Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

تیسرے گلوبل پوٹیٹو کنکلیو سے وزیراعظم خطاب کا متن


 

نئی دہلی،28؍جنوری،گجرات کے مقبول وزیراعلیٰ  جناب وجے روپانی جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب نریندر سنگھ تومر جی ، جناب پروشوتم روپالا  جی ، گجرات کے وزیر زراعت جناب آر سی  پھالدو جی ، اسٹیج پر  تشریف فرما  دیگر  معززین ، ملک اور  دنیا بھر سے آئے  سائنس داں اور  میرے پیارے  کسان بہنوں اور بھائیوں۔

مہاتما کی سرزمین پر ، مہاتما مندر میں آپ سبھی کا  بہت بہت  خیر مقدم ہے، استقبال  ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ گلوبل پوٹیٹو کلنکلیو میں دنیا کے  مختلف ملکوں سے سائنس داں آج اس کنکلیو میں آئے ہیں، ہزاروں کسان ساتھی اور دوسرے حصص دار  بھی  اس تقریب میں پہنچے ہیں۔ آئندہ تین دنوں میں آپ سبھی پوری دنیا کی  خوراک اور غذائیت کی مانگ  سے متعلق  اہم پہلوؤں پر  تبادلہ خیال کرنے والے ہیں، کچھ نئے  حل نکالنے والے ہیں۔

اس کنکلیو کی  خاص بات یہ بھی ہے کہ  یہاں پوٹیٹو کانفرنس ، ایگری ایکسپو اور  پوٹیٹو فیلڈ  ڈے  ، تینوں ایک ساتھ ہورہے ہیں۔ مجھے بتایا گیا  ہے کہ  تقریبا 6 ہزار  کسان   فیلڈ ڈے  کے موقع پر  گجرات کے  کھیتوں میں جانے والے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ   اپنے آپ میں یہ  قابل تعریف  کوشش ہے۔

 ساتھیو!

 یہ بھی بہت اچھی بات ہے کہ اس بار پوٹیٹو کنکلیو دہلی سے باہر ہورہا ہے، ہزاروں آلو کسانوں کے درمیان ہورہا ہے۔ گجرات میں  اس کنکلیو کا ہونا  اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ یہ ریاست  آلو  پیداواریت کے لحاظ سے ملک کی  نمبر ایک ریاست ہے۔

ساتھیو!

گجرات گزشتہ  دو دہائیوں میں آلو کی پیداوار  اور آلو کے  ایکسپورٹ ہب کی شکل میں ابھرا ہے۔ گزشتہ 10-11 برسوں میں  جہاں  ہندوستان کی  آلو کی  کُل پیداوار  تقریبا  20 فیصد کی شرح  سے بڑھی ہے  وہیں گجرات میں یہ شرح 170 فیصد  رہی ہے۔

آلو کی  مقدار اور کمیت میں  ہوئے  اس اضافے کا سبب  ہے گزشتہ دو دہائیوں میں لئے گئے  پالیسی  سے متعلق  فیصلے اور  سینچائی کی جدید  اور  خاطر خواہ  سہولتیں۔  بہتر  پالیسی  جاتی فیصلے کے سبب  آج ملک کے بڑے پوٹیٹو  پروسیسنگ یونٹس گجرات میں ہیں اور  زیادہ تر  پوٹیٹو  ایکسپورٹر بھی  گجرات  میں  موجود  ہیں۔ گجرات میں کولڈ اسٹوریج  ایک بڑا اور ماڈرن  نیٹ ورک  ہے۔ ان میں سے کئی  عالمی  معیار کی سہولتوں سے لیس ہیں۔

 اس کے علاوہ  آج سجلام  – سفلام  اور  سونی اسکیم  کے  ذریعے گجرات کے ان علاقوں میں بھی سینچائی کی سہولت پہنچی ہے جو کبھی خشک سالی سے متاثر رہا کرتے تھے۔

 سردار سروور ڈیم کے سبب  گجرات کا ایک بڑا حصہ  سینچائی کے دائرے میں آگیا۔ نہروں کا  اتنا وسیع  نیٹ ورک  بہت کم  وقت میں تیار کرنا  اپنے آپ میں ایک بڑی حصولیابی ہے۔  سینچائی میں بھی سائنٹفک اور  ٹیکنالوجیکل اپروچ  مسلسل  بہتر ہونے لگا ہے، اسے اپنایا جا رہا ہے۔ پرڈروپ  مور کروپ یعنی  ہر بوند پر  زیادہ فصل ، اس اصول کا مفہوم  مسلسل  بہتر ہونے لگا ہے، اسے اپنایا جارہا ہے۔  نا پر کام کرتے ہوئے  مائیکرو ایرگیشن پر فوکس کیا گیا۔ ڈرپ یا  اسپرنکلر ایری گیشن کو  پروموٹ کیا گیا ہے۔

ساتھیو!

گجرات کے یہ تجربات  گزشتہ  پانچ برس میں پورے ملک کے لئے بھی  کئے گئے ہیں۔ سال 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے ہدف  کو لے کر ہم  مسلسل  آگے بڑھتے گئے ہیں اور بہت کچھ حاصل کرتے گئے ہیں۔ اہم قدم  اٹھائے جارہے ہیں۔ کسانوں کی کوشش  اور  حکومت کی پالیسی  کے میل کا  ہی  نتیجہ ہے کہ متعدد اناجوں اور دوسرے  کھانے کے سامان کی  پیداوار میں  ہندوستان دنیا کے چوٹی کے تین ملکوں میں ہے۔ ایک وقت میں ہمارے سامنے  دال کا بحران آگیا تھا لیکن  اس بحران پر بھی  ملک کے کسانوں نے ٹھان لی اور  ملک نے  فتح پائی۔

 ساتھیو!

 کھیتی کو  نفع بخش بنانے کے لئے حکومت کا فوکس  کھیت سے لے کر  فوڈ پروسیسنگ اور  ڈسٹری بیوشن  سینٹر تک  ایک جدید  اور وسیع  نیٹ ورک  کھڑا کرنے کا ہے۔ آنے والے پانچ برسوں میں صرف سینچائی اور کھیتی سے جڑے  دوسرے  بنیادی  ڈھانچے پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کئے جانے ہیں۔

 اتنا ہی نہیں فوڈ پروسیسنگ سے جڑے  شعبے کو  فروغ دینے کے لئے مرکزی حکومت نے بھی متعدد اقدامات کئے ہیں۔ چاہئے اس شعبے کو  100 فیصد  راست  بیرونی  سرمایہ کاری کے لئے  کھولنے کا فیصلہ ہو یا  پھر  پی ایم کسان  سمپدا یوجنا کے ذریعے  ویلیو ایڈیشن اور  ویلیو چین ڈیولپمنٹ میں  مدد ، ہر سطح پر  کوشش کی جارہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت  بہت ہی کم وقت میں  سینکڑوں کروڑ روپے کے  متعدد  پروجیکٹ  ملک میں مکمل ہوچکے ہیں۔

 ساتھیو!

 حکومت کی کوشش ہے کہ  کھیتی کی لاگت  کم ہو، کسان کا خرچ کم ہو، حکومت کے ذریعے  شروع کی گئی  پردھان منتری  کسان  سمان ندھی سے  کسانوں کے  متعدد  چھوٹے خرچوں کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اب تک 8 کروڑ  کسانوں کو اس کا فائدہ  دیا جا چکا ہے۔ اس مہینے کی شروعات میں ایک ساتھ 6 کروڑ  کسانوں کے  بینک کھاتوں میں 12 ہزار کروڑ  روپے کی رقم  منتقل کرکے  ایک نیا ریکارڈ بھی  بنایا گیا ہے۔

ساتھیو!

 کسان اور  صارف  کے   درمیان کی  سطحوں اور  پیداوار  کی  بربادی کو کم کرنا ہماری ترجیح ہے۔ اس کے لئے  روایتی  زراعت کو  فروغ دیا جارہا ہے۔

کسانوں کو قرض کی ، ٹیکنالوجی  اور بازار تک رسائی آسان  ہو، اس کے لئے  فارمر پروڈیوسر تنظیموں کو  پروموٹ کیا جارہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ  آنے والے  پانچ برسوں میں 10 ہزار نئے  ایف پی اوز  تیار کئے جائیں۔ یہی نہیں ای- نام  کی شکل میں ایک  نیشنل  ایگریکلچر مارکیٹ  کسانوں کے درمیان  مقبول ہورہا ہے۔

ساتھیو!

حکومت کا زور  زرعی ٹیکنالوجی پر مبنی  اسٹارٹ اپ کو  فروغ دینے پر بھی ہے تاکہ  اسمارٹ اور  پری سیزن  ایگریکلچر کے لئے ضروری کسانوں کے ڈیٹا بیس اور  ایگری اسٹیک کا  استعمال کیا جاسکے۔ اس سے کسانوں کو  پانی  ، کھاد  اور  جراثیم کش  ادویات کے مناسب استعمال میں مدد ملے گی۔ اس سے لاگت  بھی  کم ہوگی اور  عالمی بازار میں ہندوستانی کسانوں کی زیادہ شراکت داری بھی یقینی بنے گی۔

ساتھیو!

حکومت کی یہ کوشش  اور کامیاب تبھی ہوگی جب آپ جیسے سائنس داں ، محقق  ان جلد خراب ہو جانے والی سبزیوں کو اور زیادہ ٹکاؤ بنانے کے لئے سستے حل تیار کریں۔ آنے والی دہائیوں کے چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے پیداواریت  ،   قوت خرید  بڑھے  اور کسانوں کو مناسب دام ملیں، ایسے حل تیار کرنے ہوں گے۔

اس کے لئے ہمیں ایسے بیج بھی تیار کرنے ہوں گے  جو پانی  کم استعمال کریں ، جو زیادہ غذائیت بخش بھی ہوں اور ان کی زندگی اور پیداواریت بھی  زیادہ ہو۔ ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ بیج کی قیمت بھی کم ہو اور اس سے متعلق اِن پٹ لاگت بھی زیادہ نہ ہو۔

 اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں جدید  بائیو ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت ، بلاک چین ، ڈرون ٹیکنالوجی  سمیت  ایسی ہر نئی  ٹیکنالوجی کا  کیسے بہتر استعمال ہوسکتا ہے ، اس کو لے کر بھی  آپ کے مشورے اور حل  اہم  رہیں گے۔

ساتھیو!

 آلو کی افادیت کے پیش نظر  پوٹیٹو سب سیکٹر  کو  بڑھاوا دینے کے لئے نئی پالیسی اور  ریسرچ ایجنڈا بنانے کا وقت آگیا ہے۔ اس پالیسی اور  ایجنڈے کی جڑ میں بھوک اور غریبی سے  لڑائی  اور  عالمی غذائی تحفظ  ہونی چاہئے۔

آپ سبھی ساتھی یہ کرنے کے اہل ہیں۔ یہ  آپ سبھی کی  کوششوں سے ہی ممکن ہوا ہے کہ 19 ویں صدی میں آلو کی بیماری کے سبب  یورپ اور امریکہ میں جو حالات پیدا ہوئے،  وہ دوبارہ نہیں ہوئے۔

21 ویں صدی میں بھی  کوئی بھوکا اور  سوء تغذیہ کا شکار نہ رہے،  اس کی بھی ایک بڑی ذمہ داری آپ سبھی کے کندھو ں پر ہے۔ آپ چاہے کسان ہوں، تاجر ہوں، سائنس داں ہوں ، ترقی پسند تاجر ہوں، فوڈ پروسیسنگ میں کام کرتے ہوں، ہم سبھی کی  اجتماعی  ذمہ داری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ  آنے والے تین دنوں میں آپ  اسی سمت میں  سنجیدہ  غور وفکر کریں گے۔

 ایک بار پھر بھارت میں ، گجرات میں  تشریف لانے کے لئے  آپ سبھی کا شکریہ۔  میں  محکمہ زراعت کا بھی  شکریہ ادا کرتا ہوں  کہ انہوں نے  دہلی سے باہر  اس  سربراہ اجلاس کو  لے کر آئے۔ اتنا ہی نہیں ملک اور دنیا کے لوگوں کو  آپ  کھیتوں میں لے جانے والے ہیں، کسانوں سے  روبرو کرانے والے ہیں۔ یہ اپنے آپ میں  زمین سے  جڑا ہوا  یہ پروگرام  آنے والے دنوں میں  کتنا کامیاب ہوگا  اس کا میں  پورا پورا اندازہ لگاسکتا ہوں۔ میں پھر ایک بار  گجرات میں  آپ کا خیر مقدم کرتے ہوئے ، آپ کا قیام  پرسکون ہو ، آپ گجرات  کی  بے مثال ضیافت کا لطف اٹھائیں، گاندھی جی سے وابستہ مقامات  کو دیکھیں ، اسٹیچو آف یونیٹی کی یادیں  لے کر جائیں، اسی  خواہش کے ساتھ  بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

جے جے جوان، جے کسان!

شکریہ!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

U-392