پی ایم انڈیا
نئی دہلی، 14؍مارچ / مرکزی کابینہ کو وزیراعظم جناب نریندرمودی کی قیادت میں ، بھارت اور سری لنکا کے مابین اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے سے متعلق مفاہمتی عرضداشت سے آگاہ کیا گیا ۔ اس مفاہمتی عرضداشت پر 15جنوری 2018 پر قانون و انصاف اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کےو زیر جناب روی شنکر پرساد کے دورۂ سری لنکا کے دوران دستخط ہوئے تھے۔
مذکورہ مفاہمتی عرضداشت کا مقصد یہ ہے کہ ای-حکمرانی، کم سے کم حکمرانی، ای- پبلک خدمات بہم رسانی، سائبر سلامتی، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکوں، اسٹارٹ اَپ ایکو نظام وغیرہ کے سلسلے میں قریبی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
مذکورہ مفاہمتی عرضداشت کا نفاذ آئی ٹی اور ای پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ کی تشکیل کے ذریعے عمل میں آئے گا۔ یہ ورکنگ گروپ طرفین کے نمائندگان پر مشتمل ہوگا۔ بی ٹو بی اور جی ٹو جی دونوں شعبوں میں آئی سی ٹی باہمی تعاون کو بڑھاوا دیا جائے گا۔
پس منظر:
الیکٹرونکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی اور علاقائی فریم ورک برائے تعاون کے مطابق ابھرتے ہوئے اور سرفہرست بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے۔ وزارت نے مختلف ممالک کے اپنے ہم رتبہ اداروں/ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعاون کو بڑھاوا دینے کیلئے مفاہمتی عرضداشتوں /معاہدات پر دستخط کئے ہیں اور آئی سی ٹی کے شعبے میں اطلاعات کے تبادلے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ مختلف ممالک کے ساتھ اس تعاون کو مزید بڑھانے کی غرض سے خصوصاً حکومت ہند کی جانب سے کئے گئے نئے اقدامات مثلاً ڈیجیٹل انڈیا کے پس منظر میں تعاون کو بڑھاوا دینے کیلئے ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے کاروباری مواقع کی تلاش کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے 2015 میں سری لنکا کا دورہ کیا تھا اور اس دورے نے بھارت کے ذریعے اپنے ہم سایہ کو ترجیح دینے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ماحول سازگار بنایا تھا۔ آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کیلئے کولمبو میں بھارتی مشن اور وزارت خارجہ نے ایک ایسا فریم ورک وضع کرنے پر زور دیا ہے، جو سرگروم تعاون کو بڑھاوا دے گا۔ اس سلسلے میں وزارت نے آئی سی ٹی شعبوں میں مخصوص توجہ والے تعاون کیلئے ایک جامع مفاہمتی عرضداشت کو حتمی شکل دی ہے۔ خصوصی توجہ والے شعبوں میں ای-حکمرانی، سائبر سلامتی، بی ٹو بی شراکت داری، آئی ٹی تعلیم اور تحقیق /جدت طرازی وغیرہ شامل ہیں۔
U.No. 1445