پی ایم انڈیا
نئیدہلی،12۔فروری۔ میرے لئے یہ انتہائی خوش قسمتی کی بات ہے کہ مجھے ایک بار پھر آپ سب کے درشن کرنے کا موقع ملا ہے ۔
2016 میں عزت مآب ولیعہد ابوظہبی ہندوستان آئے تھے ۔ وہ 2017 میں ہمارے انتہائی اہم جمہوری تہوار کے مہمان خصوصی تھے۔ شاید کئی دہائیو ں کے بعد خلیجی ملکوں کے ساتھ ہندوستان کا اتنا گہرا ، اتنا وسیع اور اتنا فعال رشتہ قائم ہوا ہے ۔
آج یہی وہ خلیج کے دیگر ممالک ہیں ۔ ہمارا رشتہ صرف خریدار او ر بیچنے والے کا نہیں رہا ۔ ایک پارٹنر شپ کا بنا ہے ۔ ہندوستا ن اس پر فخر کرتا ہے کہ خلیجی ملکوں میں ہندوستانی برادری کے 30 لاکھ سے زائد لوگ یہاں کے سفر ترقی کے شراکتدار ہوئے ہیں ۔ میں خلیجی ملکوں کا دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں ۔ انہوں نے ہمارے ملک کے 30 لاکھ سے زائد لوگوں کو ہندوستان سے باہر یہاں ان کے اپنے گھر جیسی فضا ہموار کی ہے۔
ہندوستانی برادری نے بھی اسے اپنا ہی گھر مان کر اسی عہد بستگی کے ساتھ اتنی ہی محنت کے ساتھ یہاں کے لوگوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے خوابوں کو بھی یہاں بویا ہے ۔ یہ ایک طرح سے انسانی برادری میں پارٹنر شپ کی ایک بہترین مثال ہے ۔ ہم خلیجی ملکوں میں اس کا تجربہ کررہے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں ہمیں یہ تجربہ ہوا ہے ۔ یہی تجربہ بہت سے لوگوں کو اس وقت زبردست حیرت ہوئی تھی جب میں پچھلی بار یہاں آیا تھا تو میں نےعزت مآب ولیعہد ابوظہبی سے ابوظہبی میں مندر بنانے کی بات کو آگے بڑھایا تھا ۔ میں سوا سو کروڑ ہندوستانیو ں کی طرف سے ولیعہد ابوظہبی کے تئیں دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں ۔ یہاں مندر کی تعمیر اور وہ بھی رواداری کے پُل کی شکل میں ۔
ہم اس روایت میں پلے بڑھے ہیں ، جہاں مندر کو انسانیت کا وسیلے کی حیثیت حاصل ہے ۔ مقام مقدس ہیومنٹی اور ہارمنی کا ایک کیتھولک ایجنٹ ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ جدید ٹکنالوجی ،میسجنگ اورخاکہ سازی کے اعتبار سے یہ مندر اپنے آپ میں منفرد تو ہوگا ہی ،اس کے ساتھ ہی پوری عالمی برادری کو وسودھیو کٹم بکم یعنی پوری دنیا ایک کنبہ ہے ، اس نظریہ کا تجربہ کرانے کا بھی موقع حاصل ہوگا ۔ اسی کی وجہ سے یہ مندر ہندوستان کی اپنی ایک شناخت بننے کا بھی وسیلہ بنے گا۔
میں اس مندر کی تعمیر میں سبھی لوگوں سے درخواست کروں گا کہ یہاں کے حکمرانوں نے ہندوستان کی اتنی عزت افزائی کی ہے ، ہندوستان کی ثقافتی روایتوں کے فخروانبساط کو محسوس کیا ہے ۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہ ہوجائے ، کوئی غلطی نہ ہوجائے ، انسانیت کے روشن آدرشوں اور نظریات کو کہیں کوئی خراش نہ آجائے ، اس کی ذمہ داری اس مندر کے تعمیراتی کاموں سے جُڑے اور مندر سے جُڑنے والے مستقبل کے بھگتوں کے لئے بھی انتہائی لازمی ہوگی ۔ میں آپ سب سے یہی امید رکھتا ہوں ۔
آج ملک ترقی کی نئی بلندیاں سر کررہا ہے ۔ یہ ہندوستان کے لئے فخر واعزاز کی بات ہے کہ آج عالمی سطح کے سربراہ اجلاس میں ہندوستان کو خصوصی اعزا ز دیا گیا ہے ۔ مجھے وہاں تقریر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ یہاں آپ سب کے لئے ہندوستان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل نہیں ہے ۔ اگر میں اپنی تقریر میں دو باتیں کہوں گا تو آپ دس چیزیں بتائیں گے ۔ آٖ پ کو ہندوستان کی اتنی معلومات ہے ۔ ایک طرح یہاں ایک چھوٹا ہندوستان آباد ہے ۔ ہندوستان کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہوگا جس کی نمائندگی یہاں نہ پائی جاتی ہو ، اس لئے آپ اس بات کا بخوبی اندازہ او ر تجربہ کرسکتے ہیں کہ ہندوستان کس تیزی سے بدل رہا ہے ، سواسو کروڑ ہندوستانی اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کس خود اعتمادی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔
ہم نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب کہا جاتا تھا ، چلو چھوڑو یار کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔ چلو یار بستر اٹھاؤ اورکہیں چلے جاؤ۔ ہم مایوسی اور پس وپیش اورغیر یقینی کے شدید دور سے گزرے ہیں ۔
ایک وقت تھا جب ملک میں ایک عام آدمی سوال پوچھتا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے ،کیا یہ ہوگا ، کیا یہ ہمارے یہاں بھی ہوسکتا ہے ، عام آدمی ایسے ہی سوالات میں الجھا رہتا تھا ۔وہاں سے چلتے چلتے محض چار برس کی مدت کے اندر آج ملک اس مقام پر پہنچا ہے ، جہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھ رہا ہے نہ یہ سوچ رہا کہ ہوگا کہ نہیں ہوگا ۔ نہ یہ پوچھ رہا کہ کیا یہ ممکن ہے یا نہیں ! چلو یار کون دماغ کھپائے اس ذہنی کشمکش کے دور سے آج ہماری ذہنی کیفیت یہاں تک پہنچی ہے ، جب سوال کیا جاتا ہے ’’ مودی جی بتاؤ کب ہوگا ۔‘‘ اس سوال میں شکایت نہیں ہے ۔ اس سوال میں یہ بھروسہ ہے کہ ہوگا تو ابھی ہوگا ۔
2014 میں ہم کاروبار کرنے کی آسانی کی صف میں 142 ویں نمبر پر کھڑے تھے ۔یعنی اگر پیچھے سے گنتی کی جائے تو ذرا آسان ہوجائے گا ۔آگے سے گنتی کرنے میں تو بہت دیر لگے گی ۔ دنیا کے کوئی بھی ملک کاروبار کرنے کی آسانی کی صف میں 42 جست لگاکر 100 ویں مقام پر پہنچنے کی کامیابی حاصل نہیں کی ہے ۔ یہ کامیابی سوائے ہندوستان کے کسی کے بھی حصے میں نہیں آئی ہے ۔لیکن کوئی یہ نہ سوچے کہ ہم یہاں رُکنے کے لئے آئے ہیں ۔ ہم اور زیادہ بلندی پر جانا چاہتے ہیں ۔ اس کے لئے جہاں پالیسیوں میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہوگی ، جہاں حکمت عملی میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہوگی اور جہاں عمل آوری کے روڈ میپ میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہوگی ، جہاں وسائل کی عمل آوری میں تبدیلی کرنی ہوگی ، جہاں بھی ضروری ہوگا ، یہ اقدامات کرتے ہوئے ہندوستان کو جلد از جلد گلوبل بینچ مارک کے برابر لانا ہوگا ۔ عالمگیریت کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ ہم جہاں بیٹھے ہوئے ہیں ،وہیں سے دنیا کا فائد ہ حاصل کرتے چلے جائیں ۔ گلوبلائزیشن یعنی عالمگیریت وہ عمل ہے ، جس میں اس گلوب کے سبھی لوگوں نے اپنی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے سب کے ساتھ جُڑتے ہوئے ،سب سے سیکھ حاصل کرتے ہوئے اور سبھی کو ساتھ لے کر ان بلندیوں کو سر کرنا ہے ،جو دنیا کے آخری کونے پرواقع ملک یا شخص کی فلاح کے لئے بھی کام آئے ۔ تبھی تو وسودھیوکٹم بکم کا عملی مظاہرہ ممکن ہوسکے گا اور ہم یہ فتحیابی حاصل کرکے دکھاسکتے ہیں ۔
قدرت نے ہندوستان کو جو عالمی ذمہ داری تفویض کی ہے ، اس میں متعدد ذمہ داریاں شامل ہیں ۔ آج پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ صدی ایسے ہی آجائے گی ۔ٹپک پڑے گی ۔ اکیسویں صدی کو ایشیا کی صدی بنانے کے لئے محنت کرنی پڑے گی ۔ خواہ وقتی فائد ہ ہو یا نہ ہو ۔ لیکن مستقبل کی فلاح کے لئے ہمیں اقدامات کرنے ہوں گے ۔ مہاتما گاندھی ہمیشہ کسی کام کی کامیابی کے سہرے اور پسند کی بات کیا کرتے تھے ۔ کیا وہ کام کرنا جو پسندیدہ نہ ہو، وہ کام کرنا جس کی کامیابی کا سہرا ہمارے سر نہ باندھا جائے ،پسندیدہ عمل ہوگا ۔ ہماری کوشش ہے کہ کاموں کی کامیابی کی طرف قدم بڑھاتے چلیں ۔شاید وقتی طور پر وہ کام ہمیں پسندیدہ نہ محسوس ہو لیکن ایک وقت آئے گا کہ اس کی کامیابی کا سہرا بھی ہمارے سر بندھے گا اور ہمیں وہ پسندیدہ بھی محسوس ہونے لگیں گے ۔
کچھ لوگ صاحب استطاعت ہوتے ہیں ۔ انہیں کوئی بھی کام فوری طور سے پسندیدہ محسوس ہوتا ہے ۔ کچھ لوگوں کو دشواری ہوتی ہے ۔ کچھ وقت لگتا ہے ، نوٹ بندی کرتا ہوں تو ملک کا غریب طبقہ اس کو فوراََ سمجھ لیتا ہے کہ یہ صحیح سمت میں مضبوط قدم ہے ۔ لیکن جن کی راتوں کی نیندیں چلی گئی ہوں ، وہ لوگ دوسال کے بعد اب بھی روتے دکھائی دیتے ہیں ۔
ہندوستان میں سات سال سے یہ پس وپیش جاری تھا کہ جی ایس ٹی کے قانون کا نفاذ ہوگا کہ نہیں ۔ لیکن یہ نفاذ ہوگیا ۔ اب یہ بات الگ ہے کہ ہم بھی ایک مکان میں رہتے ہیں کہ ہم برسوں سے جس مکان میں رہتے آرہے ہیں ،اسے چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلے جائیں ۔ رات کو بڑی خوشیاں اور لطف لیا جائے ۔ نیا مکان ہے اچھا بنایا ہے لیکن صبح نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو عادتاََ یا مجبوراََ بائیں جانب باتھ روم سمجھ کر وہیں چلے جاتےہیں اوردیوار سے ٹکراجاتے ہیں ۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو نیا گھر ہے ۔ یہاں تو باتھ روم دائیں طرف ہے ۔ ایسے تجربات سب کو ہوتے رہتے ہیں ۔اگر ایک انسان کی زندگی میں بھی تبدیلی سے اتنی دشواری ہوتی ہے تو 70 سال پرانا نظام ہو یا سواسو کروڑ افراد کا ملک ہو ، ذہن میں عادتیں ہوں تو دو دو تین تین نسلیں تو عادتوں میں ہی گزر جاتی ہیں ۔ تبدیلی پیدا کرنی ہے تو دشواری کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا ۔ لیکن اس کامیابی کا سہرا ہمارے سر ہوگا ۔
مہاتما گاندھی نے جو راستہ دکھایا تھا وہ راستہ ہے ، اتنے کم وقت میں جی ایس ٹی کی دشواریوں کو دور کرتے کرتے آج ایک نظام کے تحت منظوری پاکر آگے کا سفر طے کیا جارہا ہے ، ملک بدل رہا ہے ۔
کل میں ابوظہبی میں تھا ۔ وہاں کئی معاہدے ہوئے ۔ Lower Zakum Concession agreement middle east upstream میں پہلی بار کسی ہندوستانی کمپنی کا سرمایہ کار ہونا شراکتداری کا ایک روشن پہلو ہے ۔ یہ کہنے کی مطلب میرا اتنا ہی ہے کہ آج اگلے پروگرام کے لئے مجھے پہنچنا ہے ،اس لئے میں آپ کا ذیادہ وقت نہیں لے رہا ہوں ۔ لیکن آپ یہاں اتنی بڑی تعداد میں آئے ، آپ نے اتنا پیار دیا ۔ یہ تو میرے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا ۔میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا ممنون ہوں ۔ میرا یہ دور ہ جیٹ طیارے کی رفتار والا دورہ ہے ۔ میں 80-70 گھنٹوں میں پانچ ملکوں کا سفر کرکے واپس لوٹنے والا ہوں ۔ اردن ،فلسطین ، ابوظہبی اور ابھی دبئی کا پروگرام کرنے کے بعد مجھے عمان جانا ہے۔ وہاں بھی آج شام بہت بڑی تعداد میں ہندوستانی برادری کے لوگ جمع ہوں گے ۔ مجھے ان کا درشن کرنے کی خوش نصیبی حاصل ہوگی ، ان کو بھی کچھ نہ کچھ باتیں بتانی ہیں ۔ میں ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے آپ کا ممنون ہوں اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ جو خواب دیکھ رہے ہیں ، آپ کے اپنے جو خواب بھارت کی دھرتی پر دیکھ رہے ہیں ہم ، ہم سب کو مل کر وقت کی حدود میں رہتے ہوئے ان خوابوں کو پورا کرنا ہوگا ۔ میں آپ کو یہ یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ ! نمسکار!
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
U-840
I want to thank His Highness Crown Price on behalf of 125 crore Indians for the grand temple which will be constructed: PMhttps://t.co/QTw9jeXzce
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2018
I believe this temple will not be only unique in terms of architecture & splendour, but will also give a message of 'Vasudhaiva Kutumbakam' to people across the world: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2018
India's leap in World Bank's Ease of Doing Business Rankings from 142 to 100 is unprecedented. But we are not satisfied at this, we want to do better. We will do whatever it takes to make it possible: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2018
Indian community gives a warm welcome to PM @narendramodi at the community reception in Dubai. pic.twitter.com/IRUgCAJZ4x
— PMO India (@PMOIndia) February 11, 2018