پی ایم انڈیا
میرے عزیز بھائی بہنو!
کافی جانے پہچانے چہرے، ہمارے چمن لال جی، جیسے لوگوںکو میں دیکھ رہا ہوں، جموں وکشمیر کے لئے آج کا یہ دن کافی اہم ہے۔ ریاست کا آج یہ میرا چوتھا پروگرام ہے۔ آج صبح سے ہی لیہ۔ لداخ کی اونچی اونچی پہاڑیوں سے، کشمیر کی وادیوں سے گزرتے ہوئے اب جموں کی ترائی تک وکاس کی بہتی دھارا کو میں دیکھ رہا ہوں۔ اپنی پروگراموں کی وجہ سے میں لیٹ ہوگیا۔ وقت پر نہیں پہنچ پایا۔ اس کے لئے میں آپ سب سے معذرت خواہ ہوں۔
لیہ کو باقی ہندوستان کے ساتھ جوڑنے والی زوجیلا سرنگ ہو، باندی پورہ کاکشن گنگا پروجیکٹ ہو یا پھر کشتواڑ میں چناب ندی پر بننے والا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، جموں وکشمیر کی خوشحالی کا ایک نیا دروازہ کھل رہا ہے۔ جموں وکشمیر کی جل دھارا آنے والے دنوں میں یہاں ترقی کی دھارا کو رفتار دینے والی ہے۔
ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو قوم کے نام وقف کرنا تو دوسرے کا سنگ بنیاد رکھنا۔ آج کا یہ دن غیرمعمولی اور باوقار بن گیا ہے۔ کچھ دیر قبل مجھے جموں کے لئے انفرا اسٹرکچر سے متعلق چار بڑے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کا موقع ملا ہے۔ ان پروجیکٹوں میں سے دو پروجیکٹ ماتا ویشنو دیوی کو منسوب ہیں۔ یہاں ابھی پکل ڈل پروجیکٹ کا بھی سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ یہ کسی حد تک مفید ہونے والا ہے، اس کا اندازہ آپ اسی بات سے لگا سکتے ہیں کہ جتنی بجلی آج جموں وکشمیر میں پیدا ہوتی ہے اس کی ایک تہائی بجلی اسی ایک پاور پروجیکٹ میں پیدا ہونے والی ہے۔
یہ پروجیکٹ پردھان منتری ترقی پروگرام کے تحت بنایا جارہا ہے۔ ایک ہزار میگاواٹ کا یہ پروجیکٹ ، رفتار کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ 8 ہزار کروڑ روپئے کی لاگت والی یہ اسکیم یہاں روزگار کے متعدد مواقع پیدا رنے والی ہے۔ تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو تو براہ راست روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہاں کئی سبزی کی پیداوار کرنے والے ہوں گے۔ کوئی دودھ فروخت کرنے والے ہوں گے، ارے ہر قسم کے کام کرنے والے لوگوں کے لئے نیا موقع، نئے فائدے کا موقع حاصل ہونے والا ہے۔
دوستو! ہمار ی حکومت ، ملک کی ترقی سے متعلق ایک نئے اپروچ کے ساتھ کام کررہی ہے۔ یہ ا پروچ ہے‘‘آئی سولیشن ٹو انٹگریشن ،یعنی ملک کا جو بھی علاقہ، کسی وجہ سے الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ جہاں ترقی کی روشنی نہیں پہنچ پائی ہے۔ ان کو ترجیح دی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواہ نارتھ۔ ا یسٹ ہو یا پھر جموں وکشمیر ہو، ہماری کوشش رہی ہے کہ جہاں تک زیادہ ہوسکتے ہیں اگر وہاں پہنچ سکتا ہوں تو میں خود بھی وہاں پہنچنے کی کوشش کروں۔ مجھے خوشی ہے۔ پہلے کسی وزیراعظم کو ایسا موقع ملا ہو، اس کا علم مجھے نہیں ہے۔ سیاسی کاموں کی سوائے شاید میں ایک درجن سے زائد بار جموں وکشمیر آیا ہوں۔ پرائم منسرو کے طور پر ۔ پہلے تو خیر آپ لوگوں نے مجھے اپنے یہاں کافی دن رکھا ہے۔ میری دیکھ بھال کی ہے ۔
کنکٹی ویٹی سے ڈیولپمنٹ کے اصول پر ہم کام کررہے ہیں۔ کنکٹی ویٹی خواہ راستہ کے ذریعہ ہو یا پھر دلوں کی کنکٹی ویٹی ہو، کسی بھی سطح پر کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی ہے۔ جموں وکشمیر کی ترقی کے لئے بھی ہر وہ قدم اٹھائے جارہے ہیں جو اس ریاست کو نیو انڈیا کا رائزنگ اسٹار بنانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ذرا ہندوستان کے نقشہ(Map) کاتصور کیجئے جب ملک کا سرتاج، ہیرے کے تاج کی مانند چمکے گا اور یہی چمک پورے ہندوستان کو ترقی کی راہ دکھائے گی۔
بھائیو اور بہنو! اسی مشن کے تحت مرکزی حکومت، ریاستی حکومت کے ساتھ مل کر کاموں کو آگے بڑھا رہی ہے اور اسے زمین پر اتارنے کی کوشش کررہی ہے۔ کچھ دیر قبل ہی جموںو کشمیر کو بھیڑ بھاڑ سے آزاد کرانے کے لئے یہاں کے ٹریفک کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے رنگ روڈ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ آئندہ تین برسوں کے دوران اس رنگ روڈ کا کام مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جب یہ رنگ روڈ بن کر تیار ہوجائے گا تو آپ سبھی جموں کے شہریوں کو اور یہاں آنے والے لاکھوں سیاحوں کے لئے یہ بہت بڑی سہولت ہوگی۔
آپ دیکھ لیجئے جو لوگ ڈیولپمنٹ کے ڈیزائن کو سمجھتے ہیں۔ تقریباً 50 کلو میٹر سے بھی زائد طویل رنگ روڈ ، یہ اپنے آپ میں ایک نیا جموں بنا دے گا۔ اس کی دونوں جانب نیا جموں بس جائے گا۔ یعنی کسی قسم سے توسیع ہوگی۔ ترقی کیسی ہوگی، میں اچھی طر ح اسے دیکھ پاتا ہوں۔ اس سے جموں وکشمیر میں اور اس کے گردو نواح میں لگنے والا فیکٹری جام تو کم ہونا ہی ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ رنگ روڈ، پونچھ، راجوڑی، نوشیرہ اور اخنور خطہ کے سرحدی اور دفاعی علاقوں میں بھی بھاری مشینری لے جانے والی فوجی گاڑیوں کی آمدورفت کو بھی آسان بنائے گا۔
دوستو! آپ کے اس جموں شہر کا اسمارٹ سٹی کے تحت انتخاب کیا گیا ہے۔ یہاں ٹریفک سے لے کر سیویج تک، اسمارٹ سہولیات تیار ہورہی ہیں۔ ریاستی حکومت اس کام میں مصروف ہے۔ مرکز سے اس کام کے لئے پیسے بھی منظور ہوچکے ہیں۔
بھائیو وار بہنو! ترقی کے لئے ہمارا پورا فوکس انفراسٹرکچر پر مرکوز ہے۔ ہائی وے ہو، ریلویز ہو، واٹر ویز ہو، آئی ویز ہو، روڈ ویز ہو، یہ سبھی اکیسویں صدی کی ضروریات ہیں۔ حکومت کی سوچ بالکل واضح ہے۔ اگر سوا سو کروڑ اہل وطن کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے تو پہلے اسے سہل اور آسان بنانا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں اس کو اسمارٹ نظام کا نام دے سکتے ہیں۔ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ آج بھارت مالا پروجیکٹ کے تحت پورے ملک میں نیشنل ہائی ویز کا جال بہت تیزی سے پھیلایا جارہا ہے۔
جموں وکشمیر ہو، مغربی ہندوستان ہو یا پھر نارتھ ایسٹ ہو، ملک کو ہائی ویز کی لڑی پیرونے کا یہ پروجیکٹ ہے۔ اس سال کے بجٹ میں اس اسکیم کے تحت بننے والی تقریباً 35 ہزار کلو میٹر سڑک کے لئے پانچ ہزار کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے ۔جموں وکشمیر میں بھی اس اسکیم کے تحت تقریباً دو ہزار سات سو کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔
بھائیو اور بہنو! جموں وکشمیر میں ، یہاں بھی ہائی ویز کے متعدد پروجیکٹوں پر کام چل رہا ہے۔ جموں وکشمیر کو سری نگر اور ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑنے والی ہزاروں کروڑ روپے کی لاگت کی متعدد اسکیمیں مکمل ہوچکی ہیں اور کچھ اسکیمیں ایسی ہیں جن پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ جموں۔ پونچھ، ادھم پور، رام بن، رام بن۔ بنیہال، سری نگر۔بنیہال اور قاضی کنڈ۔ بنیہال جیسے کئی ہائی وے پروجیکٹ پر آج کام چل رہا ہے اور جو آنے والے وقتوں میں اس خطہ کے لئے لائف لائن ثابت ہونے والے ہیں۔ ان سڑکوں پر تقریباً 15 ہزار کروڑ روپے خرچ کئے جانے والے ہیں۔ علاوہ ازیں گاؤں کو پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا سے جوڑا جارہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ کلو میٹرطویل دیہی سڑکیں اس اسکیم کے تحت بنائے جاچکی ہیں۔ جموںوکشمیر کے گاؤں میں بھی گزشتہ دو برسوں کے دوران ساڑھے تین ہزار کلو میٹر سے زائد سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔
دوستو! جموں وکشمیر کے لئے ٹورزم آمدنی کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ خاص طور سے یہاں عقیدت سے متعلق کئی اہم مقامات ہیں۔ بابا برفانی ہو یا پھر ماتا رانی کا دربار ہو، یہاں ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں عقیدتمند یکجا ہوتے ہیں۔ عقیدت کے جذبہ سے سرشار عقیدتمندوں کو سہولیات دستیاب ہوں اور یہاں کے عوام کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں، اس کے لئے حکومت کوششیں کررہی ہے۔
آج کٹرا میں ماتا کے دربار تک ریل گاڑی پہنچ گئی ہے۔ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ہی مجھے اس ریل روٹ کا افتتاح کرنے کاموقع ملاتھا۔ اس ریل روٹ سے ماتا کے بھکتوں کو کافی سہولت حاصل ہوئی ہے۔ ہم یہیں تک محدود رہنا نہیں چاہتے ، یہی وجہ ہے کہ آج دو بڑے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے ۔ ایک ماتا ویشنو دیوی کےد رشن کے لئے متبادل راستہ ہے تو دوسرا ماتا کے دوار تک سامان پہنچانے کے لئے روپ وے ہے۔
دوستو! ماتا کے درشن کے لئے اب شردھالو تارا کوٹہ مارگ سے بھی جاسکیں گے۔ کٹرا اور اردھ کنواری کے درمیان پیدل چلنے والے شردھالوؤں کے لئے یہ ایک متبادل پیدل راستہ ہے۔ اس سے بھیڑ بھاڑ سے بھی نجات ملے گی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس راستہ کو ڈیڑھ کلو میٹر کے لنک روڈ کے ذریعہ موجودہ پیدل راستہ سے بھی جوڑا جائے گا تاکہ پیدل چلنے والے مسافر مندر تک کے سفر کے لئے دستیاب دونوں راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرسکیں گے۔ ماتا رانی کے بھکتوں کے لئے یہ پوری طرح سے خوشگوار اور محفوظ راستہ ہے۔ جس میں ان کی ہرسہولت کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔
دوستو! متبادل راستہ کے علاوہ ماتا کے دوار تک میٹریل روپ وے کے افتتاح کا بھی موقع حاصل ہوا ہے۔ اس میٹریل روپ وے کے سہارے سامانوں کو ڈھلائی کئی زیادہ آسان ہوجائے گی۔ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ ان انوکھی سہولتوں کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لا کر مسافروں کے لئے آسانی کے ساتھ کھانے پینے کا سہولیات پہنچا سکے گا۔مندر کے آس پاس کے کوڑے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے اس روپ وے سے بڑی مدد ملنے والی ہے۔کٹر ا سے مندر تک سامان جائے گا اور وہاں سے واپسی میں اپنے ساتھ کچرے کو لائے گا۔
دوستو! میٹریل روپ وے کی طرز پر مسافروں کے لئے بھی ایسی سہولیتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔60 کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا جارہا بھون ۔بھیروں گھاٹی بہت جلد پورا ہونے والا ہے۔ اس روپ وے کی صلاحیت فی گھنٹہ 8 سو لوگوں کو لے جانے کی ہوگی۔ اس سے بزرگوں اور معذوروں کو بہت مدد ملنے والی ہے۔ جب یہ روپ وے پوری طرح سے کام کرنا شروع کردے گا تو یہ ایک بار میں 3 منٹ کے اندر40-45 افراد کو لے جاسکے گا۔اس روپ وے سسٹم میں دہلی میٹرو کی طرز پر آٹو میڈیڈ ٹکٹنگ سسٹم بھی ہوگا۔زائرین کی سہولت کے لئے شرائن بورڈ جس طرح سے کام کررہا ہے اس کے لئے میں اس کے سربراہ کو اور ان کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔
بھائیو اوربہنو! جموںو کشمیر میں انفرا سٹرکچر سے ٹورزم بڑھے گا اور ٹورزم سے روزگار بڑھے گا۔ لیکن روزگار کے لئے تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کا کردار اہم ہے۔مرکزی حکومت نے ریاست میں تعلیم سے متعلق اداروں کو منظوری دی۔جموں میں قائم ہونے والا آئی آئی ایم ہو یا پھر آئی آئی ٹی ہو یہ ادارے ریاست کے لئے سنگ میل ثابت ہونے والے ہے۔ اس کے علاوہ جموں وکشمیر کے 16 ہزار سے زائد طلباء و طالبات کو ملک کی پروقار یونیورسٹیوں اور کالجوں میں درس و تدریس کے لئے وظیفہ دیا گیا ہے۔
بھائیو اور بہنو! خواتین کو با اختیار بنانے کو حکومت ترجیح دے رہی ہے۔گزشتہ چار برسوں کے دوران ایسی کئی اسکیمیں چلائی گئی ہے جن سے خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر طاقت حاصل ہوئی ہے۔ پردھان منتری مدرا یوجنا کے تحت ملک میں تقریباً 950 کروڑ خاتون صنعت کاروں نے چھوٹے چھوٹے کاروبار کے لئے بغیر ضمانت کے قرض حاصل کیا ہے اس میں جموں وکشمیر کی 50 لاکھ سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔
اجولا یوجنا کے تحت حکومت ، ملک کی غریب ماؤوں اور بہنو کو دھوئیں سے پاک رسوئی دینے کی کوشش کررہی ہیں۔کلین کوکنگ۔ خصوصی طور سے گاؤں کی ماتائیں اور بہنیں، دلت ہو یا محروم ہو، پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہوں ایسے تمام پس منظر سے آنے والی ماتاؤں اور بہنوں کے لئے یہ ا سکیم کافی مفید ثابت ہورہی ہے۔ پورے ملک میں جہاں تقریباً چار کروڑ مفت ایل پی جی کنکشن دیئے گئے ہیں وہیں جموں وکشمیر میں بھی ساڑھے چار لاکھ ماتاؤں اور بہنوں کی رسوئی تک اجولا پہنچ چکی ہے۔
دوستو! سووچھ ابھیان کے تحت پورے ملک کو رفع حاجت سے آزاد کرنے کی مہم چلائی گئی ہے۔ یہ صرف صفائی ستھرائی سے جوڑا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ خواتین کے وقار کا مسئلہ بھی ہے۔جموں وکشمیر کی ماتائیں بہنیں اس مہم کے تعلق سے کتنی بیدار ہیں اس کی ایک مثال حال ہی میں ملک اور دنیانے دیکھی ہے۔ میں نے خود میڈیا میں ادھم پور کی 87 سالہ بزرگ ماتا کے حوصلے کو دیکھا ہے۔ یہ ماتا اس مہم میں خود ایک ایک اینٹ کو گاڑھے سے جوڑ کر ٹوائلیٹ بنانے میں مصروف تھی۔نہ کسی کی مدد تھی اور نہ کوئی اوزار، بس ایک ہی دھن ہے ، سووچھتا ابھیان سے جڑنے کی ہے۔
ددوستو ! جب ایسی کوشش ہوتی ہے تو حوصلہ اور ہمت کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ کہیں 5 سال کی بچیاں اس مہم سے جڑ رہی ہیں تو کہیں 87 سال کی ماتائیں جڑ رہی ہیں۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سووچھتا اور وقار کے جذبہ کتنا گہرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک دیہی سووچھتا کا دائرہ 80 فیصد سے بھی زیادہ ہوچکا ہے۔جموں وکشمیر میں بھی اس ا سکیم کے تحت تقریباً آٹھ لاکھ گھروں میں ٹوائلیٹ بنائے گئے ہیں۔
دوستو! خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر با اختیار بنانے کا ہدف اس وقت تک نا مکمل رہے گا جب تک کہ ہنر مندی کے فروغ پر توجہ نہیں دی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جموںو کشمیر کی خواتین میں ہنر مندی کے فروغ کے لئے بھی مختلف طرح سے کوششیں کی جارہی ہے۔تقریبا پانچ ہزار خواتین کو دستکاری، ٹریننگ،زراعت اور متعلقہ پیشے کے لئے ٹریننگ دی گئی ہے ۔ بھائیو اوربہنو دوسال میں جب یہاں آیا تھا تب میں نے یہاں کے نوجوانوں سے ، آپ سبھی سے اپیل کی تھی حکومت جو بھی اسکیم چلارہی ہے اس کا فائدہ اٹھایئے۔ آج یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں نے ان اسکیموں کا پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔
پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت ریاست میں تقریباً بیس لاکھ لوگوں نے بینک میں کھاتے کھلوائے ہیں۔ ان کھاتوں میں آج کی تاریخ میں تقریباً آٹھ ہزار کروڑ روپیہ جمع ہوئے ہیں۔میں صرف جموںو کشمیر کی بات کررہا ہوں، غیر منظم شعبوں میں کام کرنے والی میرے محنت کش بھائی بہنیں ہے ان کے لئے بنائی گئی اٹل پنشن یوجنا میں یہاں کے چالیس ہزا ر سے زائد لوگ جڑے ہیں۔ کم پریمیئم والی دو لائف انشورنس اسکیمیں جو سرکار چلا رہی ہیں ان سے ریاست کے تقریبا نو لاکھ افراد جڑے ہیں۔ ان اسکیموں کی وساطت سے تقریبا تین کروڑ کلیم کی رقم بھی ادا کی گئی ہے۔
دوستو! یہاں کے نوجوان فوج میں بھرتی ہونے کے لئے ہمیشہ آگے رہے ہیں۔ روایت کے مطابق سلامتی دستہ میں اس ریاست کے نوجوانوں کو بہت سارے مواقع بہم پہنچائے جارہے ہیں۔ آرمی، سینٹرل آر فورسیز، انڈیا ریزو بٹالین کے ذریعہ چلائی گئی خصوصی بھرتی مہم میں 20 ہزار سے زائد نوکریاں دی گئی ہیں۔
دوستو! یہ ڈوگرہ کی سرزمین ہے ۔یہ بہادروں کی سرزمین ہے۔ یہاں فتح ہے ضبط تحمل ہے۔ تو یہاں شیریں موسیقی بھی ہے۔ یہاں باسمتی کے کھیتوں سے آتی ہوئی خوشبو بھی ہے تو جدید کارخانہ کی گنجائش بھی کافی ہے۔ ہمارا عہد پیہم مستحکم ہے تو اور راستہ بھی درست ہے۔ مجھے رتی بھر بھی یہ شبہ نہیں ہے کہ ماں ویشنو کے آشیر واد سے اور آپ سبھی کی محنت سے یہ ریاست ترقی کی نئی بلندیوں کو سر کرکے رہے گی۔
شکریہ۔
जम्मू कश्मीर की जल धारा आने वाले समय में यहां कि विकास धारा को गति देने वाली है। एक हाइड्रो पावर प्रोजेक्ट राष्ट्र को समर्पित करना तो दूसरे का शिलान्यास करना, आज का ये दिन अद्भुत और यादगार दिन बन गया: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
थोड़ी देर पहले यहां मुझे जम्मू के लिए इंफ्रास्ट्रक्चर से जुड़ी 4 बड़ी परियोजनाओं का शिलान्यास और लोकार्पण करने का अवसर मिला है। इसमें से दो माता वैष्णो देवी को समर्पित हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
हमारी सरकार देश के विकास को लेकर एक नई अप्रोच के साथ काम कर रही है । ये अप्रोच है Isolation to Integration की। यानि देश के जो भी इलाके, किसी भी वजह से अलग-थलग पड़ गए, विकास की रोशनी जहां नहीं पहुंच पाई, उनको प्राथमिकता दी जा रही है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
थोड़ी देर पहले ही जम्मू शहर को जाम मुक्त करने के लिए, यहां की ट्रैफिक की समस्या को सुलझाने के लिए रिंग रोड का शिलान्यास किया गया: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
विकास के लिए हमारा पूरा फोकस इंफ्रास्ट्रक्चर पर है, Highway, Railways, Waterways, iWays और Ropeways बनाने की तरफ है। सरकार की सोच स्पष्ट है, अगर सवा सौ करोड़ देशवासियों का जीवन स्तर ऊपर उठाना है तो पहले उसको सरल और सुगम बनाना होगा: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
जम्मू कश्मीर के लिए टूरिज्म आमदनी का एक बहुत बड़ा स्रोत है। विशेषतौर पर यहां आस्था से जुड़े बड़े स्थान हैं। बाबा बर्फानी हों या फिर माता रानी का दरबार, देश विदेश से लाखों श्रद्धालु यहां जुटते हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
आज कटरा में माता के दरबार तक रेल पहुंच गई है। प्रधानमंत्री बनने के फौरन बाद ही मुझे इस रेल रूट का लोकार्पण करने का अवसर मिला था। इस रेल रूट से माता के भक्तों को बहुत सुविधा मिली है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
वैकल्पिक मार्ग के अतिरिक्त माता के द्वार तक Material Ropeway का उद्घाटन का भी आज मुझे सौभाग्य प्राप्त हुआ है। इस Material Ropeway के सहारे सामानों की ढुलाई कहीं ज्यादा आसान होगी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
स्वच्छ भारत अभियान के तहत पूरे देश को खुले में शौच से मुक्त करने का अभियान चलाया गया है। ये सिर्फ स्वच्छता से जुड़ा मामला नहीं है बल्कि ये महिलाओं के सम्मान का भी विषय है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
जम्मू कश्मीर महिलाओं के कौशल विकास के लिए भी प्रयास किए जा रहे हैं। लगभग 5 हज़ार महिलाओं को Handicrafts, Tailoring, Agriculture और संबंधित व्यवसायों के लिए प्रशिक्षण दिया गया है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
दो साल पहले जब मैं यहां आया था तब मैंने यहां के नौजवानों से , आप सभी से अपील की थी कि सरकार जो भी योजनाएं चला रही है उनका फायदा उठाइए। आज मुझे ये बताते हुए खुशी हो रही है कि यहां के नौजवानों ने इन योजनाओं का भरपूर लाभ उठाया: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
ये डोगरों की धरती है, ये वीरों की भूमि है। यहां शौर्य भी है, संयम भी है, तो मधुर संगीत भी। यहां बासमती के खेतों से आती खुशबू भी है, तो आधुनिक कल कारखानों की गुंजाइश भी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018
हमारा संकल्प भी मजबूत है और रास्ता भी सही है। मुझे रत्ती भर भी संदेह नहीं कि मां वैष्णो के आशीर्वाद से, और आप सभी के परिश्रम से ये राज्य विकास की नई उंचाइयों को छुएगा: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 19, 2018