Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

‘من کی بات’پروگرام کی 52ویں قسط میں وزیراعظم کی تقریر کا متن


 

نئی دہلی 27جنوری ؛        میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار، اس مہینے کی 21 تاریخ کو ملک کو ایک بہت ہی افسوسناک خبر ملی۔ کرناٹک میں ٹمکور ضلع کے شری سدھ گنگا مٹھ کے ڈاکٹر شری شری شری شیوکمار سوامی جی ہمارے درمیان نہیں رہے۔ شیو کمار سوامی جی نے اپنی پوری زندگی معاشرے کی خدمت کے لیے وقف کردی تھی۔ بھگوان بسویشور نے ہمیں سکھایا ہے۔ ‘کائے کوے کیلاس’۔ یعنی سخت محنت کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھاتے جانا، بھگوان شیو کی رہائش گاہ  کیلاش دھام میں ہونے کے برابر ہے۔ شیو کمار سوامی جی  اسی فلسفے کو مانتے تھے اور انھوں نے اپنی 111 برسوں کی زندگی میں ہزاروں لوگوں کی سماجی، تعلیمی اور مالیاتی ترقی کے لیے کام کیا۔ ان کی شہرت ایک ایسے عالم کے روپ میں تھی جن کی انگریزی، سنسکرت اور کنڑ زبانوں پر حیرت انگیز گرفت تھی۔ وہ ایک  سماج  سدھارک تھے انھو ں انے اپنی پوری زندگی اس بات میں لگا دی کہ لوگوں کو کھانا، پناہ، تعلیم اور روحانی علم ملے۔ کسانوں کی ہر طرح سے فلاح ہو، یہ سوامی جی کی زندگی میں اوّلیت رہتی تھی۔ سدھ گنگا مٹھ مستقل طورپر مویشیوں اور زرعی میلوں کا انعقاد کرتا تھا۔ مجھے کئی بار پرم پوجیہ سوامی جی کا آشیرواد حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ سال 2007 میں شری شری شری شیو کمار سوامی جی کے  صد سالہ جشن کے موقع پر ہمارے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ٹمکور گئے تھے۔ کلام صاحب نے اس موقع پر پوجیہ سوامی جی کے لیے ایک نظم سنائی تھی۔ انھوں نے کہا

“O my Fellow Citizens – In giving, you receive happiness,

In Body and Soul- You have everything to give,

If you have knowledge – share it,

If you have resources – share them with the needy,

You, your mind and heart.

To remove the pain and suffering, and cheer the sad hearts.

In giving, you receive happiness Almighty will bless, all your actions”

ڈاکٹر کلام صاحب کی یہ نظم شری شری شری شیو کمار سوامی جی کی زندگی اور سدھ گنگا مٹھ کے مشن کو خوبصورت طریقے سے پیش کرتی ہے۔ ایک بارپھر میں ایسے عظیم شخص کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنو، 26 جنوری 1950 کو ہمارے ملک میں آئین نافذ ہوا اور اس دن ہمارا ملک  جمہوری بنا اور کل ہی ہم نے آن بان شان کے ساتھ یوم جمہوریہ بھی منایا۔ لیکن میں آج کچھ اور بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ملک میں ایک بہت ہی اہم ادارہ ہے جو ہماری جمہوریت کا تو اٹوٹ حصہ ہے ہی اور ہماری جمہوریت سے بھی پرانا ہے۔ میں ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ 25 جنوری کو الیکشن کمیشن کا یوم تاسیس تھا جسے قومی یوم رائے دہندگان، نیشنل ووٹرس ڈے، کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں جس پیمانے پر انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے اُسے دیکھ کر دنیا کے لوگوں کو حیرت ہوتی ہے اور ہمارا الیکشن کمیشن جس خوبی سے اس کا انعقاد کرتا ہے اسے دیکھ کر ہر ایک ہم وطن کو الیکشن کمیشن پر فخر ہونا فطری بات ہے۔ ہمارے ملک میں یہ یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ہے کہ ہندوستان کا ہر ایک شہری جو ایک رجسٹرڈ ووٹر ہے، رجسٹرڈ رائے دہندہ ہے، اسے رائے دہندگی کا موقع ملے۔

جب ہم سنتے ہیں کہ ہماچل پردیش میں سمندری سطح سے 15 ہزار فٹ کی بلندی والے علاقے میں بھی پولنگ سینٹر قائم کیا جاتا ہے تو انڈمان ونکوبار جزائر میں دور دراز کے جزائر میں بھی ووٹنگ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اور آپ نے تو گجرات کے بارے میں ضرور سنا ہوگا کہ گیر کے جنگل میں ایک دور دراز علاقے میں ایک پولنگ بوتھ جو صرف ایک ووٹر کے لیے ہے۔ تصور کیجئے صرف ایک ووٹر کے لیے، جب ان باتوں کو سنتے ہیں تو الیکشن کمیشن پر فخر ہونا بہت فطری بات ہے۔ اس ایک ووٹر کا خیال رکھتے ہوئے اُس ووٹر کو اُس کے حق رائے دہی کا موقع ملے، اس کے لیے الیکشن کمیشن کے ملازمین کی پوری ٹیم دور دراز علاقوں میں جاتی ہے اور ووٹنگ کا انتظام کرتی ہے اور یہی تو ہماری جمہوریت کی  خوبصورتی ہے۔

میں ہندوستان کی جمہوریت کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوشش کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی ستائش کرتا ہوں۔ میں سبھی ریاستوں کے الیکشن کمیشن کی ،تمام  سکیورٹی ملازمین، دیگر ملازمین کی بھی ستائش کرتا ہوں، جو ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیتے ہیں اور آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بناتے ہیں۔

اس سال ہمارے ملک میں لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جہاں 21ویں صدی میں جنم لینے والے نوجوان لوک سبھا انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان کے لیے ملک کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے کا موقع آگیا ہے۔ اب وہ ملک میں فیصلہ لینے کے عمل کے حصے دار بننے جارہے ہیں۔ اپنے خوابوں کو ملک کے خوابوں کے ساتھ جوڑنے کا وقت آچکا ہے۔ میں نوجوان پیڑھی سے اصرار کرتا ہوں کہ اگر وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں تو خود کو ضرور ووٹر کے طور پر  رجسٹر کروائیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو احساس ہونا چاہیے کہ ملک میں ووٹر بننا، حق رائے دہی حاصل کرنا، وہ زندگی کی اہم حصولیابیوں میں سے ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ساتھ ساتھ ووٹ ڈالنا یہ میرا فرض ہے۔ یہ جذبہ ہمارے اندر پنپنا چاہیے۔ زندگی میں کبھی کسی بھی وجہ سے اگر ووٹ نہیں ڈال پائے تو بڑی تکلیف ہونی چاہیے۔ کبھی کہیں ملک میں کچھ غلط ہوتا ہوا دیکھیں تو افسوس ہونا چاہیے۔ ہاں! میں نے ووٹ نہیں دیا تھا۔ اس دن میں ووٹ دینے نہیں گیا تھا۔ اس کا ہی خمیازہ آج میرا ملک بھگت رہا ہے۔ ہمیں اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے ہمارا طریقہ یہ ہماری فطرت بننی چاہیے یہ ہمارے سنسکار ہونے چاہئیں۔ میں ملک کی جانی مانی ہستیوں سے اصرار کرتا ہوں کہ  ہم سب ملک کر  ووٹر رجسٹریشن ہو، یا پھر پولنگ کے دن ووٹ دینا ہو، اس بارے میں مہم چلا کرکے لوگوں کو بیدار کریں۔ مجھے امید ہے کہ بھاری تعداد میں نوجوان رائے دہندگان  کے طور پر رجسٹرڈ ہوں گے۔ اور اپنی حصے داری سے ہماری جمہوریت کو اور مضبوطی دیں گے۔

میرے پیارے ہم وطنو! ہندوستان کی اس عظیم سرزمین نے بہت سی عظیم شخصیتوں کو جنم دیا ہے اور ان عظیم شخصیتوں نے انسانیت کے لیے کچھ حیرت انگیز ناقابل فراموش کام کیے ہیں۔ ہمارا ملک ‘‘بہورتنا وسندھرا ہے’’۔ ایسی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے، نیتا جی سبھاش چندر بوس۔ 23 جنوری کو پورے ملک نے ایک الگ انداز میں ان کا یوم پیدائش منایا۔ نیتا جی  کے یوم پیدائش پر مجھے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے بہادروں کے لیے وقف ایک میوزیم کا افتتاح کرنے کا موقع ملا۔ آپ جانتے ہیں کہ لال قلعہ کے اندر آزادی سے اب تک کئی ایسے کمرے، عمارتیں بند پڑی تھیں۔ ان بند پڑے لال قلعہ کے کمروں کو بہت خوبصورت عجائب گھروں میں تبدیل کیا گیا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس اور انڈین نیشنل آرمی کو وقف کئے گئے عجائب گھر ؛یادِ جلیاں؛ اور 1857ایٹین ففٹی سیون، ہندوستان کی  پہلی جنگ آزادی کو وقف عجائب گھر اور اس پورے احاطے کو‘ کرانتی مندر’ کے طور پر ملک کو وقف کیا گیا ہے۔ ان عجائب گھروں کی ایک ایک اینٹ میں  ہماری شاندار تاریخ کی خوشبو بسی ہے۔ عجائب گھر کے چپے چپے پر ہماری جنگ آزادی کے بہادروں کی کہانیوں کو بیان کرنے والی باتیں ہمیں تاریخ کے اندر جانے کی تحریک دیتی ہیں۔ اسی جگہ پر بھارت ماں کے بہادر بیٹوں، کرنل پریم سہگل، کرنل گربخش سنگھ ڈھلّوں اور  میجرجنرل شاہنواز خاں پر  انگریز حکومت نے مقدمہ چلایا تھا۔

جب میں لال قلعہ میں، کرانتی مندر میں، وہاں نیتاجی سے جڑی یادوں کا دیدار کر رہا تھا تب مجھے نیتا جی کے خاندان کے ارکان نے ایک بہت ہی خاص کیپ ، ٹوپی تحفتاً پیش کی۔ کبھی نیتا جی اسی ٹوپی کو پہنا کرتے تھے۔ میں نے عجائب گھر میں ہی اس ٹوپی کو رکھوا دیا، جس سے وہاں آنے والے لوگ بھی اس ٹوپی کو دیکھیں اور اس سے حب الوطنی کی ترغیب حاصل کریں۔ دراصل اپنے قومی ہیرو کی بہادری اور حب الوطنی کو نئی نسل تک بار بار الگ الگ شکل میں مسلسل پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ابھی مہینے بھر پہلے ہی 30 دسمبر کو میں انڈومان اور نکوبار جزائر گیا تھا۔ ایک پروگرام میں ٹھیک اسی مقام پر ترنگا لہرایا گیا جہاں نیتا جی سبھاش بوس نے 75 سال قبل ترنگا لہرایا تھا۔ اسی طرح سے اکتوبر 2018 میں لال قلعہ پر جب ترنگا لہرایا گیا تو  سب کو حیرت ہوئی کیوں کہ وہاں تو 15 اگست کو ہی یہ روایت ہے۔ یہ موقع تھا آزاد ہند سرکار کے قیام کے 75 برس پورے ہونے کا۔

سبھاش بابو کو ہمیشہ ایک بہادر فوجی اور ماہر تنظیم کار کے طور پر   یاد کیا جائے گا۔ ایک ایسا بہادر فوجی جس نے آزادی کی لڑائی میں اہم کردار نبھایا ‘‘دلّی چلو، تم مجھے خون دو میں تمھیں آزادی دوں گا’’ جیسے عظیم  نعروں سے  نیتا جی نے ہر ہندوستانی کے دل میں جگہ بنائی۔ کئی برسوں تک یہ مطالبہ رہا کہ نیتا جی سے متعلق فائلوں کو عام کیا جائے اور مجھے اس بات کی خوشی ہے یہ کام ہم لوگ کرپائے، مجھے وہ دن یاد ہے جب نیتا جی کا سارا خاندان وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر آیا تھا ہم نے مل کر نیتا جی سے متعلق بہت ساری باتیں کیں اور نیتاجی سبھاش بوس کو خراج عقیدت پیش کیا۔

مجھے خوشی ہے کہ ہندوستان کی عظیم شخصیتوں سے متعلق کئی مقامات کو دلّی میں یادگار بنانے کی کوششیں ہوئی ہیں۔ چاہے وہ بابا صاحب امبیڈکر سے متعلق 26 علی پور روڈ ہو یا پھر سردار پٹیل میوزیم ہو یا وہ کرانتی مندر ہو۔ اگر آپ دلّی آئیں تو ان مقامات کو ضرورت دیکھنے جائیں۔

میرے پیارے ہم وطنو! آج جب ہم سبھاش چندر بوس کے بارے میں چرچا کر رہے ہیں اور وہ بھی ‘من کی بات’ میں تو میں آپ کے ساتھ نیتاجی کی زندگی سے متعلق ایک قصہ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ سے ریڈیو کو لوگوں کے ساتھ جڑنے کا ایک اہم ذریعہ مانا ہے۔ اسی طرح نیتاجی کا بھی ریڈیو کے ساتھ کافی گہرا تعلق تھا اور انھوں نے بھی ملک کے لوگوں سے بات چیت کرنے کے لیے ریڈیو کو منتخب کیا تھا۔

سن 1942 میں سبھاش بابو نے آزاد ہند ریڈیو کی شروعات کی تھی اور ریڈیو کے ذریعے سے وہ ‘‘آزاد ہند  فوج’’ کے فوجیوں سے اور ملک کے لوگوں سے بات چیت کیا کرتے تھے۔ سبھاش بابو کا ریڈیو پر بات چیت کرنے کا ایک الگ ہی انداز تھا وہ بات چیت شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے کہتے تھے ۔ “This is Subhash Chandra Bose speaking to you over the Azad Hind Radio…”. اور  اتنا سنتے ہی سامعین میں گویا ایک نیا جوش، ایک نئی توانائی بھر جاتی تھی۔

مجھے بتایا گیا کہ یہ ریڈیو اسٹیشن ہفتہ وار خبروں کا بلیٹن بھی نشر کرتا تھا جو انگریزی، ہندی ، تمل، بنگلہ، مراٹھی، پنجابی، پشتو اور اردو وغیرہ زبانوں میں ہوتے تھے، اس ریڈیو اسٹیشن کو چلانے میں گجرات کے رہنے والے ایم آر ویاس جی نے بہت ہی اہم رول ادا کیا۔ آزاد ہند ریڈیو پر نشر ہونے والے پروگرام عام لوگوں کے درمیان کافی مقبول تھے اور ان پروگراموں سے ہمارے جنگ آزادی کے مجاہدین کو بہت تقویت ملی۔

اسی کرانتی مندر میں ایک ویژول آرٹس میوزیم بھی بنایا گیا ہے۔ ہندوستانی آرٹ اور ثقافت کے بارے میں بہت ہی جاذب نظر طریقے سے بتانے کی یہ کوشش ہوئی ہے۔ میوزیم میں چار تاریخی نمائشیں ہیں اور وہاں تین صدیوں پرانی 450 سے زیادہ پینٹنگز اور آرٹ ورکس موجود ہیں۔ میوزیم میں امرتا شیر گل، راجا روی ورما، اونیندر ناتھ ٹیگور، گگنیندر ناتھ ٹیگور، نند لال بوس، جامنی رائے، سیلوج مکھرجی جیسے عظیم فنکاروں کے اعلیٰ درجے کے فن پاروں کی بہت اچھی طرح سے نمائش کی گئی ہے۔ اور میں آپ سب سے خصوصی طورپر اصرار کروں گا کہ  آپ وہاں جائیں اور گرو دیورویندر ناتھ ٹیگور  جی کے فن پاروں کو ضرور دیکھیں۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہاں بات آرٹ کی ہو رہی ہے اور میں آپ سے گرودیو ٹیگور کے اعلیٰ درجے کی تخلیقات کو دیکھنے کی بات کر رہا ہوں آپ نے ابھی تک گرودیو رویندر ناتھ ٹیگور کو  ایک مصنف اور ایک موسیقار کے طور پر جانا ہوگا لیکن میں بتانا چاہوں گا کہ گرودیو ایک مصور بھی تھے۔ انھوں نے کئی موضوعات پر پینٹنگز بنائی ہیں۔ انھوں نے جانوروں، پرندوں کی بھی تصویریں بنائی ہیں۔ انھوں نے کئی خوبصورت منظروں کی بھی تصویریں بنائیں ہیں۔ اور اتنا ہی نہیں انھوں نے انسانی کرداروں کو بھی آرٹ کے ذریعے کینوس پر اتارنے کا کام کیا ہے۔ اور خاص بات یہ ہے کہ گرودیو ٹیگور نے اپنے زیادہ تر  فن پاروں کو کوئی نام ہی نہیں دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ان کی پینٹنگز دیکھنے والا خود ہی اس پینٹنگ کو سمجھے، پینٹنگ میں ان کے ذریعے دیئے گئے پیغام کو اپنے نظریے سے جانے۔ ان کی پینٹنگز کی یوروپی ملکوں میں، روس اور امریکہ میں بھی  نمائش کی گئی ہے۔

مجھے امید ہے کہ آپ کرانتی مندر میں ان کی پینٹنگز کو ضرور دیکھنے جائیں گے۔

میرے پیارے ہم وطنو! ہندوستان سنتوں کی سرزمین ہے، ہمارے سنتوں نے اپنے خیالات اور اپنے کاموں سے ہم آہنگی، برابری اور معاشرتی تفویض اختیارات کا پیغام دیا ہے۔ ایسے ہی ایک سنت تھے سنت روی داس۔ 19 فروری کو روی داس جینتی ہے۔ سنت روی داس جی کے دوہے بہت مشہور ہیں۔ سنت روی داس جی چند ہی سطروں میں بڑے سے بڑا پیغام دیتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا:

‘‘جاتی-جاتی میں جاتی ہے،

جو کیتن کے پات،

رے داس منش نہ جڑ سکے

جب تک جاتی نہ جات’’۔

جس طرح کیلے کے تنے کو چھیلا جائے تو پتّے کے نیچے پتّہ، پھر پتّے کے نیچے پتّہ اور آخر میں کچھ نہیں نکلتا ہے لیکن پورا پیڑ ختم ہوجاتا ہے ٹھیک اسی طرح انسان کو بھی ذاتوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور انسان رہا ہی نہیں ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر حقیقت میں بھگوان ہر انسان میں ہوتے ہیں، تو انھیں ذات پنتھ اور دیگر سماجی بنیادوں پر تقسیم کرنا مناسب نہیں ہے۔

گرو روی داس جی کا جنم وارانسی کی پاکیزہ سرزمین پر ہوا تھا۔ سنت روی داس جی نے اپنے پیغامات کے ذریعے اپنی پوری زندگی میں محنت اور محنت کشوں کی اہمیت کو سمجھانے کی کوشش کی، یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ انھوں نے دنیا کو محنت کے احترام کا حقیقی مطلب سمجھایا ہے۔ وہ کہتے تھے۔

‘‘من چنگا تو کٹھوتی میں گنگا’’۔

یعنی اگر آپ کا من اور دل پاک ہے تو ساکشات ایشور آپ کے دل میں قیام کرتے ہیں۔ سنت روی داس جی کے پیغام نے ہر طبقے ، ہر کلاس کے لوگوں کو متاثر کیا ہے چاہے چتوڑ کے مہاراجا اور رانی ہوں یا پھر میرا بائی ہوں سبھی  ان کے معتقد تھے۔

میں ایک بار پھر سنت روی داس جی کی تعظیم میں سر جھکاتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنو! کرن سِدر نے MyGov پر  لکھا ہے کہ میں ہندوستان کے خلائی پروگرام اور اس کے مستقبل سے جڑے  پہلوؤں پر روشنی ڈالوں۔ وہ مجھ سے یہ بھی چاہتے ہیں کہ میں طلبا سے خلائی پروگراموں میں دلچسپی لینے اور کچھ الگ ہٹ کر آسمان سے بھی آگے جاکر سوچنے  کا اصرار کروں۔ کرن جی ، میں آپ کے اس خیال اور خاص طور سے ملک کے بچوں کے لیے دیئے گئے پیغام کی ستائش کرتا ہوں۔

کچھ دن پہلے  میں احمد آباد میں تھا، جہاں مجھے ڈاکٹر وکرم سارا بھائی کے مجسمے کی نقاب کشائی کا موقع ملا۔ ڈاکٹر وکرم سارا بھائی نے ہندوستان کے خلائی پروگرام میں بہت ہی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ہمارے خلائی پروگرام میں ملک کے لاتعداد نوجوان سائنسدانوں کا تعاون رہا ہے۔ ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ آج ہمارے طلبا کے ذریعے تیار کئے گئے سیٹلائٹ  اور ساؤنڈنگ راکٹس خلاء تک پہنچ رہے ہیں۔ اسی 24 جنوری کو ہمارے طلبا کے ذریعے بنایا گیا ‘‘کلام- سیٹ’’ لانچ کیا گیا ہے، اڈیشہ میں یونیورسٹی کے طلبا کے ذریعے بنائے گئے ساؤنڈنگ راکٹس نے بھی کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملک آزاد ہونے سے لے کر 2014 تک جتنے خلائی مشن ہوئے ہیں لگ بھگ اتنے ہی خلائی مشن کی شروعات گزشتہ چار برسوں میں ہوئی ہے۔ ہم نے ایک ہی اسپیس کرافٹ سے ایک ساتھ 104 سیٹلائٹ لانچ کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی بنایا ہے۔ ہم جلد ہی چندریان-2 مہم کے ذریعے سے چاند پر ہندوستان کی موجودگی درج کرانے والے ہیں۔

ہمارا ملک خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال جان ومال کی حفاظت میں بھی بخوبی کر رہا ہے۔ چاہے سائیکلون ہو یا پھر ریل اور سڑک حفاظت۔ ان سب میں خلائی ٹیکنالوجی سے کافی مدد مل رہی ہے۔۔ ہمارے ماہی گیر بھائیوں کے درمیان ناوِک ڈوائسز تقسیم کئے گئے ہیں۔ جو ان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں بھی مددگار ہیں۔ ہم خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال سرکاری خدمات کی ڈلیوری اور  احتساب کو اور بہتر کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ ‘‘ہاؤس فار آل’’ یعنی ‘‘سب کے لیے گھر’’۔ اس اسکیم میں 23 ریاستوں کے قریب 10 لاکھ گھروں کو جیو ٹیگ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی منریگا کے تحت قریب ساڑھے تین کروڑ جائیدادوں کو بھی جیو ٹیگ کیا گیا۔ ہمارے سیٹلائٹس آج ملک کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت ہیں۔ دنیا کے کئی ملکوں کے ساتھ ہمارے بہتر تعلقات میں اس کا بڑا رول ہے۔ ساؤتھ ایشیا سیٹلائٹس تو  ایک انوکھی پہل رہی ہے جس نے ہمارے پڑوسی دوست ملکوں کو بھی ترقی کا تحفہ دیا ہے۔اپنی بیحد مسابقتی لانچ خدمات کے ذریعے ہندوستان آج نہ صرف ترقی پذیر ممالک کے بلکہ ترقی یافتہ ملکوں کے سیٹلائٹس کو بھی لانچ کرتا ہے۔ بچوں کے لیے آسمان اور ستارے ہمیشہ قابل رغبت ہوتے ہیں۔ ہمارا خلائی پروگرام بچوں کو بڑا سوچنے اور ان حدود سے آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے جو اب تک ناممکن سمجھی جاتی تھیں۔ یہ ہمارے بچوں کے لیے ستاروں کو دیکھتے رہنے کے ساتھ نئے نئے ستاروں کی کھوج کرنے کی طرف راغب کرنے کا ویژن ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو! میں ہمیشہ کہتا ہوں جو کھیلے وہ کھلے اور اس بار کے کھیلو انڈیا میں بہت سارے نوعمر اور نوجوان کھلاڑی کِھل کے سامنے آئے ہیں۔ جنوری مہینے میں پُنے میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز میں 18 کھیلوں میں تقریبا 6 ہزاروں کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ جب ہمارا  اسپورٹس کا مقامی ایکوسسٹم مضبوط ہوگا یعنی جب ہماری بنیاد مضبوط ہوگی تب ہی ہمارے نوجوان ، ملک اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیت کا بہترین مظاہرہ کر پائیں گے۔ جب مقامی سطح پر کھلاڑی بہترین مظاہرہ کرے گا تب ہی وہ عالمی سطح پر بھی بہترین مظاہرہ کرے گا۔ اس بار ‘کھیلو انڈیا’ میں ہر ریاست کے کھلاڑیوں نے اپنی اپنی سطح پر اچھا مظاہرہ کیا ہے۔ میڈل جیتنے والے کئی کھلاڑیوں کی زندگی زبردست تحریک دینے والی ہے۔

مکے بازی میں نوجوان کھلاڑی آکاش گورکھا نے سلور میڈل جیتا۔ میں پڑھ رہا تھا آکاش کے والد رمیش جی پُنے میں ایک کمپلیکس میں واچ مین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک پارکنگ شیڈ میں رہتے ہیں۔ وہیں مہاراشٹر کی انڈر-21 خواتین کبڈی ٹیم کی کپتان سونالی ہیلوی ستارا کی رہنے والی ہیں، انھوں نے بہت کم عمر میں ہی اپنے والد کو کھو دیا اور ان کے بھائی اور ان کی ماں نے سونالی کے ہنر کو فروغ دیا۔ اکثر ایسا دیکھا جاتا ہے کہ کبڈی جیسے کھیلوں میں بیٹیوں کو اتنا بڑھاوا نہیں ملتا ہے اس کے باوجود سنالی نے کبڈی کو چنا اور بہترین مظاہرہ کیا۔ آسن سول کے 10 سال کے ابھینوشا کھیلو انڈیا یوتھ گیمز میں سب سے کم عمر کے گولڈ میڈل جیتنے والے ہیں۔کرناٹک سے ایک کسان کی بیٹی، اکشتا باسوانی کمتی نے ویٹ لفٹنگ میں گولڈ میڈل جیتا۔ انھوں نے اپنی جیت کا کریڈٹ اپنے والد کو دیا۔ ان کے والد بیل گام میں ایک کسان ہیں۔ جب ہم انڈیا کی تعمیر کی بات کر رہے ہیں تو وہ نوجوانوں کی طاقت کے عزم کا ہی تو نیو انڈیا ہے۔ کھیلو انڈیا کی یہ کہانیاں بتا رہی ہیں کہ نیو انڈیا کی تعمیر میں صرف بڑے شہروں کے لوگوں کا ہی رول نہیں رہا ہے بلکہ چھوٹے شہروں، گاؤں، قصبوں سے آنے والے نوجوانوں، بچوں، ینگ اسپورٹنگ ٹیلنٹ، ان کا بھی بہت بڑا رول ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو! آپ نے بہت سے مؤقر بیوٹی کنٹیسٹ کے بارے میں سنا ہوگا لیکن کیا آپ نے ٹوائلیٹ چمکانے کے کنٹیسٹ کے بارے میں سنا ہے۔ پچھلے تقریبا ایک مہینے سے چل رہے اس انوکھے کنٹیسٹ میں 50 لاکھ سے زیادہ ٹوائیلٹس نے حصہ لے  بھی لیا ہے۔ اس انوکھے کنٹیسٹ  کا نام ہے ‘‘سوچھ سندر شوچالیہ’’۔ لوگ اپنے ٹوائلیٹ کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ ساتھ اُسے رنگ روغن کرکے کچھ پینٹنگز بنا کر خوبصورت بھی بنا رہے ہیں۔ آپ کو کشمیر سے کنیا کماری، کَچھ سے کامروپ تک کی ‘‘سوچھ سندر شوچالیہ’’ کی بہت ساری فوٹو سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے کو مل جائیں گی۔ میں سبھی سرپنچوں اور گرام پردھانوں سے اپنی پنچایت میں اس مہم کی قیادت کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ اپنے ‘‘سوچھ سندر شوچالیہ’’ کی فوٹو کو #MylzzatGhar پر ضرور شیئر کریں۔

ساتھیو! 2 اکتوبر 2014 کو ہم نے اپنے ملک کو صاف ستھرا بنانے اور کھلے میں رفع حاجت سے پاک کرنے کے لیے ایک ساتھ مل کر ایک یادگار سفر کی شروعات کی تھی۔ ہندوستان کے عوام کے تعاون سے آج ہندوستان 2 اکتوبر 2019 سے کافی پہلے ہی کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے کہ  باپو کو ان کی 150ویں جینتی پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔

سوچھ بھارت کے اس یادگار سفر میں ‘من کی بات’ کے سامعین کا بھی بہت بڑا رول رہا ہے۔ اور اسی لیے اور آپ سب سے یہ بات شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پانچ لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ گاؤوں نے اور چھ سو ضلعوں نے خود کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک قرار دیا ہے۔ اور  دیہی ہندوستان میں صفائی ستھرائی کا کوریج 98 فیصد کو پار کر گیا ہے۔ قریب 9 کروڑ خاندانوں کو ٹوائلیٹ کی سہولت فراہم کرائی گئی ہے۔

میرے ننھےمنے ساتھیو! امتحانات کے دن آنے والے ہیں۔ ہماچل پردیش کے رہنے والے انشل شرما نے MyGov پر لکھا ہے کہ مجھے امتحانات اور ایگزام واریئرس کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ انشل جی یہ معاملہ اٹھانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ ہاں، کئی خاندانوں کے لیے سال کا پہلا حصہ ایگزام سیزن ہوتا ہے۔ طلبا، ان کے والدین سے لے کر  ٹیچرس تک سب لوگ امتحانات سے متعلق کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔

میں سبھی طلبا، ان کے والدین اور ٹیچرس کو نیک خواہشات دیتا ہوں۔ میں اس موضوع پر آج ‘من کی بات’ کے اس پروگرام میں چرچا کرنا ضرور پسند کرتا لیکن آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ میں دو دن بعد ہی 29 جنوری کو سویرے گیارہ بجے ‘‘پریکشا پہ چرچا’’ پروگرام میں ملک بھر کے طلبا کے ساتھ بات چیت کرنے والا ہوں۔ اس بار طلبا کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ بھی اس پروگرام کا حصہ بننے والے ہیں اور اس بار کئی دیگر ملکوں کے طلبا بھی اس پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس ‘پریکشا پہ چرچا’ میں  امتحانات سے متعلق تمام پہلوؤں، خصوصی طور پر اسٹریس فری ایگزام یعنی تناؤ سے پاک امتحان، کے بارے میں اپنے نوجوان دوستوں کے ساتھ بہت ساری باتیں کروں گا۔ میں نے اس کے لیے لوگوں سے اِن پٹ اور آئیڈیا بھیجنے کا اصرار کیا تھا اور مجھے بہت خوشی ہی کہ MyGov پر بڑی تعداد میں لوگ اپنے خیالات شیئر کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ خیالات اور تجاویز کو میں یقینی طور پر ٹاؤن ہال پروگرام کے دوران آپ کے سامنے رکھوں گا۔ آپ ضرور اس پروگرام کا حصہ بنیں۔ سوشل میڈیا اور نمو ایپ کے ذریعے سے آپ اس کا لائیو ٹیلی کاسٹ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو! 30 جنوری پوجیہ باپو کا یوم وفات ہے۔ گیارہ بجے پورا ملک شہیدوں کو خراج عقیدت دیتا ہے۔ ہم بھی جہاں ہوں دو منٹ شہیدوں کو ضرور خراج عقیدت پیش کریں۔ پوجیہ باپو کو یاد کریں اور پوجیہ باپو کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنا ، نئے بھارت کی تعمیر کرنا، شہری ہونے کے ناطے اپنے فرائض کو پورا کرنا اس عزم کے ساتھ آؤ ہم آگے بڑھیں۔ 2019 کے اس سفر کو کامیابی سے آگے بڑھائیں۔ میری جانب سے آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات۔ بہت بہت شکریہ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

( م ن ۔اگ۔ را  ۔ 27 – 01 – 2019)

 U. No. 540