Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

تیرہ (13) فروری 2019 کو سولہویں لوک سبھا کے آخری اجلاس میں وزیر اعظم کے خطاب کا ابتدائی متن


نئی دہلی 15فروری۔ محترمہ اسپیکر ، میں ایوان کےسبھی ارکان کی طرف سے اور اپنی طرف سے اس سولہویں لوک سبھا کی پوری مدت کار کو اسپیکر کی شکل میں جس تحمل ،توازن کے  ساتھ اور ہر پل مسکراتے رہتے ہوئے آپ نے ایوان کو چلایا ،اس کے لئے آپ بہت زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

          دیوی اہلیا  جی کی زندگی  ،ان کی تعلیم ، آپ کے دماغ پر اس کا بڑا اثر ہے  اور اس سے ملی تعلیم کو ، اس سے  حاصل کئے گئے نمونوں  کو  یہاں  ثابت کرنے کے لئے آپ نے ہر پل کوشش کی ہے اور انہی نمونوں پر چلتے ہوئے کبھی دائیں طرف کے لوگوںکو تو کبھی بائیں طرف کے لوگوں کو آپ نے اس ترازوسے تو  ل کرکے کبھی کوئی مشکل فیصلے بھی کئے ہیں۔ لیکن وہ  اقدار کی بنیاد پر لئے گئے فیصلے ہیں ،  نمونوں کی ہی بنیاد پر  لئے ہوئے ہیں  اور لوک سبھا کی اعلیٰ روایت کو برقرار رکھنے کے لئے وہ ہمیشہ  مناسب رہیں  گے ، ایسا میرا پورا یقین ہے ۔

          آپ نے جس خاتون تنظیم کی شروعات کی ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ نئے ارکان کے لئے  یہ اپنے  آپ میں بہت اچھا کام ہے۔  اس میں ڈبیٹ کو  ، اس کے مشمولات کو   اور اطلاعات کو  اورزیادہ  جامع بنانے کے لئے  بہت بڑا رول ادا کیا ہے ۔

محترمہ اسپیکر !

          2014  میں ، میں  بھی ان ارکان پارلیمنٹ میں سے ایک تھا جو یہاں پر پہلی بار آئے تھے۔  نہ میں اس کا جغرافیہ جانتا تھا ، نہ کس گلی سے کہاں  جاتے ہیں  وہ بھی پتہ نہیں تھا ۔ بالکل نیا تھا اورہرچیز کو بڑے دھیان سے دیکھتا تھا ۔یہ کیا ہے ، یہاں  کیا ہے ، ایسے سب دیکھ رہا تھا۔ لیکن جب میں  یہاں بیٹھا تو ایسے ہی دیکھ رہا تھا ، یہ بٹن کس چیز کے ہیں ، کیا ہیں  ،سمجھنے کی کوشش کرتا تھا تو میں نے یہاں ایک پلیٹ دیکھی ۔ اس  پلیٹ پر کیونکہ مجھے جانکاری ہے  کہ مجھ سے پہلے  13 وزرائے اعظم نے اس جگہ پررہ کر کے اپنا فرض  نبھایا ہے ۔ لیکن میں  نے پلیٹ دیکھی  اس میں صرف تین ہی وزرائے اعظم کے نام ہیں۔ ایسا کیوںہوا ہوگا ۔ وہ آزاد خیال کے بہت بڑے دانشور لوگ  روز پیغام دیتے رہتے ہیں۔ وہ ضرور اس پر غور وفکر کریں گے اور کبھی کبھی ہماری رہنمائی کریں  گے ۔

          لیکن  یعنی ہر چیز میرے لئے ایک نئی چیز تھی اور اسی وقت سے میں دیکھ رہا  ہوں کہ کام ہمارا ، تقریباََ تقریباََ تین دہائی بعد ایک مکمل اکثریت والی حکومت  بنی ہے اور آزادی کے بعدپہلی بار کانگریس  گوتر  کی نہیں  ہے ۔ ایسی  مکمل اکثریت والی حکومت بنی ہے۔  کانگریس  گوتر نہیں تھا۔ایسی مخلوط  پہلی سرکار اٹل جی کی بنی تھی اور کانگریس   گوترنہیں  ہے ، ایسی مکمل اکثریت والی  پہلی حکومت  2014  میں بنی اور اس  16ویں  لوک سبھا میں  17 اجلاس ہوئے ۔ 8 اجلاس ایسے رہے جس میں 100فیصد سے زیادہ کام ہوا  اور اوسطاََ ہم دیکھیں تو  تقریباََ 85  فیصد نتائج کے ساتھ آج  ہم رخصت ہورہے ہیں۔

          پارلیمانی وزیر کا اپنا ایک فریضہ رہتا ہے ۔  تومر جی ابھی سنبھا  ل رہے ہیں ۔ آغازمیں وینکیا جی دیکھتے تھے ۔بڑے ہی اچھے ڈھنگ سے انہوں نے نبھایا ۔اب  نائب صدرعہدے پر اور ہمارے ایوان بالا کے  ڈپٹی چیئر مین  کے طور پر بھی  ایک اہم رول ادا کررہے ہیں۔  اننت  کمار جی کی کمی ہمیں ضرور محسوس ہورہی ہے ۔وہ ہنستے  کھیلتے دوڑتے ہمارے ساتھی کی ، لیکن ان سب نے جو کام کیا ان کا بھی میں شکریہ ادا کرتا ہوں۔

          یہ سولہویں لوک سبھا  اس بات کے لئے  بھی ہم ہمیشہ اس  پر فخر کریں گے  ، کیونکہ ملک میں اتنے الیکشن ہوئے اس میں  پہلی بار سب سے زیادہ  خواتین ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوکر آئیں ۔ سب سے زیادہ یہ اپنے آپ میں ایک ہے ۔ اس میں  بھی  44 خواتین ارکان پارلیمنٹ  پہلی بار آئی تھیں ۔  یہ بھی اپنے آپ میں  اور پوری مدت کار میں دیکھا ہے خواتین ارکان پارلیمنٹ کی نمائندگی  ، شراکت داری اور بات چیت کی اونچائی ، ہر طرح سے ہم نے رجسٹر کرنی چاہی ۔سبھی خواتین ارکان پارلیمنٹ مبارکباد کی مستحق ہیں۔

          ملک میں  پہلی بار کابینہ میں سب سے زیادہ خاتون وزرا ہیں  اور ملک میں  پہلی بار  سکیورٹی سے متعلق کمیٹی میں دو خاتون وزرا نمائندگی کررہی ہیں،وزیر دفاع اور وزیر خارجہ  ۔  یہ بھی اپنے آپ میں   اور یہ بھی خوشی کی بات ہے  کہ پہلی بار اسپیکر ایک خاتون ہے ۔ ساتھ ساتھ  ہمارے رجسٹرار جنرل بھی  ، ہاں  ،  سکریٹری جنرل بھی ۔ وہ بھی ہمارے یہاں خواتین کی شکل میں براجمان ہیں ۔ اس  لئے لوک سبھا سکریٹری  جنرل اور ان کی ساری ٹیم اور یہاں کے پورے احاطے کو  سنبھالنے والے  ہر کوئی مبارکباد کا مستحق ہے ۔ میں ان کو بھی بہت  بہت مبارکباد دیتا ہوں ۔  

          ایوان میں  کوئی اس  کا مطلب یہ نہ سمجھے کہ   میں یہاں کوئی حکومت  کی حصولیابیاں  بتانے کے لئے کھڑا ہوا ہوں ۔  لیکن جو کام اس ایوان نے کئے ہیں ، اگر پانچ سال کی اس  تفصیل کو دیکھیں اور ہم سب اس کے حصے دار ہیں۔ اپوزیشن میں رہ  کر بھی  اس  کو طاقت بڑھانے میں کام کیا ہے۔  حکومت  میں رہ کر بھی    اس کی مد د کی ہے  اوراس لئے ایوان کے سبھی ساتھیوں  کا  قابل فخر تعاون رہتا ہے ۔  

          ہمارے لئے پچھلے  چار برسوںمیں   ، اس  مدت کار میں  ،  ہم سب کے لئے خوشی کی بات ہے کہ آج  ملک دنیا کی چھٹے  نمبر کی معیشت  بن گیا ہے ۔ اس مدت کار  کا بھی یہ قابل فخر کام ہے اور ہم سبھی اس کے حصے دار ہیں۔ پالیسی سازی یہیں سے ہوئی ہے اور پانچ  ٹریلین ڈالر  کی معیشت بننے کی سمت میں ہم اس دروازے پر دستک  دینے کی تیاری میں ہیں ،  اتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں  ،اس کے لئے بھی اس ایوان کی سرگرمیوں  کا بہت بڑا رول ہے ۔ آج بھارت  کی خوداعتمادی بہت بڑھی ہے اور آگے بڑھنے کی بہت بڑی طاقت ہوتی ہے ، خوداعتمادی ۔ جیتنے کی طاقت ہوتی ہے خود اعتمادی،  بحران سے نمٹنے میں  معاون ہوتی ہے خوداعتمادی  ۔ آج ملک خوداعتمادی سے لبریز ہے ۔  اس ایوان میں جس اجتماعیت کے ساتھ  ، جس  رفتار کے ساتھ  فیصلہ کن   کاموںکو آگے بڑھایا ہے ،اس اعتماد کو پیداکرنے میں  اس نے بہت  بڑا رول ادا کیا ہے ۔

          آج  دنیا کے سبھی مشہور ادارے،  عالمی شہرت یافتہ ادارے   ، بھارت کے روشن مستقبل کے سلسلے میں  بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایک آواز میں روشن مستقبل کے سلسلے میں اپنے امکانات بتاتے رہتے ہیں اور یہ ملک کے لئے خوش قسمتی کی بات ہے کہ بھارت نے آج  ڈجیٹل دنیا میں   اپنی جگہ بنالی ہے ، متعدد حصولیابیاں  ملی ہیں  ۔  

          توانائی کے شعبے میں    ،توانائی بچت کے شعبے میں   بھارت نے  ،  دنیا گلوبل وارمنگ کی چرچا کررہی ہے ، ا س گلوبل وارمنگ کے زمانے میں  یہ ملک ہے  ،جس نے انٹر نیشنل سولر الائنس  کی قیادت کی  اور جس  طرح سے آ ج دنیا میں  پٹرولیم مصنوعات والے ملکوں  کے گٹھ بندھن   کی  طاقت بنی ہے ، وہ دن دور نہیں  ہوگا جب بھارت کے اس فیصلے کا اثر آنے والی دہائیوںمیں  نظر آئے گا، اتنی ہی طاقت کے ساتھ انٹر نیشنل سولر الائنس   ایک گلوبل وارمنگ کے خلاف لڑائی  ، ماحولیات کے تحفظ کی فکر ، لیکن دنیا کو ایک متبادل زندگی دینے کا نظام ، یہ کرنے میں   ، میں  مانتا ہوں  یہ مدت کار  اپنا  ایک بہت بڑا رول ادا کررہی ہے ۔

          خلا کی دنیا میں بھارت نے  اپنا مقام بنایا ہے ۔لیکن زیادہ سے زیادہ سیٹلائٹ  لانچ کرنے کا کام  اسی مدت کار میں  دنیا کے لئے  بھارت کے ایک  ،  ہماری طاقت تو بنا ، ایک لانچنگ  پیڈ کی شکل میں  آج دنیا کے لئے بھارت ایک  مقام بنا ہے ۔ وہ  معاشی سرگرمی کا بھی ایک  مرکز بنتا چلا جارہا ہے۔ میک ان انڈیا کی سمت میں  ،  مینوفیکچرنگ کے شعبے میں  بھارت آج  خودکفیل ہونے کے ساتھ آگے بڑھنے  کی سمت میں تیزی سے قدم اٹھا رہا ہے۔  

          عالمی پس منظر  میں   آج بھارت کو سنجیدگی سے سنا جاتا ہے اور میں  ، کبھی  کبھی میں کہتا ہوں  ، لوگوں کو یہ لگتا  ہے  کہ بھائی  مودی ہیں یا سشما جی ہیں ۔ان کی مدت کار  میں دنیا میں  ہماری عزت بہت بڑھ گئی ہی ۔ دنیا میں واہ واہ  ہورہی ہے۔   وہ کہتے ہوں گے  لوگ  ،  لیکن سچائی جو ہے وہ اور ہے ۔جس سچائی کی بنیادی وجہ ہے مکمل اکثریت والی حکومت ۔  دنیا مکمل اکثریت والی حکومت کو  تسلیم کرتی ہے ۔

          30 سال کا درمیان کا ہمارا موجودہ عہد  عالمی پس منظر میں  ،  اس کمی کی وجہ سے ملک کو بہت  نقصان ہوا ہے ۔30 سال کے بعد ،2014  میں  ،  کیونکہ جب اس ملک کا لیڈر  جس کے  پاس مکمل اکثریت ہوتی ہے ، وہ جب دنیا کے کسی بھی لیڈر سے ملتا ہے تو اس کے پاس   مینڈیٹ  ہے  اور اس کی اپنی ایک طاقت ہے ۔اس بار میں  نے  پانچ سالوں میں تجربہ کیا ہے کہ دنیا میں  ملک  نے ایک مقام حاصل کیا ہے  اور اس کا پورا پورا کریڈٹ   نہ مودی کو جاتا ہے اور نہ سشما جی کو جاتا ہے ، بلکہ سواسو کروڑ  ملکی  باشندوں کے  2014  کے اس فیصلے کو جاتا ہے۔

           اسی طرح سے  اس مدت کار میں  بیرونی ملکوںمیں  متعدد اداروں  میں بھارت کو جگہ ملی ۔ بیرونی ملکوں میں سنا گیا ۔ اب ہم دیکھیں بنگلہ دیش  – اسی ایوان میں   اتفاق رائے  سے آراضی تنازعہ  کا حل  نکالا گیا ۔ یہ بہت بڑا کام کیا ہے ۔ بھارت  کی تقسیم سے  متنازعہ بنگلہ دیش بننے کے بعد   بحران  کی شکل میں چلاآیا ۔  لیکن اس کا حل بھی اسی ایوان نے نکالا ۔  اور میں سمجھتا ہو ں کہ ہماری اپنی ایک خصوصیت رہی ہے کہ ہم نے مل جل کر اس کام کو کیا  اور دنیا کو اتفاق  رائے کا پیغام بہت  بڑی طاقت دینے والا پیغام گیا ہے  اور میں اس کے لئے ایوان کا خصوصی طور پر آج دل سے  شکریہ ادا کرناچاہتا ہوں  ،سبھی  پارٹیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ۔

          اسی  طرح سے ہماری خارجہ پالیسی  کا ایک نیا پہلو ابھر کرسامنے آیا ہے ۔  دنیا میں حقوق انسانی  ،انسانی اقدار ، جانے انجانے میں جیسے کسی دنیا کے  کسی ایک حصے کا  حق رہے ہیں   ،  باقی لوگوںکو تو اس سے کچھ  لینا دینا  ہی نہیں ہے اور ہم پر تو جیسے  حقوق انسانی مخالف  اور اسی طرح کی ہماری شبیہ بن گئی ہے ۔ جبکہ انسانیت  اور ’’وسودھیو کٹمبکم ‘‘  کی بات کرنے والے یہی ممالک    ،  لیکن نہ  جانے کیوں  ایسی شبیہ  بن گئی   ۔  لیکن  پچھلے  5  برسوں میں  ہم دیکھیں گے   -نیپال میں   زلزلہ آیا ہو ، مالدیپ میں  پانی کا بحران ہوا ہو ،  فجی میں  طوفان کی مصبیت آئی ہو ،سری لنکا میں اچانک طوفان کی مصبیت آئی ہو، بنگلہ دیش کے اندر میانما کے لوگوں کے سبب آئی ہوئی مصیبت   ،  مصیبت جھیلتے رہتے ہوں  ،  ہمارے لوگ  بیرونی ملکوں میں پھنسے تھے یمن میں ، ان کو ہزاروں  کی تعداد میں واپس لانے کا کام ہو یا نیپال میں  80  لوگوں کو  نکال کر یہاں  محفوظ  طور پر بھیجا۔

          انسانیت کے کام  میں بھارت نے بہت بڑا رول ادا  کیا ہے ۔  یوگ  پوری دنیا میں  ایک فخر کا موضوع  بن گیا ہے ۔ دنیا میں   یو این میں    اب تک جتنی قرارداد  پاس ہوئی ہیں  ،  سب سے تیز  رفتار سے سب سے زیادہ حمایت سے اگر کوئی قرارداد پاس ہوئی ہے تو  یوگ کے سلسلے میں  ۔

          یو این کے اندر با باصاحب امبیڈ کر کی سالگرہ  ،  مہاتما گاندھی کی سالگرہ منائی جارہی ہے۔  دنیا کے سبھی ملکوں میں باباصاحب  امبیڈ کر کے سواسو سال منائے گئے ۔ مہاتما گاندھی جی کی سالگرہ  منائی گئی اور گاندھی کی 150  ،  کوئی تصور نہیں  کرسکتا ہے کہ    ’’ویشنو جن  کو تینے  ر ے کہئے ‘‘   جو ہم لوگوں کی رگوںمیں ہے ، آج گاندھی جی کی  150 ویں سالگرہ   کے دنیا کے  150  ملکوں کے مشہور  گلوکاروں نے  ویشنو  جن کو  اس کی شکل میں گاکر کے مہاتما گاندھی کو بہت بڑا خراج عقیدت  پیش  کیا ہے ۔ یعنی ملک میں ایک سافٹ پاور کو کیسے لے جایا جاسکتا ہے اس کی ایک مثال کا آج ہم تجربہ کررہے ہیں۔

 26  جنوری کو   ہم نے دیکھا ہوگا  –  مہاتما گاندھی کو بیچ میں رکھتے ہوئے 26 جنوری کی جھانکیاں  سبھی ریاستوں نے  کس  طرح سے گاندھی  جی کو پیش کیا  یعنی  150  ویں سالگرہ  ۔  ہم نے اس ایوان میں، اس مدت کار میں    یوم آئین منایا ۔  ہم نے  اس  ایوان میں   ، مدت کار میں  باباصاحب کی 150 ویں سالگرہ  کی خصوصی  طور پر چرچا کی ، ہم نے ہی اس ایوان میں  ،  اس مدت کار میں   یواین کے پائیدار ترقیاتی ہدف کے لئے وقت دیا اور سب نے مل کر پائیدا ر ترقیاتی ہدف  کے سلسلے میں بحث   کی ۔  یہ نئی روایتیں  اسی مدت کار میں اسی ایوان   میں آپ کی  قیادت میں ممکن ہوئے ہیں اور اس لئے ایوان کے سبھی ارکان آپ  کاشکریہ ادا کرتے ہیں۔

تقریباََ 219  بل پیش  ہوئے  اور 203  بل منظور ہوئے  اور اس ایوان میں  جو آج  ارکان پارلیمنٹ ہیں –  سولہویں  لوک سبھا کے سلسلے میں  ،  اپنی زندگی کے  سلسلے میں   جب بھی کسی سے بتائیں گے ،  الیکشن کے میدان میں جائیں  گے تب بھی بتائیں گے اور الیکشن کے بعد جب  بھی موقع  ملے  گا   کچھ لکھنے کی عادت ہوگی سوانح حیات  لکھیں  گے تو  ضرور لکھیں کے  کہ وہ اس مدت کا ر کے رکن کے  جس مدت کار میں انہوں نے  دھن اور دولت   بدعنوانی کے خلاف    سخت قانون بنانے کا کام کیا تھا ۔ اس ملک میں ایسے قانون جو پہلے کبھی نہیں  بن پاتے تھے ۔ وہ اس ایوان نے بنائے تھے ۔ اور اس کا بہت بڑا  بیرون ملک میں جمع ہوئے کالے دھن کے خَلاف بہت بڑے  قانون بنانے کا کام  یہیں  پر ہوا ۔دیوالیہ کمپنیوںسے منسلک  آئی  بی سی کا قانون  اسی ایوان نے  بنایا ۔ بے نامی املاک کے سلسلے میں قانون  اسی ایوان نے بنایا ۔ معاشی جرائم  کا ارتکاب کرنے والے بھگوڑوں کے خلاف قانون  اسی ایوان نے بنایا ۔

میں سمجھتا ہوں  کہ ان پانچ سالوں میں   اس ایوان کی مدت کار میں   کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف لڑائی لڑنے کے لئے جو قانونی نظام چاہئے ، جو قانونی حق چاہئے  ،  بین الاقوامی  دنیا میں   ہمارے قانو ن کی ایک طاقت ہونی چاہئے ۔ اس کے لئے جو کچھ بھی کرنا چاہئے ، اس کو   اس  ایوان میں  پاس کرکے  ملک کی آنے والی شتابدی  کی خدمت کی ہے ۔یہی ایوان  جس نے جی ایس ٹی کا بل پاس کیا اور رات کو بارہ بجے مشترکہ اجلاس بلایا  اور کریڈٹ لینے کی کوشش کئے بغیر   سابق وزیر خزانہ  اور اس وقت کے صدر جمہوریہ  ،  ان کے ہاتھوںسے ہی  جی ایس ٹی  پاس کرکے  ، تاکہ سب کو اس کا حق  ملے ،   سب کا ساتھ سب کا وکاس   ،اس میں  چلے ۔ اس کی ایک نتیجہ خیزکوشش کی گئی ۔

اسی طر ح سے یہی ایوان  ہے، جس نے آدھار بل کو ایک بہت بڑی قانونی طاقت دی ۔  آدھار دنیا کے لئے عجوبہ ہے ۔ دنیا   نے یہ دیکھا   کہ اس ملک نے اتنا بڑا کا م کیا ہے ۔ دنیا اس کو جاننے کی کوشش کررہی ہے۔ اس مدت کار میں ایوان نے  اس کام کو کرکے   دنیا میں بہت بڑا کام کیا ہے۔  

ملک آزادہوا لیکن پتہ نہیں وہ کون سی ہماری ذہنیت تھی   کہ ہم  انیمی  پراپرٹی  پر فیصلہ نہیں کرپاتے تھے ۔ بہت سخت  اینمی  پراپرٹی بل پاس کرکے    بھارت کے  1947  کے  ان زخمو ں  کے خلاف جو کچھ  بھی چل رہا تھا ، اس پر کام کرنے کا کام کیا ۔ 

اس ایوان  میں  سماجی انصاف کی سمت میں  بھی  بہت  طویل عرصے تک سماج کو  متاثر کرے گا۔    اعلیٰ ذات کے غریب لوگوں  کے لئے   ریزرویشن کا انتظام   اس کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے ۔ بغیر کسی الجھن کے   ، کسی کے دماغ میں اندیشہ  نہ رہتے ہوئے سماج کے دبے کچلے ایک طبقے کو ، ان کی باتوںکو  وزن دیا گیا اور ان کو بھروسہ دلاتے ہوئے قانون پاس کیا ۔ دونوں ایوان کی سبھی  پارٹیوں   کے  تمام ارکان پارلیمنٹ اس  کے لئے    مبارکباد کے مستحق ہیں  اور اس کے لئے میں سمجھتا ہو ں کہ یہ بہت بڑا کا م یہ دس فیصد ریزرویشن کا ہوا ہے ۔

اسی طرح سے او بی سی کے لئے کمیشن کی تشکیل کا معاملہ ہو یا ایس سی ،ایس ٹی  ایکٹ     کی جو سپریم کورٹ کے بعد غلط فہمی ہوئی ،اس  کو ٹھیک کرنے کا کا م  ہو  ۔  زچگی فوائدبھی  دنیا کے  سارے ممالک بھی ا س بات کو سن کر حیران  ہوتے ہیں  کہ کیا بھارت نے  بارہ ہفتے سے لے کر میٹرنٹی لیو    26  ہفتے کردی ہے ۔ اس بات کو آج دنیا  ،  بھارت کو ایک آگے کی سوچ والے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے ، یہ کام اسی ایوان نے کیا ہے ۔

ایوان  قانون بناتا ہے ۔  لیکن اس بات کے لئے بھی  اس مدت کار کو ملک اور دنیا یاد رکھے گی کہ جو قانون بنانے والا  یہ طبقہ  ،  انہوں نے قانون ختم کرنے کا کابھی  کام کیا ہے ۔1400سے زیادہ قانون ختم  اسی ایوان   کے ارکان  نے کرکے ملک کو کافی  اس کے جنگل جیسے قوانین  بن گئے تھے ، اس میں  راستے تلاش کرنے کی سمت میں  ایک خوش آئند شروعات کی ہے ۔1400  قانون ختم  کرنے کے بعد بھی میں کہتا ہوں کہ اچھی شروعات ہوئی  ہے ، ابھی  بھی کررہا ہوں،  بہت باقی ہیں  اور اس کے لئے ملائم سنگھ  جی نے  آشیرواد دےدیا  ہے ۔ 

ایک بہت بڑا کام اور میں مانتا ہوں  کہ  ملک کو  اس کو اچھے ڈھنگ سے جیسے پہنچنا چاہئے تھا ، ہم پہنچا نہیں  پائے ہیں ۔  ہم سبھی ارکان پارلیمنٹ  پر ایک کلنک ہمیشہ  لگا رہتا  تھا  کہ ہمیں  لوگ  ہماری تنخواہیں  طے کرتے ہیں ۔   ہمیں  لوگ  جو مرضی ہو اتنی بڑھ دیتے ہیں  ، ہم ملک کی پرواہ نہیں کرتے   اور جس دن  ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں بڑھتی تھیں ۔ دنیا بھر کے تبصرے ہمارے پاس ہوتے تھے اور یہ پچھلے  50 سال سے ہورہا تھا ۔

پہلی بار سبھی ارکان پارلیمنٹ نے مل کر اس تنقید سے نجات کا راستہ تلاش کرلیا ا ور ایک ایسا آئینی نظام بنادیا کہ وہ آئینی  نظام کے تحت  دوسروں کا جو ہوگا ا ن کا بھی ہوجائے گا۔ اب اس کام کے شراکت دار ارکان پارلیمنٹ بذات خود  نہیں ہوں گے اور انہیں  بہت بڑ  ی  نجات مل گئی اس تنقید سے ۔ ہمارے جتیندر جی نے اچھا کھانا تو کھلایا لیکن باہر ہم تنقیدیں سنتے تھے کہ کنٹین کے اندر پیسہ بہت کم ہے اور باہر مہنگا ہے ۔ یہ ایم پی ایس ایسا کیوں کرتے ہیں ۔

مجھے خوشی ہے کہ جتیندر جی کی کمیٹی نے میرے احساسات کو تسلیم کیا ،  اسپیکر محترمہ نے بھی اعتراف  کیا  اورجو بہت سستے میں  یہاں دیا جاتا تھا ، آپ کو تھوڑا جیب میں نقصان ہوگیا لیکن اس میں سے  بھی نجات پانے کی سمت میں قدم آگے بڑھایا ہے اور مکمل طور پر پہنچنے میں  بھی آنے والے دنوں  میں ہمیں اچھی  طاقت آکر ہم وہ بھی کرلیں گے ۔ایسا میرا یقین ہے ۔

اسی طرح سے اس ایوان کو اور  بھی  بہت سی باتوں کا ضرور لطف آئے گا۔ ہم کبھی کبھی سنتے تھے زلزلہ آئے گا ،  لیکن پانچ سال کی مدت کار پوری ہورہی ہے ،کوئی زلزلہ نہیں آیا ہے۔ کبھی ہوائی جہاز اڑے  اور بڑے بڑے لوگو ں  نے ہوائی جہاز اڑائے  لیکن جمہوریت اور لوک سبھا    کی   روایت اتنی اونچی ہے ، زلزلے کو بھی  ہضم  کرگئی اورکوئی ہوائی جہاز اس اونچائی پر نہیں جا پایا ۔ یہ جمہوریت کی طاقت  ہے ، یہ ایوان کی طاقت  ہے ، کئی بار تیکھی نوک جھونک بھی ہوئی ہے ۔ کبھی اِدھر سے ہوئی کبھی اُدھر سے ہوئی۔  کبھی کچھ ایسے لفظوں کا بھی استعمال ہوا ہوگا جو نہیں ہونا چاہئے۔ اس ایوان میں کسی بھی  رکن کے ساتھ  ضروری نہیں اس طرف سے ،  اس  طرف کے بھی   ، یہ ایوان کے نیتا  کی شکل میں    میں  ضرور مچھامی دکھم   کہوں  گا ۔ معافی کی درخواست کے لئے جے ہند   ۔  ماحول میں  مچھامی دکھم  –  ایک بہت بڑا پیغام دینے والا لفظ ہے  ۔اس  احساس  کا میں اظہار کرتا ہوں ۔

ملکارجن سے  ہمارا بھی تھوڑا بہت رہتا تھا ۔ اچھا ہوتا آج  ان کا گلا ٹھیک  ہوتا تو آج  بھی فائدہ ملتا ۔  لیکن کبھی  کبھی میں ان کو سن  نہیں  پاتا تھا۔ تو بعد میں پوری تفصیل دیکھ  لیتا تھا اور یہ  ضروری بھی تھا۔  میں کہوں  گا جیسے کہا گیا  کہ طویل مدت تک  پورا وقت بیٹھنا ،  اسی وقت ہم دیکھتے تھے کہ اڈوانی جی ایوان میں پورا وقت بیٹھتے تھے۔ کھڑگے جی کو دیکھ لیجئے  پورا وقت  یہ ہم ارکان پارلیمنٹ کے لئے سیکھنے کا موضوع ہے  اور یہ  بھی کم بات  نہیں ہے کہ تقریباََ 50 سال ان کے  ہوئے  ہیں  ،اس  عوامی نمائندگی کے ۔ اس  کے باوجود  بھی   عوامی نمائندگی  کے ناطے  ملی ہوئی ذمہ داری کو  جس  اچھے انداز میں  آپ نے نبھایا ہے ،میں آپ کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔

میں  پہلی بار یہاں آیا تھا تو بہت سی چیزیں  نئی جاننے کو ملیں  ،جس کا کچھ مطلب ہی زندگی  میں معلوم نہیں تھا ۔ پہلی بار مجھے  پتہ چلا کہ   گلے ملنا اور گلے پڑنا میں  کیا فرق ہوتا ہے ۔  یہ پہلی بار پتہ چلا، مجھے  پہلی بار ۔  میں دیکھ رہا ہوں کہ ایوان میں   آنکھوں سے  غصہ کیا ہوتا ہے ۔ یہ آنکھوں  کی گستاخیاں والا کھیل بھی  پہلی بار اسی ایوان میں دیکھنے کو ملا اور بیرونی ملکوں   کے میڈیا نے  بھی  اس کا بہت زیادہ  مزہ لیا۔ پارلیمنٹ کا وقار بنائے رکھنا ہر رکن  پارلیمنٹ   کا فریضہ ہوتاہے  اور ہم نے اس کو بھرپور بنائے رکھنے کی سب نے کوشش کی ہے ۔

 اس بار ہمارے ارکان پارلیمنٹ کے ٹیلنٹ کا بھی بڑا تجربہ ہوا ہے۔ ابھی جب  میں ایک دن خطاب کررہا تھا  ،صدر جمہوریہ کے اوپر ایسا قہقہہ سننے کو مجھے ملتا تھا ا س ایوان میں   ۔  میں ضرور یہ جو  انٹر ٹینمنٹ  انڈسٹری والے ہیں  ،ان کو اس طرح کے قہقہے کی ضروررت ہے  ، ان کے لئے یوٹیوب سے  اتنا دیکھنے  کے لئے اجازت  دے دینی چاہئے ۔ شاید اچھے اچھے فن کار بھی ایسا قہقہہ نہیں لگا پاتے ہوں گے ، جو یہاں  پرسننے کو ملتا تھا ۔

مجھ جیسے ایک نئے رکن پارلیمنٹ نے   آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ آپ سب کی مدد سے  نیا ہونے کے باوجود بھی  مجھے کبھی کمی  محسوس    ہونے نہیں دی ،آپ سب ساتھیو ں نے  ۔سبھی  طرف سے ،سب نے  اور آپ کی قیادت نے ، آپ کی رہنمائی نے ایک  پہلی اننگ کی شروعات میں  میری جو مد د کی ہے ،اس  کے لئے میں آپ کا بہت ممنون ہوں  ۔  میں   محترم ملائم  سنگھ جی کا  خصوصی طور پر ممنون  ہوں  ۔ان  کی شفقت  ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔  سب کے لئے اہمیت رکھتی ہے ۔ میں ایک بار پھر آپ کو دل سے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں ۔

 اس  کونسل   سے جڑے  سبھی عملے کے لوگوں کو  بھی  مبارکباد دیتا ہوں ، جنہوں نے ارکان پارلیمنٹ کی دیکھ بھال کی ۔ کام کے لئے جو بھی ضروری انتظامات کرنے پڑتے تھے ، انہوں  نےوہ کئے ۔ اور میں سبھی ارکان پارلیمنٹ کے تئیں   اپنی نیک خواہشات ظاہر کرتا ہوں  کہ  ایک صحت  مند جمہوری روایت  کے لئے جب عوام کے درمیان جانے والے ہیں  تو ہم صحت مند روایت کو  کیسے آگے بڑھائیں   ،  ایک صحت  مند  مقابلہ     کیسے کریں ۔ ا س   صحت مند مقابلے کو لے کر جمہوریت  کو صحت مند بنانے میں  ہم اپنا رول کیسے اداکریں ۔  ان سبھی نیک خواہشات کے ساتھ  میں  اپنا خطاب ختم کرتا ہوں ۔ میں ایک بار پھر ایوان کے سبھی ارکان پارلیمنٹ کا دل سے شکریہ اداکرتا ہوں۔

دھنیہ واد!

         

 

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

م ن ۔ن ا ۔رم

U-1007