
بھارت کے وزیرِاعظم جناب نریندر مودی کی دعوت پر جمہوریہ پولینڈ کے وزیرِاعظم عالی جناب ڈونلڈ ٹسک نے 21 سے 23 اکتوبر 2026 تک بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔ وزیرِاعظم ٹسک کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا، جس میں تقریباً 100 سرکردہ چیف ایگزیکٹیو افسران )سی ای اوز(اور صنعتی شعبے کے نمائندے شامل تھے۔
وزیرِاعظم مودی اور وزیرِاعظم ٹسک نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر جامع تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے اگست 2024 میں وزیرِاعظم مودی کے دورۂ پولینڈ کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس کا ذکر کیا، جب دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا گیا تھا اور 2024-2028 کے لیے بھارت-پولینڈ ایکشن پلان اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے ایکشن پلان کے وسط مدتی جائزے کی توثیق کی، جو ستمبر 2026 میں وارسا میں بھارت کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور پولینڈ کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ رادوسواف سکورسکی نے انجام دیا تھا۔
دونوں وزرائے اعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ موجودہ دورے سے اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس شراکت داری کو ٹھوس، مقررہ مدت کے اندر حاصل کیے جانے والے اور دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر مفید نتائج میں تبدیل کیا جائے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح پر سیاسی تبادلوں اور ادارہ جاتی مذاکرات کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا اور دونوں ممالک کی پارلیمنٹ، ریاستی اور علاقائی حکام، تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان قریبی روابط کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کی۔
دونوں وزرائے اعظم نے 27 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں منعقدہ تاریخی بھارت-یورپی یونین سربراہ میٹنگ-’2030 کی جانب پیش قدمی: بھارت-یورپی یونین مشترکہ جامع اسٹریٹجک ایجنڈا‘، بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)کی تکمیل اور نقل و حرکت کے شعبے میں تعاون کے جامع فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے اس پر جلد دستخط کرنے، اس کی توثیق اور بروقت نفاذ پر زور دیا، تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے، اہم سپلائی چینز کو متنوع بنانے اور مضبوط کرنے میں مدد ملے اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو۔
تجارت ، اقتصادی تعاون اورسرمایہ کاری
وزیرِاعظم مودی نے پولینڈ کو اس کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کےایک ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر جانے پر مبارک باد دی اور پولینڈ کی معیشت کی مضبوطی اور متحرک نوعیت کو سراہا۔ پولینڈ نے دنیا کی بڑی معیشتوں میں بھارت کی سب سے تیز رفتار ترقی اور آنے والے برسوں میں 10 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بننے کی جانب اس کے متاثر کن سفر کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں معیشتوں کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں اور بھارت و پولینڈ کی ترقی کی الگ الگ راہوں سے پیدا ہونے والے مواقع کو تسلیم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ بھارت کے وزیرِاعظم نے پولینڈ کی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ بھارت میں اپنی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دیں اور بھارت کی وسیع منڈی، ہنرمند افرادی قوت اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ اور اختراع کے نظام سے فائدہ اٹھائیں۔ وزیرِاعظم ٹسک نے پولینڈ میں بھارتی سرمایہ کاری کو سراہا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ وسطی و مشرقی یورپ اور وسیع تر یورپی منڈی میں اپنی موجودگی بڑھانے کے خواہش مند بھارتی کاروباری اداروں کے لیے پولینڈ ایک اہم دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے زراعت کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے دوطرفہ ورکنگ گروپ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی، تاکہ باہمی تجارت اور تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس دورے کے دوران منعقدہ بھارت-پولینڈ کاروباری فورم کا خیرمقدم کیا، جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ چیف ایگزیکٹیو افسران(سی ای اوز)اور صنعتی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صنعتی مشینری، دفاع، بنیادی ڈھانچے، ادویہ سازی، کان کنی اور اہم معدنیات، توانائی، اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی(آئی سی ٹی)اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں شراکت داری کے امکانات تلاش کریں۔
دونوں رہنماؤں نے مضبوط اور متنوع سپلائی چینز، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے فروغ، اختراع پر مبنی ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اقتصادی ترقی، پیداواری صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے انقلابی رول کو تسلیم کیا۔ بھارت-یورپی یونین کے جامع اسٹریٹجک ایجنڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور کوانٹم ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اَپس کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں، تحقیقی اداروں اور اختراعی نظاموں کے درمیان قریبی تعاون کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا۔
دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون
دونوں رہنماؤں نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ستمبر 2026 میں وارسا میں منعقدہ دفاع سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کی آٹھویں میٹنگ کے نتائج کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے درمیان باقاعدہ تبادلوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے بھارت اور پولینڈ کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا خیرمقدم کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ تعاون کے ایسے شعبوں کی نشاندہی کریں جو تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل ہوں۔ دونوں رہنماؤں نے دفاعی صنعتی تعاون کے لیے مستقبل پر مرکوز ایک جامع فریم ورک کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کے مقصد سے دفاعی صنعت سے متعلق مذاکراتی فورم قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس میں کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط کو فروغ دینا اور باہمی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ٹیکنالوجی، مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور صنعتی تعاون کی دیگر صورتوں میں شراکت داری قائم کرنا شامل ہے۔
دونوں رہنماؤں نے جنوری 2026 میں بھارت-یورپی یونین سلامتی اور دفاعی شراکت داری پر دستخط کیے جانے کا خیرمقدم کیا اور اہم و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، سائبر سکیورٹی اور دفاعی اختراع کے شعبوں میں بھارت اور پولینڈ کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے کاروباری اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ تکنیکی استحکام میں اضافہ ہو اور بھارت-یورپی یونین کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون مزید مستحکم ہو۔
دونوں فریقوں نے خفیہ معلومات کی باہمی حفاظت اور تبادلے سے متعلق معاہدے کی اہمیت پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ اس معاہدے پر جلد دستخط کیے جائیں گے۔
خلائی شعبے میں تعاون اور نئی ٹیکنالوجیز
دونوں رہنماؤں نے خلائی شعبے میں تعاون کو اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم عنصر قرار دیا اور ادارہ جاتی سطح کے ساتھ ساتھ صنعتی سطح پر بھی روابط کو مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے باہمی طور پر مفید تعاون کے ٹھوس شعبوں کی نشاندہی کے لیے جاری کوششوں کا خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں نے سیمی کنڈکٹرز کے شعبے میں قریبی تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے سرکلر اکانومی(مدور معیشت ) اور وسائل کی بازیافت کی صنعت میں تعاون کے امکانات پر زور دیا، بالخصوص بیٹریوں کی ری سائیکلنگ اور نایاب ارضی معدنیات کوصاف کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے ارضیات، کان کنی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں قریبی تعاون کے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔ اس سلسلے میں مفاہمت مفاہمت نامے(ایم او یو) پر مذاکرات جاری ہیں۔
کنکٹیوٹی، بحری امور اور جہاز رانی
دونوں رہنماؤں نے بھارت اور پولینڈ کے درمیان براہِ راست پروازوں کے مواقع تلاش کرنے کے امکانات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی علامت کے طور پر شہری ہوا بازی اور ایرونوٹیکل کے متعلقہ حکام کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس سلسلے میں براہِ راست مذاکرات کریں۔
دونوں فریقوں نے جہاز رانی کی صنعت کے ساتھ ساتھ بحری سلامتی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے محفوظ، مضبوط اور مربوط نیٹ ورک کو فروغ دینے میں بندرگاہوں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ ایسا نیٹ ورک عالمی سپلائی چینز کو متنوع بنانے، ترسیل کے دورانیے کو کم کرنے اور جغرافیائی و سیاسی حالات کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے اہم بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھنے میں مدد دے گا۔ دونوں رہنماؤں نے کنکٹیوٹی کو بہتر بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جس میں بھارت-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری(آئی ایم ای سی)کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے قطبی خطوں سے متعلق امور میں سائنسی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
سائنس، تعلیم اور علمی تعاون
دونوں رہنماؤں نے پولینڈ میں بھارتی علوم اور سنسکرت کے مطالعے کی طویل علمی روایت کا ذکر کیا اور کراکوف کی یاگیلونین یونیورسٹی میں ثقافتی تعلقات سے متعلق بھارتی کونسل (آئی سی سی آر)کی جانب سے قائم کردہ انڈین اسٹڈیز چیئر کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بھارتی جامعات میں پولش زبان کے اساتذہ کی موجودگی کو بھی تسلیم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بھارتی اور پولش اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کے وسیع نیٹ ورک کا ذکر کیا اور ادارہ جاتی شراکت داریوں کو مزید وسعت دینے، طلبہ اور اساتذہ کے تبادلوں کو فروغ دینے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں میں اضافے کی اپیل کی۔
ثقافت اور عوام سے عوام کے رابطے
دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عوامی سطح پر مضبوط روابط اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ستون ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے تبادلوں کا خیرمقدم کیا، جن میں پیشہ ور افراد اور سیاحوں کے درمیان روابط بھی شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے کھیلوں، نوجوانوں کے تبادلوں اور سیاحت سمیت ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ ثقافت، سائنس اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعاون سے متعلق ایک معاہدہ جلد طے پائے گا۔ اس کے علاوہ، نیشنل آرکائیوز آف انڈیا اور جمہوریہ پولینڈ کے اسٹیٹ آرکائیوز کے ڈائریکٹر جنرل کے درمیان تعاون کا ایک معاہدہ طے پا چکا ہے، جس پر جلد دستخط کیے جائیں گے۔
طرفین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وارسا میں مہاراجہ جام صاحب (جنہیں پولینڈ میں عام طور پر ’نیک مہاراجہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے)اور ریاستِ کولہاپور کی یادگار دونوں دوست ممالک کے عوام کے درمیان ایک زندہ وسیلہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تاریخ کا ایک دل کو چھو لینے والا باب بھی ہے، جب دوسری جنگِ عظیم کے دوران بھارت نے پولینڈ کی ہزاروں خواتین اور بچوں کو پناہ فراہم کی تھی۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ جام صاحب یادگاری یوتھ ایکسچینج پروگرام کے اب تک دو دور منعقد ہو چکے ہیں، جن میں تازہ ترین پروگرام اکتوبر 2026 میں منعقد ہوا۔
دونوں فریقوں نے آپریشن گنگا کے تحت یوکرین میں پھنسے ہوئے 2,000 سے زائد بھارتی طلبہ کو مدد فراہم کرنے پر پولینڈ کے حکام کی خدمات کو قدر و تحسین کے ساتھ یاد کیا۔
کثیرجہتی تعاون اور عالمی امور
دونوں رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کے منشور کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کثیرجہتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ اقوامِ متحدہ کو ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے، جن میں سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل، دونوں زمروں میں توسیع بھی شامل ہے، تاکہ یہ ادارہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ، قابلِ اعتماد اور مؤثر رہے۔ پولینڈ کی جانب سے زیادہ جامع، اصلاح شدہ اور توسیع شدہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل(یو این ایس سی)میں بھارت کی رکنیت کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، 2028-29 کے لیے سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے بھارت کی امیدواری کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی تعاون کے ایک اہم فورم کے طور پر جی 20 کے رول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جی 20 کے ان شعبوں اور ورک اسٹریمز میں تعاون کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا، جن میں جمہوریہ پولینڈ شرکت کرتا ہے یا اسے شرکت کی دعوت دی جا سکتی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں جاری جنگ اور اس کے تباہ کن اور المناک انسانی نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں سے ہم آہنگ ایک جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کی ضرورت کا اعادہ کیا، جس میں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر خصوصاً عالمی خطہ جنوب کے ملکوں میں خوراک اور توانائی کی یقینی فراہمی پر پڑنے والے منفی اثرات کا بھی ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی اور دہشت گردی پر منتج ہونے والی پُرتشدد انتہا پسندی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی، ان کے محرکات سے قطع نظر،واضح الفاظ میں مذمت کی، جس میں سرحد پار دہشت گردی بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی بنیاد پر دہشت گردی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں رہنماؤں نے 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مضبوط اور مشترکہ کارروائی کرنے کی اپیل کی، جن میں اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی جانب سے نامزد کردہ عناصر بھی شامل ہیں۔ دونوں فریقوں نے تمام ممالک سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے مراکز اور ان کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں، نیز دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو ناکارہ بنائیں۔ دونوں رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ میں بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جامع کنونشن (سی سی آئی ٹی)کو جلد منظور کیے جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کے موضوع پر مذاکرات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے آزاد، کھلے، پُرامن اور خوش حال بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے کی اہمیت اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی ضرورت کا اعادہ کیا، جس میں 1982 کا اقوامِ متحدہ کا سمندر کے قانون سے متعلق کنونشن(یو این سی ایل او ایس)بھی شامل ہے۔ انہوں نے جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ بھارت نے پولینڈ کو ہند-بحرالکاہل سمندری اقدام(آئی پی او آئی)میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
دونوں رہنماؤں نے بھارت اور وسے گراڈ گروپ (وی 4)کے وزرائے خارجہ کی پہلی میٹنگوںکا خیرمقدم کیا۔ وسے گراڈ گروپ میں پولینڈ، ہنگری، جمہوریہ چیک اور جمہوریہ سلوواکیہ شامل ہیں۔ انہوں نے وی 4 پلس بھارت فارمیٹ کے ذریعے تعاون کو مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات و ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں کی بنیاد پر مستقبل پر مرکوز شراکت داری قائم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے آب وہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تیز رفتار اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اورآب و ہوا کی تبدیلی کی روک تھا م کے لئے اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن(یو این ایف سی سی سی)کے عمل اور پیرس معاہدے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے شدید موسمیاتی واقعات، ماحولیاتی انحطاط اور حیاتیاتی تنوع میں کمی سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کو تسلیم کیا اور ماحولیات کےلئے سازگار توانائی، پائیدار ٹیکنالوجیز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے توانائی کی یقینی فراہمی کو مضبوط بنانے، ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے اور صنعتی مسابقت بہتر بنانے کے لیے قومی توانائی کے مجموعی نظام میں مقامی طور پر پیدا ہونے والی ماحولیات کےلئے سازگار توانائی کا حصہ بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ بھارت نے قدرتی آفات سےمزاحم بنیادی ڈھانچے کے اتحاد(سی ڈی آر آئی)میں شامل ہونے کے پولینڈ کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔ بھارت نے پولینڈ کو بین الاقوامی شمسی اتحاد اور عالمی بایو ایندھن اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی۔
وزیرِاعظم ٹسک نے وزیرِاعظم مودی کا ان کی اور ان کے وفدکی پرتپاک مہمان نوازی کے لئے شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-پولینڈ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور متنوع بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ سطح پر باقاعدہ روابط اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنا کر ایکشن پلان (2024-2028) پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
وزیرِاعظم ٹسک نے وزیرِاعظم مودی کو پولینڈ کا دورہ کرنے کے لئے بھی مدعو کیا۔
*****
) ش ح – م ع – ف ر )
U.No. 6479