پی ایم انڈیا

وزیر اعظم کا خطاب
نئی دہلی۔16 دسمبر
دوستو ،
چِبئی ویک اُلے
اِن دم ایم
وزیر اعظم کی حیثیت سے، مجھے پہلی مرتبہ میزورم کا دورہ کرنے کا موقع ملا ہے ۔ شمال مشرقی ریاست ، جسے ہم آٹھ بہنیں کہتے ہیں، ان ریاستوں میں سے یہی ایک ریاست تھی ، جہاں میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ابھی تک نہیں آ پایا ۔ لہذا میں آپ کی معافی چاہتا ہوں ۔ تاہم، میں وزیراعظم بننے سے پہلے میزورم میں آ تا رہا ہوں ۔ میں یہاں کے پُر امن اور خوبصورت ماحول سے پوری طرح واقف ہوں ۔ یہاں کے ملن سار لوگوں کے بیچ میں نے بہت وقت گزارا ہے ۔ ابھی جب آپ کے درمیان آیا ہوں ، وہ پرانی یادیں پھر سے تازہ ہونا فطری بات ہے ۔
اس خوبصورت ریاست میں دورہ کرنے سے یہاں کے لوگوں کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی یادیں تازہ ہو گئی ہیں ۔ میں آپ سبھی کو میزورم کے عوام کو کرسمس اور نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
یہ نیا سال آپ کے لئے خوشیاں اور خوشحالی لائے ، اس کے لئے میں دعا گو ہوں ۔
کچھ دیر پہلے جیسے ہی میں ایزوال پہنچا ، یہاں کی خوبصورتی کو دیکھ کر مسحور ہو گیا ۔
شمال مشرقی ریاستوں میں ترقی کے سلسلے میں اٹل جی کی مدت کار میں بہت سنجیدہ کوشش ہوئی تھی ۔ اٹل جی کہتے تھے ، معاشی ترقی کا بڑا مقصد علاقائی بھید بھاؤ کو پوری طرح ختم کرنا ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی اقدامات بھی کئے ۔
2014 ء میں ہماری سرکار قائم ہوئی تو ایک بار پھر اِس علاقے کو ، ہم سرکار کی پالیسیوں اور فیصلوں میں ترجیح دیتے ہوئے آگے لائے ہیں ۔ میں نے تو ایک ضابطہ بنا دیا تھا کہ ہر 15 دن میں کوئی نہ کوئی وزیر شمال مشرقی ریاستوں کا دورہ ضرور کرے گا ۔ یہ بھی نہیں ہو گا کہ صبح آئے ، دن میں کسی تقریب میں حصہ لیا اور شام کو واپس چلے گئے ۔ میں چاہتا تھا کہ کابینہ کے میرے رفقائے کار یہاں رک کر آپ کے درمیان رہ کر آپ کی ضروریات کو سمجھیں ، اُن کے مطابق اپنی وزارتوں میں پالیسیاں بنائیں ۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ تین برسوں میں میرے ساتھی وزراء کے 150 سے زیادہ شمال مشرقی ریاستوں کے دورے ہو چکے ہیں ۔ ہم اس ویژن کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ اپنی پریشانیاں ، اپنی ضروریات بتانے کے لئے آپ کو دلّی تک پیغام نہ بھجوانا پڑے ، بلکہ دلّی خود آپ کے درمیان چل کر آئے ۔
مذکورہ پالیسی کو ہم نے شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت آپ کے دروازے پر نام دیا ہے ۔ وزراء سے الگ شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت کے سکریٹری بھی اپنے افسروں کے ساتھ ہر مہینے شمال مشرق کی کسی نہ کسی ریاست میں کیمپ کرتے ہیں ۔ سرکار کی ان کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ شمال مشرق کے منصوبوں میں تیزی آئی ہے ، جو پروجیکٹ برسوں سے زیر التوا تھے ، وہ آج تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
مرکزی حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں شمال مشرقی علاقوں کے فائدے سے متعلق اسکیموں کو تیزی حاصل ہوئی ہے ۔ برسوں سے زیر التوا پروجیکٹوں میں تیزی آئی ہے ۔ شمال مشرق کی تمام 8 ریاستوں کی مصنوعات پر مشتمل سیلف ہیلپ گروپ کی طرف سے لگائی گئی نمائش پر میری سرسری نظر پڑی ہے ۔ میں سیلف ہیلپ گروپ کے ممبران کو اُن کی صلاحیت کے لئے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ یہ ایسی صلاحیت ہے ، جس کو فروغ اور بروئے کار لانے کے لئےمرکزی حکومت عہد بستہ ہے ۔ یہ دین دیال انتودیہ یوجنا کے مقاصد کا اہم حصہ ہے ۔
شمال مشرقی ترقیات سے متعلق فائنانس کارپوریشن کے ذریعے فراہم کئے جانے والے کریڈٹ لنکیج سے سیلف ہیلپ گروپ کو بہت فائدہ حاصل ہو رہا ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے انہیں سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے ۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ شمال مشرقی ریاست کی ترقی کی وزارت شمال مشرقی دست کاری اور ہینڈ لوم کی ترقی کے کارپوریشن اور شمال مشرقی علاقے کی زرعی مارکیٹنگ کارپوریشن کی سرگرمیوں میں مدد پہنچا رہی ہے ۔
سی ایس آئی آر ، آئی سی اےآر اور آئی آئی ٹیز جیسے اداروں کے ذریعے تیار کی گئی ٹیکنا لوجی اور مصنوعات کا مطالعہ کیا جانا چاہیئے تاکہ شمال مشرق میں اسے اپنایا جا سکے اور مقامی مصنوعات کی قدر میں اضافہ ہو سکے ۔
دوستو ، آج ہم میزورم کی تاریخ میں اہم سنگ میل کا جشن منانے کے لئے اکٹھا ہوئے ہیں :
60 میگا واٹ توئیریال ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تکمیل اور اسے ملک کو وقف کرنا ۔ یہ کام شمال مشرقی علاقے – کوپیلی مرحلہ – II میں سینٹرل سیکٹر ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے 13 سالوں کے بعد عمل میں آیا ہے ۔
توئیریال ہائیڈرو پروجیکٹ پہلا بڑا سینٹرل سیکٹر پروجیکٹ ہے ، جسے میزورم میں شروع کیا گیا ہے ۔ یہ پہلا بڑا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہے ، جو ریاست میں شروع کیا گیا ہے ۔ اس سے 251 ملین یونٹ توانائی ہر سال پیدا ہو گی اور اس سے ریاست کی سماجی اور معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا ۔
مذکورہ پروجیکٹ کےشروع ہونے سے سکم اور تری پورہ کے بعد شمال مشرق میں میزورم اضافی بجلی رکھنے والی ریاست بن جائے گی ۔
اس پروجیکٹ کو سب سے پہلے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جی کی حکومت نے 1998 ء میں منظوری دی تھی لیکن اس میں تاخیر ہو گئی۔
اس پروجیکٹ کی تکمیل ہماری اُس عہد بستگی کا ترجمان ہے ، جو شمال مشرقی علاقے کی ترقی کو نئے دور میں داخل کرنے سے متعلق حکومت نے اعادہ کیا ہے ۔
بجلی پیدا کرنے کے علاوہ ، جہاز رانی کے نئے امکانات کے راستے بھی کھلیں گے ۔ اس سے دور دراز کے گاؤں کو منسلک کرنے کا راستہ ہموار ہو گا ۔ بڑے آبی ذخائر 45 اسکوائر کلو میٹر علاقے میں پھیلا ہوا ہے اور اسے ماہی پروری کی ترقی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
اس پروجیکٹ سے معاشی سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا اور پینے کے پانی کی سپلائی یقینی ہو گی ۔ مجھے مطلع کیا گیا ہےکہ ریاست میں 2100 میگا واٹ صلاحیت کا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہے ، جس کا ایک چھوٹا حصہ ہی بروئے کار لایا گیا ہے ۔
میری حکومت شمال مشرقی ریاستوں میں بجلی کی منتقلی کے نظام میں جامع بہتری کے لئے 10000 کرو ڑ روپئے کا سرمایہ لگانے جا رہی ہے ۔
دوستو ، 70 سال کی آزادی کے بعد بھی، ہمارے ملک میں 40 ملین گھر موجود ہیں جہاں ابھی تک بجلی کنکشن نہیں ہے ۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ وہ 18 ویں صدی کی زندگی کو کیسے گزار نے پر مجبور ہیں ۔ میزورم میں ہزاروں گھر موجود ہیں جو اب بھی اندھیرے میں رہ رہے ہیں ۔ اس طرح کے گھروں کو بجلی فراہم کرنے کے لئے، حکومت نے حال ہی میں ‘وزیر اعظم سہج بجلی – ہر گھر’ کی منصوبہ بندی میں ‘سو بھاگیہ ‘ کا آغاز کیا ہے ۔ ہمارا مقصد ملک کے ہر گھر کو بجلی کے کنکشن جتنی جلدی ممکن ہو اس سے جوڑا جائے ۔
اس سکیم پر تقریبا 16 ہزار کروڑ خرچ کیے جائیں گے۔ حکومت اس اسکیم کے تحت غریبوں کو ، جو کنکشن دے گی ، اس کے لئے کوئی رقم نہیں لی جائے گی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ غریبوں کو زندگی میں اجالا آئے ۔ ان کی زندگی روشن ہو ۔
دوستو ، اگر ملک کے بقیہ حصوں کا موازنہ شمال مشرق سے کیا جائے تو یہاں نئے کاروباری اداروں کی تعداد میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس کے لئے اہم وجوہات میں سے ایک یہ تھی کہ نوجوانوں کو ان کے کاروبار کرنے کے لئے کافی رقم نہیں مل سکی ۔ نوجوانوں کی اس ضرورت کو سمجھتے ہوئے حکومت نے پردھان منتری مدرا یوجنا ، اسٹارٹ اپ یوجنا ، اسٹینڈ اپ انڈیا یوجنا جیسے منصوبوں کی ابتدا کی ۔ شمالی مشرق کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ڈونر کی وزارت نے 100 کروڑ روپئے کا ایک وینچر کیپٹل فنڈ بھی تخلیق کیا ہے ۔ میں میزورم کے نوجوانوں کو مرکزی حکومت کے ان منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی درخواست کرتا ہوں ۔ یہاں کے نوجوانوں میں اسٹارٹ اَپ کی دنیا میں چھا جانے کی حوصلہ ہے اور صلاحیت ہے ۔ حکومت ہند ایسے نوجوانوں کی ہینڈ ہولڈنگ کے لئے پر عزم ہے ۔
ہمیں ہندوستان کے نوجوانوں کے ہنر اور صلاحیت پر بھروسہ ہے۔ ہمیں انٹرپرائز کے ذریعے بااختیار بنانے پر یقین ہے جو خوشحالی کے مقصد سے اختراع اور انٹرپرائز کے لیے ایکو سسٹم تیار کر رہا ہے۔
2022 میں ہندوستان اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر لے گا اور آئندہ کے پانچ سال ہمیں تمام شعبوں میں ترقی کے لیے اپنی حصولیابیوں پر منصوبہ تیار کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ سال 2022 تک نئے ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہمیں اقتصادی ترقی اور ترقی کے ثمرات کو تمام افراد تک فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ذات ، صنف ، مذہب اور طبقہ کی تفریق کے بغیر سب کا ساتھ سب کی ترقی کے جذبے کے ساتھ سبھی کو یکساں مواقعے فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی خوشحالی میں وہ حصہ لے سکیں۔
میری حکومت مسابقت اور تعاون والے وفاق میں یقین رکھتی ہے جہاں ریاستوں کے درمیان صحت مند مقابلہ ہے۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ ریاستیں تبدیلی کے اہم اعلیٰ کار ہیں۔
ہم نے ریاستوں کے درمیان صحتمند مسابقت کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ کی کمیٹی نے مرکز کے تعاون سے چلنے والی اسکیموں کو قابل اعتبار بنانے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔ ہم نے ان تجویز کو قبول کیا ہے۔
معاشی رکاوٹیوں کے باوجود ہم نے شمال مشرق کے لیے مرکز کے تعاون سے چلنے والی اسکیموں میں مرکز اور ریاست کے مابین شرکت کا تناسب 90:10 کو جاری رکھا ہے۔ دوسری اسکیموں کے لیے یہ تناسب 80:20 ہے۔
دوستوں نئے ہندوستان کا ویژن اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوگا جب ترقی کے ثمرات سبھی افراد تک پہنچے۔
مرکزی حکومت 115 پسماندہ اضلاع پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اس سے میزورم سمیت شمال مشرق کے پسماندہ اضلاع کو فائدہ ہوگا۔
ایک شعبہ پانی کی سپلائی، بجلی، کنیکٹیویٹی اور خصوصی طور پر سیاحت کو فروغ دینے والا شعبہ ہے۔
دوسرے تعلیم اور صحت سے متعلق سماجی سیکٹر کے پروجیکٹس ہیں۔ نئی اسکیم ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔ تاہم اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے، این ایل سی پی آر کے تحت جاری پروجیکٹوں کو 2022 تک ان کی تکمیل کے لیے فنڈ فراہم کیے جاتے رہیں گے۔
مرکزی حکومت اگلے تین سالوں میں اس اسکیم کے تحت 5300 کروڑ روپے فراہم کرے گی۔ شمال مشرقی علاقوں کی ترقی میں کنیکٹیویٹی کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ہمارا مقصد ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ لگاکر ٹرانسپورٹیشن کے ذریعے تبدیلی لانی ہے۔
مرکزی حکومت نے گذشتہ تین سالوں کے دوران 32000 روپے کی سرمایہ کاری سے 3800 کلومیٹر قومی شاہراہ کو منظوری دی ہے جس میں سے 1200 کلومیٹر سڑکیں تعمیر ہو چکی ہے۔
مرکزی حکومت شمال مشرقی علاقے میں سڑکوں کی ترقی کے خصوصی پروگرام کے تحت 60000 کروڑ کی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور بھارت مالا کے تحت 30000 کروڑ کا سرمایہ لگانے جا رہی ہے۔ ہم شمال مشرق کی سبھی ریاستوں کی راجدھانی کو ریل میپ پر لانے کے لیے عہدبستہ ہیں۔
مرکزی حکومت 47000 کروڑ سے زیادہ سرمایہ سے 1385 کلومیٹر کے 15 نئے ریل پروجیکٹوں کو مکمل کر رہی ہے۔
میزورم میں بھیروی اور اسم میں سلچر ریل لائن کے افتتاح سے ریلوے پچھلے سال میزورم پہنچی۔
میں نے 2014 میں آئیزال کو ریل سے جوڑنے کے لیے نئی ریل لائن کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ریاستی حکومت کے تعاون سے ہم آئیزال کو براڈ گیز ریل لائن سے جور سکتے ہیں۔ مرکزی حکومت ایکٹ اسٹ پالیسی سرگرمی کے ساتھ اپنا رہی ہے ۔ شمال مشرقی ایشیا کے گیٹوے کی حیثیت سے میزورم کو بہت فائدہ حاصل ہوگا یہ بنگلہ دیش اور میانمار کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اہم ٹرانجٹ پوائنٹ کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔
بہت سے منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان میں کچھ کلادن ملٹی – موڈل ٹرانجٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ، ریح تیڈم روڈ پروجیکٹ اور بارڈر ہاٹس۔
ان سے معاشی رابطے میں اضافہ ہوگا اور شمال مشرقی علاقے کی ہمہ جہت ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔
دوستوں، اونچی شرح تعلیم، خوبصورت مناظر اور بڑی تعداد میں انگلش بولنے والوں کی تعداد میزورم سیاحت کا بہت بڑا مرکز بن سکتا ہے۔
یہ ریاست مہم جو سیاحت، ثقافتی سیاحت، ماحولیاتی سیاحت ، وائلڈ لائف سیاحت اند کمیونٹی پر مبنی شہری سیاحت کےمواقع فراہم کرتا ہے ۔ اگر اسے مناسب طریقے سے ترقی دی جائے تو سیاحت ریاست میں روزگار فراہم کرنے والا سسب سے بڑے شعبہ کے طور پر ابھرے گا۔ مرکزی حکومت نے ماحولیاتی سیاحت اور مہم جو سیاحت کو فروغ دینے کے لیے گذشتہ دو سالوں میں میزورم کے لیے 194 کروڑ روپے کی لاگت کے سیاحت سے متعلق دو منصوبوں کو منظوری دی ہے ۔ مرکزی حکومت نے ان دونوں منصوبوں پر عملدر آمد کے لیے 115 کروڑ روپے جاری کر چکی ہے ۔
حکومت نے سیاحوں کو راغب کرنے کے مقصد سے میزورم میں مختلف وائلڈ لائف پناہ گاہوں اور قومی پارکوں کی دیکھ ریکھ کے لیے امداد فراہم کرنے کے تئیں عہد بستہ ہے ۔ آئیے ، ہم سب مل کر ہندوستان میں میزورم کو سیاحت کا ایک اہم مرکز بنائیں ۔
دوستوں، ہمارے ملک کا یہ حصہ، آسانی سے خود کو کاربن سے آزاد ہونے اعلان کر سکتا ہے۔ ہمارے ساتھی بھوٹان نے ایسا کرکے دکھایا ہے۔ اگر ریاستی حکومتوں کی کوششوں میں اضافہ ہوا تو شمال مشرق کے آٹھوں ریاستیں کاربن سے آزاد ہو سکتی ہیں ۔ کاربن سے آزاد ریاستوں کی شناخت ملک کے اس حصے کو پوری دنیا کے نقشے پر ایک برانڈ کے طور پر ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح جیسے سکم نے خود کو سو فیصد نامیاتی ریاست ہونے کا اعلان کیا ہے ، اسی طرح شمال مشرق کی دیگر ریاستیں بھی اس سمت میں اپنی کوششیں تیز کر سکتے ہیں ۔
نامیاتی زراعت کو فروغ دینے کے لئے، مرکزی حکومت نے روایتی زراعت کی ترقی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔
اس کے تحت، حکومت ملک میں 10 ہزار سے زائد آرگینک کلسٹر تیار کر رہی ہے۔ شمال مشرق میں بھی 100 کسانوں کی پیداواری تنظیمیں قائم کی گئی ہیں۔ ان میں 50 ہزار سے زائد کسانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہاں کسان دہلی میں نامیاتی پیداوار فروخت کرسکیں، اس کے انتظام بھی کئے گئے ہیں۔
دوستوں، 2022 میں ہمارا ملک اپنی آزادی کے 75 کا جشن منائے گا. میزورم یہ عہد کر سکتا ہے کہ 2022 تک، وہ اپنے آپ کو 100 فیصد نامیاتی اور کاربن سے آزاد ریاست کے طور پر تیار کرے گا۔ میں میزورم کے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مرکزی حکومت اس عہد کے حصول میں ہر طرح سے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم آپ کی چھوٹی چھوٹی دقتوں کو سمجھ کر انہیں حل کر رہے ہیں۔ جیسے میں آپ کو بانس کی ایک مثال دینا چاہتا ہوں۔
بانس، جو کہ شمال مشرق کے لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے ، محدود ریگولیٹری نظام کے تحت ہے ۔ آپ کے کھیتوں میں پیدا ہونے والے بانس کو بغیر اجازت نہ تو فروخت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے منتقل کر سکتے ہیں۔ اس درد کو کم کرنے کے لیے ہماری حکومت نے ریگولیٹری نظام میں تبدیلی لائی ہے ۔ اب ان بانسوں کی خرید و فروخت اور نقل و حمل کے لیے کسی پرمٹ یا اجازت نامہ کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ اس قدم سےلاکھوں کسان مستفید ہوں گے اور 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوگا ۔
میں میزورم آیا ہوں اور فٹ بال کے بارے میں بات نہ کروں ، ایسا ہو نہیں سکتا۔ یہاں کے مشہور کھلاڑی جے جے للپیکھ لوئے نے پورے ملک کی توجہ مبذول کرائی ہے ۔ اور میزورم میں فٹ بال تو جیسے گھر گھر کا حصہ ہے ۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ فیفا کا پائلٹ پروجیکٹ آئزول فٹ بال کلب مقامی صلاحیت کو مزید مستحکم کر رہے ہیں ۔
جب میزورم نے 2014 میں پہلی بار سنتوش ٹرافی جیتا تھا تو پورے ملک کے فٹ بال کے پرستاروں نے میزورم کے لئے تالیاں بجائی تھیں۔ میں میزورم کے لوگوں کو کھیل کی دنیا میں ان کی کامیابیوں کے لئے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ فٹ بال ایسا سوفٹ پاور ہے جس کے دم پر میزورم پوری دنیا میں اپنی پہچان بنا سکتا ہے ۔
فٹ بال ایک ایسا سوفٹ پاور ہے جس سے میزورم اپنی عالمی شناخت بنا سکتا ہے ۔ میزورم اور بھی کئی ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے ملک اور ریاست کو وقار بخشا ہے ۔ ان میں اولمپک تیز انداز سی لال ریم سانگا، باکسر مس جینی لال ریم لیانی، ویٹ لفٹر مس لال چھاہیمی اور ہاکی کھلاڑی مس لال روات فیلی شامل ہیں ۔
مجھے یقین ہے کہ میزورم ایسے کھلاڑی فراہم کرتا رہے گا جو عالم منظر نامے پر امتیازی حیثیت حاصل کریں گے ۔
دوستوں، دنیا میں کئی ملکوں کی معیشت صرف اور صرف اسپورٹس کے بھروسے چل رہی ہے ۔ الگ الگ طرح کے کھیلوں کے لیے مطلوبہ ماحول تیار کر کے ایسے ملک دنیا بھر کے لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں ۔ شمال مشرق میں اسپورٹس کی وافر صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ہی مرکزی حکومت اس شعبہ میں امپھال میں اسپورٹس یونیورسٹی کا بھی قیام عمل میں لا رہی ہے ۔
اسپورٹس یونیورسٹی بننے کے بعد، یہاں کے نوجوانوں کو کھیلوں اوران سے جڑی ہر قسم کی ٹریننگ لینے میں مزید آسانی ہو جائے گی۔ ہماری تو تیاری یہ بھی ہے کہ یونیورسٹی بننے کے بعد، اس کے کیمپس ہندوستان ہی نہیں دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی کھولے جائیں تاکہ یہاں کا کھلاڑی دوسرے ملکوں میں بھی جاکر کھیلوں سے متعلق تربیت حاصل کرسکے ۔
میں آئزول و مختلف رنگوں میں جشن سے معمور اور کرسمس کا تہوار منانے کے لیے پوری طرح تیار دیکھ رہا ہوں ۔ میں ایک بار پھر آپ سبھی کو اور میزورم کے لوگوں کو کرسمس کی مبارکباد دیتا ہوں ۔
U-6320
I am delighted to be in Mizoram. This is my first visit here as PM but I have visited this state before that. I admire the beauty of Mizoram and friendly nature of the people of this state: PM @narendramodi in Aizawl https://t.co/vbG9VFN31Q pic.twitter.com/BPXLSzVScq
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
During the tenure of Shri Atal Bihari Vajpayee significant work was done for the development of the Northeast. We have taken forward this vision and are devoting resources for the progress of the Northeast. My ministerial colleagues are frequently visiting the Northeast: PM
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
There have been over 150 Ministerial visits. Our initiative- the Ministry of DoNER at your doorstep has added impetus to the development of the Northeast. It has enabled us to understand the aspirations of the Northeast even better: PM @narendramodi in Mizoram
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
Today we gather here to celebrate a significant mile-stone in the history of Mizoram: the completion and dedication of the 60 Mega-Watt Tuirial Hydropower Project: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
It is the first large hydropower project in Mizoram. It will boost the socio-economic development of the State: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
The project was first cleared by the Union Government of PM Vajpayee ji, way back in 1998 but got delayed. The completion of this project is a reflection of our commitment to complete ongoing projects and usher in a new era of development in the North Eastern region: PM
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
Besides electricity the reservoir water will also open new avenues for navigation. This will provide connectivity to remote villages. The huge reservoir, spread over an area of 45 square kilometres can also be used for development of fisheries: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
This project will boost eco-tourism and provide a source of assured drinking water supply: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
उत्तर-पूर्व को विशेष ध्यान में रखते हुए DONER मंत्रालय ने 100 करोड़ रुपए की राशि से एक वेंचर कैपिटल फंड भी बनाया है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
मेरा मिजोरम के नौजवानों से आग्रह है कि वो केंद्र सरकार की इन योजनाओं का ज्यादा से ज्यादा फायदा उठाएं। यहां के नौजवान Start up की दुनिया में छा जाने का हौसला रखते हैं, क्षमता रखते हैं। भारत सरकार ऐसे नौजवानों की हैंड होल्डिंग के लिए प्रतिबद्ध है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
We are betting on the skills and strengths of India's youth. We believe in 'empower through enterprise' - which is creating the right ecosystem for innovation and enterprise to flourish so that our land is home to the next big ideas that can transform humanity: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
Building a New India by 2022 requires us to work towards the twin goals of increasing economic growth as well as ensuring that the fruits of growth are shared by all: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
In the spirit of 'सबका साथ, सबका विकास' every Indian, irrespective of caste, gender, religion, class must have equal opportunities to partake in the new prosperity: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
Vision of New India can be realized only if fruits of development reach all. Government plans to focus on around 115 districts which are relatively backward when evaluated on various indicators. This will benefit backward districts of North Eastern States including Mizoram: PM
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
It is said that the lack of connectivity is one of the biggest hurdles in the path of development of the North Eastern Region. My Government wants to do 'Transformation by Transportation' through investment in infrastructure to change the face of the North Eastern Region: PM
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
We are committed to bring all the State Capitals of North East Region on the Rail map. The Government of India is executing 15 New Rail Line projects of 1385 kilometers length, at a cost of over Rs.47,000 crore: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
The Union Government has been proactively following the ‘Act East Policy’. As a gate-way to South East Asia, Mizoram stands to gain immensely from this. It can emerge as a key transit point for trade with Myanmar and Bangladesh: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
The high literacy rate, scenic beauty and availability of large English speaking population in Mizoram make for a perfect blend to develop the State as a model tourist destination: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
The Bamboo which is the livelihood for lakhs of people of North East, has been under a very restrictive regulatory regime. Because of this, you cannot transport or sell the Bamboo produced in your own field without the permit: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
Our Government with an aim to reduce this pain, has changed the regulatory regime and now there will be no requirement of any permit or permission for producing, transporting and selling Bamboo and its products produced by farmers in their own fields: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017
This will benefit lakhs of farmers and will add to the efforts to double the farmers income by 2022: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 16, 2017