں ہمت وزیر اعلی جناب رگھوور داس جی، کابینہ کے میرے ساتھی جناب سدرشن بھگت جی، بہار اور جھارکھنڈ سے آئے ہوئے پارلیمنٹ کے میرے ساتھی، جھارکھنڈ کابینہ کے معزز ارکان اور اتنی بڑی تعداد میں تشریف لائے ہوئے میرے پیارے بھائیوں اور بہنوں اور میں دیکھ رہا ہوں، میرے سامنے جو دکھتا ہے اب پتہ نہیں چل رہا ہے کہ اصل میٹنگ وہاں ہے کہ یہاں ہے۔ شاید اس سے تین گنا لوگ وہاں ہیں اور جو باہر دھوپ میں کھڑے ہیں، مجھے پتہ نہیں کہ انہیں سنائی دیتا ہوگا کہ نہیں دیتا ہوگا، اتنی بڑی تعداد میں اتنے امنگ اور جوش و خروش کے ساتھ آپ سب ہم لوگوں کو آشیرواد دینے کے لئے آئے۔ میں آپ کا سر جھکا کر خیر مقدم کرتا ہوں، آپ کو سلام کرتا ہوں۔
جھارکھنڈ کی ترقی کا سفر ، آپ سبھی اس ترقی کے سفر کے حصہ دار ہیں۔ یہ آپ کا ساتھ اور تعاون ہے جس کے باعث یہ ترقی کا سفر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سال 2019 شروع ہو گیا ہے اور پہلا ہی ہفتہ ہے جب میں آپ کے درمیان آیا ہوں۔ میں آپ سبھی کو بھی بہت بہت مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔
بہادروں کی سرزمین پلاموں ، جہاں انگریزوں کو ناکوں چنے چبوانے والے مجاہد آزادی نیلامبر پتامبر کی بہادری کی کہانی زندگی کا حصہ ہے۔ اس سرزمین کے ہر سپوتوں ، ہر بہادروں ، ہر بیٹی کو ہم سب سلام کرتے ہیں ۔ میں پردھان منتری آواس یوجنا کے ان 25 ہزار مستفیدہونے والے کنبوں کو بھی خصوصی مبارکباد دیتا ہوں جو آج اپنے نئے گھر میں داخل ہو رہے ہیں۔ نئے سال میں نئے گھر کی انہیں دوہری مبارکباد اور گھر پکّا ہوتا ہے تو عزم بھی پکّا ہو جاتا ہے اور خواب بھی سہانے لگنے لگتے ہیں ۔ اور اس لیے پکّے نئے گھرسے مستفید ہونے والوں کو بہت بہت مبارکباد۔
ساتھیوں، آج مجھے کسانوں کی زندگی بدلنے والی زراعت سے جڑی ساڑھے تین ہزار کروڑ روپے سے زائد کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کا بھی موقع ملا ہے۔ آج جن آبپاشی کے منصوبوں پر کام شروع ہوا ہے وہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کی ہماری کوشش کا اہم حصہ ہے۔ آپباشی پر خرچ کم ہو تو لاگت اپنے آپ کم ہوجاتی ہے۔ لہذا ملک میں آبپاشی کے روایتی نظام سے لے کر نئی تکنیک کو کسانوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ جلد ہی 12 کروڑ روپے کی سون کنہر پائپ لائن منصوبے سے یہاں کے 14 ہزار سے زائد ہیکٹر زمین کی آبپاشی ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی اس علاقے کے 3 لاکھ سے زیادہ افراد کے لئے پینے کا پانی دستیاب ہو رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 25 کلو میٹر سے زائد طویل پائپ زمین کے اندر بچھایا جائے گا یعنی زمین پر کھیتی بھی ہوتی رہے گی اور آبپاشی کی سہولت بھی رہے گی۔
ساتھیوں ، کسانوں کو مضبوط کرنے کے لیے جن منصوبوں پر کام ہو نا چاہیے تھا ان کو لے کر سابقہ حکومتوں کا کیا رویہ رہا ، اس کی گواہی یہاں کا اتر کویل منصوبہ دے رہا ہے۔ یہ منڈل ڈیم پروجیکٹ اس کی گواہ ہے۔ سوچئے 47 سال یعنی آدھی صدی یہ منصوبہ کھنڈر کی شکل میں ادھورا لٹکا پڑا ہے۔ 1972 میں اس کی فائلیں چلی تھیں اور پھر لٹکتی رہی، بھٹکتی رہی۔ پچھلے 25 سالوں سے اس منصوبہ کا کام ایک طرح سے ٹھپ ہی پڑا تھا۔
آپ مجھے بتائیے کہ کیا کسی ڈیم منصوبے کو مکمل ہونے میں آدھی صدی لگنی چاہئے، کیا یہ خشک سالی سے متاثر علاقے میں کسانوں کے ساتھ کی گئی ایک مجرمانہ غفلت ہے کہ نہیں ہے۔ ساتھیوں یہ منصوبہ کسانوں کے ساتھ، ٹھگی کے ساتھ ہی، ملک کے ایماندار ٹیکس دہندگان کے ساتھ بے ایمانی کا بھی ثبوت ہے۔
جس منصوبے کو 30 کروڑ روپے صرف 30 کروڑ روپیہ میں پورا ہونا تھا، اب لگ بھگ دو ہزار 400 کروڑ روپے میں مکمل ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پورے منصوبہ کے لئے ملک کے ٹیکس دہندگان کو تقریبا 80 گنا زیادہ قیمت ادا کرنی ہوگی۔ آپ مجھے بتائیے جنہوں نے ایسا کیا ہے وہ معاشرے کے گنہگار ہیں کہ نہیں ہیں، وہ کسانوں کے گنہگار ہیں کہ نہیں ہیں، وہ آپ گنہگار ہیں کہ نہیں ہیں، وہ بہار کے گنہگار ہیں کہ نہیں ہیں، وہ جھارکھنڈ کے گنہگار ہیں کہ نہیں ہیں۔ ایسے گنہگاروں کو سزا ملنی چاہئے کہ نہیں ملنی چاہئے … ایسے گنہگاروں کے خلاف مودی کو لڑنا چاہئے کہ نہیں لڑنا چاہئے … ایک چوکیدار کو یہ کام کرنا چاہئے کہ نہیں کرنا چاہئے ….
آزادی کے بعد اتنے سالوں تک ملک کیسے چلا ہے ، یہ منصوبہ اس کا حل ہے، کسانوں کی بد حالی کا یہ جیتا جاگتا ایک کیس اسٹڈی کرنے جیسا کام ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کا بھی گواہ ہے کہ کیسے پہلے جھارکھنڈ اور بہار کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔
بھائیو اور بہنوں یہ کسان کو صرف ووٹ بینک سمجھنے والے اور کسان کو اَن داتا سمجھنے والے …. ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے لئے کسان ووٹ بینک ہے، ایک طرف ہم لوگ ہیں جن کے لئے ہمارا کسان اَن داتا ہے۔ یہ فرق ہے ،جو پہلے تھے انہوں نے کسانوں کو ووٹ بینک سمجھا اور آج ہم ہیں جو آپ کو اَن داتا مان کر آپ کی کھیتی میں آنے والی ہر مشکلیں دور کرنے کی ایمانداری سے کوشش کر رہے ہیں۔
ساتھیوں، آج کچھ لوگ اس موقع کو اس شکل میں دیکھیں گے کہ آج اتنے سالوں سے لٹکا ہوا ایک کام آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ بات اتنی چھوٹی نہیں ہے۔ آپ غور کیجئے جب متحدہ بہار تھا ، جھارکھنڈ نہیں بنا تھا ۔ ایک ہی سرکار پٹنہ میں بیٹھتی تھی اگر تھوڑی سی حساسیت کسانوں کے تئیں ہوتی ، یہاں کے لوگوں کی مصیبتوں کی تھوڑا سی بھی واقفیت ہوتی تو ایک متحدہ بہار رہتے ہوئے یہ کام اتنے دنوں تک لٹکا ہوا نہیں ہوتا اور تیس کروڑ کا 24 سو کروڑ کامعاملہ نہیں ہوتا۔
دوسری بات آج ہندوستان میں پانی کو لے کر آس پاس کی ریاستوں کے درمیان ایسی لڑائی چل رہی ہے ، سپریم کورٹ میں معاملہ پڑا ہوا ہے ۔ پانی بہہ رہا ہے ، سمندر میں جا رہا ہے۔ لیکن اپنے سیاسی وجوہات سے لڑائیاں لڑی جا رہی ہیں۔
آج کا یہ واقعہ خاص طور پر ملک کو دیکھنا ہوگا ۔ میں بہار کے وزیر اعلی اپنے دوست نتیش کمار جی کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ میں جھارکھنڈ کے اپنے رفیق خاص وزیر اعلی رگھوور داس جی کو مبارکباد دیتا ہوں کہ دونوں حکومتوں نے مل کر ، دونوں ریاستوں سے جڑے ہوئے اس منصوبے کو انہوں نے مکمل کرنے کی سمت میں دانشورانہ قدم اٹھایا ہے ۔
میں بہار سے آئے ہوئے اپنے ارکان پارلیمنٹ کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔ میں جھارکھنڈ کے اپنے ارکان پارلیمنٹ کا استقبال کرتا ہوں ۔ دونوں ریاستوں کے ارکان پارلیمنٹ مل کر جب بھی میرے پاس آئے جھارکھنڈ اور بہار کے دونوں سمت کے ساتھ ساتھ ، ساتھ میں آئے اور یہ مسئلہ اس ریاست کا۔۔۔ اس ریاست کا نہیں ، ہمارے ملک کے کسانوں کا ہے ان کو فائدہ ملنا چاہیے ۔۔۔ مل جل کر اور ان سبھی ایم پی کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اس ایک معاملہ کو لے کر وہ سبھی چین سے بیٹھے نہیں ہیں، چین سے سوئے نہیں ہیں۔ آپ کے لیے یہ دن رات دوڑتے رہے ہیں اور مجھے بھی دوڑاتے رہے ہیں۔ اور اس لیے میں ارکان پارلیمنٹ کا آج خاص طور پر خیر مقدم کرتا ہوں اور اس لیے آج یہ ڈیم بن رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے وفاق کو ایک توانائی دینے کا کام بہار اور جھارکھنڈ دونوں حکومتوں نے مل کر کیا ہے۔ یہ میرے لیے خاص طور پر فخر کی بات ہے ۔ لطف کی بات ہے ، اور ملک کی دیگر ریاستوں کے لیے بھی اس میں بہت کچھ سیکھنے کا ہے ۔ اور اس لیے میں خاص طور پر ارکان پارلیمنٹ کو دونوں ریاستوں کی حکومتوں کو دونوں وزراء اعلی کو دل سے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں ۔
ساتھیوں، آج کچھ لوگ ملک کے کسانوں کو قرض معافی کے نام پر بہلا رہے ہیں ، کسانوں سے جھوٹ بول رہے ہیں ۔ مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے کبھی اتر کویل منصوبہ کا نام تک نہیں سنا ہوگا ان کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ کویل ایک پرندہ کا نام ہے کہ ڈیم کا نام ہے یا ندی کا نام ہے ، کچھ معلوم نہیں ہوگا۔ جب ان کی حکومت مرکز میں تھی تو ان لوگوں نے پرواہ ہی نہیں کی کہ ملک میں جو آبپاشی کے منصوبے برسوں سے اٹکے ہوئے ہیں ، ادھورے ہیں ، انہیں پورا کیا جائے ۔
آپ مجھے بتائیے ۔۔۔ کہ یہ تقریبا آدھی صدی سے لٹکا ہوا پروجیکٹ وقت پر مکمل ہوا ہوتا تو اس علاقے کا کسان کبھی قرضدار بنا ہوتا کیا۔۔۔ اس کوقرض لینا پڑتا کیا ۔۔۔ وہ قرض میں ڈوبتا کیا ۔۔ ۔ اس کو پہلے آپ نے قرض لینے کے لیے مجبور کر دیا ۔ اس کی زندگی بغیر قرض کے ناممکن بنا دیا اور اب سیاست کرنے کے لیے نکل پڑے ہیں ۔ اچھا ہوتا اگر کسانوں کے تئیں تھوڑی سی بھی حساسیت ہوتی ۔۔۔ ایسے سارے کام پورے کر دیے ہوتے تو میرا کسان کبھی قرض کے بوجھ میں ڈوبا نہیں ہوتا ۔ ارے ۔۔۔ وہ تو دنیا کو قرض دینے کی طاقت بن گیا ہوتا ۔
بھائیو اور بہنوں ، جب ہماری حکومت آئی تو کسان کے کھیت میں پانی پہنچانے کا بیڑہ ہم نے اٹھایا ۔ جب پرانے ادھورے منصوبوں کے کاغذ نکلوائے تو ایسے ایسے کارناموں کا پتہ چلا کہ میری آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔ کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ ایک طرح سے آنکھیں پھٹ گئیں ۔۔۔ ایسا کام کر کے گئے ہیں۔
آپ تصور کر سکتے ہیں کہ صرف اتر کویل منصوبہ نہیں متعدد ایسے آبپاشی کے منصوبے تھے جہاں ڈیم بن گئے ۔۔۔ نہر نہیں بنے ۔ نہر بن گئے تو ڈیم کا کام ادھورا پڑا ہوا تھا۔ ڈیم اور نہر دونوں بن گئے تو اس کو جوڑنے کا کا م نہیں ہوا ہے ۔ ایسا ۔۔۔ کوئی پرواہ ہی نہیں ، پیسے گئے تو گئے ، زمین گئی تو گئی ، کسان مر رہا ہے تو مر رہا ہے ۔ یہی کام کرتے رہے ہیں ۔ کسانوں کے ساتھ ، ملک کے آبپاشی کے منصوبے کے ساتھ اس قسم کی ناانصانی کی جا رہی ہے ۔
میں نے ملک بھر کے ایسے منصوبوں کی فہرست بنوائی ، بجٹ میں رقم کا انتظام کیا اور پھر شروع کیا پردھان منتری آبپاشی منصوبہ ۔ آج اس منصوبہ کے باعث ملک کے ان 99 بڑے منصوبوں کو پورا کیا جا رہا ہے ۔ جو 30-30 ،40-40 سال سے اٹکا پڑا تھا، فائلیں بھی کھو گئی تھیں۔
بھائیو اور بہنوں، اگر مجھے سیاست کرنی ہوتی ، اگر مجھے کسانوں کو ووٹ بینک کا حصہ ہی بنا کر رکھنا ہوتا تو میرے لیے تو بہت آسان تھا ۔ یہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے اتنے سارے منصوبوں کے پیچھے محنت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دن رات تفتیش کرنے کی کیا ضرورت تھی، بابوؤں کو دوڑنے کی کیا ضرورت تھی ۔ سیدھا سیدھا ایک لاکھ روپے کسانوں کا قرض معاف کر کے تقسیم کر دیتا ۔ لیکن میں نے کسانوں کو گمراہ کرنے والا راستہ نہیں منتخب کیا ، پاپ نہیں کیا ۔ قرض معافی تو ایک نسل کی ہوجاتی ، ایک سال کی ہو جاتی تاہم ایک لاکھ کروڑ سے جو پانی آئے گا وہ آنے والی صدیوں تک لوگوں کا بھلا کرے گا۔ کسان کی 5-5، 25-25 نسل کا بھلا کرے گا۔ وہ کبھی قرضدا رنہ بنے یہ طاقت اس کو ملنے کا کام ہم نے کیا ۔ ہم نے وہ ووٹ بینک کی سیاست نہیں کی۔ ہم نے اپنے کسان کو مضبوط کرنے کا کام کیا ہے اور اس لیے بھائیوں اوربہنوں یہ چناؤ جیتنے کے جو کھیل چل رہے ہیں اسی کھیل کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے بھی کسان کو قرضداربنا کر رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے نوجوان کو درخواست گزاربنا کر رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے ماؤں اور بہنوں کو غیر محفوظ بنا کر رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے ایسی حالت بنا رکھی ہے کہ لوگ حکومت کے بھروسے جئیں ، اس حالت کو بدلنے کے لیے میں کوشش کر رہا ہوں ۔
ملک حکومت سے نہیں ، ملک ہم وطنوں سے چلنا چاہیے ۔ ملک ہم لوگوں کے لیے نہیں آپ کے لیے ہونا چاہیے ، آپ کی طاقت کے بھروسے چلنا چاہیے۔ اسی ارادے سے کام کر رہے ہیں۔
بھائیوں اور بہنوں ، حکومت کی مسلسل کوششوں کے باعث آج متعدد منصوبے مکمل ہوئے ہیں اور میں زیادہ تر دیکھ رہا ہوں بہت سے پروجیکٹ آخری مرحلے میں پہنچ گئے ہیں ۔ اور آخری مرحلے میں ہے ۔ اسی بات کو لے کر ، سابقہ حکومتیں جو کسانوں کو ووٹ بینک سمجھنے والوں اور ہماری حکومت کسانوں کا اَن داتا سمجھتی ہے۔ اس کا سیدھا سیدھا فرق ہے ۔ آپ کو یہ فرق ۔۔۔ یہ ٹی وی کے ایر کنڈیشنر روم میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو کبھی پتہ نہیں چلے گا ، اخبار کی سرخیوں میں پتہ نہیں چلے گا اور اس لیے بھائیوں اور بہنوں ، ملک کے تابناک مستقبل کے لیے کسانوں کو طاقتور بنانا ہے اس راہ پر چلنا ہے اور ہمیں صرف اور صرف اپنے عمل اور اپنے قول سے کسانوں کی خدمت کرنا ہے ، ملک کی خدمت کرنا ہے ، یہ اپنا دھرم مان کر ہم کام کر رہے ہیں ۔ ساتھیوں آپ جانتے ہیں کہ ہم اس پر کتنی رقم خرچ کر رہے ہیں ۔ میں آپ کو بتاتا ہوں ۔۔۔ تقریبا 90 ہزار کروڑ روپے یعنی ایک طرح سے ایک لاکھ کروڑ روپیہ ۔۔۔ یہ ہے ہمارے کام کرنے کا طریقہ ۔
ساتھیوں ہماری حکومت کھیتی اور کسانوں کو طاقتور بنانے کے لیے ایک نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔ ہماری کوشش بیج سے بازار تک نئے انتظامات تیار کر کے کسانوں کو مضبوط کرنے کی ہے ۔
بھائیوں اور بہنوں ، ملک کی تمام حکومتوں نے آزادی کے بعد سے ہی اپنی سمجھ اور صلاحیتوں کے لحاظ سے کام کیا ہے ۔ کسی نے نام پر دھیان دیا تو کسی نے کام پر دھیان دیا ۔ آ ج یہاں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت 25 ہزار لوگوں کو نئے گھر ملے ہیں ۔ اور اس لیےمیں آپ کو ایک مثال اس منصوبے کا بھی دینا چاہتا ہوں۔
ساتھیوں ساڑھے چار سال پہلے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو آپ سبھی نے موقع دیا تھا تو ہم نے ملک کے غریبوں سے ، بے گھروں سے ایک وعدہ کیا تھا ۔ ایک وعدہ یہ کہ 2022 تک ملک کے گاؤں ہوں یا شہر ہوں سبھی ہم وطنوں کے سر پر پکّی چھت دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کوشش میں ہماری حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا شروع کی ۔ شہروں کے لیے الگ ، گاؤں کے لیے الگ، جب ہم نے اس منصوبے کو شروع کیا تو پھر یہ سوال اٹھا یا گیا کہ ایسے منصوبے تو پہلے بھی تھے، آپ الگ کیا کریں گے ، کیسے کریں گے ، آپ تو صرف نام بدل رہے ہیں ۔ شاید وہ نام بدلنے سے تلملائے ہوں گے ۔ تاہم اس منصوبہ میں اصل تبدیلی کیا ہوئی ، کیسے ہوئی ، اس کا اثر کیا رہا ۔ یہ آج میں آپ کے توسط سے جھارکھنڈ کی مقدس سر زمین سے اپنے ملک کے ہر غریب فرد تک پہنچانا چاہتا ہوں ۔
بھائیوں اور بہنوں ہمارے ملک میں غریبوں کو گھر دینے کے لیے منصوبے پہلے بھی تھے ۔ لیکن وہ کسی خاندان کے نام سے چلتے تھے ۔ اس میں گھر کی فکر کم ہوتی تھی خاندان کا نام برقرار رکھنے کی فکر ہوتی تھی۔ ہم نے آکر تبدیلی کی ۔۔۔ ہم نے نریندر مودی آواس یوجنا نہیں بنائی، ہم نے نمو آواس یوجنا نہیں بنائی ، ہم نے رگھو ور داس آواس یوجنا نہیں بنائی ، ہم نے سادہ سی بات بتا دی کہ پردھان منتری آواس یوجنا کو ،جب بھی کوئی آئے گا وہ اس کو آگے بڑھائے گا۔ نام کا جھگڑا نام کے لیے نہیں کام کے لیے ہونا چاہیے ۔
میں جاننا چاہتا ہوں یہاں کسی کو یاد ہوگا کہ پہلے جن بڑے بڑے نیتاؤں کے نام پر پروجیکٹ چلتے تھے وہ گھر ہے کہاں ۔۔۔ کاغذ پر نظر آئیں گے ۔۔۔ زمین پر نظر نہیں آئیں گے ۔ یہ روپے کہاں گئے ۔۔۔ کہاں گئے وہ لوگ، کہاں گئے وہ گھر ، کہاں گئے وہ پیسے ، یہی کھیل چلتا رہا بھائیوں اور بہنوں۔ پہلے کے منصوبوں میں کیا کیا ہوتا تھا ۔ جب تک ان کے خاصداروں کو ان کے آس پاس کے چیلے چپاٹوں کو بخشش نہیں دیتے تب تک آپ کا نام بھی طے نہیں ہوتا تھا ۔
ساتھیوں ، ملک میں پہلے جو آواس یوجنا تھی ، اس میں کسے گھر ملے گا ، کیسے ملے گا اس کے انتخاب کے عمل میں بہت بڑے بڑے کھیل ہوا کرتے تھے۔ دلالی ہوا کرتی تھی۔ میں عوامی طور پر پوچھ رہا ہوں ، یہ جو مجھے سرٹیفکٹ دکھا رہے تھے ، 25ہزار لوگوں کو گھر ملا ہے ایسے لوگ بیٹھے ہیں۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا پردھان منتری آواس یوجنا پانے کے لیے آپ کو کسی کو رشوت دینی پڑی ہے ، زور سے بتائیے وہ سرٹیفکٹ اوپر کر کے بتائیے ، دینی پڑی ہے ۔۔۔ کسی کو پیسہ دینے پڑے ہیں ، کسی نے آپ سے پیسے مانگے ہیں ۔
میں ملک بھر کے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں ۔ دلالوں کے لیے ہمارے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے ، بچولیے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور اس لیے غریب کے اکاؤنٹ میں سیدھے بینک سے پیسے جمع کر ا رہے ہیں ۔ نام طے کرنے میں بھی ہم نے سائنسی طریقہ کار اپنایا ہے ۔ 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر اور پہلے تو بی پی ایل لسٹ تھی اور وہ بھی بدلتی رہتی تھی ۔ لوگ شکایتیں کرتے رہتے تھے کہ میرا نام نہیں ہے ۔ پہلے تھا لیکن اب کٹ گیا ہے ۔ وہ کٹتا اس لیے تھا وہ درمیانی کی جیب میں کچھ ڈالتا نہیں تھا ۔ پردھان منتری آواس یوجنا میں ہم نے سب سے پہلے نظام کو درست کیا ۔
اب گاؤں میں کسے گھر ملے گا یہ 2011 میں جو مردم شماری ہوئی تھی اس کی بنیاد پر گرام سبھاؤں کے ذریعہ طے کیا جاتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں اگر کسی وجہ سے کسی کا نام اس فہرست میں نہیں ہے یا کسی کو کوئی شکایت ہے تو اسے بھی اپیل کرنے کا پورا موقع دیا جاتا ہے ۔
گھر تقسیم کرنے میں شفافیت لانے کے لیے ہماری حکومت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ جن لوگوں کو گھر دیا جا رہا ہے ان کی فہرست کو گرام پنچایتوں کی دیواروں پر لگایا جائے گا۔ پورے گاؤں کو پتہ چلنا چاہیے کہ فلاں فلاں حقدار ہے اور ان کو گھر ملنے والا ہے ۔ یعنی ہر سطح پر ہماری یہ کوشش رہی کہ غریبوں کو گھر ملے جبکہ پہلے ہر سطح پر کوشش ہوتی تھی کہ غریبوں کا نام کٹے ، فہرست سے نام نکلے اور دلالوں کی جیب بھرتی رہے ۔ یہی کاروبار ہو رہا تھا ۔
بھائیوں اور بہنوں ، پرانے منصوبے سے الگ ایک اور اہم کام ہم نے کیا ، آج جنہیں گھر ملے ہیں وہ بھی اس کے گواہ ہیں کہ پہلے یہاں مستفید ہونے والوں کا آن لائن رجسٹریشن ہوتا ہے اور پھر اس کے بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کی جاتی ہے ۔ یہ بھی اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ مستفید ہونے والوں کے اکاؤنٹ میں سیدھے رقم منتقل کرنے میں کوئی دقت نہ آئے ۔
بھائیوں اور بہنوں ، پہلے کے منصوبے میں حالت یہ رہتی تھی کہ الگ الگ سطحوں پر الگ الگ بینک اکاؤنٹ ہوتے تھے ۔ جہاں سے مستفید ہونے والوں کو رقم دی جاتی تھی ۔ اس وجہ سے اکثر ان کا پیسہ اٹک جاتا تھا ۔ اب ہم نے ریاستی سطح پر صرف ایک اکاؤنٹ بنا دیا ہے جہاں سے سبھی مستفید ہونے والوں کو رقم منتقل کی جاتی ہیں۔ یعنی گھر حاصل کرنے والوں کی ایک اور دقت کو دور کرنے کی ہم نے کوشش کی ہے ۔
اب آتے ہیں گھروں کی تعمیر کی مانیٹرنگ پر ۔۔۔ پہلے کے منصوبوں میں کس طرح کے گھر بنتے تھے ، آپ نے بھی دیکھا ہوگا ، ان کی ایسی بری حالت رہتی تھی کہ لوگ گھر ملنے کے بعد بھی اس میں جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ یہ حالت اس لیے تھی کیونکہ پہلے کے منصوبوں میں مانیٹرنگ کا کوئی مناسب طریقہ ہی نہیں تھا ۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بننے والے گھروں کے معیار پر نظر رکھنے کے لیے ہم نے نیا نظام قائم کیا ۔
اب جو گھر بنتے ہیں ان میں تعمیر کے دوران تین الگ الگ سطحوں پر فوٹو لی جاتی ہے ۔ اس کی جیو ٹیگنگ کی جاتی ہے ۔ یعنی کس تاریخ پر فوٹو لی ، کہاں پر لی ، یہ سبھی جانکاری درست طریقے سے جمع کی جاتی ہے ۔ اتنا ہی نہیں حکومت نے جو انتظامات کیے ہیں اس میں یہ بھی انتظام کیا ہے کہ ان فوٹو کو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے ۔
بھائیوں اور بہنوں ، پہلے جو گھر ملتے تھے اس میں صرف خالی چار دیواریں ہوتی تھیں ۔ اب جو گھر مل رہے ہیں اس میں تمام بنیادی سہولتیں ہیں جو ایک کنبے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ بجلی کا کنکشن، رسوئی گیس کا کنکشن ، بیت الخلاء ،یہ ساری سہولتیں گھر کے ساتھ ہی مل رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک اور بڑا کام کیا ہے ۔ ہم نے گھر کے ڈیزائن کو لے کر ۔۔۔ پہلے چھوٹے چھوٹے گھر بنتے تھے ، ہم نے ان کا رقبہ ۔۔۔ دائرہ بڑھا دیا ۔ جنہیں گھر ملتا ہے انہیں ڈیزائن کے کئی متبادل بھی دستیاب کرائے جاتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ مقامی ساز و سامان کا استعمال کرتے ہوئے کم لاگت میں جدید تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے نئے ڈیزائن کے گھر لوگوں کو دیے جائیں ۔
ساتھیوں ، آج جو میں آپ کو بتا رہا ہوں وہ یہاں موجود ہزاروں لوگوں کا اپنا تجربہ ہے لیکن ملک میں بہت سے لوگ جو اس سلسلے میں جاننا بھی نہیں چاہتے اب انہیں بتانے اور جتانے کا وقت آ گیا ہے ۔ آج جو لوگ مجھ پر کیچڑ اچھال رہے ہیں جب وہ حکومت میں تھے تو انہوں اپنے پانچ سال میں غریبوں کے لیے پانچ سال میں ذرا یاد رکھو گے ، اعداد و شمار میں بتاتا ہوں، یاد رکھوگے میں جو بتا رہا ہوں یاد رکھوگے پکّا رکھو گے۔ ان کی جب سرکار تھی ۔ میڈم ریموٹ کنٹرول سے جب سرکار چلا رہی تھیں تب غریبوں کے لیے گاؤں میں پانچ سال میں صرف 25 لاکھ گھر بنوائے تھے اور جب سے یہ سیوک آیا ہے ، آپ کی خدمت کے لیے آیا ہے مودی۔۔۔ سیوک نے پانچ سال میں اور اس سے بھی کم عرصے میں ایک کروڑ 25 لاکھ گھر بنوا دیے ۔۔۔ ایک کروڑ 25 لاکھ یعنی ان کے پانچ سال میں جتنے بنے تھے اس سے پانچ گنا زیادہ ۔ مطلب، ہم نے جتنا کام کیا وہ کرتے تو ان کو اور 25 سال لگ جاتے ۔ مطلب ،آپ کے بچے بھی بڑے ہو جاتے لیکن آپ جھونپڑی میں ہی زندگی گزارتے۔
اتنا ہی نہیں یہ ہمارا ہی کام کرنے کا طریقہ ہے کہ پہلے کی حکومت میں جہاں ایک گھر بننے میں تقریبا 18 مہینے لگتے تھے اب جس طرح کی ٹکنالوجی ، جس طرح کے وسائل ، جس طرح کے انتظام کو ہم نے نافذ کیا ہے 18 مہینے سے زیادہ کا وقت پہلے لگتا تھا آج 12 مہینے سے بھی کم وقت میں وہ اپنے گھر میں رہنے چلا جاتا ہے اور بھائیوں ، بہنوں ، ہمارے ملک میں گھر ہے تو مردوں کے نام پر ، گاڑی ہے تو مردوں کے نام پر، زمین ہے ، کھیتی ہے تو مردوں کے نام پر، دکان ہے مردوں کے نام پر، جو کچھ بھی ہے مردوں کے نام پر اور مرد آنجہانی ہو جائے تو اس کے بیٹے کے نام پر ، بیچاری ماں کے نام کچھ ہے ہی نہیں۔ ہم نے طے کیا کہ پردھان منتری آواس یوجنا کنبے کی جو سرپرست خاتون ہے اس کے نام پر دیا جائے گا۔ میری مائیں – بہنیں طاقت ہیں۔۔۔ اسی کے اکاؤنٹ میں پیسہ جمع ہوگا ۔ یہ جو مکان بن رہا ہے اس کے پیچھے یہ بھی سبب ہے کہ پیسے ادھر ادھر نہیں جاتے ہیں ، وہ بہنیں دھیان دے کر مکان بنوا دیتی ہیں۔
ملک میں جو بھی بے گھر ہیں ان کو گھر ملنے میں ۔۔۔ ہمارا وعدہ ہے ، کام تیز رفتاری سے چل رہا ہے ، ابھی بھی بہت سے لوگ ہیں جن کو مکان دینا ہے۔ جن کو گھر ملا نہیں ان کو میں یقین دلاتا ہوں ۔ ہم نے کر کے دکھایا ہے پانچ گنا تیزی سے کام ساڑھے چار سال میں کر کے دکھایا ہے ۔ 2022 میں مکان کا کام پورا کرنے کے ارادے سے دوڑ رہے ہیں۔ جس کو نہیں ملا ہے اس کو بھی مکان ملے گا یہ میں یقین دلانا چاہتا ہوں۔ میرے سامنے ایسے متعدد بھائی بہن بیٹھے ہیں جو گواہ ہیں کہ ان کو کتنی آسانی سے بغیر کسی کو کھلائے پلائے اپنا گھر مل گیا اور میں نے پوچھ لیا ہے ابھی ۔۔۔
ساتھیوں، میں خود حکومتی منصوبوں سے مستفید ہونے والوں سے گفتگو کرتا رہتا ہوں۔ ایسے ہی یہاں جھارکھنڈ کے مستفید ہونے والوں سے میں نے بات چیت کی ہے اور جس سے مجھے پتہ چلا ہے کہ کس طرح کی تبدیلی آئی ہے۔
مجھے ایک بار ویڈیو کانفرنسنگ سے جھارکھنڈ کی بہنوں سے بات کرنے کا موقع ملا تھا ۔ کھنڈی کی بہن نیرو، انجلی ،گایتری سمیت متعدد ایسی بہنوں سے اس دوران میری کافی بات چیت ہوئی تھی۔ اس میں بہنوں نے بتایا کہ کیسے انہوں نے اپنا گھر بنایا۔ جھارکھنڈ کی حکومت نے جو رانی مستری بنانے کی ٹریننگ دی ہے اس کے بعد پہلے انہوں نے دوسروں کے لیے بیت الخلاء بنایا اور بعد میں اپنے لیے گھر بنایا ۔
بھائیوں اور بہنوں ، ایسے تمام مستفید ہونے والے بتاتے ہیں کیسے چارقسطوں میں سیدھے ان کے بینک اکاؤنٹ میں تقریبا سوا لاکھ روپے پہنچ رہے ہیں۔ بیت الخلاء کے الگ سے پیسے مل رہے ہیں۔ پہلے صرف 70 ہزار روپے ملتے تھے اس پر گھر پر کتنے لگتے تھے ، یہ آپ ان کو پوچھئے جن خوش قسمت لوگوں کے پہلے کی حکومت کے دوران گھر منظور ہوئے ۔
ساتھیوں، غریب کو جب گھر مل جاتا ہے تو اس کی خود اعتمادی عروج پر پہنچ جاتی ہے ۔ جب اس کو گرمی ، سردی ، برسات کی فکر نہیں رہتی تو وہ کمائی پر دھیان دیتا ہے اور اس کی زندگی کا معیار اوپر اٹھنے لگتا ہے ۔
اتنا ہی نہیں یہ جو گھر بن رہے ہیں وہ کنبے کی خاتون رکن کے نام پر ہم دے رہے ہیں ایسے میں صرف ایک گھر سے ہی غریب کوبااختیار بنانے کی پوری تحریک شروع کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ گھر بھی مل رہا ہے ، روزگار بھی ، عزت نفس بھی اور خود اعتمادی سے بھی جو غریبی کو ہندوستان سے ختم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہو رہی ہے ۔
جب گھر کی بات ہوتی ہے توایک اور بڑا فرق پہلے کے مقابلے میں یہ ہے کہ آزادی کے بعد پہلی بار کسی حکومت نے متوسط طبقے کے گھر کی بھی فکر کی ہے۔ متوسط طبقے کو معاشی مدد کے ساتھ ہی سود میں بھی راحت دی جا رہی ہے۔ اس ملک کے ہر شہری کا اپنے گھر کا خواب پورا ہو ، اسی طرح ہم پوری ایمانداری سے کوشش کر رہے ہیں اور اگر متوسط طبقے کا کنبہ 20 لاکھ روپے کا فلیٹ لینے جاتا ہے تو بینک سے اس نے قرض لیا ہے تو ہم نے اس میں مددایسی کی ہے کہ 20سال میں جب پیسہ جمع کرے گا تو پہلے کے مقابلے میں اس کا چھ لاکھ روپے کم ہو جائے گا، بچ جائے گا۔ یہ کام متوسط طبقہ کے کنبوں کے لیے ہم نے کیا ہے ۔ 20 لاکھ روپیہ ادا کرتے کرتے اس کو چھ لاکھ روپیہ بچانے کا کام سود کم کر کے ہم نے کیا ہے۔
بھائیوں اور بہنوں، جھارکھنڈ ،یہاں کے قبائلیوں کی یہاں کے عام لوگوں کی جد جہد کا نتیجہ ہے ۔ یہ ریاست آپ سبھی کے امنگوں کی علامت ہے۔ جس کو اٹل جی کی حکومت نے عزت بخشی تھی۔ اس کی متوازن اور مجموعی ترقی کے لیے مرکزاور جھارکھنڈ کی حکومتیں پوری ایمانداری سے مصروف عمل ہیں۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس ہمارا راستہ بھی ہے اور مقصد بھی ہے۔
اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ یہاں سے جس آیوش مان بھارت ، پردھان منتری آواس یوجنا ، پی ایم جے یوجنا کی شروعات جنہیں مودی کیئر کے نام سے لوگ جانتے ہیں، تین مہینہ پہلے کی گئی تھی وہ آج لاکھوں غریبوں کو زندگی کا عطیہ دے رہی ہے۔ صرف سو دن کے اندر ہی لگ بھگ چھ سات لاکھ سے زیادہ بہن بھائیوں کو ملک بھر کے ہزاروں اسپتالوں میں یا تو علاج مل چکا ہے یا پھر وہ اسپتال میں علاج کرا رہے ہیں۔ اس میں جھارکھنڈ کے بھی تقریبا 28 ہزار لوگوں کو مدد ملی ہے ۔
ساتھیوں ، آج آیوش مان یوجنا اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ ہر روز تقریبا 10 ہزار لوگوں کو اس کا فائدہ مل رہا ہے ۔ یعنی یہ یوجنا ہر روز 10 ہزار لوگوں کی جان بچانے ، ان کی پریشانی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بھائیوں اور بہنوں ترقی کی پنچ دھارا یعنی بچوں کی پڑھائی، نوجوانوں کو روزگار، کسانوں کو سینچائی ، بزرگوں کو دوا اور عام لوگوں کو سننا ، ایسا جدید ہندوستان بنانے میں ہم مصروف ہو گئے ہیں۔
آپ سبھی جھارکھنڈ کے لوگوں کا بھرپور آشیرواد ہمارے ساتھ رہاہے ۔ نئے بھارت کے لیے رہا ہے ، نئے جھارکھنڈ کے لیے رہا ہے ۔ ترقی کے تئیں اپنے اعتماد کو آپ یونہی بنائے رکھیں گے ، اسی جذبے کے ساتھ میں پھر ایک بار نتیش کمار اور رگھوور داس جی کو دونوں کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ اپنے سبھی ارکان پارلیمنٹ کو مبارکباد دیتا ہوں اور جنتا جناردھن کو مبارکباد دیتا ہوں ۔
اس منصوبے کے لیے بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔ اور آپ نے اتنی بڑی تعداد میں آ کر ، اتنے صبر و تحمل کے ساتھ آشیرواد دیا اس کے لیے میں پھر ایک بار سر جھکا کر سلام کرتا ہوں ۔ میرے ساتھ پوری طاقت سے بولیئے ۔۔۔ دونوں مٹھی بند کر کے بولیئے ۔۔۔
بھارت ماتا کی جے …. ایسے نہیں،
بھارت ماتا کی جے …. شاباش ….
بھارت ماتا کی جے ….
بھارت ماتا کی جے ….
بہت بہت شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(م ن ۔ رض۔ را(
U-125
We have transformed the housing sector. More houses are being built with better facilities, allocated without favouritism and aimed at women empowerment.
— Narendra Modi (@narendramodi) January 5, 2019
Congress built few houses, allowed middlemen to make merry and named schemes after members of one family! pic.twitter.com/bKdYGKrymN
जब सरकार बिना भ्रष्टाचार के साफ नीयत से काम करती है तो परिणाम दिखता है।
— Narendra Modi (@narendramodi) January 5, 2019
एक सिंचाई परियोजना जिसे दशकों पहले पूरा हो जाना चाहिए था, उसे कांग्रेस की सरकारों ने लगातार लटकाए रखा।
हमने किसानों के कल्याण के लिए बड़ी सिंचाई परियोजनाओं को पुनर्जीवित किया है। pic.twitter.com/MW7slZqCXl
हमारे लिए किसान अन्नदाता हैं, उनके लिए वोटबैंक।
— Narendra Modi (@narendramodi) January 5, 2019
जब किसानों को कोई सिर्फ वोटबैंक समझता है तब वो आधी-अधूरी कर्जमाफी से आगे नहीं सोच पाता।
हम यह सुनिश्चित करना चाहते हैं कि किसानों के ऊपर आर्थिक बोझ न रहे। उन्हें सिंचाई और तकनीक की बेहतर सुविधा मिले, जिससे उनकी आय दोगुनी हो। pic.twitter.com/4vG7ikbUqT