Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

جموں و کشمیر کے نومنتخب سرپنچوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی

جموں و کشمیر کے نومنتخب سرپنچوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی

جموں و کشمیر کے نومنتخب سرپنچوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی

جموں و کشمیر کے نومنتخب سرپنچوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی


 

نئی دہلی،18دسمبر 2018؍جموں وکشمیر سے پنچایتوں کے 48نومنتخب سرپنچوں نے آج نئی دہلی میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی سے ملاقات کی۔

وفد کی قیادت کل جمو ں و کشمیر پنچایت کانفرنس کے صدر جناب شفیق میر کررہے تھے۔

وفد نے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات کے کامیاب اور پُر امن انعقاد کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لئے وزیر اعظم کی تعریف کی۔

وزیر اعظم نے نومنتخب نمائندوں کے لئے اپنی بہترین تمناؤں کا اظہار کیا۔انہوں نے وفد کے ارکان پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے لئے کوشش کریں۔انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ خود اور ان کی حکومت عوام کو بااختیار بنانے کے لئے پابند عہد ہیں اور عوام کی اُمنگوں کو پور ا کرنے کے لئے ریاست کی فلاح وبہبود کے تعلق سے مقامی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر کھڑے ہوں گے۔انہوں نے وفد کے ارکان پر زور دیا کہ وہ عوام کے مفادات کو ترجیح دیں ، کیونکہ لوگوں نے ان کے اوپر زبردست اعتماد کا اظہار کیا ہے اور ان سے اپنی امیدیں وابستہ کی ہیں۔

وزیر اعظم نے اس حوصلے کے لئے مقامی نمائندوں کو مبارکباد دی، جس کا اظہار انہوں نے سخت حالات کے باوجود اور دھمکیوں نیز ڈرانے دھمکانے کے خطرے کے باوجود جمہوری عمل میں کامیاب طریقے پر شرکت کرکے کیا ہے۔وزیر اعظم نے پنچایتی راج کو ایک مثالی کامیابی بنانے اور عوام کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے اور شکایات کا ازالہ کرنےکے تئیں جواب دہ بنانے میں حکومت ہند کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔جموں و کشمیر کو تشدد کے راستے سے پرے لے جانے اور مقامی آبادی کے حقوق اور ترقی کے تحفظ کے لئے بنیادی اداروں کو بااختیار بنانا ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے حالیہ پنچایت انتخابات میں خواتین کی شرکت کی بھی تعریف کی۔

پس منظر

بنیادی سطح پر اختیارات کی تفویض لوگوں کے لئے ایک بے مثال موقع ہے کہ وہ خود اپنے ترقیاتی عمل میں ساجھیدار بن سکیں۔جموں و کشمیر کا پنچایت قانون 1989ء میں منظور کیا گیا تھا، لیکن الاٹ شدہ 25مناصب میں سے صرف 3 کو متعلقہ قانون کے تحت بجٹ امداد فراہم کی گئی۔ حکومت نے اب1989ء کے جموں و کشمیر پنچایتی راج قانون میں ترمیم کی ہے اور 2ہزار کروڑ روپے سالانہ پنچایتوں کو منتقل کئے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید ایک ہزار 200کروڑ روپے شہری لوکل اداروں کو دیئے گئے ہیں۔پنچایتیں 19محکموں کی سرگرمیوں کا براہ راست جائزہ لیں گی اور سرکاری اسکیموں اور پرجیکٹوں کا آڈٹ کریں گی۔

1100شہری لوکل باڈی کے انتخابات 13سال کے وقفے کے بعد کرائے گئے تھے اور نومبر –دسمبر 2018ء میں 35ہزار پنچایتوں کے انتخابات 7 کے وقفے کے بعد کرائے گئے۔74فیصد ووٹروں نے (کل58لاکھ ووٹروں میں سے) پنچایت انتخابات میں حصہ لیا۔

اس عمل کو آگے بڑھانے کے لئے بنیادی سطح کے 40ہزار نمائندوں کو جلد ہی تربیت دی جائے گی۔سرپنچوں کو ڈھائی ہزار روپے کا ماہانہ مشاہرہ دیا جائے گا ، جبکہ ہر پنچ کو ایک ہزار روپے ماہانہ ملیں گے۔

 

 

U: 6362