پی ایم انڈیا
آسٹریلیا اور بھارت نے اپنے جامع اسٹریٹجک شراکت داری،2020 کے سائبر اور سائبر سے مربوط اہم ٹیکنالوجی تعاون کے فریم ورک 2020 اور دو دہائیوں پر محیط مشترکہ تحقیق، عملی ہم آہنگی اور پالیسی تعاون کی بنیاد پر سائبر اور اہم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری قائم کی ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ سپلائی چینز، اہم ٹیکنالوجیز اور سائبر سلامتی اقتصادی ترقی کو فروغ دیتی ہیں، قومی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور اقدار و عالمی معیارات کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں، آسٹریلیا اور بھارت اپنی موجودہ مضبوط بنیادوں پر مزید پیش رفت کرتے ہوئے سائبر، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چینز سے متعلق آسٹریلیا-بھارت شراکت داری (پی اے سی ٹی ایس) کے تحت اپنے دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، جو 2020 کے فریم ورک کی جگہ لے گی ۔
پی اے سی ٹی ایس کا مقصد قومی اور علاقائی سلامتی سے متعلق مشترکہ مفادات کو تقویت دینا، شراکت دار ممالک کو ڈیجیٹل شعبے میں مزید متبادل فراہم کرنا، اہم سپلائی چینز کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانا اور عالمی سطح پر سائبر تحفظ کو مستحکم کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت کیے جانے والے ہر اقدام میں سلامتی، تحفظ، مضبوطی، سب کے لیے شمولیت اور مشترکہ جمہوری اقدار کو بنیادی حیثیت دی جائے گی، جو ذمہ دار ٹیکنالوجی قیادت کے لیے دونوں ممالک کے عزم کا مظہر ہے۔ ان تمام کوششوں کو ایک جامع اور متحد اسٹریٹجک وژن کے تحت مربوط کرنے سے دونوں ممالک تعاون کے پانچ بنیادی ستونوں کے تحت ہدفی اقدامات مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکیں گے۔
تعاون کے بنیادی ستون
باہمی طور پر مربوط ہر ستون کے تحت، بھارت اور آسٹریلیا نجی شعبے، جامعات، تحقیقی اداروں اور سرکاری ایجنسیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے مواقع اور مخصوص منصوبوں کی نشاندہی کریں گے۔ اس سے حکومتوں کے درمیان موجود تعاون کو مزید مضبوط اور وسعت دی جائے گی، نئی ٹیکنالوجیز میں دوطرفہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، اور دانشمندانہ ملکیت کو ایسے عملی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو اقتصادی ترقی کو فروغ دیں۔
آسٹریلیا اور بھارت اپنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی صنعتوں کی معاونت کے لیے محفوظ، مضبوط اور قابلِ اعتماد سپلائی چینز کے فروغ پر مل کر کام کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ڈیزائن ہی کے مرحلے سے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے، مؤثر ضابطہ جاتی فریم ورک کو فروغ دینے اور قواعد پر مبنی دوطرفہ ٹیکنالوجی تجارت اور سپلائی چینز کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
آسٹریلیا اور بھارت ترجیحی اہم ٹیکنالوجیز کے تحفظ، مضبوطی اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کریں گے، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، خلائی ٹیکنالوجیز، مواصلات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور جدید مواد جیسے اہم شعبوں میں نئی ٹیکنالوجیز کی جدت کو فروغ دیں گے۔ دونوں ممالک ضروری ڈیجیٹل اور طبعی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، جدت طرازی اور تحقیق کی رفتار تیز کرنے، اور باہمی مطابقت رکھنے والے، اتفاقِ رائے پر مبنی بین الاقوامی معیارات کی تشکیل کی کوشش کریں گے، تاکہ ہند-بحرالکاہل خطے میں طویل مدتی اقتصادی سلامتی اور علاقائی استحکام کو تقویت دی جا سکے۔
آسٹریلیا اور بھارت سائبر اور ڈیجیٹل شعبے کے تحفظ اور سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس میں سائبر جرائم کا مقابلہ کرنا، بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنا، سائبر سلامتی اور ٹیکنالوجی سے متعلق حفاظتی معیارات کے بارے میں علم اور تجربات کا تبادلہ کرنا، اور قومی اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے۔
آسٹریلیا اور بھارت، ہند-بحرالکاہل خطے میں ڈیجیٹل معیشتوں کے فروغ کے لیے قابل اعتماد اور توسیع پذیر ٹیکنالوجی حل فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ دونوں ممالک مل کر ایسے حل تیار کریں گے جو ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ہوں اور اس مقصد کے لیے ایسے مخصوص پروجیکٹوں کی نشاندہی کریں گے جو خطے کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں۔
آسٹریلیا اور بھارت دفاعی تحقیق سے متعلق شراکت داریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف شعبوں پر محیط دفاعی چیلنجز اور صلاحیتوں کے بارے میں مشترکہ مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دونوں ممالک ماضی کی مشترکہ تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے مشترکہ مفادات کے مطابق مستقبل کے تحقیقی پروجیکٹ تیار کریں گے اور دفاعی تعاون سے متعلق مفاہمت کے یادداشت کے تحت دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون سے متعلق نفاذکے انتظام کے مطابق اپنی دفاعی سائنسی تنظیموں کے درمیان تبادلوں میں اضافہ کریں گے۔
آسٹریلیا کے محکمۂ وزیراعظم و کابینہ کے بین الاقوامی اور سلامتی گروپ کے نائب سیکریٹری اور بھارت کے نائب قومی سلامتی مشیر اعلیٰ سطح پر اس شراکت داری کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ دونوں سربراہان سائبر اور اہم ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ترجیحی امور کا تعین کریں گے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مواقع کی نشاندہی کریں گے۔
|
1 |
سپلائی چین لچک |
قومی سلامتی کونسل سکریٹریٹ(این ایس سی ایس) |
سائبر امور اور اہم ٹیکنالوجی کے سفیر کے دفتر سے مربوط |
|
2 |
اہم ٹیکنالوجی |
قومی سلامتی کونسل سکریٹریٹ (این ایس سی ایس) |
سائبر امور اور اہم ٹیکنالوجی کے سفیر کا دفتر |
|
3 |
سائبرسیکورٹی |
سائبر ڈپلومیسی ڈویژن، وزارت خارجہ |
سائبر امور اور اہم ٹیکنالوجی کے سفیر کا دفتر |
|
4 |
ڈیجیٹل لچک |
اوشیانا ڈویژن، وزارت خارجہ |
سائبر امور اور اہم ٹیکنالوجی کے سفیر کا دفتر |
|
5 |
دفاعی تحقیق اور تعاون |
وزارت دفاع |
محکمۂ دفاع |
ستون | بھارتی قیادت | آسٹریلیائی قیادت |
|---|
****
ش ح۔ م م ع ۔ع د
UR No- 9742