Search

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

این ڈی ٹی وی ورلڈ سمٹ میں شرکت کے دوران وزیر اعظم کے خطاب کا  متن

این ڈی ٹی وی ورلڈ سمٹ میں شرکت کے دوران وزیر اعظم کے خطاب کا  متن


آپ سب کو نمسکار! یہ تہواروں کا موسم ہے، اور ملک جشن، جوش و خروش اور ولولے سے سرشار ہے۔ جشن اور ولولے کے اس پُر مسرت ماحول میں، میں دنیا بھر سے تشریف لائے آپ تمام ساتھیوں کا خیرمقدم اور استقبال کرتا ہوں۔

ساتھیو،

این ڈی ٹی وی کی یہ سمٹ سنجیدہ موضوعات پر غور و خوض سے متعلق ہے۔ آج کل، ہر کوئی نئے عالمی نظام پر بھی گفتگو کر رہا ہے، اور چوں کہ اس کا اثر عام زندگی پر پڑ رہا ہے، اس لیے ایسی عالمی سمٹ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

ساتھیو،

”دی ورلڈ بٹوین آرڈرز“ کے تناظر میں، ہمیں دو اہم نکات کو سمجھنا ہوگا۔ اولاً، دنیا کا نظام (Order) کیوں تبدیل ہو رہا ہے؟ اور قدیم عالمی نظام آج کے چیلنجوں کا حل فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہے؟ ثانیاً، اس بدلتی ہوئی دنیا میں بھارت کا کردار کیا ہے؟

ساتھیو،

اگر میں پہلی بات کو تفصیل سے بیان کروں تو یہ تبدیلی فطری اور لازمی ہے۔ دوسری عالمی جنگ نے دنیا کو ایک بڑا سبق سکھایا تھا۔ دنیا نے یہ سمجھا کہ محض طاقت اور مفادات کی بنیاد پر عالمی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ مکالمہ ضروری ہے، تعاون ناگزیر ہے اور تنازعات کا حل بھی لازمی ہے۔ اسی جذبے نے اقوامِ متحدہ (UN) کی بنیاد رکھی۔ اقوامِ متحدہ نے کئی دہائیوں تک عالمی تعاون اور امن کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ دنیا بدلتی گئی۔ نئی امنگیں ابھریں، نئی معیشتیں اور نئی طاقتیں سامنے آئیں۔ دنیا کو درپیش چیلنجز بھی پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گئے۔ ٹیکنالوجی نے سماج، معیشت اور طاقت کی نوعیت کو تبدیل کر دیا۔ اور جو ممالک اُس وقت عالمی نظام تشکیل دینے والی میز پر موجود نہیں تھے، وہ اپنی حیثیت کے ساتھ آگے آ گئے۔ یعنی سوال یہ ہے کہ کیا عالمی نظام اسی رفتار سے بدلا؟ جواب ہے – نہیں۔ نہ عالمی نظام بدلا اور نہ ہی عالمی ادارے خود کو اسی تیزی سے تبدیل کر پائے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کا اپنا ایک تاریخی کردار رہا ہے، لیکن آج کے چیلنجز کے سامنے ان کی حدود واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ اب نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں، نئی آوازیں اپنی جگہ کا مطالبہ کر رہی ہیں اور نئے چیلنجز نئے حل طلب کر رہے ہیں۔ جب دنیا کی حقیقت بدل جائے، لیکن فیصلے کرنے کے طریقے نہ بدلیں، تو نظام اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔ یہی آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ کئی دہائیوں تک تجارت نے ممالک کو جوڑا، ٹیکنالوجی نے فاصلے مٹائے، سمندری راستوں نے معیشتوں کو مربوط کیا، اور ثقافت و نقل و حرکت نے مختلف معاشروں کو قریب لایا، لیکن آج یہی کڑیاں نئے تناؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ تجارت ہتھیار سازی کا ذریعہ بن رہی ہے، ٹیکنالوجی مسابقت اور تصادم کا نیا میدان بن رہی ہے، اور سمندری راستے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے مراکز بن رہے ہیں۔ اس لیے، آج کا چیلنج صرف ایک نئے عالمی نظام کے ابھرنے کا نہیں ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ بدلتی دنیا میں ایسا نظام کیسے قائم ہو، جس میں نئی حقیقتوں کو جگہ ملے، عالمی ادارے زیادہ مؤثر ہوں اور ممالک کے درمیان تعاون کا جذبہ مضبوط ہو۔ اور یہیں سے بھارت کے کردار کا سوال سامنے آتا ہے۔

ساتھیو،

بھارت کے کردار کی وضاحت سے پہلے، میں آپ کو سات آٹھ سال قبل کے ایک اہم دور میں لے چلوں گا۔ کورونا کے دوران جو کچھ ہوا، اسے تو ہم سب نے دیکھا۔ جب دنیا کو تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، اُس وقت دنیا انتہائی منقسم نظر آئی۔ جو لوگ عالمی معیشت اور گلوبلائزیشن کے حوالے سے بڑی بڑی باتیں کیا کرتے تھے، بحران کے لمحے میں انھوں نے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔ اسی بکھراؤ کے دور میں، ہر فرد دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا، عالمی سطح پر اعتماد کم سے کم سطح پر تھا۔ بالکل اُسی وقت، 2020 میں، جب میں نے جی 20 کے اجلاس کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک نکتہ پیش کیا، تو میں نے کہا: ”انسانیت کی اجتماعی بہبود کے لیے ایک نیا عالمی نظام“۔ میں نے اس کا آہنگ کیا تھا—ایسا نظام جس کے مرکز میں انسانیت ہو۔ اسی سال، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے میں نے یہ بات دہرائی کہ ”اگر صدی بدل جائے اور ہم نہ بدلیں، تو تبدیلی لانے کی ہماری صلاحیت بھی کم زور ہو جاتی ہے“۔

ساتھیو،

آج یہ سوال تو اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمی نظام (World Order) تبدیل ہو رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب دنیا کا پرانا نظام بدل رہا ہے تو ہم سب مل کر کیسا نیا عالمی نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں؟ کثیر جہتی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مناسب نمائندگی دینا ضروری ہے۔ بین الاقوامی تعاون محض خوشگوار حالات تک محدود نہ رہے بلکہ بحران کے وقت بھی مؤثر ثابت ہو، اس کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے درمیان ایک مؤثر اتفاقِ رائے کا ہونا لازمی ہے۔

ساتھیو،

ہمارے یہاں چانکیہ نے ارتھ شاستر میں کہا ہے کہ ”اپرانیتہ تو متسیہ نیایم اد-بھاویاتی!“ یعنی جب نظام کم زور پڑتا ہے تو ’متسیہ نیائے‘ (مچھلی کا انصاف) جنم لیتا ہے۔ متسیہ نیائے میں بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے۔ دنیا کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو متسیہ نیائے کی صورت حال کو پیدا ہونے سے روکے۔ یہی بھارت کا وژن ہے اور بھارت اسی پر عمل پیرا ہے۔ دنیا نے کورونا کے اُس شدید بحران کے دوران، بھارت کے اِس کردار کا تجربہ بھی کیا۔ جب دنیا کے باصلاحیت ممالک صرف اپنے بارے میں سوچ رہے تھے، تب بھارت نے آگے بڑھ کر ہر ضرورت مند ملک تک ویکسینز پہنچائیں اور 100 سے زائد ممالک کو ادویات فراہم کیں۔

ساتھیو،

بھارت ’سب کا ساتھ-سب کا وِکاس‘ کے منتر پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، عالمی بھائی چارے (وشو بندھو) کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ بھارت کی قیادت میں جی 20 سمٹ منعقد ہوئی، اور بھارت ہی کی قیادت میں برکس سمٹ بھی ہوئی۔ ان دونوں سمٹوں کے حوالے سے کتنے ہی خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ یہ کہا جا رہا تھا کہ اعلامیوں پر اتفاقِ رائے قائم کرنا ناممکن ہوگا۔ لیکن بھارت نے پُل تعمیر کیے، مکالمے پر زور دیا، اور دونوں بار عام اتفاقِ رائے سے دہلی اعلامیہ جاری ہوا۔ وہ ممالک جنھیں باہمی طور پر مخالف سمجھا جاتا تھا، وہ بھی بھارت کے پلیٹ فارم پر ایک ساتھ آئے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ عالمی بھائی چارے کے طور پر بھارت کے کردار پر اعتماد کا مظہر ہے۔

ساتھیو،

بھارت جتنا مستحکم اور بااختیار ہوگا، انسانیت کو اُتنا ہی زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ کیوں کہ بھارت کی پالیسیوں اور فیصلوں کو صدیوں کے تجربات اور تہذیبی اقدار سے تحریک ملتی ہے۔ بھارت لمحاتی بنیادوں پر فیصلے نہیں کرتا۔ اِسی لیے بھارت استحکام کی ضمانت اور تسلسل کی یقین دہانی ہے۔ وِکست بھارت کا ہمارا عزم بھی اِسی جذبے کو فروغ دیتا ہے۔ چند روز قبل ایک سربراہی اجلاس میں، میں نے ’پاور ٹو ایمپاور‘ کا وژن پیش کیا تھا۔ وِکست بھارت صرف ہمارے لیے نہیں، بلکہ ایک بہتر دنیا کی بھی ضمانت ہے۔ جب بھارت آتمِ نربھرتا کی جانب بڑھتا ہے، تو یہ عالمی سپلائی چینز کو مضبوط کرتا ہے۔ جب بھارت کی معیشت مستحکم ہوتی ہے، تو یہ دنیا کو خوشحالی کی اُمید دلاتا ہے۔ جب بھارت کی نوجوان طاقت باصلاحیت اور ہنرمند ہوتی ہے، تو یہ دنیا کو جدت طرازی اور پیداواری صلاحیت کا بھروسا دیتی ہے۔ یعنی بھارت آج اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ عالمی صلاحیتوں کو بھی فروغ مل سکے۔

ساتھیو،

بھارت آج دنیا کی ٹاپ-3 معیشتوں میں شامل ہونے کے لیے پوری قوت سے کوشاں ہے۔ ہمارا حوصلہ تب مزید بڑھ جاتا ہے جب ہم موجودہ مشکل عالمی حالات کے باوجود بھارت کو سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کے طور پر اُبھرتے دیکھتے ہیں۔ آج بھارت گرین توانائی کے شعبے میں سرفہرست معیشتوں میں شامل ہے۔ بھارت اے آئی کے میدان میں ٹاپ-3 ایکو سسٹمز میں سے ایک ہے۔ بھارت ٹاپ تھری اسٹارٹ اپ ایکو سسٹمز میں سے ایک ہے۔ بھارت سب سے بڑی ڈیجیٹل معیشتوں میں سے ایک ہے اور ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمبر ون پر ہے۔

ساتھیو،

آج کا بھارت اپنے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو وسعت دے رہا ہے، اور اس دوران کئی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو بھارت میں پہلی بار پیش آئے ہیں۔ بھارت کے فاسٹ بریڈر ری ایکٹر نے پہلی بار کریٹیکلٹی حاصل کی، اور بھارت نے پہلی بار مردم شماری کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مربوط کیا۔ اسی عرصے میں، بھارت میں پہلی بار ہائیڈروجن ٹرین چلی، اور بھارت نے پہلی بار نان-فوسل بجلی کی صلاحیت میں 300 گیگاواٹ کا ہندسہ عبور کیا۔

ساتھیو،

میں آپ کو ایک اور مثال دیتا ہوں۔ کچھ دن قبل مجھے ایشین گیمز سے واپس آنے والے نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ بھارت نے اس بار 85 میڈل جیتے ہیں، اور اس میں بھی ہم نے کئی کام یابیاں پہلی بار حاصل کی ہیں۔ خواتین کی ریکرو ٹیم نے پہلی بار ٹیم اور انفرادی طور پر سونے کے تمغے جیتے ہیں۔ ایک ہی ایشین گیمز میں باکسنگ کے شعبے میں بھارت نے تین سونے کے تمغے حاصل کیے ہیں، اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے۔

ساتھیو،

اب میں ایک لفظ کا ذکر کروں گا، اُمید ہے کہ ہال میں موجود بہت سے افراد نے یہ لفظ سُنا ہوگا۔ یہ لفظ ہے – سیپک-ٹکراء۔ سیپک-ٹکراء، کیا آپ لوگوں نے یہ لفظ سُنا ہے؟ جنھیں اس کے بارے میں علم نہیں، انھیں میں بتانا چاہوں گا کہ یہ ایک کھیل کا نام ہے۔ دنیا بھر میں یہ کھیل کھیلا جاتا ہے اور اس میں تمغے بھی جیتے جاتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے فٹ بال اور والی بال کا ہائبرڈ امتزاج ہے۔ اسے پیروں سے کھیلا جاتا ہے، لیکن یہ کھیل نیٹ کے آر پار کا ہوتا ہے۔ بھارت نے حال ہی میں منعقدہ ایشین گیمز میں پہلی بار اس کھیل کے ایک ایونٹ – مین کواڈرینٹ میں تمغہ جیتا ہے۔

ساتھیو،

یہ بدلتے بھارت کی پہچان ہے۔ ہر شعبے میں کچھ نہ کچھ نیا اور پہلی بار رونما ہو رہا ہے۔ یعنی بھارت کی جو روایتی طاقت رہی ہے، وہ تو مضبوط ہو ہی رہی ہے، اور جن شعبوں میں ہم اتنے باصلاحیت نہیں تھے، وہاں بھی ایک نئی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ تنہائی میں نہیں ہو رہا، بلکہ یہ سب ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

ساتھیو،

بھارت نے وہ ایام بھی دیکھے ہیں جب بجلی کی طلب میں اضافے پر پورا گرڈ بیٹھ جایا کرتا تھا۔ لیکن جب ملک ایک مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور آگے بڑھتا ہے، تو وہی پاور گرڈ ملک کی ترقی اور خود اعتمادی کو بلند کرتا ہے، نہ کہ بیٹھ جاتا ہے۔

ساتھیو،

آج ہماری نوجوان طاقت، خواتین کی قوت، ہمارے کسان، ہمارے ماہی گیر، غریب اور متوسط طبقہ، بلند حوصلے کے ساتھ وِکست بھارت کی تعمیر میں سرگرم ہیں۔ آج آپ ملاحظہ فرمائیں، بھارت کی برآمدات نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں؛ اگر میں صرف ستمبر کے اعداد و شمار کی بات کروں، تو اشیا اور مصنوعات کی برآمدات میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباًًً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سمندری غذا کی برآمدات 12 برسوں میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ ہمارے دیہاتوں میں ساڑھے تین کروڑ سے زائد ”لکھ پتی دیدی“ بن چکی ہیں، اور ہم 6 کروڑ ”لکھ پتی دیدی“ بنانے کے ہدف پر کام کر رہے ہیں۔ پردھان منتری وِکست بھارت روزگار یوجنا کے تحت بہت کم عرصے میں تقریباًًً 70 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کی گئی ہیں۔ متوسط طبقے کے لیے 12 لاکھ روپے کی آمدنی پر ٹیکس صفر کیا گیا ہے، یہ بات آپ لوگوں کو بار بار یاد دلانی پڑتی ہے، کہ جو ملا وہ ہضم، ایسا نہیں چلتا ہے۔ ملک میں ”ایز آف لیونگ“ (آسانی سے زندگی گزارنا) بھی بہتر ہو رہی ہے اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

ساتھیو،

ایک وقت تھا جب دنیا بھارت کو ’ورلڈز بیک آفس‘ کہتی تھی، لیکن آج کا بھارت محض ایک سروس پرووائیڈر نہیں ہے۔ ہم دنیا کے لیے جدت طرازی کر رہے ہیں، ڈیزائن تیار کر رہے ہیں اور نئے حل و جدید ٹیکنالوجیز تخلیق کر رہے ہیں۔ آپ تحقیق کے شعبے

ساتھیو،

سیمی کنڈکٹر سیکٹر پر بھی غور کیجیے، دنیا کی چپ ڈیزائن ورک فورس کا تقریباًًً 20 فیصد بھارت میں موجود ہے۔ بھارتی انجینئرز ملک کے اندر ہی 2–3 نینو میٹر جیسے جدید چپ ڈیزائن پر بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ اس ٹیلنٹ پول کو مزید وسعت دینے کے لیے آج ملک میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ بھارت کے تعلیمی اداروں میں ہمارے طلبہ اب تک سوا تین سو سے زائد چپ ڈیزائن تیار کر چکے ہیں۔

ساتھیو،

ایک اور مثال گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز کی ہے۔ دنیا کے نصف سے زیادہ کیپیبلٹی سینٹرز بھارت میں موجود ہیں، اور یہ صرف اعداد و شمار کی بات نہیں ہے بلکہ ان کے کام کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ پہلے کئی سینٹرز میں صرف سپورٹ سروسز پر توجہ مرکوز کی جاتی تھی، لیکن آج یہ اے آئی، کلاؤڈ، انجینئرنگ، اینالیٹکس اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ جیسے متعدد شعبوں میں سرگرم ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت کا کردار اور اس کی شناخت بدل رہی ہے۔ ہم ٹیلنٹ ایٹ اس کیل سے تھنکنگ ایٹ اس کیل تک پہنچ چکے ہیں۔ پہلے دنیا بھارت کی افرادی قوت پر بھروسا کرتی تھی، لیکن آج وہ بھارت کی فکری صلاحیت پر بھی اعتماد کرتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب ہم صرف بیک آفس کے طور پر ہی نہیں بلکہ برین آفس کے طور پر بھی دنیا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

بھارت سرکار جب بھی کسی شعبے میں کوئی پالیسی وضع کرتی ہے یا سرمایہ کاری کا فیصلہ لیتی ہے، تو اس کے پسِ پشت ایک گہرا وژن کارفرما ہوتا ہے۔ اس وژن میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ بھارت میں کون سی صلاحیتیں پروان چڑھانی ہیں، کن شعبوں میں دیگر ممالک پر اپنی انحصار کم کرنی ہے اور آئندہ درپیش ہونے والے بحرانوں کے لیے آج ہی سے کیا تیاریاں کرنی ہیں۔ ہم اپنے ہر فیصلے میں ان تمام پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ بہت سی سرمایہ کاریاں ایسی ہوتی ہیں جن کے ثمرات ظاہر ہونے میں کئی برس لگ جاتے ہیں، لیکن ملک کے مستقبل کے لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ میں اس کی ایک دل چسپ مثال پیش کرتا ہوں۔ آپ سبھی بھارت کی فارما کیپیبلٹیز سے بخوبی واقف ہیں، لیکن چند سال قبل تک بھارت ادویات اور خام مال کی ایک بڑی مقدار کے لیے درآمدات پر منحصر تھا۔ اب ملک اس صورت حال کو تبدیل کر رہا ہے۔ آپ نے پینسلین جی کے بارے میں سنا ہوگا، جو اینٹی بائیوٹکس کے لیے ناگزیر ہے۔ گذشتہ دو تین دہائیوں میں، بھارت میں اس کی گھریلو پیداوار تقریباًًً مکمل طور پر بند ہو گئی تھی۔ ہم اسے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو یعنی پی ایل آئی اسکیم کے دائرے میں لائے۔ اب، آندھرا پردیش کے کاکیناڈا میں کئی برسوں کے بعد پینسلین جی کی گھریلو پیداوار کا دوبارہ آغاز ہوا ہے۔

ساتھیو،

پینسلین-جی محض ایک مثال ہے۔ بھارت میں ہم اے پی آئی، یعنی دوا سازی کا خام مال، سے منسلک مکمل ملکی سپلائی چین قائم کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے، اس شعبے کو پی ایل آئی اسکیم کے دائرے میں لایا گیا ہے، اور اب تک اس میں 5 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جب کہ تقریباًًً 40 منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔ ایسی ہی پالیسیاں اور فیصلے بھارت کو آتمِ نربھرتا کی منزل کی جانب گامزن کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

ملک کی اِن بے شمار کام یابیوں کے تذکرے کے دوران ہمارے میڈیا کے ساتھی شکایت کریں گے کہ باتیں تو بہت ہوئیں، لیکن ہمارے کام کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ این ڈی ٹی وی اتنا شاندار پروگرام منعقد کر رہا ہے اور ہمارا تو بنیادی اصول ہے، ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘، میڈیا کا بھی وِکاس، تو آپ لوگوں کو تھوڑی کھٹی میٹھی باتیں بھی پسند آئیں گی؟

ساتھیو،

جہاں ایک طرف دنیا ایک نئے عالمی نظام کی متلاشی ہے، وہیں کچھ لوگ بھارت میں بے ترتیبی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ آج جب دنیا بھر میں اِتنی ابتری پھیلی ہوئی ہے، تو ایک مضبوط بھارت کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جانی چاہیے۔ لیکن یہ لوگ بھارت کی ساکھ کو مٹی میں ملانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ بیرونِ ملک جا کر بھارت کو بدنام کرتے ہیں اور غیر ملکیوں سے مداخلت کی درخواست کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کانگریس کب تک اپنے ناکام پروڈکٹ کی لانچنگ کے لیے ملک کو داؤ پر لگاتی رہے گی۔ ہمارے شری ہری کوٹا سے ایک سال میں اِتنی لانچنگ نہیں ہوتی، جتنی کانگریس کے لوگ ایک سال میں اپنے رہ نما کو لانچ کرنے کی ناکام کوششیں کر لیتے ہیں۔

ساتھیو،

کانگریس کو اپنی جو دُردشا کرنی ہو، وہ کرے، ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اپنے خاندان کو مسلسل ناکامی کے داغ سے بچانے کے لیے، کانگریس اب بھارت کی کام یابیوں، بھارت کی خوبیوں اور بھارت کی ترقی کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔ انگور اتنے کھٹے ہیں کہ کانگریس انگور کی بیل کو ہی کاٹنے میں مصروف ہو گئی ہے۔ دراصل، کانگریس کا یہ خاندان ان کی پارٹی پر بوجھ بن چکا ہے؛ پارٹی کے بڑے بزرگ بھی یہ سمجھتے ہیں اور تنہائی میں ملنے پر ہمیں بتاتے بھی ہیں، لیکن توہین کا گھونٹ پی کر وہ خاموش رہتے ہیں۔

ساتھیو،

کانگریس کے اس رویے سے بھارت سرکار کے دیانت دار ناقدین کو بھی نقصان پہنچتا ہے، اور یہ جمہوریت کے لیے ایک بہت بڑی قیمت ہے۔ دیانت دار ناقدین کو اس سے شدید نقصان ہو رہا ہے۔ جو لوگ جمہوری طریقے سے بھارت سرکار کے خلاف اپنی بات پیش کرنا چاہتے ہیں، ان کی آواز بھی کانگریس کے شور میں دب جاتی ہے اور ان دیانت دار ناقدین کی بات سنی نہیں جاتی۔ جو جمہوریت کی بھلائی اور ملک کا مفاد چاہتے ہیں، اور چاہے وہ بھارت سرکار کے کٹر مخالف ہی کیوں نہ ہوں، انھیں کانگریس کے اس ہنگامے میں اپنی بات رکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ہم نے پارلیمنٹ میں دیکھا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے کئی باصلاحیت نوجوان ارکانِ پارلیمنٹ ہیں جو اپنی بات پیش کرنا چاہتے ہیں اور بھارت سرکار پر تنقید کرنا چاہتے ہیں، لیکن کانگریس پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چلنے دیتی تاکہ دوسروں کو موقع نہ مل سکے، کیوں کہ کانگریس صرف ایک ہی شخص کو نمایاں رکھنا چاہتی ہے۔ ایسا کر کے کانگریس حزب اختلاف کے نوجوان ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کرتی ہے۔

اور میرے ساتھیو،

ایسی تحریکیں جو فطری طور پر بھارت سرکار کی خامیوں کو اجاگر کرنا چاہتی ہیں، جو واقعی نظام میں اصلاح لانا چاہتی ہیں اور جمہوریت میں یہ ضروری بھی ہے، لیکن کانگریس انھیں بھی تباہ کر دیتی ہے۔ کانگریس ایک ایسا طفیلی بن چکی ہے جو کسی کو آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتی۔ ذہنی نکسلیوں نے کانگریس کے ذہن پر ایسا قبضہ جما لیا ہے کہ کانگریس نے اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی کھو دی ہے۔ جو جنگلوں میں تباہی مچاتے تھے، وہ اب کانگریس میں گھس کر ملک کو مکمل طور پر تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

ساتھیو،

اِن تمام چیلنجوں کے باوجود، ہمارے سامنے وِکست بھارت کا ایک عظیم ہدف ہے۔ ملک کی امنگیں بے پناہ ہیں۔ اسی لیے، آج بھارت میں ایک ہی جذبہ گونج رہا ہے، اور وہ جذبہ ہے- ”We Will Do It, We Will Do It“۔ ہم بڑے خواب دیکھیں گے، ہر چیلنج کو ایک موقع میں بدلیں گے، اور ہر عزم کو تکمیل تک پہنچائیں گے۔ ہماری طاقت ہماری  خود اعتمادی ہے، اور ہماری تحریک 140 کروڑ ہم وطنوں کے خواب ہیں۔ ہم جدت طرازی کریں گے، نئی راہیں بنائیں گے، نئی بلندیوں کو چھوئیں گے، اور بھارت کی کام یابی کو دنیا کی کام یابی سے جوڑیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سمٹ سے حاصل ہونے والا ’امرت‘ ہمارے اسی جذبے کو تقویت دے گا، ہمارے عزم کو نئی توانائی بخشے گا، اور بھارت کی عظیم امنگوں کو حقیقت کا روپ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایک بار پھر آپ سبھی کو بہت بہت نیک خواہشات۔

بہت بہت شکریہ۔

***

(ش ح – ع ا)

U.No. 6542