Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

مرکزی کابینہ نے خلائی علوم ٹکنالوجی و ایپلی کیشنز کے میدان میں تعاون پر ہند –الجیریا معاہدے کو منظوری دے دی


 

نئیدہلی07دسمبر۔وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدار ت میں ہونےوالے مرکز ی کابینہ کے اجلاس میں خلائی علوم ،ٹکنالوجی وایپلی کیشنز کے میدان میں تعاون کے  ہند – الجیریا معاہدے کو منظوری دے دی گئی ۔اس معاہدے پر بنگلورو میں  19ستمبر 2018  کو دستخط کئے گئے تھے۔

خاص خاص باتیں :

  • اس معاہدے کی رو سے خلائی علوم، ٹکنالوجی وایپلی کیشنز اور ارضی ریموٹ سینسنگ  ،سیٹلائٹ کمیونی کیشن (سیارہ جاتی مواصلت ) اور سیٹلائٹ پر مبنی نیوی گیشن ، خلائی علوم ،سیارہ جاتی استعمال ، خلائی طیاروں اور خلائی نظاموں کی جی اے سی سمیت  تمام ایپلی کیشنز پر ٹھوس مفادات  پرکام کیا جاسکے گا۔ علاوہ ازیں اس میں  گراؤنڈ سسٹم اور خلائی ٹکنالوجی کے امور بھی شامل ہوں گے ۔
  • اس معاہدے کے نتیجے میں  ایک جوائنٹ ورکنگ گرو پ  تشکیل دیا جائے گا۔ جس میں  بی او ایس  /اسرو اور الجیریا کی خلائی ایجنسی (اے ایس اے ایل ) کے ممبران شامل کئے جائیں گے ، جو  اوقات کے تعین اور اس معاہدے کی عمل آوری   سے متعلق منصوبہ بند ی کرے گا۔

اثرات :

          اس  معاہدے پر دستخط سے ہندوستان اورالجیریا کے درمیان تعاون کو استحکام حاصل ہوگا۔نئی تحقیقی سرگرمیوں  ، اطلاق اور ریموٹ سینسنگ کے میدان کے توجہ مرکوز کی جاسکے گی۔علاوہ ازیں اس کے تحت سیٹلائٹ نیوی گیشن ،خلائی علوم اوربیرونی خلا کا پتہ لگانے کے امور پر بھی کام کیا جاسکے گا۔

پس منظر :

  • واضح ہوکہ ہندوستان اور الجیریا خلائی امور کے میدان میں ایک دوسرے سے کاروباری مذاکرات کرتے رہے ہیں ۔اس سلسلے میں انترکش  کارپوریشن لمٹیڈ  ، گراؤنڈ اسٹیشن کے قیام ،سیٹلائٹوں کے داغے جانے اور الجیریا کے نینو سیٹلائٹ     کے امور پر الجیریائی افسران سے  گفتگو کرتا رہا ہے ۔
  • انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن  اور الجیریائی  خلائی ایجنسی (اے ایس اے ایل )  آئی جی اے کے  مسودہ کا جائزہ لیتے رہے ہیں ۔ نیز  ای –میل کے ذریعہ اس سلسلے کے پیغام کے باہمی  تبادلے بھی ہوتے رہے  ہیں۔ علاوہ ازیں  متعدد بار دونوں فریقوں کی جانب سے نظریات کے تبادلے کے بعد ایجنسی کی سطح  کا ایک  خلائی تعاون  کا معاہدہ وضع کیا گیا ہے ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

م ن ۔س ش ۔رم

U-6110