Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

توانائی، سماجی اور اقتصادی ترقی کیلئے کلیدی محرک ہے: وزیراعظم

توانائی، سماجی اور اقتصادی ترقی کیلئے کلیدی محرک ہے: وزیراعظم

توانائی، سماجی اور اقتصادی ترقی کیلئے کلیدی محرک ہے: وزیراعظم

توانائی، سماجی اور اقتصادی ترقی کیلئے کلیدی محرک ہے: وزیراعظم


پیٹرو ٹیک-2019میں وزیراعظم کی تقریر کا متن

 

نئی دہلی،11؍ فروری؍وزیراعظم جناب نریندر مودی نے نوئیڈا میں منعقدہ پٹرو ٹیک 2019میں درج ذیل افتتاحی خطبہ دیا۔  ان کے خطاب کامتن حسب ذیل ہے:

نمستے،

سب سے پہلے میں آپ سبھی سے  لاجسٹیکل وجوہات کے سبب تاخیر سے یہاں پہنچنے کے لئے معافی مانگتا ہوں۔

ہندوستان کے فلیگ شپ ہائیڈرو کاربن کانفرنس کے 13ویں ایڈیشن  پیٹرو ٹیک-2019 میں آپ سبھی کا خیر مقدم  کرکے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔

توانائی کے سیکٹر میں ان کے تعاون اور مستقبل کے ان کے  وژن کے لئے میں عالیجناب ڈاکٹر سلطان   الجابر کو مبارکباد دینا چاہوں گا۔

گزشتہ ربع  صدی  کے دورا ن پیٹرو ٹیک  کانفرنس نے توانائی کے سیکٹر میں درپیش مسائل اور چیلنجوں کو حل کرنے سے متعلق   تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کی حیثیت سے  اپنی خدمت انجام دی ہے۔

اپنے اپنے متعلقہ ملکوں میں ہم اپنے شہریوں کے لئے سستی، کفایتی، آلودگی سے پاک اور توانائی کی سپلائی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
60 سے زائد ملکوں اور 7ہزار مندوبین کی یہاں تشریف آوری ہماری مشترکہ  جستجو کو منعکس کرتی ہے۔

کئی دہائیوں پر مشتمل عوامی خدمت کی میری زندگی نے مجھے قائل کر دیا ہے کہ توانائی، سماجی اور اقتصادی ترقی کے لئے کلیدی محرک ہے۔ مناسب قیمت میں مستحکم اور پائیدار توانائی کی سپلائی  کسی بھی معیشت کی تیزی سے ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اس سے معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کو اقتصادی فوائد سے فیضیاب ہونے میں بھی مدد فراہم ہوتی ہے۔

کلی سطح پر توانائی کا شعبہ اقتصادی ترقی کا محور اور کلید ہے۔

دوستو!

چونکہ ہم عالمی توانائی کے حال اور مستقبل کے بارے میں تبادلۂ خیال کرنے کے لئے یہاں اکٹھا ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔

توانائی کی سپلائی، توانائی کے وسائل اور توانائی صرفہ کے طریقۂ کار میں تبدیلی آ رہی ہے۔ شاید یہ تبدیلی تاریخی  ثابت ہو۔

مغرب سے لے کر مشرق تک توانائی صرفے میں کافی تبدیلی ہوئی ہے۔

شیل توانائی انقلاب کے بعد امریکہ دنیا میں تیل اور گیس  کی  پیداوار کرنے والاسب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

شمسی توانائی اور قابل تجدید توانائی کے دیگر ذرائع زیادہ مسابقتی ہو گئے ہیں۔توانائی کے یہ ذرائع روایتی توانائی کی جگہ پر پائیدار متبادل کے طور پر ابھر کرآ رہے ہیں۔

عالمی توانائی کے شعبے میں قدرتی گیس  تیزی کے ساتھ سب سے بڑی ایندھنوں میں سے ایک بنتی جا رہی ہے۔

سستی قابل تجدید توانائی ، ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل ایپلی کیشنزکے  درمیان  تال میل کے واضح اشارے   موجود ہیں۔ممکن ہے کہ اس کے ذریعے متعدد پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں تیزی آئے۔

آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے دنیا کے سبھی ممالک  ایک ساتھ آ رہے ہیں۔ اسے عالمی شراکت داری مثلاً ہندوستان اور فرانس کے ذریعے فروغ دی جا رہی  بین الاقوامی شمسی اتحا د کے ذریعے  بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

ہم توانائی کی  دستیابی کے وسیع  عہد میں داخل ہو رہے ہیں۔

تاہم  دنیا بھر میں ایک بلین سے زائد ایسے افراد ہیں، جن کی رسائی بجلی تک نہیں ہے۔ اسی طرح سے بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں، جن کی رسائی آلودگی سے پاک، صاف ستھری، توانائی رسوئی گیس  تک نہیں ہے۔

ہندوستان نے توانائی کی رسائی سے متعلق مذکورہ مسائل  کو حل کرنے میں قائدانہ رول ادا کیا ہے۔اپنی کامیابی کے ساتھ  ہم امید کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں  بھی توانائی کی دستیابی کے مسائل  کو    اچھی طرح حل کیا جا سکتا ہے۔

لوگوں کو  صاف ستھری، سستی، پائیدار اور منصفانہ توانائی کی سپلائی  تک ہمہ گیر رسائی حاصل ہو۔

فی الحال  ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والی  بڑی معیشت ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک جیسی کلیدی ایجنسیوں نے آنے والے برسوں میں ہندوستان   کے لئےاسی رجحان  کے رجاری رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔

غیر یقینی عالمی اقتصادیات کے  ماحول میں ہندوستان نے  عالمی معیشت کے اینکر کی حیثیت سے زبردست کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

ہندوستان حال ہی میں دنیا  بھر میں چھٹی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔حالیہ  ایک رپورٹ  کے مطابق 2030 تک ہندوستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

ہم دنیا بھر میں  توانائی کا تیسرا سب سے بڑا صارف ملک ہیں۔ سالانہ 5 فیصد سے زیادہ توانائی کی مانگ میں یہاں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہندوستان توانائی کی کمپنیوں کے لئے بدستور سب سے زیادہ پُرکشش بازار ہے۔ 2040 تک ہندوستان میں توانائی کی مانگ  دو گنی ہو جانے کی  امید ہے۔ ہم نے توانائی کی منصوبہ بندی کے لئے ایک مربوط طریقۂ کار اپنایا ہے۔  دسمبر 2016 میں منعقدہ گزشتہ پیٹرو ٹیک کانفرنس کے دوران میں نے  ہندوستان کی توانائی مستقبل کے لئے 4 ستون کا کا ذکر کیا تھا۔  یہ 4 ستون توانائی تک رسائی، توانائی کی صلاحیت، توانائی کی پائیداری اور توانائی تحفظ ہیں۔

دوستو ! توانائی کے سلسلےمیں انصاف کرنا  میرا کلیدی مقصد ہے اور ہندوستان کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے بہت سی پالیسیاں وضع کی ہیں اور نافذ کی ہیں۔ ہماری ان  کوششوں کے نتائج اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

ہمارے تمام دیہی علاقوں میں بجلی اب پہنچ چکی ہے۔ اس سال ہم سوبھاگیہ کے نام سے ایک  ہدف پر مبنی پروگرام کے ذریعے ہندوستان کے ہر ایک گھر کی 100 فیصد بجلی کاری کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جس طرح سے ہم توانائی کی پیداوار بڑھا رہے ہیں، ویسے ہی بجلی کی تقسیم اور ٹرانسمیشن کے خسارےکو بھی کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اُدے اسکیم کے تحت اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم کام کر رہے ہیں۔ عالمی بینک کی بجلی کاری  کی آسانی کی درجہ بندی کے مقام میں ہندوستان کا درجہ کافی بہتر ہواہے۔ 2014 میں ہندوستان کا 111واں مقام تھا، جو 2018 میں بہتر ہو کر 29 واں مقام ہو گیا۔ اُجالا اسکیم کے تحت ملک بھر میں تقسیم کئے گئے ایل ای ڈی بلبوں کے سبب سالانہ 17ہزار کروڑ روپے  یا تقریباً 2.5بلین ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔ آلودگی سے پاک رسوئی  گیس تک رسائی سے ملک میں بڑے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ بالخصوص خواتین اور بچوں کو اس سے بڑا فائدہ پہنچا ہے۔ انہیں دھوئیں کی آلودگی سے نجات ملی ہے۔

اُجولا اسکیم کے تحت  3 سال سے بھی کم کے عرصے میں 64ملین یا  6.4کروڑ کنبوں سے زیادہ کو  مفت میں ایل پی جی کنکشن دیئے گئے ہیں۔  بلیو فلیم ریولوشن یعنی نیلی آنچ کا انقلاب جاری ہے۔ ایل پی جی  کوریج ملک میں 90فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے، جو کہ 5 سال پہلے صرف 55 فیصد تھی۔

آلودگی سے پاک نقل و حمل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اپریل 2020 تک ہم بی ایس فور سے  براہ راست بی ایس سِکس تک چھلانگ لگا رہے ہیں۔ یہ یوروسِکس معیارات کے مساوی ہے۔

100فیصد بجلی کاری اور ایل پی جی کوریج میں اضافہ جیسی احصولیابیاں صرف عوام کی شمولیت کے ذریعے ممکن ہو سکا ہے۔ توانائی کے سلسلے میں بھی صرف اُس وقت انصاف ہو سکتا ہے، جب لوگ اپنی اجتماعی قوت پر یقین کریں۔ حکومت صرف اس اعتقاد کو حقیقت میں بدلنے میں تعاون کر  سکتی ہے۔

گزشتہ 5 برسوں کے دوران ہندوستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں  بڑے اصلاحات ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنی اَپ اسٹریم پالیسیوں اور ضابطوں کی از سر نو خاکہ بندی کی ہے۔

ہم نے ہائیڈرو کاربن کھوج اور لائسنسنگ پالیسی کی شروعات کی ہے تاکہ تیل اور گیس کے شعبے میں شفافیت اور مسابقت آسکے۔ نیلامی کے طریقۂ کار میں بھی  تبدیلی ہوئی ہے اور اسے منافع بخش بنایا گیا ہے۔ اس سے حکومتی مداخلت میں کمی لانے میں مدد ملی ہے۔ایکڑ کے لحاظ سے ایک کھلی ہوئی لائسنسنگ پالیسی اور قومی  ڈیٹا ریپازیٹری کے سبب  ہندوستانی فیلڈ میں تیل اور گیس کی کھوج کے تئیں دلچسپی بڑھی ہے۔

گیس کی قیمتوں میں اصلاحات کو بھی متعارف کرایا گیاہے۔ اضافہ شدہ آئل ریکوری پالیسی کا مقصد اَپ اسٹریم فیلڈوں کی پیداوار بڑھانے کےلئے جدیدترین ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

ہمارا ڈاؤن اسٹریم کا سیکٹر پوری طرح سے آزاد ہو چکا ہے۔ بازار کے لحاظ سے  پٹرول اور ڈیژل کی قیمتیں بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔  ہندوستان دنیا بھر میں ریفائنری کی صلاحیت والا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہندوستان کی ریفائنری صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ 2030 تک تقریباً 200 ملین میٹرک ٹن ہو جائے گا۔

گزشتہ سال ایک قومی حیاتیاتی ایندھن پالیسی نافذ کی گئی۔ دوسرے ا ور تیسرے جنریشن کے حیاتیاتی ایندھنوں سے متعلق تحقیقات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ 11 ریاستوں میں 12دوسرے جنریشن کی حیاتیاتی ریفائنریاں قائم کی جا رہی ہیں۔ ایتھانول کی آمیزش اور بایوڈیژل کے پروگرام سے کاربن اخراج میں کمی آ رہی ہے اور کسانوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے۔ بایو ایوی ایشن ٹربائن فیول کے استعمال کی پہلی  ہی کوششیں شہری ہوا بازی کے سیکٹر میں ہو چکی ہیں۔

ہماری حکومت   نے ہندوستان کے تیل اور گیس کے  مکمل ویلیو چین میں نجی شراکت داری کو فروغ دیا ہے۔ ہندوستان براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)  کےلئے سب سے پسندیدہ  مقام بنتا جا رہا ہے۔ سعودی آرامکو ، اے ڈی این او سی،  ٹوٹل، ایکسن موبل، بی پی اورشیل جیسی کمپنیاں ہندوستان میں تیل اور گیس کے ویلیو چین میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانا چاہ رہی ہیں۔

ہندوستان گیس پر مبنی معیشت کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 16ہزار کلو میٹر سے زائد گیس پائپ لائن کی تعمیر ہو چکی ہے اور مزید 11 ہزار کلو میٹر پائپ لائن کی تعمیر کاکام جاری ہے۔

مشرقی ہندوستان میں 3 ہزار  200 کلو میٹر گیس پائپ لائن کا کام شروع ہو چکاہے۔ اس سے شمال مشرقی ہندوستان، قومی گیس گرڈ کے ساتھ جڑ جائے گا۔

سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کے لئے نیلامی کا تیسرا مرحلہ ایک مہینے کے اندر پور ہو جائے گا۔ اس  کے تحت 400 اضلاع شامل ہوں گے۔ اس سے سٹی گیس ڈسٹریبیوشن کا کوریج ملک کی آبادی کے 70 فیصد حصے تک ہو جائے گا۔

ہم انڈسٹری 4.0 کے لئے کمر کس  رہے ہیں۔ا س سے نئی ٹیکنالوجی اور نئے طریقۂ کار کے ساتھ انڈسٹری آپریشن کے طور طریقوں میں تبدیلی آئے گی۔ ہماری کمپنیاں جدید ترین ٹیکنالوجیوں کو اختیار کر رہی ہیں تاکہ   ان  کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے، ان کی  سیفٹی کوبڑھایا جا سکے اور لاگتوں میں کمی آ سکے۔ اس عمل کو ڈاؤن اسٹریم خردہ کے ساتھ اَپ اسٹریم تیل اور گیس کی پیداوار ، اثاثے کے بندوبست اور ریموٹ نگرانی  میں   کیا جا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں ہم نے متعدد اداروں مثلاً انٹرنیشنل انرجی ایجنسی اور پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک (اوپیک) کے ساتھ اپنی بین الاقوامی شراکت داری مضبوط کی ہے۔ ہم نے 2016 سے لے کر 2018 تک بین الاقوامی توانائی فورم (آئی ای اے) کی صدارت کی ہے۔ ہم نے دو طرفہ سرمایہ کاری کے ذریعے روایتی خریدار–فروخت کنندہ شراکت داری سے اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہم  نے اپنے پڑوسی ممالک نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا،بھوٹان اور میانمار کے ساتھ توانائی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لئے  ‘‘پہلے پڑوسی’’ پالیسی کو فروغ دیا ہے۔

میں  نےتیل اور گیس کے سیکٹر کے  عالمی چیف ایگزیکٹیو افسران، سی ای اوز کے ساتھ برابر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ تیل اور گیس کے ان عالمی رہنماؤں اور سی او ز کے ساتھ تبادلہ  خیال کے دوران  میں نے ہمیشہ اس بات کا ذکر کیا ہے کہ تیل اور گیس نہ صرف تجارتی شئے ہیں، بلکہ ہماری بنیادی ضرورت ہیں۔ خواہ یہ ایک عام آدمی کے لئے کچن ہو یاہوائی جہازوں کے لئے ہو، توانائی لازمی ہے۔

ایک لمبے عرصے سےدنیا خام تیل کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ دیکھتی رہی ہے۔ ہمیں خام تیل کی جوابدہ قیمت کی جانب بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ تیل کی پیداوار کرنے والے ممالک اور صارف ممالک  دونوں کے ہی مفادات میں توازن برقرار رہ سکے۔ ہمیں تیل اور گیس کے لئے شفافیت سے بھرپور اور لچک دار بازاروں کی جانب بھی بڑھنے کی ضرورت ہے۔ تبھی ہم   زیادہ سے زیادہ طریقے سے انسانیت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔

ایک دیگر اہم معاملہ ، جس کی طرف پوری دنیا کو ساتھ آنے کی ضرورت ہے، وہ آب و ہوا کی تبدیلی ہے۔ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی ہم پیرس میں طے پائے سی او پی-21  کے اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ہندوستان نے اس کو پورا کرنے کے تئیں اپنی کوششوں میں کافی پیش رفت  کی ہے۔ ہم مقررہ ہدف کو حاصل کرنے کے راستے میں ہیں۔

  توانائی کے شعبے میں   مستقبل میں عالمی سطح پر کیسی تبدیلیاں آتی ہیں، کیسی پالیسیاں وضع ہوتی ہیں اور نئی ٹیکنالوجیاں بازار کے استحکام اور مستقبل کی سرمایہ کاری پر کس طرح سے اثر انداز ہوں گی، ان تما م امور پر غوروفکر کرنے کے لئے پٹروٹیک ایک  بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

میں آپ سبھی کو  اس کانفرنس کی کامیابی اور ثمرآور ہونے کے لئے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

 

شکریہ!

 

U. No. 892