پی ایم انڈیا

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں منعقد سائبر اسپیس پرعالمی کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر جناب مودی نے سری لنکا کے وزیراعظم رنل وکرما سنگھے ، بیرونی ملکوں کے وزیروں، آئی ٹی یو کے سکریٹری جنرل اور 120 سے زیادہ ملکوں کے مندوبین، طلباء اور دیگر شرکاء کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کا اس عالمی کانفرنس میں خیر مقدم کرتا ہوں اور میں ان لوگوں کا بھی خیر مقدم کرتا ہوں جو دنیا کے مختلف حصوں سے انٹرنیٹ کے ذریعے اس کانفرنس میں شریک ہورہے ہیں۔
دوستو!
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ پچھلی چند دہائیوں میں سائبر اسپیس نے دنیا بھر میں زبردست تبدیلی پیدا کی ہے۔ یہاں موجود بزرگ افراد کو وہ بھاری بھرکم کمپیوٹریوں یاد ہوں گے جو 70 اور 80 کی دہائی میں مروج تھے، اس کے بعد سے بہت کچھ بدل چکا ہے۔ ای-میل اور پرسنل کمپیوٹروں نے 90 کی دہائی کی ایک نیا انقلاب پیدا کیا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا دور ہوا اور موبائل فون ڈاٹا کو اسٹور کرنے اور مواصلات کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ انٹرنیٹ اور آرٹیفیشل انٹلیجنس اب بہت عام ہوچکے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تبدیلی مسلسل جاری اور شائد اب یہ پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے ہورہی ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں اس تیز رفتار پیش رفت نے بھارت میں بھی زبردست تبدیلی کی ہے۔ بھارت کی آئی ٹی کی صلاحیت کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ بھارت کی آئی ٹی کمپنیوں نے عالمی سطح پر اپنا نام کمایا ہے۔
آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ایک عظیم وسیلے کے طور پر ابھری ہے۔ اس نے خدمات کی مؤثر ترسیل اور حکمرانی کیلئے راستہ ہموار کیا ہے۔ اس کی رسائی تعلیم سے صحت تک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ کاروباری معیشت کے مستقبل کی تشکیل میں بھی مدد کرہی ہے۔ ان تمام طریقوں سے یہ سماج کے محروم طبقوں کو زیادہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ بہت چھوٹے پیمانے پر یہ ایک ایسی دنیا کی تشکیل میں مدد کرہی ہے جہاں بھارت جیسے ترقی پذیر ملک ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔
دوستو!
ٹیکنالوجی تمام رکاوٹیں پار کرلیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھارت کے فلسفے ’’واسودیوا کٹمبکم‘‘ پر پوری طرح درست ثابت ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ پوری دنیا ایک خاندان ہے۔ اس سے ہماری قدیم اور شمولیت والی روایات کی عکاسی ہوتی ہے۔ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اس مقولے کو معنی پہناسکتے ہیں جو حقیقت میں جمہوری کی بہترین روایات ہیں۔
بھارت میں ہم ٹیکنالوجی کے انسانی پہلو کو اولیت دیتے ہیں اور اسے بہتری لانے کیلئے استعمال کرتے ہیں، جسے میں ’’زندگی گزارنے میں آسانی‘‘ کہتا ہوں۔ ڈیجیٹل رسائی کے ذریعے بااختیار بنانا ایک ایسا مقصد ہے جس کیلئے حکومت ہند عہد بستہ ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا دنیا کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی پر مبنی یکسر تبدیلی والا پروگرام ہے جو ہمارے شہریوں کو ڈیجیٹل خدمات کے حصول کیلئے راہ ہموار کررہا ہے۔ ہم شہریوں کو بااختیار بنانے کیلئے موبائل کی قوت یا ایم –پاور استعمال کررہے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ آپ سے میں زیادہ تر آدھار کے بارے میں جانتے ہوں گے جو کسی شخص کی منفرد بایومیٹرک شناخت ہے۔ ہم نے اس شناخت کو اپنے عوام کو قطاروں اور دھکانے والے عمل سے آزاد کرانے کیلئے استعمال کیا ہے۔ تین عناصر نے، پہلا، ہمارے جن دھن بینک کھاتوں کے ذریعے مالی شمولیت، دوسرا، آدھار پلیٹ فارم اور تیسرا، موبائل فون، نے بدعنوانی کو کم کرنے میں زبردست مدد کی ہے۔ ہم اسے جے اے ایم یا جام تمثیل کے نام سے پکارتے ہیں۔ سبسڈیز کو زیادہ بہتر طریقے سے ہدف بناتے ہوئے جام تمثیل نے اب تک تقریباً 10 ارب ڈالر کی سبسڈی کی بچت کی ہے۔
میں کچھ ایسی مثالیں پیش کرتا ہوں کہ کس طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی زندگی آسان بنانے کیلئے بہت زیادہ سہولت فراہم کررہی ہے۔
آج ایک کسان صرف ایک بٹن دباکر بہت سی خدمات جیسے مٹی کی جانچ کے نتائج، ماہرانہ مشورہ اور اس کی پیداوار کیلئے اچھی قیمت وغیرہ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ اس طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کھیتی کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں تعاون کررہی ہے۔
ایک چھوٹا صنعت کار حکومت کی ای-مارکیٹ پلیس پر خود کا اندراج کراسکتا ہے اور حکومت کو سامان سپلائی کرنے کیلئے اپنی بولی دے سکتا ہے۔ جیسے جیسے اس کا کاروبار پھیلتا ہے وہ بھی حکومت کیلئے خریداری کی لاگت میں کمی کرنے میں تعاون کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ سرکاری رقم کی قدر بھی بڑھ جاتی ہے۔
اب پنشن پانے والوں کو اپنی زندگی کا ثبوت دینے کیلئے بذات خود بینک میں افسر کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج ایک پنشن پانے والا آسانی کے ساتھ آدھار بایومیٹرک پلیٹ فارم سے اپنی زندگی کا ثبوت فراہم کرسکتا ہے جس میں بہت کم محنت ہوتی ہے۔
خواتین کی آئی ٹی کی افرادی قوت میں قابل قدر تعداد ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے کئی نئی صنعتوں کی قیادت کیلئے عورتوں کو موقع فراہم کیا ہے۔ اس طرح آئی ٹی سیکٹر صنفی طور پر بااختیار بنانے میں مدد گار ثابت ہورہا ہے۔
بھارت کے شہری بڑی تعداد میں کیش لیس یعنی نقد رقم کے بغیر لین دین کا طریقہ اپنارہے ہیں اس مقصد کیلئے ہم نے بھارت انٹرفیس فار منی یا بھیم ایپ شروع کی ہے۔ یہ ایپ کم نقد کی جانب پیش رفت اور سماج کو بدعنوانی سے پاک کرنے میں مدد کرہی ہے۔یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ٹیکنالوجی کی قوت حکمرانی کو بہتر بنارہی ہیں۔
دوستو!
ہم سبھی کی شمولیت والی حکمرانی یا جن بھاگیداری میں سہولت کیلئے ڈیجیٹل ڈومین استعمال کررہے ہیں۔ ہم نے مئی 2014 میں جب سے اقتدار سنبھالا ہے بہت سے لوگوں نے، خاص طور پر نوجوانوں نے ملک کیلئے اپنے نظریات اور کام میں ساجھیداری کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ ایسے لاکھوں بھارتی شہری ہیں جن کے انقلابی نظریات بھارت کو نئی اونچائیوں تک پہنچانے میں زبردست مدد کرسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہم نے شہریوں سے رابطے کا پورٹل ’’MyGov‘‘پورٹل شروع کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم شہریوں کو اپنے خیالات اور نظریات حکومت کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع دیتا ہے۔ کئی اہم پالیسی معاملات میں ہمیں گراں قدر مشورے دستیاب ہوئے ہیں۔ آج حکومت کے مختلف اقدامات کیلئے بہت سے ’’لوگو‘‘ اور ایمبلیم ڈیزائن ’’MyGov‘‘ پر ہوئے مقابلوں کا نتیجہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کے دفتر کیلئے سرکاری ایپ بھی ’’MyGov‘‘پر شروع کئے گئے ایک مقابلے کا نتیجہ ہیں ، جس میں نوجوانوں نے شاندار جوابات دیئے ہیں۔ ’’MyGov‘‘ایک ایسی بنیادی مثال ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکنالوجی جمہوریت کو مستحکم کرتی ہے۔
میں آپ کو ایک اور مثال دیتا ہوں، عہدہ سنبھالنے کے بعد مجھے یہ پتہ چلا کہ حکومت کے کئی ایم پروجیکٹ اور اقدامات اکثر سرکاری کام میں غیر ضروری رکاوٹوں اور فیصلہ سازی میں کمی کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم نے ایک سائبر اسپیس پر مبنی پلیٹ فارم تیار کیا جو بروقت نفاذ کیلئے سرگرم حکمرانی یا پرگتی (پی آر اے جی اے ٹی آئی) کہلاتی ہے۔ ہندی پرگتی کا مطلب ترقی ہے۔
ہر مہینے کے آخری بدھ کو میں پرگتی اجلاس کے ذریعے مرکز اور ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کرتا ہوں۔ ٹیکنالوجی سے رکاوٹیں دور ہوتی ہیں۔ اپنے اپنے دفاتر میں بیٹھ کر ، سائبر دنیا کی مدد سے ہم حکمرانی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں اور انہیں حل کرسکتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بتانے میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ پرگتی کے اجلاسوں کی وجہ سے اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ سازی میں تیزی آئی ہے جو قوم کے وسیع مفاد میں ہے۔ پرگتی نے بنیادی ڈھانچے کے اربوں ڈالر کے پروجیکٹوں کو پھر پٹری پر پہنچادیا ہے جو لال فیتہ شاہی کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔
میں نے خود بھی نریندر مودی موبائل ایپ کے ذریعے کچھ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایپ شہریوں کے ساتھ میرے رابطوں کو مضبوط کرتا ہے۔ اس ایپ پر مجھے جو مشورے موصول ہوئے وہ بہت کارآمد ہیں۔
آج ہم اُمنگ موبائل ایپ (یو ایم اے این جی) کا آغاز کررہے ہیں جو شہریوں کو ایک سو سے زیادہ خدمات فراہم کرے گی۔ دوسری جانب یہ خدمات مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے مختلف محکموں کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ یہ مربوط طریقہ کار ان محکموں پر کام کرنے کیلئے ’’ساتھی کی کارکردگی کا دباؤ‘‘ خود بخود دباؤ بنائیں گی۔
دوستو!
ہمیں اپنے تجربات اور کامیابی کی کہانیاں عالمی برادری کے ساتھ ساجھا کرنے میں خوشی ہورہی ہے۔ دوسری جانب بھارت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں قابل عمل اختراعی ماڈل اور حل کی تلاش کرنے کا خواہشمند ہے۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ سائبر اسپیس معذور افراد کیلئے بھی کارآمد ثابت ہو۔ حال ہی میں 36 گھنٹے طویل ’’ہیکھاتھان‘‘ میں کالج کے طلباء نے کئی پرانے مسائل کے حل تجویز کئے جو وزارتوں کے ذریعے ہمارے سامنے رکھی گئی تھیں۔ ہم عالمی تجربات اور بہترین طریقہ کار سے سیکھنے کے متمنی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ترقی صرف اسی وقت ہوتی ہے جب ہم سب ایک ساتھ ترقی کرتے ہیں۔
سائبر اسپیس اختراعات کیلئے ایک کلیدی شعبہ ہے۔ ہماری اسٹارٹ اپ کمپنیاں آج روز مرہ کے عام مسائل کا حل فراہم کرنے اور عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے حل پیش کرنے کی منتظر ہیں ۔مجھے یقین ہے کہ سرمایہ کاروں کی عالمی برادری بھارت کے اسٹارٹ اپ کاروباریوں کے وسیع امکانات کو تسلیم کرے گی جو ترقی کیلئے منتظر ہیں۔میں آپ سب کو اس اسپیس کیلئے مدعو کرتا ہوں کہ آیئے اور بھارت کی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی کہانی کا حصہ بن جایئے۔
دوستو!
انٹرنیٹ فطری طور پر مخصوص نہیں بلکہ سب کی شمولیت والا ہوتا ہے۔ یہ رسائی اور مواقع میں برابری کی پیش کش کرتا ہے۔ آج کایہ تبادلہ خیال فیس بک، ٹوئیٹر اور انسٹا گرام استعمال کرنےو الوں کے ذریعےتیار کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سائبر اسپیس کو سبھی کیلئے قابل شرکت بنارہے ہیں۔ اب سٹوڈیو سے ماہرین جو ہمیں خبریں دیتے ہیں ،انہیں سوشل میڈیا پر اجاگر کیا جاتا ہے۔ مہارت اور تجربے کا یہ امتزاج ہی سائبر دنیا کا تعاون ہے۔ انٹرنیٹ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، قابلیت اور کارکردگی کی نمائش کیلئے ایک موزوں پلیٹ فارم ہے۔ یہ چاہے بلاگ ہو، خوبصورت موسیقی کا پلیٹ فارم ہو، فنون لطیفہ ہو یا تھیٹر ہو، یہاں کسی کی کوئی قید نہیں ہے۔
دوستو!
پائیدار ترقی کیلئے محفوظ اور سب کی شمولیت والا سائبر اسپیس کا موضوع اس اہم اثاثے کو انسانیت کیلئے محفوظ بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ عالمی برادری کو سائبر سکیورٹی کے معاملے پر اعتماد کے ساتھ ساتھ عزم استقلال سے کام کرنا چاہئے۔سائبر اسپیس ٹیکنالوجی ہمارے عوام کیلئے قابل عمل ہونے چاہئے۔
انٹرنیٹ کو قابل رسائی اور کھلا بنانے کی کوششیں اکثر اسے کمزور کرتی ہیں۔ ویب سائٹوں کو ہیگ کئے جانے اور انہیں خراب کرنے کی کہانیاں اکثر سامنے آتی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سائبر حملے ایک خطرہ ہے، خاص طور سے ایک جمہوری دنیا میں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے سماج کے کمزور طبقے سائبر جرائم کرنے والوں کے ناپاک منصوبوں میں نہیں پھنسیں گے۔ سائبر سکیورٹی کے معاملات کے تئیں چوکس رہنا ہماری زندگی کا ایک طریقہ بننا چاہئے۔
خصوصی توجہ کے مرکز ی شعبوں میں سے ایک سائبر خطروں کے انسداد کیلئے اچھی طرح لیس اور باصلاحیت پیشہ ور افراد کی تربیت ہے۔ ایسے سائبر جنگجو جو ہمیشہ سائبر حملوں کے خلاف چوکس رہیں۔ ہیکنگ کی اصطلاح کچھ کیلئے دلچسپی کا باعث ہوسکتی ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ سائبر تحفظ نوجوانوں کیلئے ایک پسندیدہ کیریئر بن سکے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ ملکوں کو یہ یقینی بنانے کی ذمہ داری لینی چاہئے کہ ڈیجیٹل اسپیس دہشت گردی اور کٹر پسندی کی کالی قوتوں کے کھیل کا میدان نہ بن سکے۔ خطرات کے منظر نامہ میں مسلسل جاری تبدیلی کے انسداد کیلئے سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان اطلاعات کے تبادلے اور معلومات میں تال میل ضروری ہے۔
یہ درست ہے کہ ہم ایک جانب رازداری اور کھلے پن اور دوسری جانب قومی سلامتی کے درمیان توازن پیدا کرسکتے ہیں۔ ہم سب مل کر عالمی اور کھلے نظام میں اختلافات کو دور کرسکتے ہیں جبکہ دوسری جانب خصوصی قانون کی ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں۔
دوستو!
ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہمارے مستقبل پر اس طرح اثر انداز ہوسکتی ہیں کہ ہم ابھی اس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ شفافیت، رازداری، بھروسہ اور سکیورٹی جیسے اہم سوالوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی انسانیت کو بااختیار بناتی ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ یہ اسی طور پر جاری رہے۔
اس تقریب میں بڑی تعداد میں کثیر فریقی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس پلیٹ فارم کو عالمی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ ملکوں، صنعتوں، اکیڈمی اور سول سوسائٹی، سبھی کو ایک باضابطہ مشرکہ فریم ورک کی جانب کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے سائبر اسپیس کو محفوظ بنایا جاسکے گا جو معیار زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ یہ کانفرنس تعداد کے لحاظ سے شائد اس طرح کی اب تک کی سب سے بڑی کانفرنس ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ تمام پس منظر اور لاجسٹک کو ڈیجیٹل طریقے سے ہینڈل کیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ دنیا بھر سے آیے مندوبین کیلئے یہ ایک اچھا تجربہ ہوگا۔
میں اس دعا کے ساتھ اختتام کرتا ہوں کہ آپ کا تبادلہ خیال مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہو۔ میں ایک بار پھر آپ کا خیر مقدم کرتا ہوں اور اس کانفرنس کی کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ شکریہ
U-5898
We all know how cyber-space has transformed the world over the last few decades: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
The senior generation would recall the bulky main-frame computer systems of the 70s and 80s. A lot has changed since then. Email and personal computers brought about a new revolution in the nineties: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
This was followed by the advent of social media and the mobile phone as an important vehicle of data storage and communication: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
Indian IT talent has been recognized world-wide. Indian IT companies have made a name for themselves globally: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
Today, digital technology has emerged as a great enabler. It has paved the way for efficient service delivery and governance. It is improving access, in domains from education to health: PM @narendramodi https://t.co/uxvpZ8neJw
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
We in India, give primacy to the human face of technology and are using it to improve what I call, “ease of living.” : PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
We are using mobile power or M-power to empower our citizens: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
Through better targeting of subsidies, the JAM trinity has prevented leakages to the tune of nearly ten billion dollars so far: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
Digital technology is contributing to more farm incomes. A small entrepreneur can register on Government e-Marketplace & bid competitively for supply of goods to Government. Pensioners no longer need to present themselves in front of a bank officer to provide proof of life: PM
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
Citizens of India are increasingly adopting cashless transactions. For this, we created the Bharat Interface for Money – or BHIM App. This App is helping the movement towards a less cash and corruption free society: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
We are using the digital domain to facilitate participative governance or Jan Bhagidari: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
It is our firm belief that there are millions of Indians, whose transformative ideas can go a long way in taking India to new heights: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
On the last Wednesday of every month, I meet top Union and State government officials for a PRAGATI Session. Technology breaks silos. Sitting in our respective offices, aided by the cyber world, we discuss and resolve important governance issues: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
I am happy to share with you that the PRAGATI sessions have resulted in faster decision-making, through consensus, in the larger interest of the nation. PRAGATI has put back on track infrastructure projects worth billions of dollars which were stuck in red-tape: PM
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
I have even tried something of my own, through the Narendra Modi Mobile App. This App deepens my connect with citizens. The suggestions I get through the App are very useful: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
Cyber-space remains a key area for innovation. Our startups today are looking to provide solutions to everyday problems and improving lives. I am confident that the global investor community will recognize the immense potential waiting to be tapped from India’s startup pool: PM
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
The internet, by nature, is inclusive and not exclusive. It offers equity of access and equality of opportunity: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
Social media platforms are making cyber-space participative for all. News that experts tell us from studios is now supplemented by experiences highlighted on social media. This transition, to a blend of expertise and experience is the contribution of the cyber world: PM
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
The global community needs to approach the issue of cyber-security with confidence, as much as with resolve. Cyber-space technologies must remain an enabler for our people: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
We need to ensure that vulnerable sections of our society do not fall prey to the evil designs of cyber criminals. Alertness towards cyber-security concerns, should become a way of life: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017
We need to ensure that vulnerable sections of our society do not fall prey to the evil designs of cyber criminals. Alertness towards cyber-security concerns, should become a way of life: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) November 23, 2017