Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

جرمنی کی چانسلر کے دورہ ہند کے دوران وزیراعظم کا اخباری بیان


نئی دہلی، یکم نومبر2019،       

چانسلرڈاکٹرمرکل،

جرمنوفدکےمعززممبران،

کابینہمیںمیرےساتھیوں،

دوستو،

نمسکار

گٹنٹیگ

چانسلر ڈاکٹر مرکل،
جرمن وفد کے معزز ممبران،
کابینہ میں میرے ساتھیوں،
دوستو،
نمسکار
گٹن ٹیگ
چانسلر ڈاکٹر مرکل اور ان کے وفد کا ہندوستان میں دل کی گہرائیوں سے استقبال کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ چانسلر مرکل کا شمار جرمنی اور یوروپ ہی نہیں بلکہ دنیا میں طویل عرصے تک خدمت کرنے والے اہم رہنماؤں میں کیا جاتا ہے۔ مجھے فخر ہے اور خوشی بھی ہے کہ وہ بھارت کی اور میری دوست ہیں۔ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ دہائی سے چانسلر کے طور پر انہوں نے بھارت-جرمنی تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے لئے میں ان کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔آج ہمارے درمیان انٹر گورنمینٹل كنسلٹیشنس کی 5 ویں میٹنگ ہوئی۔ ہر دو سال کے وقفے پر ہونے والے ایسے تین اجلاسوں میں چانسلر مرکل کے ساتھ شرکت کرنے کا مجھے موقع ملا ہے۔ اس منفرد میکانزم سے ہر شعبے میں ہمارا تعاون مزید گہرا ہوا ہے۔ آج جن معاہدوں وغیرہ پر دستخط ہوئے ہیں، وہ اس بات کی علامت ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہندوستان اور جرمنی کے درمیان ہر شعبے میں، خاص طور پر نئی اور جدید ٹکنالوجی میں دور رس اور اسٹریٹجک کو۔ آپریشن آگے بڑھ رہا ہے۔

دوستو،

سن 2022 میں آزاد بھارت 75 برس کا ہو جائے گا۔ اس وقت تک ہم نے نیو انڈیا کی تعمیر کا ہدف رکھا ہے۔ اس کثیر جہتی کوشش میں بھارت کی ترجیحات اور ضروریات کے لئے جرمنی جیسے ٹکنولوجیکل اور اکونومک پاور ہاؤس کی صلاحیتیں مفیدہوں گی۔لہذا، ہم نے نیو انڈیا ایڈوانس ٹکنالوجی، آرٹی فیشیل انٹلی جنس اسکلس ، تعلیم، سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی زور دیا ہے۔ای۔ موبیلیٹی، فیول سیل ٹکنالوجی، اسمارٹ سٹیز، انلینڈ واٹر ویز، کوسٹل منیجمنٹ، ندیوں کی صفائی اور ماحولیاتی تحفظ میں تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کا ہم نے فیصلہ کیا ہے۔ ان شعبوں میں ہماراتعاون، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں بھی مدد دے گا۔ تجارت اور سرمایہ کاری میں اپنی بڑھتی ہوئی شرکت کو مزید رفتار دینے کے لئے ہم نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔چانسلر مرکل اور میں دونوں ممالک کے کچھ اہم بزنس اور سرکردہ صنتکاروں سے ملاقات کریں گے۔ ہم جرمنی کو مدعو کرتے ہیں کہا کہ وہ دفاع-پیداوار کے میدان میں اتر پردیش اور تمل ناڈو میں دفاعی راہداری میں مواقع کا فائدہ اٹھائے۔

دوستو،

بھارت اور جرمنی کا اعتماد اور دوستانہ تعلقات، ڈیموکریسی، رول آف لاء جیسی مشترکہ اقدار پر مبنی ہے۔ لہذا، دنیا کے سنگین چیلنجوں کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر میں مماثلت ہے۔ ان موضوعات پر ہمارے درمیان شام کے وقت تفصیلی بحث جاری رہے گی۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لئے ہم ہمہ فریقی اور ہمہ جہت تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔ ایکسپورٹ کنٹرول ریجیمس اور مختلف بین الاقوامی فورموں میں بھارت کی رکنیت کے لئے جرمنی کی مضبوط حمایت کے ہم شکر گزار ہیں۔ دونوں ممالک جلد ہی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی نظام میں دیگر ضروری بہتری کرنے کے لئے تعاون اور کوشش جاری رکھیں گے۔

عزت مآب چانسلر ،

بھارت-جرمنی تعلقات کا مستقبل روشن ہے۔ اس کے لئے میں نے ایک بار پھر آپ کی موثر قیادت اور ہمارے تمام ساتھیوں کے بہترین کاموں کے لئے شکریہ۔

ڈنکے اسکوئن

بہت بہت شکریہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

من۔سش۔نا۔

U-4883