پی ایم انڈیا
وزیراعظم جناب نریندر مودی کے زیر قیادت مرکزی کابینہ نے سائنسی تکنیکی تعاون سے متعلق مفاہمت نامے کو منظوری دے دی ہے جو موسمیات کے قومی مرکز( این سی ایم)، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ہندوستان کی اراضی سائنسز کی وزارت(ایم او ای ایس) کے درمیان طے پایا ہے۔
مفاہمت نامہ معلومات ، اعداد وشمار اور موسمیات ،زلزلے سے متعلق اور سمندری خدمات کے لئے آپریشن جاتی مصنوعات ساجھا کرنے کی راہ ہموار کرے گا جس میں راڈار، سیٹلائٹ، لہروں کو ناپنے کاآلہ اور زلزلے اور موسمیات کے اسٹیشن شامل ہیں۔
بیک گراؤنڈ
موسم کی خدمات معیشت کے موسم پر مبنی شعبے کی کارکردگی بڑھانے میں اہم رول ادا کرتی ہے یہ زراعت، نقل و حمل، پانی وغیرہ جیسے موسم پر مبنی اقتصادی شعبوں میں خطرے کے انتظام کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے جس سے خطے میں اقتصادی پیش رفت پر اثر پڑتا ہے۔علاقائی اور عالمی تعاون کے ذریعہ لچک کو مستحکم کیاجاتا ہے کیونکہ ممالک جل وارننگ نظاموں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور موسمیاتی اور پیشگوئی کی خدمات کی جدید کاری کرتے ہیں۔ موسم کی انقلابی نوعیت کے باعث علاقائی تعاون سے بدلتے ہوئے موسم کے مزاج، موثر جوابی حکمت عملیاں وضع کرنے، سرمایہ کاری کی لاگت کو کم کرنے اور متعلقہ علاقائی تکنیکی اختراع کو مستحکم کرنے کے علاوہ جدید کاری اور پائیداری سے متعلق شکنجوں پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ہندوستان کی اراضی سائنسز کی اور متحدہ عرب امارات میں موسمیات کے قومی مرکز کے درمیان مربوط شرکت کثیر رکاوٹیں، جلد وارننگ نظام اور موسم کی لچک سے متعلق سرگرمیاں، خطے میں اقتصادی نشوونما کے لئے نمایاں طور پر اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
ہندوستان اور این سی ایم، متحدہ عرب امارات میں متعلقہ اداروں میں کی جارہی سائنسی سرگرمیوں پر 8 نومبر 2019 کو متحدہ عرب امارات کے ایک وفد کے ذریعہ اراضی سائنسز کی وزارت کے دورے کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا اس کے دوران تحقیق کے بہت سے عام شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔ دونوں فریقین نے تیز تر سائنسی اور تکنیکل تعاون اور سنامی کے زیادہ قابل بھروسہ پیشنگوئی کے نظام میں دلچسپی کااظہار کیا جن کے باعث عمان کے سمندر اور بحرہ عرب کے ذریعہ ہندوستان اور شمال مشرقی متحدہ عرب ا مارات کے ساحلی علاقوں پر اثر پڑتا ہے۔
******
ش ح ۔ا ع۔ ر ض
U-NO.346