پی ایم انڈیا
نئی دہلی، 11 اپریل 2018/ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی سربراہ میں مرکزی کابینہ نے آج مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لفٹننٹ گورنروں کی تنخواہ او ربھتوں پر نظر ثانی کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ اس سے لفٹننٹ گورنروں کی تنخواہ اور بھتے حکومت ہند کے سکریٹریوں کے مساوی ہوجائیں گے۔
تفصیلات:
کابینہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لفٹٹنٹ گورنرس کی تنخواہ اور بھتے 1 جنوری 2016 سے مہنگائی بھتہ، 4 ہزار روپے ماہانہ کی شرح سے مصارف بھتہ اور مقامی بھتوں کو جوڑ کر ملنے والے 80 ہزار روپے سے بڑھاکر مہنگائی بھتہ، 4 ہزار روپے کی ماہ کی شرح سے مصارف بھتہ اور حکومت ہند کے سکریٹری درجے کے افسروں کو ملنے والے مقامی بھتوں کے ساتھ 2 لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔
پس منظر:
مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لفٹننٹ گورنرس کی تنخواہ اور بھتے ہند سرکار کے سکریٹری درجے کے افسروں کے برابر ہوتے ہیں۔ پچھلی بار 1 جنوری 2006 سے مرکز کے ز یرانتظام علاقوں کے لففٹنٹ گورنر س کی تنخواہ اور بھتوں میں نظر ثانی کی گئی تھی۔ ا س نظر ثانی کے ساتھ لففٹنٹ گورنر کی تنخواہ اور بھتے 26 ہزار روپے (فکسڈ) ماہانہ سے بڑھا کر مہنگائی بھتہ 4 ہزار روپے ماہانہ کی شرح سے مصارف بھتہ اور مقامی بھتوں کو جوڑ کر 80 ہزار روپے ماہانہ کردی گئی تھی۔
حکومت ہند کے سکریٹری درجے کے افسروں کی تنخواہ یکم جنوری 2016 سے سی سی ایس ( نظر ثانی شدہ) تنخواہ ضابطوں 2016 کے مطابق 80 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھاکر 2 لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ کردی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔ح ا ۔ ج۔
U- 2039