Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

مئی 31، 2026کو من کی بات کی  134ویں قسط میں وزیر اعظم کے خطاب کا ترجمہ


میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار۔

’’من کی بات‘‘ میں ایک بار پھر آپ سے جڑ کر مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ہمارے ملک کے لوگ ملک کے مفاد میں، سماج کے مفاد میں، ایسی حیرت انگیز چیزیں کر رہے ہیں اور جب ان کے بارے میں سنتے ہیں تو ہمیں ایک نئی ترغیب ملتی ہے۔ آج پروگرام کا آغاز میں ایتھلیٹکس میں ملک کی ایسی ہی ایک کامیابی سے کروں گا۔ کچھ دن پہلے ہی جھارکھنڈ کے رانچی میں نیشنل سینئر ایتھلیٹکس فیڈریشن کمپیٹیشن ہوا۔ اس میں تقریباً 800 ایتھلیٹس نے حصہ لیا ،  جو ملک بھر سے آئے تھے۔ اس دوران چار مختلف ایونٹس میں چار نیشنل ریکارڈ ٹوٹے۔ گرندر ویرا سنگھ، وشال ٹی کے، تیجس ون شنکر، دیو مینا اور کلدیپ کمار۔ ان ساتھیوں نے مختلف کیٹیگریز میں نئے ریکارڈ بنائے۔ میں سب سے پہلے تو ان سب کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

ایک ایونٹ جس کی ملک بھر میں بہت چرچا ہو رہی ہے، وہ ہے ،  100 میٹر ریس، سو میٹر کی دوڑ۔ محض دو دنوں کے اندر مردوں کی 100 میٹر ریس میں نیشنل ریکارڈ تین بار ٹوٹا۔ جن دو ایتھلیٹس نے یہ کمال دکھایا ہے وہ ہیں ،  گرندر ویرا سنگھ اور انیمیش کوجور۔ میں نے سوچا اس بار ’’من کی بات‘‘ میں ان دونوں کھلاڑیوں سے بات کی جائے۔

(فون کال)

وزیرِ اعظم: انیمیش جی نمسکار۔ گرندر ویر آپ کو بھی نمسکار، ست سری اکال۔

انیمیش، گرندر ویر: نمسکار سر، نمسکار سر۔

وزیرِ اعظم: اچھا بھیا، آپ نے تو بہت بڑا اچیومنٹ کیا ہے۔ آپ کی جوڑی نے بھی بڑا کمال کیا ہے۔ ہم نے موسیقی میں تو جوگل بندی دیکھی تھی، لیکن چیلنج میں اب جوگل بندی ہوتی ہے کہ ایک بار ایک چیلنج دے پھر دوسرا اس چیلنج کو اٹھا لے۔ پھر تیسری بار کر لے۔ بڑا انٹرسٹنگ موضوع رہا ہے آپ کا۔ میں چاہتا ہوں کہ ’’من کی بات‘‘ کے سامعین کو پتا چلے کہ آپ لوگوں کے بارے میں انھیں معلومات ہو۔ آپ نے جو پرکاش دکھایا ہے اس کا پتا چلے۔

انیمیش جی: نمستے سر، میرا نام انیمیش کوجور ہے۔ میں 200 میٹر اور 400 میٹر کا نیشنل ریکارڈ ہولڈر ہوں اور میں چھتیس گڑھ سے بلونگ کرتا ہوں سر۔ اور ابھی میں اڑیسہ سے کھیلتا ہوں۔ میں پچھلے سال ایشین میڈل اور ورلڈ یونیورسٹی گیمز میڈل لے کر آیا اور میں نے ایتھلیٹکس 2021 سے شروع کی جب میں اسکول سے پاس آؤٹ ہوا۔ میں سینیئر اسکول امبیکاپور سے پاس آؤٹ ہوں، اور میں پہلے فٹبال کھیلتا تھا، اور میرے پیرنٹس کووڈ کے زمانے میں مجھے تھوڑی بہت چھوٹ دیتے تھے کہ تو جا کے باہر دوڑ لے یا کھیل لے تو جب کووڈ ختم ہونے لگا تو میرے فٹبال کے جو فرینڈز تھے انھوں نے مجھے بولا کہ اسٹیٹ میٹ ہونے والا ہے جا کے تو پارٹیسپیٹ کر، اور میں نے پارٹیسپیٹ کیا اور مجھے پتا نہیں تھا کہ وہاں سے نیشنل لیول کا سلیکشن ہے۔ میں وہاں سے نیشنل میں سلیکٹ ہوا اور آج میں انڈیا کو انٹرنیشنل لیول پر ریپریزنٹ کر رہا ہوں۔

وزیرِ اعظم: اور گرندر ویر جی کیا ہے؟

گرندر ویر: نمسکار سر، میرا نام گرندر ویر ہے اور میں انڈین نیوی میں پیٹی آفیسر ہوں اور میں انڈیا کا سب سے تیز اسپرنٹر ہوں۔ ابھی میں نے 100 میٹر میں 10.09 کا نیشنل ریکارڈ بنایا ہے۔ اور میں پہلا انڈین ہوں جو 10.1 کے بیریئر کے نیچے بھاگا ہے، اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ میں ٹریک اور وردی میں بھی اپنے ملک کی خدمت کروں۔ میرے فادر اور گرینڈ فادر دونوں اسپورٹس کرتے تھے تو ہمارے انڈیا کا کلچر ہے جب بھی کوئی تہوار ہوتا ہے جیسے دیوالی، جیسے نیا سال تو ہم اپنے گھر کی صفائی کرتے ہیں۔ تو میں اپنے فادر کی ٹرافیز اور میڈلز کی صفائی کرتا تھا تو میرے کو وہ بہت اچھا لگتا تھا، میں بہت خوش ہوتا تھا۔ تب جب میں کوئی ٹرافی صاف کرتا تھا تو میں پوچھتا تھا کہ بھئی یہ ٹرافی کہاں جیتی، یہ میڈل کہاں جیتا، یہ فوٹو کب کی ہے، تو پھر میرے کو وہ اپنی کہانی سناتے تھے کہ بھئی میں یہاں کھیلنے گیا، میں نے یہ نیشنل میڈل جیتا، میں نے اپنی ٹیم کو اس میں جتوایا۔ تو پھر میں بھی ان کو بولتا تھا کہ بھئی میں بھی کوئی اسپورٹس کرنی ہے۔ وہ رننگ کرنے جاتے تھے مارننگ میں، تو میں ان کو بولنے لگا بھئی میرے کو بھی لے کر جایا کرو اپنے ساتھ۔ تو میرے کو لے کر جانے لگے تو انھوں نے جو اپنی گیم اسپورٹس میں سیکھا تھا تو میرے کو سکھانے لگے۔ تو میرا انٹرسٹ بننے لگا۔ میں نے یوسین بولٹ کا ورلڈ ریکارڈ ٹوٹتا ہوا دیکھا۔ تو ایک اسٹوری ہے ایسی فنی۔ میں ابھی ٹی وی دیکھ رہا تھا تو ممی نے میری ٹی وی بند کر دی کہ ابھی بیٹا پڑھنے کا ٹائم ہو گیا، آپ پڑھو۔ تو میں کہا بھئی ٹھیک ہے آپ میرے کو ٹی وی نہیں دیکھنے دیتے، ایک دن ایسا آئے گا آپ میرے کو ٹی وی میں ڈھونڈو گے کہ دیکھو وہ گرندر دوڑ رہا ہے۔ تو میرے کو بھی خوشی ہوتی جب میری ماں میرے کو ٹی وی پر دوڑتا ہوا دیکھتی ہے۔

وزیرِ اعظم: واہ واہ واہ۔ بڑی شاندار بات ہے بھئی آپ کی تو۔

گرندر ویر: ہاں جی۔ مڈل کلاس فیملی ہے سر، پھر میرے فادر وہ بھی والی بال کھیلتے تھے۔ گھر کی پرابلمز کی وجہ سے انھوں نے اپنی اسپورٹس چھوڑ دی۔ ان کا جو خواب پورا کرنے والا رہ گیا۔ تو انھوں نے میرے اندر وہ خواب دیکھا کہ میرا بیٹا وہ خواب پورا کرے گا، تو میں ان سے باتیں کرتا تھا، پھر سنتا تھا ملکھا سنگھ اتنی محنت کرتے تھے، میں انھیں بولتا تھا میں بھی ایک دن آپ کا خواب پورا کروں گا۔ تو بولتے خواب پورا ایسے نہیں ہوتا، اس کے لیے بہت ہارڈ ورک کرنا پڑتا ہے۔ محنت کرنی پڑتی ہے۔ ملکھا سنگھ جی خون کی الٹیاں کرتے تھے، دھوپ میں بھاگتے تھے۔ سارا سارا دن ٹریننگ کرتے تھے تو وہ چیزیں میرے کو انسپائر کرتی تھیں۔ میرے فادر میرے کو انسپائر کرتے تھے کہ میں بھاگوں گا تو اپنے ملک کے لیے، ملک کے لیے میڈل لاؤں، جیتوں۔ اور یہ بھی تھا کہ بھئی جب میں نے ایونٹ چووز کیا 100 میٹر تو سب میرے کو بولتے تھے کہ بھئی 100 مت کرو، 100 انڈینز کا ایونٹ نہیں ہے۔ انڈینز کی باڈی 100 میٹر کے لیے بنی ہی نہیں ہے۔ تو میں اور میرے فادر ہمیشہ بولتے تھے کہ ابھی گرندر ہم نے یہ چووز کیا ہے، ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جو ہمیں بولتے ہیں کہ بھئی ہم نہیں کر سکتے ہم اس کو کر کے دکھائیں گے۔ اور تو کر کے دکھائے گا، مجھے تیرے پر بھروسہ ہے۔ تو وہ بھروسہ جب میرے کو میرے فادر نے میرے پر کیا تو میں اس بھروسے کو اپنی ہمت بنا کے میں چلا اور میں آج ہر انڈین بولتا ہوں کہ بھئی انڈین اسپرنٹ کرو۔

وزیرِ اعظم: دیکھیے، آپ دونوں نے بہت بڑا کمال کیا ہے، اور صرف دو دنوں کے اندر آپ دونوں نے تین بار نیشنل ریکارڈ توڑا ہے۔ 100 میٹر ریس میں دوڑنا، جیسا گرندر ویر نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ بھارت کے لوگوں کا تو بدن اس کام کے لیے ہے ہی نہیں۔ اتنا مشکل ہوتے ہوئے بھی آپ نے کام کیا تو یہ دونوں سے میں جاننا چاہوں گا، اور ’’من کی بات‘‘ کے سننے والے بھی سننا چاہیں گے کہ کون سا جذبہ تھا، کیا ضد تھی، کیا سوچا تھا، اور کیسے کر رہے تھے؟ یہ کتنا مشکل ہوتا ہے؟

گرندر ویر: جی سر، میں گرندر، میں جب اسٹارٹنگ میں سر بہت سٹرگل تھا، بہت بار ڈاؤٹ بھی آیا کہ میں صحیح کر رہا ہوں، میں صحیح چووز کیا کیونکہ ہر بار آپ نہیں جیتتے، کبھی کبھی آپ سیکھتے ہو۔ جب میں ہارتا تھا، جب میری صحیح پرفارمنس نہیں آتی تھی، کوئی انجری آ جاتی تھی تو میرے گھر والے میرے کو سپورٹ کرتے تھے کہ بھئی کوئی نہیں، ایک دن برا چل گیا، ایک سال برا چل گیا تو اس سے زندگی خراب نہیں ہوتی۔ خواب دیکھنا نہیں چھوڑتے۔ تو میرے کوچ نے بھی میرے کو یہ سکھایا کہ اگر تو نہیں کرے گا تو کوئی اور نہیں کر پائے گا۔ تو ایسے جب ہماری کمیونٹی، ہمارے آس پاس لوگ ہمیں اِنکَریج کرتے ہیں تو ہمارا کبھی وہ موٹیویشن نہیں ٹوٹتا۔

وزیرِ اعظم: انیمیش جی…

انیمیش: سر، مجھے تو سارے لوگ بولتے تھے کہ جب میں 2021 میں ایتھلیٹکس شروع کیا تو مجھے بولتے تھے کہ دیکھ یہ نیا فیلڈ ہے، تو کر پائے گا کی نہیں، تو میں بولا کہ اب میں اس فیلڈ میں گھس آیا ہوں تو کروں گا ہی۔ میرے پاپا بھی ہمیشہ مجھے بولتے تھے کہ تو اس فیلڈ میں گھسا ہے تو کبھی پیچھے مڑ کے دیکھنا مت کیونکہ سوچتے تو سبھی ہیں کہ یہ کرنا ہے، وہ کرنا ہے، بٹ کر کے بہت کم ہی دکھاتے ہیں۔ تو بس تو اس فیلڈ میں گھسا ہے تو اس پر عمل رہنا، اس پر آگے بڑھنا ہے۔ تیرے کو ساری فیسلٹیز، سب چیز ہم سپورٹ کریں گے، فیملی سپورٹ، فنانشل سپورٹ، سب چیز ہم لوگ کریں گے بس تو محنت کر اور انڈیا کو دکھا کہ انڈینز بھی بھاگ سکتے ہیں کیونکہ یہ مجھے بھی لوگ بولتے تھے کہ انڈینز کے جینز ایسے نہیں ہیں کہ وہ سب 10 یا سب 10.1 کے اندر بھاگ سکتے ہیں یا کوئی وہ اسپرنٹ کر سکتا ہے بٹ ابھی ہم دونوں نے ایسا پروو کیا کہ انڈینز بھی کر سکتے ہیں۔ ایسا کوئی ہارڈ نہیں ہے ہمارے لیے، ہم بھی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ تو سر یہ ساری چیزیں مجھے بہت موٹیویٹ کرتی ہیں اینڈ جیسے جیسے ہم ٹریننگ کر رہے ہیں ہم اور ٹائمنگ توڑ رہے ہیں اپنی اینڈ باقی انڈینز کو بھی یہ چیز دکھ رہا ہے کہ انڈینز بھی کر سکتے ہیں اینڈ ہم اور کریں گے سر ابھی، اینڈ ابھی ہم دونوں کا سلیکشن کامن ویلتھ گیمز کے لیے بھی ہوا ہے تو وہاں اپ کمنگ کمپیٹیشن میں ہم اور اچھا پرفارم کریں گے۔

وزیرِ اعظم: اچھا دیکھیے، میرے من میں بھی ایک کوتہلی ہے۔ اور لوگوں کو بھی ہوگی۔ میں نے سنا ہے کہ آپ دونوں اچھے دوست بھی ہیں۔ آپ دونوں نے کچھ ٹھان رکھا تھا کیا کہ تم نے میرا ریکارڈ توڑا تو میں تیرا ریکارڈ توڑ دوں؟ کیا پہلے انیمیش بتا دے۔

انیمیش: سر جی پہلے ریکارڈ 10.18 کا تھا جو کہ میرا ہی تھا اور پھر اس کو گرندر ویر بھیا نے سیمی فائنل میں توڑ دیا 10.17 کرکے اور میں نے پھر سے اس کو سیمی فائنل 2 میں 10.15 کرکے توڑ دیا۔ تو اس وقت جب میرا سیمی فائنل ہوا تو ہم دونوں ہی خوش تھے کہ ہاں چلو ٹھیک ہے، آج ریکارڈ ٹوٹا اور چلو ہم دونوں نے توڑا ایسا، کیونکہ اس وقت کمپیٹیشن میں رائیولری رہتی ہے، بٹ ہم دونوں ٹھان کے رکھے تھے پہلے سے ہی۔ اس سے پہلے ہم لوگ سعودی عربیا بھی گئے تھے کمپیٹیشن کرنے کے لیے تو وہاں بھی ہم دونوں روم میٹس تھے تو ہم دونوں وہاں بھی بات کرتے تھے کہ انڈیا کے اسپرنٹنگ کو آگے لے کر جانا ہے اینڈ ہمارے ہی ہاتھوں میں ہے وہ چیز ہم جو کریں گے وہی باقیوں کو موٹیویٹ کرے گا۔

وزیرِ اعظم: گرندر ویر کیا کہنا چاہیں گے؟

گرندر ویر: ہم دونوں نے ڈیسائیڈ کیا تھا ہم دونوں اچھا بھاگیں گے۔ تو کبھی بھی سر ایک دوسرے کو ضرورت ہوتی ہے تو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جیسے ابھی ریکارڈ کرنے سے پہلے جب میں نے ریکارڈ کیا پھر انیمیش نے کیا۔ تو جب ہم وارم اَپ کر رہے تھے تو میں انیمیش کو بتا رہا تھا، ابھی انیمیش وہ بلاک صحیح ہے اس پر جا کے بیٹھ، وہاں پر اسٹرائڈ کر لے، ہم وارم اَپ یہاں پر کریں گے، یہاں پر وارم اَپ صحیح ہوگا تو ایک دوسرے کی ہیلپ کرتے ہیں، ایک دوسرے کی ہیلپ کرتے ہیں تو دوسرا بھی امپروو کرتا ہے، ہم بھی امپروو کرتے ہیں۔ تو دوستی بھی چاہیے، بٹ سر ہم گراؤنڈ کے باہر ہیں، کمپیٹیشن کے باہر ہیں تو ہم دوست ہیں، جب ہم گراؤنڈ میں چلے جاتے ہیں تو ایک دوسرے کے کمپٹیٹر ہو جاتے ہیں۔ تو یہ ہوتا ہے کہ میں اس سے فاسٹ بھاگوں گا، میں اس سے فاسٹ بھاگوں گا۔

وزیرِ اعظم: دیکھیے، آپ لوگوں نے جو سپردھا کی ہے نا وہ ملک کا مان بڑھانے کے لیے کی ہے، ملک کو مستقبل میں اس جگہ پر پہنچانے کے لیے کی ہے اور ایک پازیٹو اسپرٹ سے کی ہے اور میں مانتا ہوں کہ آپ کا یہ جو اسپورٹس مین اسپرٹ ہے، کھیلنا بھی ہے، ایک دوسرے کو چیلنج بھی دینا ہے اور پھر آگے نکلنے کے لیے کوشش کرنا ہے اور پھر آگے جانے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے، یہ حیرت انگیز کام کیا ہے آپ لوگوں نے۔ میری طرف سے آپ کو بہت بہت مبارکباد، میری بہت بہت نیک تمنائیں اور آپ ملک کا نام بھی روشن کریں گے، مجھے پورا یقین ہے۔ آپ ایسے ہی محنت کرتے رہئے، بہت ترقی ہوگی، بہت بہت نیک تمنائیں میری۔

گرندر ویر / انیمیش: شکریہ سر، شکریہ آپ کا۔

وزیرِ اعظم: بہت بہت شکریہ۔

***

میرے پیارے ہم وطنو،

اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں بہت گرمی پڑ رہی ہے۔ تیز دھوپ، گرم ہوائیں، ایسے موسم میں اپنا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ پانی پیتے رہیں۔ دھوپ میں اگر نکلنا ہی پڑے تو ذرا سنبھل کر نکلیں۔ اس سمت میں حکومت کے مختلف محکموں نے جو ہدایات جاری کی ہیں، وہ بھی نہ بھولیے گا۔

ساتھیو،

ہمارے یہاں گرمی سے لڑنے کا طریقہ کئی بار کچن میں بھی مل جاتا ہے۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ جیسے جیسے گرمی بڑھتی ہے، ویسے ویسے گھر کے کچن کا ذائقہ بدل جاتا ہے، کچن کا انداز بدل جاتا ہے۔ کہیں مٹکے کا پانی نکل آتا ہے، کہیں دہی جمنے لگتا ہے، تو کہیں کچے آم اُبالے جانے لگتے ہیں ،  اور پھر دیسی مشروبات کا دور شروع ہوتا ہے۔ دیسی مشروبات سے آپ بھی واقف ہیں۔ اگر آپ شمالی بھارت جائیں تو کافی جگہوں پر آم پنا، کچے آم کا ذائقہ، اور گرمی سے راحت بھی ملے گی۔ پنجاب، ہریانہ جائیں تو لسی مل جائے گی، بڑے گلاس والی لسی۔ راجستھان اور گجرات میں چھاچھ، جیسے ہر کھانے کی ساتھی بن جاتی ہے۔ اور بہار، جھارکھنڈ، مشرقی اتر پردیش میں ستّو کا شربت، اس کی تو بات ہی کیا ہے ،  پیٹ بھی بھرے، طاقت بھی دے۔ کونکن اور گوا میں کوکم شربت، سول کڑی۔ جنوبی بھارت میں پانکم، نیر مور، سمبارم اور اڈیشہ میں بیل پنا، یہ صرف مشروب نہیں بلکہ بھارت کے مختلف خطوں کی روایت کا حصہ ہیں۔ اور اس میں ’ایک بھارت-شریشٹھ بھارت‘ کی جھلک بھی ملتی ہے۔ اور ایک بات ضرور یاد رکھیے، ان میں سے زیادہ تر چیزیں ہماری اپنی کچن سے نکلی ہیں، ہمارے کھیت کھلیان سے نکلی ہیں۔ کوئی بڑی برانڈنگ نہیں ہے، لیکن نسلوں کا تجربہ ان میں سمایا ہوا ہے۔ آپ بھی گرمی کے دوران دیسی مشروبات کا خوب لطف لیجیے۔

ساتھیو،

گرمی آتے ہی ایک اور بحث ہر گھر میں شروع ہو جاتی ہے اور وہ ہے آم۔ آم، عام گفتگو کا موضوع ہوتا ہے۔ بھارت میں شاید ہی کوئی گھر ہوگا جہاں گرمیوں میں آم کی بات نہ ہوتی ہو۔ ہر علاقے کا اپنا آم، اپنا ذائقہ، اپنی خوشبو۔ مہاراشٹر اور کونکن کا ہاپوس، الفانسو، گجرات کا کیسر، یہ تو آم رس کی جان ہے، اتر پردیش کا دشہری اور میری کاشی کا لنگڑا۔ ویسے، لنگڑا آم کی ایک خاص بات ہوتی ہے ،  پکنے کے بعد بھی اس کا رنگ کئی بار ہرا ہی رہتا ہے۔ بہار کا جردالو جس کی خوشبو دور سے پہچانی جائے۔ چوسا، مالدہ ،  ہر نام کے ساتھ لوگوں کی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ جنوبی بھارت جائیں تو بنگنپلی، توتاپوری، نیلم، مگلووا، بنگال کا ہیم ساگر، اڈیشہ اور آندھرا پردیش کا سوورن ریکھا۔ یعنی جگہ بدلتی ہے، آم کا رنگ روپ اور اس کا ذائقہ بھی بدل جاتا ہے۔ اور ساتھیو، آم کا یہ سفر اب گاؤں سے عالمی منڈی تک بھی پہنچ رہا ہے۔ آج ’من کی بات‘ کے ذریعے میں آم کی پیداوار سے جڑے اپنے کسان بھائی بہنوں کی تعریف کروں گا۔ آپ ملک کی زرعی معیشت کے لیے عام کسان نہیں، بہت خاص ہیں۔ اسی طرح چھائے رہئے۔

ساتھیو،

گرمی کے ان دنوں میں، ویسے تو اسکولوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں، لیکن میں ایک ایسی کلاس کی بات کروں گا، جس میں آپ کا داخلہ لینے کا دل کر جائے۔ ساتھیو، ایک حالت کا تصور کیجیے، ایک ایسا اسکول جہاں بچے بھی آتے ہوں، نوجوان بھی اور بزرگ بھی، جہاں کوئی فیس نہ ہو، کوئی بڑی عمارت نہ ہو، کوئی کلاس روم بھی نہ ہو، اور سب سے دلچسپ بات، وہاں کلاس دریا میں لگتی ہو۔

ساتھیو،

یہ کوئی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک سچا کوشش ہے۔ کیرالہ کے آلووا میں، ساجی ولاشیریل جی ایسا ہی ایک سوئمنگ کلب چلا رہے ہیں۔ اب تک 15 ہزار سے زیادہ لوگ یہاں تیرنا سیکھ چکے ہیں۔ ساجی جی نے معذور بچوں کو بھی سوئمنگ سکھائی ہے۔ اس کوشش کے پیچھے ایک دکھ بھی چھپا ہے۔ کچھ سال پہلے ایک کشتی حادثے میں کئی طلبا کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعے نے ساجی جی کو اندر تک جھنجھوڑ دیا۔ انھوں نے سوچا، اگر بچوں کو تیرنا آتا ہوتا، تو شاید کئی جانیں بچ جاتیں ،  بس یہیں سے ان کی یہ مہم شروع ہوئی۔

ساتھیو،

ساجی ولاشیریل جی کی زندگی ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ خدمت کے لیے بہت بڑے وسائل ضروری نہیں ہوتے ،  ضروری ہوتا ہے، ایک اچھا ارادہ اور مسلسل کی گئی کوشش۔ انہی کے دم پر ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

گذشتہ دنوں مجھے یورپ کے نیدرلینڈز جانے کا موقع ملا۔ وہاں میں کئی ملاقاتوں میں شامل ہوا۔ اسی دوران ایک ایسا لمحہ آیا جس نے ہر بھارتی کو فخر سے بھر دیا۔ نیدرلینڈز میں منعقد ایک خاص تقریب میں چولا دور کی قدیم تامر پترائیں بھارت کو واپس سونپی گئیں۔ اس پروگرام میں نیدرلینڈز کے وزیرِ اعظم بھی موجود تھے۔ ان تامر پتراؤں کو لے کر مجھے ملک و بیرونِ ملک سے مسلسل پیغامات مل رہے ہیں۔ لوگ خوشی ظاہر کر رہے ہیں، فخر کا اظہار کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے تمل سماج میں بھی اس پر خاص جوش ہے۔

ساتھیو،

ان تامر پتراؤں کے بارے میں لوگوں میں کافی تجسس بھی ہے۔ اس لیے آج میں اس سے جڑی کچھ باتیں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ ان میں 21 بڑی اور تین چھوٹی تامر پترائیں ہیں۔ یہ بنیادی طور پر راجہ راجندر چولا اول کے ذریعے اپنے والد راجہ راج راجہ چولا کے ایک وعدے کو پورا کرنے سے متعلق ہیں۔ ان میں آنائمنگلم گاؤں کو ایک بدھ وہار کو عطیہ دینے کا ذکر ہے۔ ان تامر پتراؤں میں چولا خاندان کی کامیابیوں کا بھی بیان ملتا ہے۔ ان سے پتا چلتا ہے کہ چولا سلطنت کی بحری طاقت کتنی مضبوط تھی۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ ان کے تعلقات کی معلومات بھی ان میں ملتی ہیں۔

چولا سلطنت کی شاندار تاریخ اور ثقافت پر ہم سب کو بہت فخر ہے۔ ساتھیو، ہماری حکومت بھارت کی ایسی بے قیمت وراثتوں کے تحفظ کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ’گیان بھارتم ابھیان‘ کے تحت چھتیس گڑھ کے ملہار میں بھی ایک اہم دریافت ہوئی ہے۔ یہاں تین نایاب تامر پترائیں ملی ہیں۔ یہ پاندو ونشی راج گھرانے کے مہارشی بالارجن کے دورِ حکومت سے متعلق سمجھی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کتبے چھٹی ساتویں صدی کے ہیں، یعنی چودہ سو، پندرہ سو سال پرانی یہ تامر پترائیں قدیم براہمی رسم الخط اور پالی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ ان سے اس وقت کی نظامِ حکومت، مذہب اور ثقافت کے بارے میں اہم معلومات ملتی ہیں۔

ساتھیو،

ہم بھارتیوں میں فلکیات یعنی آسٹرونومی کے بارے میں ہمیشہ خاص کشش رہی ہے۔ ہمارے ملک میں آج بھی صدیوں پرانی آبزرویٹریز موجود ہیں۔ یہاں حیرت انگیز ریاضیاتی دریافتیں ہوئیں۔ نیویگیشن ہو، پنچانگ ہو، یا ہمارے تہوار و تقریبات، ان سب کا تعلق آسمان اور تاروں سے رہا ہے۔ ہمارے یہاں فلکیات نے ہر نسل میں تجسس جگایا ہے۔ اسے کھوج کے لیے ترغیب دی ہے اور آج کے نوجوانوں میں بھی اس کے بارے میں کافی جوش نظر آتا ہے۔ آج کل آپ بھی دیکھتے ہوں گے کہ ملک بھر میں آسٹرونومی کلب تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک، اسکولوں سے لے کر پارکوں تک ان کی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ مجھے بنگلورو آسٹرونومیکل سوسائٹی کے بارے میں معلومات ملی۔ یہاں آبزروییشنل سیشنز منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس ادارے نے دیہی علاقوں میں فلکیات کو مقبول بنانے کا مشن بھی شروع کیا ہے۔ ’کھگول منڈل‘ نام کی ایک ٹیم نے 30 گھنٹے کا ایک بہت انوویٹو کورس شروع کیا ہے۔

ساتھیو،

رات میں تاروں کو تکتے رہنا اپنے آپ میں ایک حیرت انگیز تجربہ ہوتا ہے۔ آسٹرو کیرالا نام کی ایک تنظیم نائٹ آبزرویشن کیمپس اور ورکشاپس منعقد کرتی ہے۔ یہاں نوجوان دوست ٹیلی اسکوپ بنانا اور اسٹار میپس استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔ راجکوٹ کے بگ بینگ آسٹرونومی کلب نے گِر کے جنگلات سے لے کر کَچھ کے رَن تک متعدد آسٹرونومی ایونٹس منعقد کیے ہیں۔ ’جیوتر ودیا پریسنسٹھا‘ بھی آسٹرونومی کے سب سے قدیم اداروں میں سے ایک ہے۔ یہاں آبزرویشنل سہولیات کے ساتھ ساتھ کتابیں، لائبریری اور ٹیلی اسکوپ لائبریری کی سہولت بھی موجود ہے۔ میں آئی ایس اے اے سی کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ ایک اسٹوڈنٹ لیڈ نیشن وائیڈ نیٹ ورک ہے، جو آسٹرونومی اور آسٹرو فزکس کلبز کو آپس میں جوڑتا ہے۔

ساتھیو،

اپنے شوق کے لیے وقت نکالنا اور مسلسل کچھ نیا سیکھتے رہنا بہت ضروری ہے۔ میں نوجوانوں سے گزارش کروں گا کہ وہ کسی آسٹرونومی کلب سے ضرور جڑیں، اور ان چھٹیوں میں کسی پلانیٹریم کو بھی ضرور دیکھنے جائیں۔

ساتھیو،

’من کی بات‘ پروگرام کو جو لوگ ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں، میں ان سے کہوں گا ،  ایک ویڈیو ضرور دیکھیے گا۔ یہ ویڈیو گذشتہ دنوں بہت زیرِ بحث رہا۔ اس میں کچھ لوگ بہت صبر سے، بہت احتیاط سے ایک گنگا ڈولفن کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس پورے عمل میں تقریباً 13 گھنٹے لگے، اور آخرکار وہ ڈولفن بچ گئی۔

ساتھیو،

اس میں بہت بڑا کردار رہا ،  بھارت کی پہلی گنگا ڈولفن ریسکیو ایمبولینس کا۔ یہ واقعہ اتر پردیش کا ہے۔ وہاں ایک گنگا ڈولفن نہر میں پھنس گئی تھی۔ ایسے وقت میں ’نمامی گنگے ابھیان‘ کے تحت بنی یہ ایمبولینس اس کے لیے امید بن کر پہنچی۔ پھر بہت احتیاط سے اسے باہر نکالا گیا۔ اس کی جانچ کی گئی، اس کا علاج کیا گیا اور اس کے بعد اسے محفوظ رپتی ندی میں چھوڑ دیا گیا۔ ایک طرح سے کہیں تو ایک زندگی، پھر اپنے گھر لوٹ گئی۔

ساتھیو،

یہ ڈولفن ریسکیو ایمبولینس بہت خاص ہے۔ اسے ایک چلتے پھرتے ہسپتال کی طرح تیار کیا گیا ہے۔ اس میں ڈولفن کو محفوظ رکھنے کا انتظام ہے۔ آکسیجن کی سہولت ہے، خاص اسٹریچر ہیں، بچاؤ کے آلات ہیں، یعنی اگر کوئی ڈولفن زخمی ہو جائے، نہر میں پھنس جائے یا دریا سے کٹ جائے، تو فوراً اس کی مدد کی جا سکتی ہے۔

ساتھیو،

جب ہم گنگا ڈولفن کو بچاتے ہیں، تو ہم صرف ایک نسل کو نہیں بچاتے، ہم گنگا کی حیاتیاتی تنوع کو بچاتے ہیں۔ دریا کے پورے زندگی کے نظام کو بچاتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے فطرت کی ایک بے قیمت وراثت بھی بچاتے ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

آپ میں سے بہت لوگوں کی دریا، تالاب یا کنویں کے پانی سے جڑی یادیں ضرور ہوں گی۔ کسی کو تالاب میں تیرنا یاد ہوگا، کسی کو دوستوں کے ساتھ تالاب کنارے کھیلنا، کسی کو اس مٹی کی خوشبو یاد ہوگی۔ بچپن کی ایسی یادیں زندگی بھر دل میں بسی رہتی ہیں۔

ساتھیو،

ایسی ہی یادوں کو بچانے کی ایک متاثر کن داستان اتر پردیش کے بستی ضلع سے سامنے آئی ہے۔ بستی کے آکاش گپتا اپنے گاؤں کی منورما ندی کو دیکھ کر بہت دکھی ہوتے تھے۔ کیونکہ جس ندی کو انھوں نے بچپن میں صاف اور زندہ دیکھا تھا، وقت کے ساتھ اس ندی میں پلاسٹک جمع ہونے لگا تھا۔ گندگی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ آکاش نے طے کیا کہ شکایت نہیں کریں گے، ایک نئی شروعات کریں گے۔ شکایت نہیں، شروعات ،  یہ ان کا منتر بن گیا۔ انھوں نے اپنے دوستوں کو ساتھ لیا۔ صرف جال تھا، پھاوڑا تھا، ٹوکری تھی اور سب سے بڑی طاقت تھی، کچھ بدلنے کا عزم۔ یہ نوجوان ندی میں اترتے تھے، جَلدی بوٹی نکالتے تھے۔ پلاسٹک اور کچرا باہر لاتے تھے۔ کئی بار ایک دن میں 50-60 کلو تک کچرا ندی سے نکالا گیا۔ آہستہ آہستہ منورما ندی کا وہ حصہ پھر سے صاف دکھائی دینے لگا۔ آس پاس کے لوگوں کی توجہ بھی اس کام کی طرف گئی۔ لوگوں میں صفائی کے بارے میں آگاہی بڑھی۔

ساتھیو،

ایسی ہی ایک متاثر کن کہانی گوا سے بھی سامنے آئی ہے۔ گوا کے بال کرشن آئیّا جی ریٹائرڈ ٹیچر ہیں۔ لیکن معاشرے کے لیے کام کرنے کا ان کا جوش آج بھی ویسا ہی ہے۔ انھیں مدّی-تولاپ علاقے میں پانی کی مشکل بہت پریشان کرتی تھی۔ انھوں نے بھی حل کے لیے کام شروع کیا۔ بال کرشن جی نے پائپ لائن بچھانے کے کام میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے کئی گھروں تک پانی پہنچا۔ جن خاندانوں کو پانی کے لیے روزانہ جدوجہد کرنا پڑتی تھی، ان کے لیے یہ بہت بڑی راحت بن گئی۔

ساتھیو،

پچھلے مہینے مجھے ایک بہت اچھا تجربہ ہوا۔ اس کا تعلق ’من کی بات‘ سے بھی جڑا ہے۔ اس لیے آج میں اس پر آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ تمل ناڈو کے ناگرکوئل میں میری ملاقات ایک ٹیچر سے ہوئی۔ تقریباً تین دہائی پہلے بھی میں ان سے ملا تھا۔ میں بات کر رہا ہوں، گریجا اماں جی کی۔ اس ملاقات کے دوران کچھ نوجوان طلبا بھی ان کے ساتھ تھے۔

ساتھیو،

گریجا اماں جی تقریباً 15 اسکول چلاتی ہیں۔ ان میں چنئی کا جائے گوپال گروڈیا ہندو ودیالیہ بہت نمایاں ہے۔ ان کی حب الوطنی کی روح ہر بھارتی کو متاثر کرنے والی ہے۔ انھوں نے ’من کی بات‘ سے تحریک لے کر ملک کے کئی جوانوں کے لیے تعاون کرنے کا عزم کیا۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے تمام اسکولوں کے طلبا کو ترغیب دی۔ انھوں نے بچوں سے کہا کہ وہ بہادر فوجیوں کے لیے ہر روز ایک روپیہ دیں۔ یعنی ایک سال میں ہر طالب علم کی طرف سے 365 روپے جمع ہوئے۔ ان چھوٹے چھوٹے تعاون سے تقریباً 40 لاکھ روپے اکٹھے ہوئے۔ گریجا اماں جی نے یہ پوری رقم کا چیک مجھے سونپا۔ ان سے گفتگو کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ ماں بھارتی کے لیے ان کی وابستگی کتنی گہری ہے۔ گذشتہ برس ہی چنئی کے پہلے ہندو اسکول نے اپنے 50 سال مکمل کیے ہیں۔ ملک کی تعلیم اور ثقافتی وقار کو آگے بڑھانے میں اس اسکول نیٹ ورک کا کردار بہت قابلِ تعریف ہے۔ میں اس سے جڑے تمام لوگوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں اور ان طلبا کی بھی خاص تعریف کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بہادر فوجیوں کے لیے تعاون کیا۔

ساتھیو،

بھارت کے ہر گاؤں میں، ہر شہر میں کچھ نہ کچھ ایسا ہو رہا ہے جو ہمیں ترغیب دیتا ہے۔ کئی بار ان کوششوں کا زیادہ چرچا نہیں ہوتا، لیکن جب ہم انھیں جانتے ہیں تو یہ یقین اور مضبوط ہو جاتا ہے کہ ملک اپنے لوگوں کی طاقت سے آگے بڑھ رہا ہے۔ میرا آپ سے درخواست ہے کہ اپنے آس پاس ایسی کوششوں کو ضرور دیکھیے۔ جو لوگ معاشرے کے لیے اچھا کام کر رہے ہیں، انھیں پہچانیے، ان کی ستائش کیجیے، ان سے سیکھئے، اور اگر ممکن ہو تو خود بھی کسی اچھے کام سے جڑئیے۔ اگلے مہینے ’من کی بات‘ میں کچھ اور متاثر کن داستانوں کے ساتھ میں پھر آپ سے جڑوں گا۔ بہت بہت شکریہ۔ نمسکار۔

 

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 7775