پی ایم انڈیا
نئی دہلی 27جنوری ؛ میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار، اس مہینے کی 21 تاریخ کو ملک کو ایک بہت ہی افسوسناک خبر ملی۔ کرناٹک میں ٹمکور ضلع کے شری سدھ گنگا مٹھ کے ڈاکٹر شری شری شری شیوکمار سوامی جی ہمارے درمیان نہیں رہے۔ شیو کمار سوامی جی نے اپنی پوری زندگی معاشرے کی خدمت کے لیے وقف کردی تھی۔ بھگوان بسویشور نے ہمیں سکھایا ہے۔ ‘کائے کوے کیلاس’۔ یعنی سخت محنت کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھاتے جانا، بھگوان شیو کی رہائش گاہ کیلاش دھام میں ہونے کے برابر ہے۔ شیو کمار سوامی جی اسی فلسفے کو مانتے تھے اور انھوں نے اپنی 111 برسوں کی زندگی میں ہزاروں لوگوں کی سماجی، تعلیمی اور مالیاتی ترقی کے لیے کام کیا۔ ان کی شہرت ایک ایسے عالم کے روپ میں تھی جن کی انگریزی، سنسکرت اور کنڑ زبانوں پر حیرت انگیز گرفت تھی۔ وہ ایک سماج سدھارک تھے انھو ں انے اپنی پوری زندگی اس بات میں لگا دی کہ لوگوں کو کھانا، پناہ، تعلیم اور روحانی علم ملے۔ کسانوں کی ہر طرح سے فلاح ہو، یہ سوامی جی کی زندگی میں اوّلیت رہتی تھی۔ سدھ گنگا مٹھ مستقل طورپر مویشیوں اور زرعی میلوں کا انعقاد کرتا تھا۔ مجھے کئی بار پرم پوجیہ سوامی جی کا آشیرواد حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ سال 2007 میں شری شری شری شیو کمار سوامی جی کے صد سالہ جشن کے موقع پر ہمارے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ٹمکور گئے تھے۔ کلام صاحب نے اس موقع پر پوجیہ سوامی جی کے لیے ایک نظم سنائی تھی۔ انھوں نے کہا
“O my Fellow Citizens – In giving, you receive happiness,
In Body and Soul- You have everything to give,
If you have knowledge – share it,
If you have resources – share them with the needy,
You, your mind and heart.
To remove the pain and suffering, and cheer the sad hearts.
In giving, you receive happiness Almighty will bless, all your actions”
ڈاکٹر کلام صاحب کی یہ نظم شری شری شری شیو کمار سوامی جی کی زندگی اور سدھ گنگا مٹھ کے مشن کو خوبصورت طریقے سے پیش کرتی ہے۔ ایک بارپھر میں ایسے عظیم شخص کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
میرے پیارے ہم وطنو، 26 جنوری 1950 کو ہمارے ملک میں آئین نافذ ہوا اور اس دن ہمارا ملک جمہوری بنا اور کل ہی ہم نے آن بان شان کے ساتھ یوم جمہوریہ بھی منایا۔ لیکن میں آج کچھ اور بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ملک میں ایک بہت ہی اہم ادارہ ہے جو ہماری جمہوریت کا تو اٹوٹ حصہ ہے ہی اور ہماری جمہوریت سے بھی پرانا ہے۔ میں ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ 25 جنوری کو الیکشن کمیشن کا یوم تاسیس تھا جسے قومی یوم رائے دہندگان، نیشنل ووٹرس ڈے، کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں جس پیمانے پر انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے اُسے دیکھ کر دنیا کے لوگوں کو حیرت ہوتی ہے اور ہمارا الیکشن کمیشن جس خوبی سے اس کا انعقاد کرتا ہے اسے دیکھ کر ہر ایک ہم وطن کو الیکشن کمیشن پر فخر ہونا فطری بات ہے۔ ہمارے ملک میں یہ یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ہے کہ ہندوستان کا ہر ایک شہری جو ایک رجسٹرڈ ووٹر ہے، رجسٹرڈ رائے دہندہ ہے، اسے رائے دہندگی کا موقع ملے۔
جب ہم سنتے ہیں کہ ہماچل پردیش میں سمندری سطح سے 15 ہزار فٹ کی بلندی والے علاقے میں بھی پولنگ سینٹر قائم کیا جاتا ہے تو انڈمان ونکوبار جزائر میں دور دراز کے جزائر میں بھی ووٹنگ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اور آپ نے تو گجرات کے بارے میں ضرور سنا ہوگا کہ گیر کے جنگل میں ایک دور دراز علاقے میں ایک پولنگ بوتھ جو صرف ایک ووٹر کے لیے ہے۔ تصور کیجئے صرف ایک ووٹر کے لیے، جب ان باتوں کو سنتے ہیں تو الیکشن کمیشن پر فخر ہونا بہت فطری بات ہے۔ اس ایک ووٹر کا خیال رکھتے ہوئے اُس ووٹر کو اُس کے حق رائے دہی کا موقع ملے، اس کے لیے الیکشن کمیشن کے ملازمین کی پوری ٹیم دور دراز علاقوں میں جاتی ہے اور ووٹنگ کا انتظام کرتی ہے اور یہی تو ہماری جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔
میں ہندوستان کی جمہوریت کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوشش کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی ستائش کرتا ہوں۔ میں سبھی ریاستوں کے الیکشن کمیشن کی ،تمام سکیورٹی ملازمین، دیگر ملازمین کی بھی ستائش کرتا ہوں، جو ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیتے ہیں اور آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بناتے ہیں۔
اس سال ہمارے ملک میں لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جہاں 21ویں صدی میں جنم لینے والے نوجوان لوک سبھا انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان کے لیے ملک کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے کا موقع آگیا ہے۔ اب وہ ملک میں فیصلہ لینے کے عمل کے حصے دار بننے جارہے ہیں۔ اپنے خوابوں کو ملک کے خوابوں کے ساتھ جوڑنے کا وقت آچکا ہے۔ میں نوجوان پیڑھی سے اصرار کرتا ہوں کہ اگر وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں تو خود کو ضرور ووٹر کے طور پر رجسٹر کروائیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو احساس ہونا چاہیے کہ ملک میں ووٹر بننا، حق رائے دہی حاصل کرنا، وہ زندگی کی اہم حصولیابیوں میں سے ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ساتھ ساتھ ووٹ ڈالنا یہ میرا فرض ہے۔ یہ جذبہ ہمارے اندر پنپنا چاہیے۔ زندگی میں کبھی کسی بھی وجہ سے اگر ووٹ نہیں ڈال پائے تو بڑی تکلیف ہونی چاہیے۔ کبھی کہیں ملک میں کچھ غلط ہوتا ہوا دیکھیں تو افسوس ہونا چاہیے۔ ہاں! میں نے ووٹ نہیں دیا تھا۔ اس دن میں ووٹ دینے نہیں گیا تھا۔ اس کا ہی خمیازہ آج میرا ملک بھگت رہا ہے۔ ہمیں اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے ہمارا طریقہ یہ ہماری فطرت بننی چاہیے یہ ہمارے سنسکار ہونے چاہئیں۔ میں ملک کی جانی مانی ہستیوں سے اصرار کرتا ہوں کہ ہم سب ملک کر ووٹر رجسٹریشن ہو، یا پھر پولنگ کے دن ووٹ دینا ہو، اس بارے میں مہم چلا کرکے لوگوں کو بیدار کریں۔ مجھے امید ہے کہ بھاری تعداد میں نوجوان رائے دہندگان کے طور پر رجسٹرڈ ہوں گے۔ اور اپنی حصے داری سے ہماری جمہوریت کو اور مضبوطی دیں گے۔
میرے پیارے ہم وطنو! ہندوستان کی اس عظیم سرزمین نے بہت سی عظیم شخصیتوں کو جنم دیا ہے اور ان عظیم شخصیتوں نے انسانیت کے لیے کچھ حیرت انگیز ناقابل فراموش کام کیے ہیں۔ ہمارا ملک ‘‘بہورتنا وسندھرا ہے’’۔ ایسی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے، نیتا جی سبھاش چندر بوس۔ 23 جنوری کو پورے ملک نے ایک الگ انداز میں ان کا یوم پیدائش منایا۔ نیتا جی کے یوم پیدائش پر مجھے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے بہادروں کے لیے وقف ایک میوزیم کا افتتاح کرنے کا موقع ملا۔ آپ جانتے ہیں کہ لال قلعہ کے اندر آزادی سے اب تک کئی ایسے کمرے، عمارتیں بند پڑی تھیں۔ ان بند پڑے لال قلعہ کے کمروں کو بہت خوبصورت عجائب گھروں میں تبدیل کیا گیا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس اور انڈین نیشنل آرمی کو وقف کئے گئے عجائب گھر ؛یادِ جلیاں؛ اور 1857ایٹین ففٹی سیون، ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کو وقف عجائب گھر اور اس پورے احاطے کو‘ کرانتی مندر’ کے طور پر ملک کو وقف کیا گیا ہے۔ ان عجائب گھروں کی ایک ایک اینٹ میں ہماری شاندار تاریخ کی خوشبو بسی ہے۔ عجائب گھر کے چپے چپے پر ہماری جنگ آزادی کے بہادروں کی کہانیوں کو بیان کرنے والی باتیں ہمیں تاریخ کے اندر جانے کی تحریک دیتی ہیں۔ اسی جگہ پر بھارت ماں کے بہادر بیٹوں، کرنل پریم سہگل، کرنل گربخش سنگھ ڈھلّوں اور میجرجنرل شاہنواز خاں پر انگریز حکومت نے مقدمہ چلایا تھا۔
جب میں لال قلعہ میں، کرانتی مندر میں، وہاں نیتاجی سے جڑی یادوں کا دیدار کر رہا تھا تب مجھے نیتا جی کے خاندان کے ارکان نے ایک بہت ہی خاص کیپ ، ٹوپی تحفتاً پیش کی۔ کبھی نیتا جی اسی ٹوپی کو پہنا کرتے تھے۔ میں نے عجائب گھر میں ہی اس ٹوپی کو رکھوا دیا، جس سے وہاں آنے والے لوگ بھی اس ٹوپی کو دیکھیں اور اس سے حب الوطنی کی ترغیب حاصل کریں۔ دراصل اپنے قومی ہیرو کی بہادری اور حب الوطنی کو نئی نسل تک بار بار الگ الگ شکل میں مسلسل پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ابھی مہینے بھر پہلے ہی 30 دسمبر کو میں انڈومان اور نکوبار جزائر گیا تھا۔ ایک پروگرام میں ٹھیک اسی مقام پر ترنگا لہرایا گیا جہاں نیتا جی سبھاش بوس نے 75 سال قبل ترنگا لہرایا تھا۔ اسی طرح سے اکتوبر 2018 میں لال قلعہ پر جب ترنگا لہرایا گیا تو سب کو حیرت ہوئی کیوں کہ وہاں تو 15 اگست کو ہی یہ روایت ہے۔ یہ موقع تھا آزاد ہند سرکار کے قیام کے 75 برس پورے ہونے کا۔
سبھاش بابو کو ہمیشہ ایک بہادر فوجی اور ماہر تنظیم کار کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ ایک ایسا بہادر فوجی جس نے آزادی کی لڑائی میں اہم کردار نبھایا ‘‘دلّی چلو، تم مجھے خون دو میں تمھیں آزادی دوں گا’’ جیسے عظیم نعروں سے نیتا جی نے ہر ہندوستانی کے دل میں جگہ بنائی۔ کئی برسوں تک یہ مطالبہ رہا کہ نیتا جی سے متعلق فائلوں کو عام کیا جائے اور مجھے اس بات کی خوشی ہے یہ کام ہم لوگ کرپائے، مجھے وہ دن یاد ہے جب نیتا جی کا سارا خاندان وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر آیا تھا ہم نے مل کر نیتا جی سے متعلق بہت ساری باتیں کیں اور نیتاجی سبھاش بوس کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مجھے خوشی ہے کہ ہندوستان کی عظیم شخصیتوں سے متعلق کئی مقامات کو دلّی میں یادگار بنانے کی کوششیں ہوئی ہیں۔ چاہے وہ بابا صاحب امبیڈکر سے متعلق 26 علی پور روڈ ہو یا پھر سردار پٹیل میوزیم ہو یا وہ کرانتی مندر ہو۔ اگر آپ دلّی آئیں تو ان مقامات کو ضرورت دیکھنے جائیں۔
میرے پیارے ہم وطنو! آج جب ہم سبھاش چندر بوس کے بارے میں چرچا کر رہے ہیں اور وہ بھی ‘من کی بات’ میں تو میں آپ کے ساتھ نیتاجی کی زندگی سے متعلق ایک قصہ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ سے ریڈیو کو لوگوں کے ساتھ جڑنے کا ایک اہم ذریعہ مانا ہے۔ اسی طرح نیتاجی کا بھی ریڈیو کے ساتھ کافی گہرا تعلق تھا اور انھوں نے بھی ملک کے لوگوں سے بات چیت کرنے کے لیے ریڈیو کو منتخب کیا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
( م ن ۔اگ۔ را ۔ 27 – 01 – 2019)
U. No. 540
शिवकुमार स्वामी जी ने अपना सम्पूर्ण जीवन समाज-सेवा में समर्पित कर दिया: PM pic.twitter.com/U0byU9M5TS
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
हमारे देश में एक बहुत ही महत्वपूर्ण संस्था है, जो हमारे लोकतंत्र का तो अभिन्न अंग है ही और हमारे गणतंत्र से भी पुरानी है: PM pic.twitter.com/SlcdL30vJR
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
इस साल हमारे देश में लोकसभा के चुनाव होंगे, यह पहला अवसर होगा जहाँ 21वीं सदी में जन्मे युवा लोकसभा चुनावों में अपने मत का उपयोग करेंगे : PM#MannKiBaat pic.twitter.com/H7At3eVcf7
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
भारत की इस महान धरती ने कई सारे महापुरुषों को जन्म दिया है और उन महापुरुषों ने मानवता के लिए कुछ अद्भुत, अविस्मरणीय कार्य किये हैं: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/wNP8vynuGi
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
मुझे नेताजी के परिवार के सदस्यों ने एक बहुत ही ख़ास कैप, टोपी भेंट की |
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
कभी नेताजी उसी टोपी को पहना करते थे: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/cohsMuafMZ
अक्टूबर 2018 में लाल किले पर जब तिरंगा फहराया गया तो सबको आश्चर्य हुआ: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/lkumZ4xbDG
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
मैंने हमेशा से रेडियो को लोगों के साथ जुड़ने का एक महत्वपूर्ण माध्यम माना है उसी तरह नेताजी का भी रेडियो के साथ काफी गहरा नाता था और उन्होंने भी देशवासियों से संवाद करने के लिए रेडियो को चुना था : PM#MannKiBaat pic.twitter.com/9GcIHqksZW
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
आपने अभी तक गुरुदेव रबीन्द्रनाथ टैगोर को एक लेखक और एक संगीतकार के रूप में जाना होगा | लेकिन मैं बताना चाहूँगा कि गुरुदेव एक चित्रकार भी थे: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/dK4D9O6JsJ
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
हमारे संतों ने अपने विचारों और कार्यों के माध्यम से सद्भाव, समानता और सामाजिक सशक्तिकरण का सन्देश दिया है | ऐसे ही एक संत थे - संत रविदास: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/lkBgxavdQm
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
कुछ दिन पहले, मैं अहमदाबाद में था, जहाँ मुझे डॉक्टर विक्रम साराभाई की प्रतिमा के अनावरण का सौभाग्य मिला: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/g2SIF7Oa0Q
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
देश आज़ाद होने से लेकर 2014 तक जितने Space Mission हुए हैं, लगभग उतने ही Space Mission की शुरुआत बीते चार वर्षों में हुई हैं: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/Jr0FrYFGQc
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
बच्चों के लिए आसमान और सितारे हमेशा बड़े आकर्षक होते हैं |
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
हमारा Space Programme बच्चों को बड़ा सोचने और उन सीमाओं से आगे बढ़ने का अवसर देता है, जो अब तक असंभव माने जाते थे: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/wbBW863tbs
जब हमारा sports का local ecosystem मजबूत होगा यानी जब हमारा base मजबूत होगा तब ही हमारे युवा देश और दुनिया भर में अपनी क्षमता का सर्वोत्तम प्रदर्शन कर पाएंगे: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/jeYRGWXWa6
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019
आपने कई सारे प्रतिष्ठित ब्यूटी contest के बारे में सुना होगा | पर क्या आपने toilet चमकाने के कॉन्टेस्ट के बारे में सुना है ?: PM#MannKiBaat pic.twitter.com/KJWo1a2erx
— PMO India (@PMOIndia) January 27, 2019